جنرل راحيل شريف کو گرین سگنل دیا جائے

(Shaikh Wali Khan Almuzaffar, Karachi)

 
عرب نے اسلام کا آفاقی پیغام ایران وترکی کوپہنچایا، سینٹرل ایشیا ، بر صغیر ،جنوبی ایشیا اور افریقہ کو بھی حلقہ بگوشِ اسلام کیا، انہیں غلام نہیں بنایا، ان کے ملکوں کو نوآبادیات قرارنہیں دیا، انہیں اپنے بھائیوں کی طرح رکھا، اگر ان میں کوئی شخصیت قیادت کی لائق ہوئی تو اسکو اپنا قائد ، رہبر او ررھنما تسلیم کیا ،نام کی خلافت ‘‘عباسی ‘‘ تھی، مگر اصل حکمران خراسانی فارسی تھے ،یا پھر ترکوں نے یہ سیادت فارسیوں اور ایرانیوں سے چھین کرحکمران بن بیٹھے ، یہاں تک کہ خلافت کا نام تبدیل کرکے عباسی سے ترکوں کے جدامجد عثمان کے نام پر خلافت عثمانیہ سے موسوم کی گئی ،عرب پھر بھی خوش اور سرتسلیم خم تھے ، قرآن وحدیث میں عربی زبان ، عرب قوم او ربلاد عرب کے فضائل ومناقب کے باوجود انہوں نے کبھی بھی ہٹلر کی طرح نسلی تعصب ، یا مسولینی کی طرح ارضیاتی تعصب اختیار نہیں کیا، نازازم اورفاشزم کے ادوار میں بھی عرب درویشوں کی زندگی گزارنے پر قانع تھے ،ان سے متأثر نہیں ہوئے،50 سال قبل عرب دنیا اور قوم پوری دنیا میں سب سے زیادہ غیر متمدن اور غیر ترقی یافتہ تھے ،خراسانیوں نے اپنے ادوار میں فارسی اور ترکوں نے ترکی ۔جسکی بگڑی ہوئی شکل اردوہے۔ مسلمانوں میں نافذکی ،نتیجہ یہ ہوا کہ فارسی چلی نہ ترکی ، سیاسی طورپر خلافت عثمانیہ کو مردبیمار قراردیاگیا ،توپھر بھی برصغیر سمیت تمام عجم مسلمانوں نے اسی کی تائید برقرار رکھی ، جبکہ عرب فطری حکمت وبصیرت سے سمجھ چکے تھے کہ اب یہ پیرِفرتوت قبرمیں ہی جائے گا ، اس سے بچاناناممکن ہے ، توانہوں نے خلافت عثمانیہ کے دلدل سے باہر آنے کا فیصلہ کیا، اور اللہ تعالی نے انہیں کامیابی دی ، ایران نے خوزستان ،اھواز کے ساتھ ساتھ عرب امارات کے تین جزائر پر قبضہ کرلیا،جدیدترکی نے عرب علاقے دیار بکر کو ھڑپ کرلیا، مگر باقی عالم عربی نکلنے میں کامیاب ہوگیا، اب تقریباً پچاس سالوں میں عرب دنیانے اپنے بل بوتے پر جو تعلیمی ، تہذیبی ،تمدنی اور سیاسی تیز تر ترقی کی ،اس کی مثال ملنا دنیا کے دیگر علاقوں میں ناممکن ہے ،ترکی نے دشمنی پراترکر عربی حروف اور عربی رسم الخط پر پابندی لگادی ، عربی میں نماز، اذان اور خطبے کو جرم قراردیا، آیا صوفیامسجد کو پھر سے میوزیم بنادیا، وغیرہ وغیرہ ۔ایران نے ماقبل الاسلام ایرانی مذہب ،تہذیب وتمدن کونئے انداز میں یا اسلامی لبادے میں لپیٹ کرعرب دنیا میں پھیلانے کی کوشش کی ، لبنان میں ،بحرین میں ، عراق میں، شام میں ، یمن ،سوڈان ،نائجیریا اور سعودیہ تک میں فرقہ پرستی کی بنیادیں رکھیں ، ان دونوں ملکوں نے عرب سرحدات پر واقع ہونے کے باوجود عربی زبان وادب اور تہذیب وثقافت سے نفرت کی اور آج بھی کررہے ہیں ، لیکن عرب خاموش تھے ، یہاں تک کہ ایران میں بعض تاریخی ادوار میں یہ اعلانات بھی ہوئے کہ خراسان میں جو بھی عربی بولنے والا ملے اسے قتل کردو، عرب نے ان کےمقابلے میں تنگ نظری یاتنگ ظرفی نہیں دکھائی ، ان کو ہمیشہ سینے سے لگایا ، محبت دی ، مگراب صبر کا پیمانہ لبریز ہونے کو تھا ، ترکی اور ایران توچھوڑیں ، وہ پاکستان جس میں عربوں کے دم سے دم ہے،اسے بھی شیعہ سٹیٹ بنانے کی باتیں ہورہی تھیں۔

