خلیج کی بڑھتی ہوئی خلیج ……آخرکب تک؟ (آخری قسط)

(Sami Ullah Malik, )

دسمبر٢٠١٣ء میں سعودی عرب نے اعلان کیاکہ وہ لبنان کی مسلح افواج کو مضبوط تر بنانے کے لیے٣/ ارب ڈالر خرچ کرے گا۔ اس رقم سے نئے ہتھیار خریدے جائیں گے اور افواج کی بہتر تربیت کا اہتمام بھی کیا جائے گا۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد لبنانی مسلح افواج کو ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ ملیشیا کے مقابل زیادہ طاقتوربناناتھا مگریہ مقصد پوری طرح حاصل نہ کیا جاسکا۔ لبنان نے٢٠١٦ء کے اوائل میں جب تہران میں سعودی عرب کے سفارت خانے پر حملے کی مذمت سے گریز کیا تو سعودی قیادت ناراض ہوگئی۔ اس سے یہ بات بھی کھل کر سامنے آگئی کہ لبنان میں سعودی نوازسیاست دانوں کااثرورسوخ کم ہوگیا ہے۔

شام میں سعودی عرب کاکرداراتنانمایاں نہیں تھاجتنا ترکی کاتھایاجیسا بشارالاسد کے خلاف اتحاد کی تشکیل میں قطرکاکردارتھامگرسعودیوں نے شام میں بشار الاسد کی حکومت کاتختہ الٹنے کی اپنی کوشش ضرورکی۔٢٠١٢ء کے اوائل میں امریکامیں سعودی عرب کے سفیرشہزادہ بندربن سلطان نے شام کے حکومت مخالف باغیوں کوکروشیااوراردن کے ذریعے ہتھیاراورمالی امداد فراہم کرنے کی نگرانی کی۔ کچھ واضح نہیں کہ یہ سلسلہ کب ختم ہوا۔اردن کی قیادت اس سلسلے سے خوش نہ تھی۔ یہ بھی واضح نہیں کہ سعودی عرب کی طرف سے کی جانے والی اس کوشش کاسب سے زیادہ فائدہ کسے اورکتناپہنچا۔ اس وقت شام میں کئی گروپ لڑ رہے تھے۔ اب تک یہ بات کھل کر سامنے نہیں آسکی کہ کس گروپ کو کتناسعودی مال ملا۔

سعودی عرب کی بھرپور کوشش رہی ہے کہ ایران کے توسیع پسندانہ عزائم کی راہ میں دیوارکھڑی کرتے ہوئے خطے میں اپناکرداراداکرے مگراس کوشش میں اسے اب تک مکمل یاخاطرخواہ کامیابی حاصل نہیں ہوسکی ہے۔ فی الحال ابھی ایسادکھائی دے رہاہے کہ بشارالاسد شام پرحکومت کرتے رہیں گے اور اسے ایران کی اسٹریٹجک فتح ہی سمجھاجائے گالیکن حال ہی میں شام میں کیمیائی حملے کے بعدامریکانے فوری طورپرشام کے کئی مخصوص علاقوں پرمیزائلوں کی بارش برساکرکھل کراپنی موجودگی کااعلان کردیاجس پرروس نے اپنے شدید ردعمل کااظہارکرتے ہوئے امریکااوراس کے اتحادیوں کی طرف سے اقوام متحدہ میں پیش کردہ قراردادکوویٹوکردیااوراب دنیاایک مرتبہ پھرشدیدسردجنگ کے دورمیں داخل ہوگئی ہے۔

ادھرجب یمن میں جب حوثی قبائل کے جنگجووں نے ایرانی مددسے صدرعبدربہ منصورکی حکومت کودارالحکومت صنعاسے نکال باہرکیاتویہ واقعہ سعودی عرب کیلئے واضح خطرے کی گھنٹی تھا۔سعودی قیادت کواندازہ تھاکہ اگر بھرپورحفاظتی اقدامات نہ کیے گئے تویمن کے باغیوں کوسعودی عرب میں داخل ہونے سے روکناممکن نہ ہوگا۔سعودی قیادت جانتی تھی کہ یمن میں باغیوں کی پوزیشن مضبوط ہونے سے ایران کے اثرات بھی مستحکم ترہوجائیں گے۔اگریمن میں حزب اللہ ملیشیا کوقدم جمانے کاموقع مل گیاتوایران خطے میں توسیع پسندانہ عزائم کی تکمیل کیلئے زیادہ متحرک اورکامیاب ہوجائے گا۔ ایران کوآگے بڑھنے سے روکنے کیلئے سعودی قیادت نے یمن میں مداخلت کا فیصلہ کیااورمارچ ٢٠١٥ء میں مداخلت کا فیصلہ کرتے ہوئے باغیوں کے ٹھکانوں پر بمباری سے شروع کردی۔ سعودی ایئرفورس کے ایف۔١٥طیاروں نے یمن کے کئی شہروں میں باغیوں کے ٹھکانوں پربمباری کے ذریعے ایران کے اثرات کو کمزورکرنے کی بھرپورکوشش کی۔یمن کے خلاف کارروائی میں سعودی عرب نے غیر معمولی حد تک خرچ کیا ہے۔ سعودی قیادت جن باتوں سے ڈر رہی تھی ،اب وہی باتیں ہورہی ہیں۔ حوثی باغیوں نے ایران سے مل کرسعودی عرب کیلئے بڑے خطرے کی شکل اختیارکرلی ہے۔ سعودی سلامتی کوپہلے سے کہیں زیادہ خطرات لاحق ہیں۔حوثی باغیوں سے سعودیوں کا یہ کوئی پہلا ٹاکرا نہیں،١٩٣٠ء کے عشرے میں بھی یہی کچھ ہواتھااور٢٠٠٩ء میں بھی سعودیوں نے حوثی باغیوں کے خلاف کارروائی کی تھی جوقدرے ناکام رہی اورسعودی فورسز کو پسپاہوناپڑاتھا۔

