نفاست اور ایمانداری

(Asrar Ahmed, )

ڈی سینسی اینڈ ہونسٹی کا خیال آتے ہی ڈکشنری دیکھی تو ان دولفظوں کے بیشمار معنی سامنے آگئے ۔ اس شمار میں نفاست ، ایمانداری ، ادب ، احترام اور خلوص نیت پرتوجہ مرکوز کی تو سلیقہ شعار ی اور سادگی پر نظر پڑگئی ۔ جوں جوں نئی اور پرانی ڈکشنریوں کی ورق گردانی کرتا گیا معنی و مطالب کے ڈھیر لگتے گئے ۔ یوں محسوس ہوا جیسے الفاظ پھلدار درخت ہیں جن کے معنی پتوں ، پھولوں اور پھلوں کے انبار ہیں۔ ہر پتے کا الگ رنگ ہے۔ ہر پھول کی الگ خوشبو ہے اور ہر پھل کاالگ ذائفہ ہے۔ Decencyاینڈ Honestyکے اصل معنی کیا ہیں شائد کسی کو بھی پتہ نہیں ۔ اگر پتہ ہوتا توان دو لفظوں کے صرف دو معنی ہوتے اور بات ختم ہو جاتی مگر ایسا نہیں ۔ معنی و مطالب کا صحیح علم نہ ہونے کی ایک وجہ الفاظ کی حقیقت اور نزول کی کیفیت سے بے خبری ہے۔ اگر ایک قاری ، محقق ، اور مصنف حقیقت اور کیفیت کی رو ح کی پہچان رکھتا ہو تو اسے لفظ کی ترتیب ، ترکیب اور تفسیر کے بیان پر دسترس حاصل ہو سکتی ہے اور اسے اپنی پسند کے معنوں کی تشریح کرنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی ۔

ہر ملک ، علاقے اور قوم کی الگ زبان ہے۔ لکھنے ، بولنے اور پڑھنے کے الگ طریقے ، سلیقے اور انداز ہیں مگر حقیقت اور کیفیت یکساں ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ اسکا جواب سادہ آسان ہے۔ رسول اﷲ ﷺ نے میدان عرفات میں اپنا آخری خطبہ پڑھا اور فرمایا:- اے لوگو سب انسان آدم ؑ کی اولاد ہیں اور آدم مٹی سے بنے تھے۔ یہی سادگی اورسمجھ کی بات ہے۔ اگر انسان اس کیفیت کو سمجھ لے تو اُسے الفاظ کے معنی سمجھنے میں دشواری نہیں ہوتی ۔ نہ وہ الفاظ کو اپنی پسند کے معنی پہناتا ہے نہ آسان کو مشکل بناتا ہے اور نہ مشکل کو سمجھ سے بالا تربنا کر معاملات کو اُلجھن کا لباس پہناتا ہے۔

سادگی نفاست کی بنیاد ہے اورخلو ص نیت سادگی کی روح ہے۔ ایمانداری ہی سلیقہ شعاری ہے اور حقیقت کے بغیر کیفیت کا سرور نا ممکن ہے۔

حقیقت اور کیفیت کا محل سادگی اور نفاست کی بنیادوں پر استوار ہے۔ روح کی قوت اس محل کی محافظ اور خلوص اس کا نظام ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہر لفظ کے بیشمار معنی و مطالب ہیں اور ان کی ادائیگی اور اظہار کے الگ الگ طریقے ہیں۔

نفاست اور ایماندار تخلیق کائنات کے اجزائے ترکیبی کا حصہ ہیں ۔ رب کائنات نے یہ نظام نفاست سے ترتیب دیا اور ہر ذرے کو حکم کے تابع رکھا ۔ آسمانوں میں برج اور راستے بنائے اور سات آسمان انتہائی نفاست اور سیلقے سے ترتیب دیے ۔ زمین پر پہاڑ استوار کیے اور ٹھہراؤ پیدا کیا ۔ سمندروں ، پہاڑوں اور زمین کے ہموار خطوں کی ترتیب کا ایسا نظام وضع کیا جو انسان کی سمجھ سے باہر ہے۔ چاند ، سورج ، دن ، رات ، مشرق، مغرب، ستاروں ، سیاروں اور کہکشاؤں کا نظام قدرت کی سلیقہ شعاری اور نفاست کے ثبوت ہیں۔ رب کائنات با ر بار انسان کو غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔ اور سوال کرتا ہے کہ دیکھو کہیں میرے کام میں کوئی رخنہ ہے۔؟

