اہل قلم کا اجتماع

(Shafqat Ullah, )

جون ایلیا عہدساز ،مفکر ،دانشور ،ادیب اوراپنے دور کے ایک نامور شاعر گزرے ہیں اﷲ تعالیٰ ان پر رحمت فرمائے دبئی کے ایک مشاعرے میں جلوہ افروز تھے جو کہ سلیم جعفری صاحب کی طرف سے منعقد کی گئی تھی مشاعرے میں جب انہیں اپنا کلام پیش کرنے کی دعوت دی گئی تو انہوں نے حاضرین و سامعین کو مخاطب کرتے ہوئے بتا یا کہ ان کا ظہور آج ہوا ہے تمام حاضرین یہ بات سن کر بہت حیران بھی ہوئے اور تھوڑا محظوظ بھی کیونکہ جون مرحوم کا انداز اور طبیعت کچھ تفریحی بھی واقع ہوئی تھی ۔ان سے ظہور کا سوال کیا گیا !! ا س سوال کا جواب انہوں نے تو ایک بڑے سے سمندر کو کوزے میں بند کر کے سامنے رکھ دیا تھا لیکن میں اس پر بات کرنا چاہوں گا۔لکھنا اور اپنے خیالات کا اظہار کرنا قلم اور قرطاس سے اپنے جذبات کو لوگوں کے دل و دماغ میں بھر دینا سچ میں اﷲ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے بے شک ایک خداداد صلاحیت ہے جسے سبھی تسلیم کرتے ہیں ۔اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ قلم قرطاس اور کتاب سے تعلق رکھنے والے دانشوروں کا مقصد معاشرے میں امر بالمعروف و نہی عن المنکر کو فروغ دینا ہوتا ہے ۔میں نے سال 2015 کے اختتام کے قریب سب سے پہلے ایک فیچر لکھا جسکا نام اوسٹیو پروسس تھا اور اس سے بھی تین سال پہلے میں نے شعبہ صحافت میں سفر کا آغاز کیا خبر اور خبریت سیکھی کیونکہ شعبہ تعلیم میں میرا مضمون صحافت نہیں بلکہ میڈیکل سے متعلقہ ہے ۔اوسٹیو پروسس میرا مضمون صرف دو لوکل اخبارات میں شائع ہوا ۔ انہیں اخبارات اور چند پڑھنے والے احباب نے میری حوصلہ افزائی کی اور مجھے مستقبل میں بھی لکھنے کیلئے مجبور کیا ۔ نہ صرف مجبور کیا بلکہ رہنمائی بھی فرمائی اﷲ رحم کرے ،لمبی صحت بھری عمر عطا فرمائے ،تمام دکھ پریشانیوں ،بلاؤں سے محفوظ فرمائے اور راضی ہو میرے استاد چوہدری ناصر گجر اور آدم رضا قریشی سے جنہوں نے میری انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا ۔ویسے تو میرا پہلا ظہور ڈیرہ بگٹی بلوچستان میں ہو ا جو میری جائے پیدائش ہے اور اس کے بعد میرا دوسرا ظہور جھنگ میں ہوا جہاں میں پلا بڑھا اور تعلیم بھی حاصل کی لیکن اگر انسانیت اور اصول مقصد زندگی کی رو سے دیکھا جائے تو یہ میرا پہلا ظہور تھا میرا دوسرا ظہور ورلڈ کالمسٹ کلب جس نے ایک سال کا سفر پاکستان کالمسٹ کلب تک کا کیا ہے میں شامل ہونا تھا اور اس تقریب پذیرائی میں شمولیت کے بعد ہوا جو لاہور جمخانہ کلب میں ہوئی جس پر میں محمد ناصر اقبال خان صاحب کیلئے بے حد مشکور اور ان کیلئے دل کی گہرایوں سے دعا گو ہوں کہ انہوں نے ایک بونے سے شہر کے ایک ذرے سے لکھاری کو بھی دیکھ لیا اور ان کی نظر کی داد رسی کئے بغیر تو کوئی بھی نہیں رہ سکتا کہ کس طرح انہوں نے اس خاندان کی بنیاد رکھی ورلڈ کالمسٹ کلب موجودہ پاکستان کالمسٹ کلب کوئی کلب یا تنظیم نہیں بلکہ ایک خاندان ہے اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ واقعی ایک خاندان ہے کیونکہ قلم کاروں کو کسی تنظیم کی نہیں بلکہ ایک خاندان کی ضرورت تھی جس میں وہ ایک ہو سکیں اور یہ قلم کاروں کا ایک تصفیہ طلب مسئلہ تھا جسے قلم اور قرطاس کے درخشاں ستاروں محمد ناصر اقبال خان ،ایثار رانا ، مظہر برلاس ،اوریا مقبول جان ،ڈاکٹر عبدالقدیر خان ،ڈاکٹر اجمل خان نیازی ،رابعہ رحمان،ڈاکٹر عمرانہ مشتاق ،کاشف سلیمان ،بھائی ذبیح اﷲ بلگن ،ناصر چوہان ،ممتاز حیدر اعوان ،ڈاکٹر تنویر رانا ،ناصر بشیر ،عابد