جزیرہ نماعرب کے مغربی حصے میں ایران کے بڑھتے ہوئے اثرات کادائرہ محدودکرنے کیلئےاس وقت متحدہ عرب امارات کی قیادت سعودی عرب کاکھل کرساتھ دے رہی ہے۔ اب یمن کے محاذپربھی دونوں ساتھ ساتھ ہیں کیونکہ امارات کواندازہ ہے کہ اس کی بھرپور معاونت کے بغیرسعودی قیادت کامیاب نہ ہوسکے گی۔سعودی عرب دوسال سے یمن پربمباری کررہاہے۔ یہ خطے کاغریب ترین ملک ہے۔ اندازہ لگایا جا سکتاہے کہ مسلسل دوسال سےکی جانے والی بمباری کےنتیجے میں یمن میں کس قدرجانی ومالی نقصان ہواہوگا۔

سعودی عرب نے اب تک یہ تاثردیا ہے کہ یمن میں اس کی فوجی کارروائی بِلا امتیاز ہےمگر سابق صدر بارک اوباما نے سعودی عرب کوفضا سے داغے جانے والے اورقطعیت کے ساتھ ہدف پرپہنچنے والے ہتھیارفراہم کرنے پرپابندی عائد کردی تھی۔یمن میں شہریوں کی بڑھتی ہوئی ہلاکتوں کے پیش نظربارک اوباما نے سعودی عرب کوکلسٹربم کی فروخت بھی معطل کردی تھی مگرکانگریس نے فراہمی بحال کردی۔ سعودی عرب نے یمن کی تعمیرنوکیلئےارب ڈالر خرچ کرنے کاعندیہ دیاہے مگرجوتباہی سعودی فوجی کاروائی کے نتیجے میں وہاں ہوئی،اسے دیکھتے ہوئے یہ رقم اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہے۔

سیاسی اوردفاعی ماہرین کے مطابق "سعودی قیادت نے خطے میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کیلئے طاقت کے استعمال کی پالیسی کے منفی نتائج برآمد ہوئے ہیں اورسعودی فورسزاب تک اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ دی رائل سعودی عربین آرمڈ فورسز پیچیدہ کارروائیاں کرنے کی اہلیت نہیں رکھتیں، شائدانہی وجوہات کی بناء پر۳۴مسلم ممالک کی مشترکہ افواج کانظریہ سامنے آیا ہے جس کی سربراہی بالآخرجنرل راحیل کے سپردکی گئی ہے تاکہ ان کی فوجی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سعودی فوج کی ہنگامی بنیادوں پرازسرنو تربیت کی جاسکے۔

دی انٹیلی جنس اسکوائرڈیوایس کے مطابق بحث میں حصہ لینے والے جن ماہرین نے سعودی عرب کواسٹریٹجک پارٹنر بنائے رکھنے کی وکالت کی، وہ بالکل درست تھے۔ امریکا کوچاہیے کہ سعودی عرب کواپنا اسٹریٹجک پارٹنر بنائے رکھے،اس لیے نہیں کہ سعودی عرب تیل پیداکرنے والا سب سے بڑا ملک ہے یا یہ کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکاکا بڑاساتھی ہے اورنہ ہی اس لیے کہ دو طرفہ تعلقات سے واشنگٹن کوفائدہ پہنچے گابلکہ محض اس لیے کہ اس خطے کاانجام کہیں تیسری عالمی جنگ کاسبب نہ بن جائے اوراس وقت کوئی بھی ایسانہیں چاہتا۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sami Ullah Malik

Read More Articles by Sami Ullah Malik: 531 Articles with 225857 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
06 May, 2017 Views: 352

Comments

آپ کی رائے