روس اور ایران کے آشیرباد سےتین لاکھ عرب شہزادے صرف شام میں مارے گئے ہیں ، جہاں ترکی کو آگے بڑھکر کچھ سدباب کرنا چاہئے تھا، جیسے سعودی عرب نے یمن میں کیا۔مگر اے بساآرزو کہ خاک شد۔ عراق میں ابوبکر ، عمر اور عثمان نام رکھنا بھی قابل گردن زدنی جرم ہے ،لوگ نام تبدیل کروارہے ہیں ، بحرین ،یمن اور پاکستان میں نفرتوں کا اژدھامنہ کھولے آگے آرہاتھا،ان تمام میں ایران کا ہاتھ تھا،ایرانی ملک کا نہیں، ایرانی قوم کانہیں، ایرانی انقلاب کاہاتھ تھا، لیکن کہتے ہیں سونارکے سو لوہار کےایک ضرب کے برابر نہیں ہے ’’ عاصفۃ الحزم ‘‘ یافیصلہ کن طوفان کے نام سے عربوں کا اقدام تمام حسابات برابر کرنے کیلئے اٹھایا گیا تھا ،اس اقدام میں پاکستان کو شرکت سے نوازا گیا، پاکستان اچھی طرح سمجھ لیں کہ عرب کبھی بھی پاکستان کو تنہا نہیں چھوڑسکتے، اسکو کبھی بھی شرّکی قوتوں کے سامنے سرنگوں ہونے نہیں دینگے ، وہ پاکستان اور اہل پاکستان سے محبت کرتے ہیں ، لیکن قیادت خود کرینگے ،اقوام متحدہ ، انٹرنیشنل سیکورٹی کونسل اور پوری دنیا میں وہ فیصلہ کن کردار خود ادا کرینگے ، وہ اب مشترکہ عرب فورس بھی بنا رہے ہیں ،اسلامی فورس کیوں نہیں بنارہے، کیونکہ ایران اور ترکی کو اپنے پے غرور ہے ، یمن آپریشن عرب دنیا کی قوت کا آغاز ہے، امریکہ ویورپی یونین نے خودآکر ان کی تائید کی ، روس نے شروع میں مخالفت کرنے کی کوششیں کیں ، لیکن آج کی دنیا طاقتور کی دنیا ہے ، انہوں نے ایران کی منتوں وسماجتوں کے باوجود سلامتی کونسل میں عرب قرار داد کی خاموش حمایت کی، کیونکہ اسے پتہ ہے کہ ایران اور صرف ایک سعودی عرب اگرہوں، تو پھربھی زمین وآسمان کافرق ہے ، چہ جائیکہ خلیجی اتحاد یا پوری عرب دنیا مقابلے میں ہو،گویاعربوں کی طاقت زیادہ ہے،اس لئے روس نے اپنے مفادات کا حساب لگایا، تو وزن عرب دنیا کے پلڑے میں ڈال دیا اوریوں ایران تنہا رہ گیا ، ہمارے یہاں پختون معاشروں میں اولادوں کو نصیحت اور وصیت کی جاتی ہے کہ بڑے بھائی کے خلاف کسی کے کہنےپر کھڑے نہ ہونا، کیونکہ وہ غیر آپ کی تائید نہیں، بڑے بھائی کی تذلیل چاہتاہوگا ،اور آپ کو تنہا کرکے وہ خود ہی مارے گا ، روس نے ایران کے ساتھ ہمیشہ یہی کیاہے ،دنیا ئےعرب نرم پاور کی قائل تھی ، مگر تنگ آمد بجنگ آمد نے انہیں اب گرم پاور میں تبدیل کردیاہے ، امریکہ نے بھی انہیں سمجھا یاہے ، کہ یوکرین کے معاملے کے بعد روس پھر سرچڑھ کربول رہاہے ، جس کے مقابلے میں یورپی یونین کمزور ہے ، ہماری زیادہ تر توجہ وہاں ہے ، تم اپنے معاملے اپنے زوربازو کے ذریعے حل کرنے کیلئے مستقبل میں اپنا اتحاد بناکر کھڑے ہوجاؤ، تاکہ تم کسی کے محتاج نہ ر ہو ،مسلم یا غیر مسلم ابامہ نے خودہی یہ پیغام مرحوم کنگ عبداللہ اور اس کے بعد کنگ سلمان کو فارورڈ کیاتھا، اس تمام تر صورت حال میں اب پاکستان کو اپنے مفادات سامنے رکھ کر فیصلے کرنے ہوں گے ، جنرل راحیل شریف کو کو اپنے جوھر دکھانے کے لئے محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے شانہ بشانہ کام کے لئے راہ دینی چاہیئے،شف شف کی زبان اونٹ کا گوشت کھانے والے عرب نہیں جانتے ، وہ صاف صاف "شفتالو"کہتے ہیں ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr shaikh wali khan almuzaffar

Read More Articles by Dr shaikh wali khan almuzaffar: 450 Articles with 482243 views »
نُحب :_ الشعب العربي لأن رسول الله(ص)منهم،واللسان العربي لأن كلام الله نزل به، والعالم العربي لأن بيت الله فيه
.. View More
25 Apr, 2017 Views: 2314

Comments

آپ کی رائے