آج دنیا کا ہر ملک قومی تحفظ کے لیے کوشاں ہے اور اندرنی اور بیرونی خطرات سے مقابلہ کرنے کی منصوبہ بندی کرتا ہے۔ ان منصوبوں اور خطرات سے مقابلہ کرنے کے لیے خطیر رقم خرچتا ہے مگر پھر بھی کچھ ایسا ہو جاتا ہے کہ اُسے وہم و گمان ہی نہیں ہوتا ۔ خالق و مالک اﷲ نے سارے کائناتی نظام کو ایک ایسے طریقے ، سلیقے اور ڈسپلن پر استوار کیا ہے جس میں ایک معمولی ذرے ، پانی کے قطرے اور آنکھوں سے اوجھل جر ثومے سے لیکر کہکشاؤں کے نہ سمجھ آنیوالے نظام تک ہر چیز اپنے اپنے دائیر ے میں اپنا کام سر انجام دے رہی ہے۔ ہر چیز کو خالق کے نظام امر کے تحت تحفظ حاصل ہے اور ہر چیز کی تقدیر اُس کی ضرورت اور خواہش کے مطابق لکھ دی گئی ہے۔

آج ساری دنیا فوڈ سیکیورٹی کے لیے پریشان ہے۔ سائنس نے کیمیاوی کھادوں ، دواؤں اور دیگر طریقوں سے ذرخیز زمین کی قوت پید اوار ختم کر دی ہے اور میٹھے پانی کے ذخائر بتدریج کم ہو رہے ہیں ۔ گلوبل وارمنگ اور موسموں کی تبدیلی نے قدرتی آفات کو دعوت دے رکھی ہے جسکا ذمہ جدید سائنس کے سر ہے۔ انسان نے مصنوعی آسودگی اور آرام کے بدلے میں سادگی ، نفاست ، سلیقہ شعاری ، اخوت و محبت اور انسانی بھائی چارے کا سودا تو کر لیا مگر اب اُسکا وقتی سکون و آسائش مکمل تباہی و بربادی کا موجب بن رہا ہے۔

ایڈز ، کینسر ، معدے ، گردوں اور قلب کے امراض کا سبب مصنوعی طریق زندگی ، جنک فوڈ ، ذہنی خلفشار ، سکون آوردواؤں کے بے تحاشتہ استعمال ، شراب نوشی اور دیگر نشہ آور اشیاء کا استعمال ، خاندانی نظام سے بغاوت ، مادرپدر آزادی کے محافظ قوانین کا اجراء، بلند وبالا لوہے ، سمینٹ اور دیگر دھاتوں اور کیمیکل سے بنی عمارت میں رہائش اور آپسی جنگوں میں استعما ل ہو نے والا کیمیائی ، جراثیمی ، ایٹمی اور دیگر اقسام کا اسلحہ و بارود ہے جسے ختم کرنے کے بجائے امیراور طاقتور اقوام اس کی بہتری اور مزید قوت آوری کے لیے کوشاں ہیں۔