کمالوی ،امان اﷲ خان ،مراد خان ،امجد اقبال ،رقیہ غزل بلکہ خاندان کے ہرایک فرد نے اپنے نڈر جذبے اور کبھی نہ ختم ہونے والی جرأت و ہمت سے حل کر کے دکھایا کہ آج اس خاندان کے افراد کی تعداد ان گنت ہے کیونکہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ جتنے بھی قلم کار ہیں اور وہ اسلامیت ،انسانیت اور پاکستانیت کی بات کرتے ہیں تو وہ ہمارے خاندان کا حصہ ہیں اور پھر وہ چاہے کسی بھی تنظیم یا ثقافت کا حصہ ہوں بلکہ وہ ساری تنظیمیں بھی ان شا ء اﷲ ہمارے ساتھ قدم بہ قدم چلیں گی یہ ہمارے رہنماء ہمارے قائد محمد ناصر اقبال خان کا عزم ہے ۔حال ہی میں ورلڈ کالمسٹ کلب موجودہ پاکستان کالمسٹ کلب نے اپنا پہلا یوم تاسیس منا یا ہے جس میں پاکستان کے درخشاں ستارے نامور سیاسی ،مذہبی ،سماجی اور ادبی شخصیات نے حصہ لیا اور اسی یوم تاسیس کی تقریب میں ہی اس خاندان کا نام ورلڈ کالمسٹ کلب سے پاکستان کالمسٹ کلب رکھ دیا گیا جو کہ پاکستان کے مایا ناز صحافی و تجزیہ کار اور روزنامہ پاکستان کے چیف ایڈیٹر مجیب الرحمٰن شامی نے دیا ان کے علاوہ تقریب میں حریت پسند رہنماء یسین ملک کی زوجہ محترمہ مشعال ملک ،غریبوں کا سیاستدان جمشید احمد خان دستی ،مرکزی جمعیت اہلحدیث کے امیر سینٹر ساجد میر ،جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ،سابقہ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں منظور وٹو کی صاحب زادی اور پارلیمنٹیرین جہاں آراء وٹو ،ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے دست راست نے ان کا پیغام سنایا ،کے ساتھ ساتھ متذکرہ بالا پاکستان کالمسٹ کلب کے عہدیداران اور ممبران نے بھی شرکت کی جس میں میں بونا لکھاری بھی موجود تھا اتنے زیادہ دانشوروں اور قلم کاروں کے درمیان بیٹھنے کے بعد میں سمجھتا ہوں کہ میرا صحیح ظہور اس یوم تاسیس میں ہوا اور اس کیلئے میں ذبیح اﷲ بلنگن بھائی کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں کہ انہوں نے میرا نام لے کر بتایا کہ قلم کاروں کے خاندان میں ایک اور نومولود کا بھی اضافہ ہو چکا ہے ۔اب میں اپنی اس بات کی طرف آتا ہوں جو آغاز میں میں نے جون ایلیا صاحب کی بات کی تھی ان کا ظہور بھی کچھ ایسے ہی ہو ا وہ بتاتے ہیں کہ ان کا پہلا ظہور امروئے میں ہوا اور اس کے بعد آزادی کے وقت وہ کراچی میں آگئے یہ ان کا دوسرا ظہور تھا اور ان کا صحیح ظہور دبئی میں سلیم جعفری صاحب کی جانب سے منعقد کردہ مشاعرے میں ہوا بے شک اس ظہور کے بعد جناب جون ایلیا کو بین الاقوامی شہرت حاصل ہوئی اور آج ان کی شاعری ان کا نام پاکستان کیلئے فخر ہے ۔میں امید کرتا ہوں کہ میرے اس ظہور کے بعد پاکستان کالمسٹ کلب کا خاندان جس میں سبھی مجھ سے بڑے ہیں اک میں ہی نومولود ہوں کی انگلی پکڑ کر سکھائیں گے چلائیں گے اور ایک بار پھر سے میں اپنے قائد جناب محترم ناصر اقبال خان کی اعلیٰ نظری اور کثر نفسی کیلئے ممنون ہوں کہ انہوں نے مجھ نا چیز پر احسان کیا ۔دعا کرتا ہوں کہ اﷲ تعالیٰ نے ہم سے جو مقصد لینا ہے دنیا میں اس پر ہمیں استقلال اور راست بازی عنایت فرمائے اور اس پاکستان کالمسٹ کلب کو رہتی دنیا تک قائم رکھے ۔امین۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Malik Shafqat ullah

Read More Articles by Malik Shafqat ullah : 214 Articles with 93256 views »
Pharmacist, Columnist, National, International And Political Affairs Analyst, Socialist... View More
08 May, 2017 Views: 249

Comments

آپ کی رائے