ہنسی کی تلاش

(Tanvir Sadiq, Lahore)

مجھے ہنسی کی تلاش تھی ۔سوچا آج جو کتابیں خریدوں گا ان میں کچھ ہنستی اور کھلکھلاتی کتابیں ضرور لوں گا اس لئے کہ کہتے ہیں ہنسی علاج غم ہے اور ہنسنے کے صحت پر بہت سے مثبت اثرات اور بہت فائدے ہیں جیسے
1 ۔ چند قہقے لگانے سے آپ کا تفکرات سے مارا جسم پر سکون ہو جاتا ہے۔ ہنسنا آپ کا ذہنی دباؤ کم اور پریشانی کو دور کرکے کم از کم پون گھنٹے تک آپ کو پر سکون رکھتا ہے۔
2 ۔ فطری طور پر ہر شخص کے اندر ایک ایسا مادہ ہوتا ہے جس کی مدد سے وہ چیزوں کو بہتر اور اچھا محسوس کرتا ہے۔ ہنسنے کا عمل اس مادے کے عمل کے فروغ کا باعث ہوتا ہے۔
3 ۔ ہنسنا نظام ہضم میں بہتری لاتا ہے۔ آپ ہنستے ہو تو نظام ہضم تیز ہو جاتا ہے۔ کھانا جلد ہضم ہو جاتا ہے ۔ معدہ بہتر کام کرنے لگتا ہے جس سے صحت پر انتہائی مثبت اثر ہوتا ہے۔
4 ۔ ہنسنا IMMUNE سسٹم کو بہتر کرتا ہے اور بیماریوں کے خلاف انسانی جسم کے مزاحمت کے نظام کو بہتر کرتا اور انسان کو بیماریوں سے محفوظ رکھنے میں مددگار ہوتا ہے۔
5 ۔ ہر انسان میں غصے اور ناراضی کا ایک عنصر ہوتا ہے جو انسانی زندگی میں بہت سی مشکلات اور مسائل کو جنم دیتا ہے۔ہنسنے سے اس عنصر میں کمی آتی ہے اور انسان بہت سی مشکلات اور مسائل سے نجات پاتا ہے۔کہتے ہیں کہ انسان غصے اور ناراضی کی وجہ سے چہرے کو جتنا بھینچتا ہے اسی قدر اس کی عمر کم ہوتی جاتی ہے۔ہنسی اس کا سد باب ہے۔
6 ۔ ہنسنا ورزش کا نعم البدل بھی ہے۔اس لئے کہ ہنسنے سے انسانی جسم کی کلوریز کم ہوتی ہیں،عام حالات میں جنہیں کم کرنے کے لئے ہم ورزش کرتے ہیں۔ایک دن میں اگر دس سے پندرہ منٹ ہنس لیا جائے تو آپ کی کم از کم چالیس کلوریز خرچ ہو جاتی ہیں جو وزن کم کرنے میں بھی مدد گار ہوتی ہیں۔
7 ۔ دل کے امراض کا ایک قدرتی علاج ہنسنا ہے۔آپ جتنے زور سے ہنستے ہو، خون اتنی تیزی سے دل کی نالیوں میں ڈورتا ہے جس سے بند نالیاں کھلتی ہیں۔ دل کے دورے کا امکان کم ہوتا ہے اور دل کی بہت سی دوسری بیماریوں سے بچنے کا سبب بنتا ہے۔
8 ۔ حال ہی میں ہونے والی جدید تحقیق کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ زیادہ ہنسنے والے لوگ کم ہنسنے والے لوگوں کے مقابلے میں نسبتاً بہت زیادہ لمبی عمر پاتے ہیں۔