اﷲ کا فرمان ہے کہ:- کس نے آسمان کو ستاروں اور زمین کو درختوں اور رنگ برنگی مٹی سے بنے پہاڑوں سے زینت بخشی ہے؟ پھر فرمایا:- میں نے سمندروں اور دریاؤں کے پانی میں ایسی قوت رکھی جس کی مدد سے قوی الجثہ جہاز تیرتے ہیں اور تمہارے لیے فائدہ مند ہیں ۔ پھر سمندر ، زمین اور پہاڑوں میں چھپے خزانوں کا ذکرکیا۔ پھر فرمایا:- میں نے تمہارے لیے بنجر زمین سے اناج پید ا کیا ، ہواؤں کو بارشیں برسانے کا حکم دیا ، طرح طرح کے پھل او ر میوے پیدا کیے اور جانورں میں سے کچھ ایسے ہیں جو تمہارے لیے سواری مہیا کرتے ہیں ۔ کچھ تمہاری خوراک اور دیگر فائدوں کے لیے ہیے۔ پھر فرمایا:- میں نے خون اور گوبر کے درمیان سے تمہارے لیے دودھ کا بندوبست کیا۔ تمہاری اچھی صحت اور پرورش کے لیے ماؤں کی چھاتیوں سے تمہیں غذا میسر کی اور تربیت کے لیے رسولوں اور پیغمبر وں کے ذریعے تعلیم اور ہدایت کا بندوبست کیا۔ سورۃ الرحمن میں بار بار پوچھا کہ تم میری کون کون سے نعمت کو جھٹلاؤ گے ۔ رحمن و رحیم رب کا فرمان ہے کہ غور کرو اور دیکھو ۔ زمین پر چلنے ، رینگنے اور اُڑنے والا کوئی جاندار بھو کا نہیں سوتا ۔ کیا یہ سب جاندار اپنا رزق اپنی پیٹھ پر لیے پھرتے ہیں۔

دیکھا جائے تو جدید دنیا کے انسان نے قوانین الہٰی کے خلاف بغاوت کر رکھی ہے۔ اور نفاست اور ایمانداری کے اصولوں سے ہٹ کر ایسے استحصالی قوانین مرتب کیے ہیں جو انسان کی تباہی کا باعث بن رہے ہیں۔
عورت کے حاملہ ہوتے ہی اُسے ایکسرے ، الٹراساؤنڈ اور دوائیوں کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے ۔بغیر درد اور آپریشن کے ذریعے بچے کی پیدائش اور بوتل کے ذریعے خوراک کا نظام بچے کی نشو و نما پر منفی اثرات ڈالتا ہے جو آگے چل کر نو عمری اور جوانی میں ہی اسے بیشمار ذہنی اور جسمانی بیماریوں میں مبتلا کر دیتا ہے۔ قوت مدافعت میں کمی اور سوچ و فکر میں خلل انسانی عالمی معاشرے کے لیے پریشانی کا باعث بن رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر نیکی اور بدی ، امن و آسودگی ، سوچ و فکر سے لیکر سیاست او رثقافت کے میعار بدل رہے ہیں۔ عام آدمی سے لیکر حکومتوں اور حکمرانوں کے خیالات و اعمال تنزلی اور تخزیبی سوچ و فکر کا شکار ہیں۔ ہر فرد ، قبیلہ اور ہر قوم چھینا چھپٹی اور جبری قوانین کو جائز سمجھتا ہے اور اسے ذاتی ، ریاستی اور قومی تحفظ کا نام دیکر کمزور افراد ، قبائل اور اقوام کا استحصال کرتا ہے۔

امریکی قوانین کے مطابق امریکہ دنیا میں جہاں چاہیے کسی بھی فرد، قوم ، قبیلے یا ملک جس سے امریکہ مفادات کو خطرہ ہو اسے تباہ کر سکتا ہے۔ یورپی ممالک کے علاوہ دیگر امریکہ اتحادی ممالک امریکہ کی اس پالیسی پر متفق ہیں اور بوقت ضرورت امریکہ کو سہولیات فراہم کرنے کے بھی پابند ہیں۔

عراق اور افغانستان میں ہونیولی جنگوں کی خود اقوام متحدہ نے منظوری دی اور ان ممالک سے قید کیے گئے ہزاروں انسانوں کو عراق ، افغانستا ن ، گوانتا موبے کے علاوہ یورپ کے کئی ممالک میں قائم عقوبت خانوں میں رکھا گیا۔ نہ ان لوگوں پر مقدمہ چلا ، نہ سزائیں ہوئیں مگر ان پر ظالمانہ اور بے رحمانہ تشدید ضرور ہوا اور اُن کی تذلیل میں کوئی کمی باقی نہ رہی ۔ انسانوں کے گلوں میں کتوں کے پٹے ڈال کر انہیں نہ صرف گھسیٹا گیا بلکہ جانوروں کی طرح پنجروں میں بندکیا گیا۔ پاؤں میں بیڑیاں اور ہاتھوں میں ہتھ کڑیاں پہنا کر ہتھ ریڑیوں میں ڈال کر ایک جگہ سے دوسر جگہ منتقل کیا گیا اور اُن کی فلمیں بناکر انسانی تذلیل کی تشہیر کی گئی۔ سوال یہ ہے کہ کیا ان مظالم کے بعد دنیا میں امن قائم ہوا اور دہشت گردی کا خاتمہ ہو گیا؟ نہیں ایسا ہر گز نہیں ہوا اور دہشت گردی کا جن پہلے سے زیادہ بے قابو ہو گیا۔

