ہمارے شیر

(Sana Ghori, Karachi)

وزیراعظم نے جب بڑے فخر سے خود کو شیر اور اپنے مخالف کو کبوتر قرار دیا تو میرے دل میں پہلا خیال یہ آیا کہ ہمارے سیاست داں خود کو جانور وہ بھی درندہ قرار دے کر کتنی خوشی محسوس کرتے ہیں۔ نوازشریف صاحب نے فرمایا کہ 2018میں یعنی جب عام انتخابات کا میدان سجے گا اور چناؤ کا معرکہ ہوگا تو ’’شیر بند آنکھوں والے کبوتر کو اٹھا کر لے جائے گا۔‘‘ جانے یہ وزیراعظم کا اپنا جملہ تھا یا ان کے کسی مشیر کی عطا تھی، جو بھی ہو وزیراعظم کو اس حقیقت سے آگاہ ہونا چاہیے کہ شیر کبوتر نہیں کھاتا، نہ ہی یہ درندہ اس معصوم پرندے کو پکڑنے پر قادر ہے۔ بہ ہر حال اگر شیر کا ذوق اور موڈ بدل گیا ہو تو کوئی کیا کرسکتا ہے۔ البتہ اپنے مخالف کو کبوتر جیسے معصوم پرندے سے تشبیہ دینا وزیراعظم کی معصومیت ہے۔

وزیراعظم نواز شریف کا یہ جملہ سُن کر میرے دل ودماغ میں لہریں مارنے والا دوسرا خیال یہ تھا کہ ہمارے سیاست دانوں کا جانوروں سے کتنا گہرا تعلق ہے۔ ہمارے سیاست داں خود کو اور ان کے حامی انھیں فخریہ طور پر شیر قرار دیتے ہیں۔ وہ کچھ غلط نہیں کہتے۔ ہمارے اہل سیاست خاص طور پر جب اقتدار میں ہوں تو وہ شیر ہی تو ہوتے ہیں۔ شیر کے بارے میں یہ کون نہیں جانتا کہ وہ جنگل کا بادشاہ ہے انڈا دے یا بچہ۔ ہمارے سیاست دانوں کا بھی یہی معاملہ ہے۔ وہ جو چاہے کریں کوئی پوچھنے والا نہیں۔ جب جو چاہے کہیں، پھر اس سے مکر جائیں، یوٹرن پر یوٹرن لیے جائیں، وعدے اور دعوے کریں پھر بڑی صفائی سے مکر جائیں، غرض وہ جو کریں آزاد ہیں، اپنے اپنے جنگل کے بادشاہ جو ہوئے بھئی۔

یہ شیر عوام کو بھیڑ، بکری اور ہرن سمجھتے ہیں اور مزے لے لے کر عوام کا خون پیتے ہیں، ماس کھاتے ہیں اور ہڈیاں چباتے ہیں۔ ہاں ہمارے دیس کے بسنے والوں اور جنگل میں آباد کم زور جانوروں میں ایک بنیادی فرق ہے۔ جنگل میں بستے، ہرن، نیل گائے، بارہ سنگے وغیرہ جانتے ہیں کہ شیر، بھیڑیے اور چیتے ان کے دشمن ہیں، وہ ان دشمنوں کے ہتھے چڑھ گئے تو نہیں بچیں گے اور جان سے جائیں گے، لیکن ہمارے ملک کے عوام، جن کے باشعور ہونے کا دعویٰ ہر سیاست داں کرتا ہے، کا یہ حال ہے کہ بڑے آرام سے اپنی گردنیں شیرنما راہ نماؤں کے حوالے کردیتے ہیں، یوں کہہ لیں کہ ہمارے یہ معصوم ہرن سے عوام الیکشن والے دن ریوڑ کی صورت میں اپنا اپنا شیر خود منتخب کرتے ہیں۔