کتابوں کی اس دکان پر زیادہ تر کتابیں خشک مضامین سے متعلق تھیں۔ایک طرف خواتین کی پسندیدہ کتابیں تھیں۔ سب انہی مصنفین کی کہ جن کے ہر موضوع کا انجام ہمیشہ بہت دکھی دکھی ہوتا ہے۔ وہ ٹریجڈی کے علاوہ کچھ نہیں لکھتیں۔تاریخ، کلچر اور تعلیم سے متعلقہ کچھ کتابیں خریدنے کے بعد میں دوبارہ مزاح کے حوالے سے کچھ کتابیں تلاش کرنے لگا۔ اتفاق سے ایک کتاب نظر آ گئی۔ عنوان تھا ، بڑے آدمیوں کے لطیفے، سوچا آج اسی کتاب پر قناعت کی جائے، اندازہ تو ہو گا کہ بڑے لوگ کن باتوں پر ہنستے ہیں۔ ایک ہفتے کی لگاتار محنت کے بعد بڑ ی مشکل سے سات سو صفحات کی وہ کتاب ختم کی ۔ اندازہ ہو گیا کہ بڑے آدمیوں کے لطیفے کوئی لطیفے نہیں ہوتے، ہاں بڑے لوگوں کو خوش کرنے کے چکر میں لوگ ان کی چھوٹی چھوٹی باتوں کو کچھ بھی کہہ لیتے ہیں ۔ اس لئے میں باوجود کوشش کے اور ان سات سو صفحوں کو سنجیدگی سے پڑھنے کے باوجود ہنس نہیں سکا۔ لگتا ہے مصنف نے کچھ بڑے آدمیوں کو خوش کرنے کے لئے ان سے منسوب تمام حادثات اور واقعات کو لطیفے کا نام دے دیا ہے۔

مزاح اور لطیفے گھٹن میں، غربت میں، مجبوری میں اور بے بسی میں جنم لیتے اور فروغ پاتے ہیں۔امیر اور خوشحال لوگ تو ویسے ہی مسکراتے رہتے ہیں۔وہ لطیفوں سے فقط لطف اندوز ہوتے ہیں۔غربت اور لطیفے کی بات چلی تو یاد آیا۔ایک غریب آدمی کو پولیس نے گدھے کا گوشت کھانے کے الزام میں پکڑ لیا۔مجسٹریٹ کی عدالت میں اس نے روتے ہوئے کہا کہ جناب بہت غریب آدمی ہوں۔ جیب میں پیسے نہیں تھے اور گھر میں بچے دو دن سے بھوکے۔ کیا کرتا، ایسے میں تو حرام بھی جائز ہوتا ہے ۔ میں مجبور تھا۔ آپ میرے حالات کو سمجھیں اور میری مجبوریوں کو جان کر مجھے معاف کر کے رہا کر دیں۔مجسٹریٹ کو بات سمجھ آ گئی۔ اسے رہا کر دیا۔ عدالت سے فارغ ہو کر مجسٹریٹ اپنے کمرے میں بیٹھا تھا کہ وہ شخص پھر آ گیا۔ مجسٹریٹ نے پوچھا کہ اب کیا بات ہے۔ کہنے لگا آپ نے مجھ پر جو مہربانی کی ہے اس کا شکریہ ادا کرنے آیا ہوں۔شکریہ کہہ کر وہ واپس جانے لگا تو مجسٹریٹ نے ویسے ہی پوچھ لیا کہ گدھے کا گوشت جو تم نے کھایا اس کا ذائقہ کیسا تھا۔ جواب ملا، ٹھیک تھا بلکہ کتے کے گوشت سے تو بہت اچھا تھا۔ ہاں آپ نے اگر بہت اچھے ذائقے کا گوشت کھانا ہے تو حکم کریں۔آپ کو بلی کا گوشت لا کر دیتا ہوں بہت اچھا ہوتا ہے۔ مجسٹریٹ صاحب نے اسے حیران نظروں سے دیکھا اور پھر اپنے عملے کوبلاکر حکم دیا کہ اس غلیظ آدمی کو عدالت کے احاطے سے باہر پھینک دو۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tanvir Sadiq

Read More Articles by Tanvir Sadiq: 437 Articles with 221236 views »
Teaching for the last 46 years, presently Associate Professor in Punjab University.. View More
04 May, 2017 Views: 829

Comments

آپ کی رائے