نیو ورلڈ آرڈ ، تہذیبوں کا تصاد م اور گلو بلا ئیزیشن جیسی اصلاحات نے دنیا کا حکومتی ، ریاستی اور معاشرتی ماحول بدل دیا۔ نفاست اور ایمانداری کے معنی تو نہ بدلے مگر کیفیت مکدور ہوگئی ۔انجانے خوف نے تھر ڈ جنریشن اور نان کا ئینیٹک جنگوں کی اصطلاحات متعارف کروائیں تو ایٹمی ہتھیاروں او رجدید جنگی بحری اور فضائی جہازوں سے لیس قوتوں پر دہشت طاری ہوگئی ۔ گلو بلائزیشن میں ایکسپلائٹیشن کا عنصر شامل ہوا تو دہشت گردوں نے ان اصطلاحات کی آڑ میں اپنا نیٹ ورک ساری دنیا میں پھیلا دیا۔
 
عراق اور افغانستان کے بعد مصر ، شام، لیبیا اور اب یمن میں جاری جنگوں نے لاکھوں انسانوں کو بے گھر کر دیا ۔قحط زدہ افریقہ اور غربت و افلاس میں مبتلا ایشیاء میں جائے پناہ دستیاب نہ ہونے کہ وجہ سے انسانوں کے جم غفیرنے یورپ کا رخ کیا ۔ انسانی سمگلروں نے ان مہاجرین کی اڑمیں منشیات فروشی اور جسم فروشی جیسے گھناؤنے کاروبار کو فروغ دیا تو دنیا کو کسی نئی اصطلاح کی تلاش کا خیال آیا جسکا اظہار ابھی تک نہیں ہوا۔

ساؤتھ چائینہ سی اور سی پیک منصوبے نے ایک نئے تصاد م کی راہ ہموار کر دی ہے۔ بھارت سمیت مغربی دنیا نے چین کا گھیراو کرنے اور افریقہ سے یورپ اورسنٹرل ایشیائی ممالک تک چینی تجارتی راستوں اور تیزی سے بڑھتے ہوئے چینی اثر روسوخ کو روکنے کا تہہ کر لیا ہے جو ایک بڑے تصادم کا شکل اختیار کر سکتا ہے۔

ایک طرف بھارت میں غربت و افلا س کا اژدھا پھن پھیلائے کروڑوں بھاریتوں کو بمشکل جینے کا حق دے رہا ہے تو دوسری جانب بھارتی حکمران ایشیاء کی تھانیداری کا خواب دیکھ رہے ہیں ۔ افغانستان اور ایران نے بھارتی شکنجے میں سر دینے کا فیصلہ کر لیا ہے اور پاکستانی سیاسی قیادت حکمرانوں کی کرپشن کے فروغ کے لیے قانون سازی کے طریقے ڈھونڈ رہی ہے۔ بدلتی ہوئی صورت حال نے نفاست ، ایمانداری اور خلو ص کا راستہ ترک کر دیا ہے۔ شاہد ہماری زندگیوں میں ایک پرامن معاشرتی نظام وجود پذیر نہ ہو سکے اور یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی کائناتی حادثہ دنیاکا وجود ہی مٹادے یا پھر ایسا ورلڈ آرڈر نافذ ہو جائے جو طاقتور اور ظالم اقوام کو قوم عاد و ثمود کی طرح تاریخ کا گم گزشتہ باب بناد ے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: asrar ahmed raja

Read More Articles by asrar ahmed raja: 89 Articles with 51297 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
26 Apr, 2017 Views: 784

Comments

آپ کی رائے