دعاکی اہمیت و فضیلت ۔۔دعاقربت الٰہی کا وسیلہ ہے

(Qazi Israil, )

دعامومن کا ہتھیار ہے اﷲ پاک کے سامنے جب مومن بندہ اپنا دامن پھیلاتاہے تو وہی ذات خالی دامن کو بھر دیتی ہے ،بندے کے مانگنے میں دیر ہوتی ہے رحمان کے قبول کرنے میں دیر نہیں ہوتی ،دنیاکے امیرترین بندے سے اگر آپ مانگے ایک دن دے گا دو دن دے گا تیسرے دن وہ اپنا دروازہ بند کر دے گا لیکن میرے رب کی ذات وہ ہے نہ مانگنے پہ ناراض ہوتی ہے مانگنے پہ نہیں ،اس رب سے ہر آن ہر وقت ہر گھڑی مانگا جائے وہ ما لک الملک ہے ہمارے مانگنے میں کمی ہوسکتی ہے اس کے خزانے میں کمی نہیں ہوسکتی ،اس لیے ہمیں اپنے ہاتھوں کو اپنے دامن کو اس قادرِ مطلق کے سامنے بلند کرناہوگا جو بے نیاز ہے اور سمیع بصیر ہے مانگنے کا انداز اور طریقہ نبی پاک ﷺ نے بتا دیا ۔دعا دل سے کی جائے تو وہ قبولیت کی منازل جلد طے کر لیتی ہے ،کسی نے کیا خوب ہی نقشہ کھینچاہے کہ دعا دنیوی اور اخروی حاجات وضروریات کی تکمیل کا زینہ ہے،دعا غموں اورمصیبتوں کو دور کرنے کا عظیم ترین ذریعہ ووسیلہ ہے،دعاعبدیت وعبودیت کی تکمیل کا اشارہ ہے،دعااﷲ سے تعلقات استوار کراتی ہے،دعااخلاصِ عمل کی رغبت وخواہش بڑھاتی ہے،دعااحساس دلاتی ہے رب کی قدرت کا اور بندے کی عاجزی کا،دعاآدابِ حیات سکھاتی اور انہیں دل کے نہاں خانوں میں پیوست کرتی ہے،دعا مومنوں ، مسلمانوں کا ہتھیار ہے،دعاعبادت ہے اور عبادت ذریعہ ہے خوشنودی رب کے حصول کا،دعازندگی کی زینت وآرائش ہے جو سجاتی ہے امیدوں کا گلشن،دعا فضائل وبرکات کے حصول کا وہ ذریعہ ہے جو تقدیر بھی بدل ڈالتا ہے،دعا زندگی کا وہ گل سر سبز ہے جو پو رے گلشن حیات کو معطر رکھتا ہے ،دعااحساس بندگی کی وہ معراج ہے جس کے اوپر کوئی معراج نہیں،دعاخالق ومخلوق کے درمیان وہ پل ہے جو خالق سے مخلوق کو سید ھا جوڑ دیتا ہے،دعا سرگوشی ہے جو ربِ کائنا ت سے کی جاتی ہے،دعا قربت الہی کا وہ وسیلہ ہے جس سے بڑھ کر کوئی دوسرا وسیلہ نہیں،دعا ربِ کا ئنات کو محبوب ہے اور یہ ایسی فضیلت ہے جو کسی عبادت کو بھی حاصل نہیں ان تمام باتوں کوسامنے رکھ کر ہمیں دعا مولاء کائنات سے مانگنی ہوگی ۔

دعاکی فضیلت
حضرت ابن سعید سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ میں یوں دعا کر رہا تھا اے اﷲ میں تجھ سے جنت طلب کرتا ہوں اور اس کی نعمتوں اور لذتوں کا خواست گار ہوں جو ایسی اور ویسی ہوگی اور پناہ چاہتا ہوں جہنم سے، اس کی زنجیروں سے اور اس کے طوقوں سے اور ایسی اور ویسی بلاں سے، فرمایا بیٹے میں نے رسول اﷲ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عنقریب ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو دعاؤں میں مبالغہ سے کام لیا کریں گے، پس کہیں تم۔ انہیں لوگوں میں سے نہ ہو۔ جب تجھے جنت مل جائے گی تو اس کی تمام نعمتیں اور لذتیں از خود حاصل ہو جائیں گی اور جب جہنم سے نجات مل جائے گی تو اس کی تمام تکلیفوں سے خود بخود چھٹکارہ مل جائے گا (لہذا اس تفصیل کی ضرورت نہیں بلکہ مطلق جنت کی طلب اور جہنم سے پناہ کافی ہے)(سنن ابوداؤد ،جلد اول ، حدیث 1476)

