شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات

(Muskaan, Karachi)

"انداز ے بیان گرچہ بہت شوخ نہی ہے
شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات """"
میرا سوال ہے ان نوجوانوں سے جو آج کے دور میں درندہ صفت انسانوں کی طرح، انسانیت کے نام پہ بھیڑیے کے خول میں لپٹے ، گیدڑ بھپکی کرتے کتنے معصوم لوگوں کے خون کا مرتکب بنتے رہے ہیں ۔
کیا تمہارے پاس خوبصورت اور انمول جیسے رشتوں کے بندھن نہی؟ کیا تم کسی کے اولاد نہی ؟کیا تم کسی کے باپ نہی ؟کیا تم کسی کے سہاگ نہی؟یقینن تم کسی نا کسی رشتے سے منسلک ضرور ہوگے تو پھر یہ سفاکی کیوں ؟ پھر یہ درندگی کیوں ؟تم احساسات و محبّت سے کیوں بےبہرہ ہوگئے ؟تم قاتل کیوں بنگئے؟
جب تم کسی کا خون کرتے ہو تو کیا تمہے بعد میں کوئی ندامت کوئی پچھتاوا نہی ہوتا ہے جہاں قہقہوں ڈیرہ تھا اب آنسوؤں کی آسیب نے چمٹ لیا اس گھر کو تمہاری وجہ سے ،کسی کے گھر میں آج ماتم برپا ہے تو صرف و صرف ۔تماری درندگی کی وجہ سے ۔کوئی بچہ یتیم ہوجاتا ہے تو تماری سفاکیت کی وجہ سے آج ایک عورت بیوہ ہوتی ہے تو تمہاری ظلم کی پاداش کے بھینٹ چڑھ کے ۔لیکن تم کیا جانو ! جسکا ضمیر ہی بک جائے وہ کسی کا کرب کیا سمجھے۔

کیا پیسہ اتنی بری بلا ہے جو آسیب کی طرح ضمیر کے تن بدن میں چمٹ سی جاتی ہے ؟جہاں پیسے کے عوض انسان مارا جاتا ہے ؟جہاں ضمیر کا سودا ہوتا ہے جہاں انسانیت بے مول ہوکے رہگئ ہے؟ کیا کسی پے گولی چلاتے ہوے تمارے ہاتھ میں لرزش طارعی نہی ہوتی که تم سے کتنا بڑا گناہ سرزد ہوگیا ہے جسکی تلافی ممکن نہی ؟

سنو !تمہے ایک بات کہوں تم بھی تو کبھی بچے تھے نہ،تمہے بھی تو ماں کی آغوش اور باپ کی شفقت میسّر رہی ہوگی تمہارے گھر میں بھی خوشیوں کا ںبسیرا ہوتا ہوگا؟تمہارے والدین نے بھی تم سے وابستہ کتنے خواب سجائیں ہونگے؟ تو پھر تم کسی کا باپ کیسے چھین سکتے ہو تمہارا باپ بھی تو تمہے اچھا مستقبل دینے کے لیے دن رات محنت کرتا ہوگا یہ سوچ کر کہ پڑھ لکھ کر میرا بیٹا جب لائق بن جاےگا تو ہمارے بڑھاپے کا سہارا اور مرنے کے بعد صدقہ جاریہ بنے گا ۔ملک و قوم کا معمار بنے گا ۔لیکن یہ کیا ؟تم نے تو ایک قاتل کا روپ دھار لیا تم نے تو انکی بھی پرواہ نہی کی جسنے تمہیں پال پوس کے پروان چڑھایا بلکے انکے ندامت کا سبب بنگےُ ۔ یہ کسک انکے دل میں ضرور منڈلا رہی ہوگی اسکی اولاد اب بد دعاؤں کے زیر اثر زندگی گزار رہی ہے ۔

ابھی بھی تمہاری زندگی کی سانسیں باقی ہیں خدارا چھوڑ دو، پلٹ آؤ ،منہ موڑ لو اس گھناونے جرم سے مت چھینو ننھے بچوں کا سائبان ،نہ کرو انہیں تہی داماں و بے آسرا ۔ باپ کے بغیر بھی بھلا کوئی زندگی ہوتی ہے وہ تو اولاد کے لیے تپتے ھوے سورج میں ایک چھتری کی مانند ہوتا ہے جو دھوپ کی تمازت برداشت کر کے اپنی اولاد کو چھاؤں مہیا کرتا ہے۔اپنی اولاد کی ضرورتوں کو پورا کرنے نوکری کے لیے نکلتا ہے تب بھلا کب اسے یہ پتہ ہوتا ہے کہ آج وہ گھر اپنے پیروں پے چلکر جائیگا یا کسی کے کاندھے کے سہارے ۔
اگر تم کسی کو خوشی نہی دے سکتے تو انکے دکھ و کرب کا سبب بھی نہ بنو ۔کیوں نہ تم آج یہ عہد کرلو کہ اپنابرائی والا راستہ تبدیل کرلو مت دیکھو مڑ کے پیچھے منا لو اپنے رب کو یقینن تمہارا جرم بہت سنگین ہے لیکن دل سے معافی مانگو توبہ کا دروازہ کھٹکہٹاؤ تو معافی ضرور ملیگی پس !تم اپنے رب کو منانا سیکھ لو بیشک وہ تمہیں رحمت کی آنچل میں ڈھانپ لے گا....

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muskaan

Read More Articles by Muskaan: 3 Articles with 6199 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
01 May, 2017 Views: 3530

Comments

آپ کی رائے