صاحب! شیر درندہ صحیح وہ جبلت کے تقاضوں کے مطابق دوسرے جانوروں کی جان لے کر اپنی بھوک مٹاتا ہے لیکن کبھی آپ نے یہ نہیں سُنا ہوگا کہ کوئی شیر جنگل کے وسائل لوٹ کر کھاگیا، اس نے جنگل کی زمین بیچ کھائی یا اپنے اثاثے جنگل سے باہر منتقل کردیے، وہ جو کرتا ہے ڈنکے کی چوٹ پر کرتا ہے، مگر ہمارے شیر خون تو پیتے ہی ہیں دیس کے وسائل بھی لوٹ کر کھا جاتے ہیں۔

جنگل میں شیر ہمیشہ شیر رہتا ہے، ہاتھی ہمیشہ ہاتھی، چیتا، بھیڑیا غرض یہ کہ کوئی جانور اپنا قالب نہیں بدلتا، لیکن ہمارا پیارا وطن وہ جنگل ہے جہاں کے شیر سے راہ نما گرگٹ کی طرح رنگ ہی نہیں بدلتے خود کو یکسر کچھ سے کچھ بنادینے پر بھی قدرت رکھتے ہیں۔ ذرا بُرا وقت آئے تو یہ بکری بن جاتے ہیں اور ’’سب سے پہلے پاکستان‘‘ کا نعرہ لگاتے لگاتے سب سے پہلے پاکستان چھوڑ جاتے ہیں، سیاست کا آسمان رنگ بدلے، اقتدار کے ایوانوں میں تبدیلی رونما ہو یا اپنی جماعت پر بُرائی آئے تو ان شیروں کے آناًفاناً پَر لگ جاتے ہیں اور یہ پنچھی بن کر پُھر سے اُڑتے اور محفوظ درختوں کی ٹہنیوں پر بیٹھ جاتے ہیں۔ وفاداریاں خریدنے کا بازار لگے تو یہ شیر گھوڑے بن کر ہنہنانے لگتے ہیں اور ایک اصطبل چھوڑ کر دوسرے اصطبل میں جابستے ہیں۔ جب الیکشن کا موسم آتا ہے یوں لگتا ہے جیسے یہ راہ نما دودھ دیتی گائے وہ بھی اپنی شرافت اور نیکی میں ’’اﷲ میاں کی گائے‘‘ ہیں، جو ملک میں عوام کے لیے دودھ کی نہریں بہادیں گے، لیکن جوں ہی عوام ان کی باتوں پر اعتبار کرکے انھیں الیکشن جتواتے ہیں یہ اﷲ میاں کی گائے سے فوری ایسی مقدس گائے بن جاتے ہیں جسے چھونا کیا دیکھنا بھی عوام کے لیے ممکن نہیں رہتا، اور پھر ان کا یہ سفر دوبارہ شیر بننے پر ختم ہوتا ہے، اور دودھ کی نہروں کے خواب دیکھنے والے بے چارے عوام انھیں اپنی رگوں سے خون نچوڑ نچوڑ کر پلارہے ہوتے ہیں۔

ہم بھی کیا عجیب قوم ہیں، کسی کی تعریف کریں تو اسے ایک خون پیتے ماس کھاتے درندے شیر سے تشبیہ دیتے ہیں اور جس کی مخالفت پر کمربستہ ہوں اسے وفاداری کی علامت جانور کُتا قرار دینے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہمیں دہاڑتے اور شکار کرتے راہ نما ہی بھاتے ہیں۔

کوئی ہمارے سیاست دانوں، ہمارے راہ نماؤں کو سمجھائے، کوئی ہمارے عوام کو بتائے کہ یہ ملک جنگل نہیں، اس کے عوام حیوان نہیں، ہمیں اپنی قیادت کے لیے کسی شیر کی نہیں انسانوں کی ضرورت ہے، ایسے انسانوں کی جو عوام کو بھی انسان سمجھیں، ایسا ہوا تب ہی یہ سماج جنگل سے انسانی معاشرے میں تبدیل ہوسکے گا۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sana Ghori

Read More Articles by Sana Ghori: 305 Articles with 179388 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
08 May, 2017 Views: 457

Comments

آپ کی رائے