اس لیے کہ حدیث قدسی ہے کہ اے میرے بندو تم سب بھوکے ہو سوائے اس کے کہ جسے میں کھلاؤں تو تم مجھ سے کھانا مانگو میں تمہیں کھانا کھلاؤں گا اے میرے بندو!تم سب ننگے ہو سوائے اس کے کہ جسے میں پہناؤں تو تم مجھ سے لباس مانگو تو میں تمہیں لباس پہناؤں گا اے میرے بندو! تم سب دن رات گناہ کرتے ہو اور میں سارے گناہوں کو بخشتا ہوں تو تم مجھ سے بخشش مانگو میں تمہیں بخش دوں گا اے میرے بندو! تم مجھے ہرگز نقصان نہیں پہنچا سکتے اور نہ ہی ہرگز مجھے نفع پہنچا سکتے ہو اے میرے بندو! اگر تم سب اولین و آخریں اور جن و انس اس آدمی کے دل کی طرح ہو جاؤ جو سب سے زیادہ تقوی والا ہو تو بھی تم میری سلطنت میں کچھ بھی اضافہ نہیں کر سکتے اور اگر سب اولین اور آخرین اور جن و انس اس ایک آدمی کی طرح ہو جا ؤکہ جو سب سے زیادہ بدکار ہے تو پھر بھی تم میری سلطنت میں کچھ کمی نہیں کر سکتے اے میرے بندو !اگر تم سب اولین اور آخرین اور جن اور انس ایک صاف چٹیل میدان میں کھڑے ہو کر مجھ سے مانگنے لگو اور میں ہر انسان کو جو وہ مجھ سے مانگے عطا کر دوں تو پھر بھی میرے خزانوں میں اس قدر بھی کمی نہیں ہوگی جتنی کہ سمندر میں سوئی ڈال کر نکالنے سے۔(صحیح مسلم حدیث نمبر 2027)

حضرت فضالہ بن عبید ؓسے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺنے ایک شخص کو نماز میں دعا کرتے ہوئے سنا، اس حال میں کہ اس نے نہ تو اﷲ کی حمد و ثنا کی تھی اور نہ نبی پر درود بھیجا تھا۔ آپ ﷺنے فرمایا اس نے جلد بازی سے کام لیا، پھر آپ ﷺنے اس کو اپنے پاس بلایا اور اس سے کہا (یا کسی اور سے کہا کہ)جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو اپنے رب کی حمدو ثنا سے آغاز کرے پھر نبیﷺ پر درود بھیجے پھر اس کے بعد جو چاہے دعا مانگے۔(سنن ابوداد ، جلد اول ، حدیث 1477)

دعا کی قبولیت کے اوقات
ویسے تو دعاہر وقت مانگی جاسکتی ہے البتہ احادیث کی روشنی میں بھی چند اوقات کو اہمیت حاصل ہے چنانچہ حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ مرفوعا ً بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا :بندہ سجدے کی حالت میں اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے۔ لہذا سجدوں میں کثرت سے دعا کیا کرو۔(مسلم)
ایک اورحدیث پاک میں ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے ارشاد فرمایا:مجھے رکوع اور سجدے میں قرآن پڑھنے سے منع کیا گیا ہے۔ لہذا رکوع میں اپنے رب کی کبریائی اور عظمت بیان کرو اور سجدوں میں کثرت سے دعائیں کرو۔ کیوں کہ سجدوں کی حالت میں کی جانے والی دعائیں جلد قبول ہوتی ہیں۔(مسلم)
اذان اور اقامت صلو ۃکے درمیان کا وقت قبولیتِ دعا کا خاص اور موزوں وقت ہے۔ اس وقت اﷲ تعالی اپنے بندوں کی دعائیں جلد قبول فرماتا ہے۔
حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا:اذان اور اقامت کے درمیانی وقت میں کی جانے والی دعا رد نہیں کی جا تی۔(ترمذی)

جمعہ کے دن میں اﷲ تعالی نے ایک ایسی گھڑی رکھی ہے جس میں کی جانے والی کوئی بھی دعا قبولیت سے سرفراز ضرور ہوا کرتی ہے۔ اس گھڑی میں کی جانے والی دعا رد نہیں کی جاتی۔ بخاری ومسلم کی متفق علیہ روایت میں آیا ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرمﷺ نے جمعہ کے دن کے فضائل کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ جمعہ کے دن میں ایک ایسا پل اور ایک ایسا لمحہ ہے کہ جس بندے کی دعا اس لمحے سے ٹکرائی یعنی اس گھڑی میں جس بندے کی زبان سے دعا نکلی اﷲ تعالی اسے ضرور شرفِ قبولیت سے نوازتا ہے۔

وہ گھڑی کون سی ہے؟ اس سلسلے میں علما ء کا اختلاف ہے۔ سب سے زیادہ صحیح بات اس سلسلہ میں یہ ہے کہ وہ گھڑی جمعہ کے دن عصر کے بعد ہوتی ہے اور اس کی دلیل ابو داؤد کی وہ حدیث ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جمعہ کے دن کی گھڑیوں میں ایک گھڑی ایسی ہے جس میں بندہ اﷲ سے جو کچھ مانگتا ہے پا لیتا ہے، اسے عصر کے بعد والی گھڑی میں تلاش کرو

دعاکے آداب
ہاتھ اٹھا کر دعا مانگیں۔ کیوں کہ حدیث میں آیا ہے کہ تمہارا رب زندہ جاوید اور سخی ہے۔ وہ اس بات سے شرماتا ہے کہ کوئی بندہ اس سے اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر مانگے اور وہ اسے خالی ہاتھ لوٹا دے ۔ (مستدرک حاکم )

دعا یقین محکم کے ساتھ کی جائے۔ رسول اﷲﷺکا ارشاد ہے کہ تم میں سے کوئی دعا کرے تو دعا کی قبولیت کے پختہ یقین کے ساتھ کرے۔ یہ نہ کہے کہ اگر تو چاہے تو مجھے فلاں چیز عطا کردے۔ کیوں کہ اﷲ کوکوئی مجبور نہیں کرسکتا۔(بخاری شریف)
دعا میں مداومت برتے۔ صرف مصائب آنے پر ہی دعا نہ کرے۔ نبی پاک ﷺ نے فرمایا ہے کہ جسے اس بات سے خوشی ہو کہ اﷲ اس کی دعا مصائب وآفات کے وقت قبول کرے، اسے چاہئے کہ وہ خوشحالی کے وقت بھی خوب دعائیں کرے۔ (ترمذی،مستدرک حاکم )
یاد رکھیے کہ دعا قبول ہونے کی 3مختلف صورتیں ہیں۔(1)اگر وہ دعا اس شخص کے حق میں بہتر ہو تو اﷲ اسکو ویسا ہی قبول کرکے پورا کردیتے ہیں۔(2) بعض اوقات انسان دعا مانگتا ہے اس پر کوئی پریشانی آنے والی ہوتی ہے تو اﷲ اسکی دعا کو ذریعہ بنا کر آنے والی پریشانی سے اسکو محفوظ کردیتے ہیں۔(3)کسی کی دعائیں نیکیوں کا خزانہ بن کر آخرت میں جمع کردی جاتیں ہیں۔

اس لیے انسان کو ناامید نہیں ہونا چاہیے دعا بہر صور ت اس کے لیے مفید ہی ہوتی ہے اس لیے رب سے مانگیں ہر چیز مانگیں ہر وقت مانگے وہی ہے دعاؤں کو قبول کرنے والا اور سننے والا ۔اﷲ پاک ہمیں صدقِ دل اپنے سامنے دامن پھیلانے اور ہاتھ اٹھانے کی توفقیق عطافرمائے اور ہماری جائز حاجات پورا فرمائے (آمین ثم آمین)

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Qazi Israil

Read More Articles by Qazi Israil: 38 Articles with 19871 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
27 Apr, 2017 Views: 443

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