زبان کی حفاظت کے فوائد اور بد زبانی کے نقصانات

(محمد ساجد رضا مصباحی, کشی نگر یوپی انڈیا)

اللہ تعالیٰ نے انسان کو جن نعمتوں سے سرفراز فرمایا ہے ان میں ایک عظیم نعمت زبان ہے۔زبان قلوب و اذہان کی ترجمان ہے، اس کا صحیح استعمال حصول ثواب کاذریعہ اور کامیابی کاسبب ہے،یہی وجہ ہے کہ احادیث نبویہ ﷺ میں زبان کی اصلاح کو ضروری قرار دیا گیا ہے۔زبان کی حفاظت کے حوالے سے رسول گرامی وار ﷺ کا یہ فرمان بڑی اہمیت کا حامل ہے۔
سرکار دوعالم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
من کان یؤمن باللہ والیوم الآخر فلیقل خیراً أولیصمت ( ) ۔ جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہےوہ بھلائی کی بات کہے ورنہ خاموش رہے۔
یعنی اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ اس نعمت کا استعمال اگرخیر کے کاموں میں کر سکے اور زبان سے اچھی باتیں کہہ سکے تو یہ اس کے حق میں بہتر ہے ورنہ اس کے لیے خاموشی ہی اچھی ہے۔
اہل ایمان کی گفتگو فحش گوئی سے پاک اور پُر تاثیر ہوا کرتی ہے ، وہ ہمیشہ فضولیات سے احتراز کرتے ہیں ، اس لیے وہ مصائب سے بھی محفوظ رہتے ہیں ۔
نبی کریم ﷺ نے ارشادفرمایا:
من حسن اسلام المرء ترکہ مالا یعنیہ( )
فضول باتوں کو چھوڑ دینا ، آدمی کے اسلام کی اچھائی کی دلیل ہے ۔
سیدنا ابو موسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتےہیں کہ میں نے عرض کیا یارسول اللہ! مسلمانوں میں سے کون افضل ہے، آپ نے ارشاد فر مایا:
من سلم المسلمون من لسانہ ویدہ( )
ترجمہ :جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ ہوں۔
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:من یضمن لی ما بین لَحْییہ وما بین رجلیہ أضمن لہ الجنۃ( )
جو شخص اپنی زبان اور اپنی شرمگاہ کی (حفاظت) کی ضمانت دے میں اس کے لیے جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔
مذکورہ احادیث سے ہمیں یہ بھی درس ملتا ہے کہ جو بھی بات کہی جائے مکمل سوچ سمجھ کر کہی جائے ، نتائج وعواقب کے سلسلے میں مکمل طور پر غور وخوض کر لیا جائے ، ورنہ بسا اوقات عجلت میں کہی گئی بات ندامت وشرمندگی کا باعث ہو تی ہے ، بلکہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اور آخرت کی تباہی وبر بادی کا بھی باعث ہوتی ہے ۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:ان العبد لیتکلم بالکلمۃ ما یتبین فیہا یزل بہا فی النار أبعد مما بین المشرق والمغرب( )
بندہ بغیر سوچے سمجھے ایسی بات کہہ جاتا ہے جس کے نتیجے میں مشرق ومغرب کے مابین مسافت سے بھی زیادہ دور جہنم میں گرجاتا ہے۔
اس طرح جب صحابی رسول عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نجات کے متعلق پوچھا تو آپ نے ارشاد فرمایا:
أمسِکْ علیک لسانَک ولیسَعْک بیتُک وابک علی خطیئتک۔( )
اپنی زبان پر قابو رکھو تمہارا گھر تمہارے لیے کشادہ ہواور اپنے گناہ پر(نادم ہوکر)آنسو بہاؤ ۔
ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو نصیحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
کُفَّ علیک ہذا فقلت یا نبی اللہ وانا لمواخذون بما نتکلم بہ فقال:ثکلتک أمک یامعاذ وہل یکب الناسَ فی النار علی وجوہہم أو علی مناخرہم الا حصائد ألسنتہم۔( )
اس (زبان)کوقابو میں رکھو،حضرت معاذرضی اللہ عنہ نے کہااے اللہ کے نبی! جو ہم بولتے ہیں کیا اس پر ہماری گرفت ہوگی؟سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:معاذ!اللہ تمہارا بھلا کرے جہنم میں بہت سارے لوگ منہ کے بل اپنی زبان کی کھیتیوں کی وجہ سےجائیں گے۔
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:
اذا اصبح ابن آدم فان الأعضا کلہا تکفر اللِسان فتقول اتقِ اللہ فِینا فانما نحن بِک فان استقمت استقمنا وان اعوججت اعوججنا( )
جب انسان صبح کرتا ہے تو اس کے سارے اعضا زبان کو یاد دلاتے ہیں اور کہتے ہیں تو ہمارے متعلق اللہ سے ڈر ،ہمارا انجام تیرے ساتھ ہے ،اگر تو درست رہی تو ہم بھی درست ہیں او راگر تو راہ راست سے بھٹک گئی تو ہم بھی بھٹک گئے۔
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ زبان بہت ساری برائیوں کا ذریعہ ہے،جھوٹ، غیبت، چغلی ، گالی گلوچ اور اس طرح کے بہت سارے جرائم کا ارتکاب زبان ہی کے ذریعہ ہو تاہے،اور پھر دینا وآخرت کی تباہیاں مقدر ہو جاتی ہیں ۔
اس لیے فضول باتوں میں مصروف رہنے ، اور لوگوں کی غیبت اور چغلی کر کے اپنی آخرت تباہ وبر باد کر نے سے بہتر ہے کہ خاموشی اختیار کر کے برائی کے دروازے کو ہی بند کر دیا جائے ۔ حضرت شیخ سعدی علیہ الرحمہ فر ماتے ہیں :
زباں در دہان خر دمند چیست
کلیدِ درگنج ِ صاحبِ ہنر
چوں در بستہ باشد چہ داند کسے
کہ جو ہر فروش است یا پیلہ ور
یعنی عقل مند کے منھ میں زبان کیا ہے ، صاحب ہنر کے خزانہ کی کنجی ہے، جب دروازہ بند ہو ،کوئی کیا جانے کہ یہ شخص موتی بیچنے والا ہے یا بساطی ریشم بیچنے والا۔
آج ہماری زبانیں اس قدر آزاد ہو گئی ہیں کہ اس کے استعمال سے پہلے کبھی یہ غور کرنے کی زحمت نہیں کرتے کہ جو بات کہی جارہی ہے کہیں اس سے کسی مومن کو ایذا تو نہیں پہنچ رہی ہے ، کہیں کسی کی غیبت تو نہیں ہے ، ہماری یہ گفتگو آخرت میں وبال جان تو نہیں ثابت ہو گی ، ان امور پر توجہ دیے بغیر ہم اپنی زبان کا بے محابا استعمال کرتے ہیں ، ہماری محفلوں میں ٹھٹھا، مذاق، تمسخر اور غیبت وچغلی عام ہو گئی ہے،ہم گناہ بے لذت کے شکار ہیں اور شیطان کے دام فریب میں پوری طرح پھنس چکے ہیں۔ اگر ہم نے اپنی زبان پر کنٹرول نہیں کیا تو یقینا ہم دنیا میں رسواہو نے کے ساتھ آخرت کے خطرناک عذاب میں بھی گرفتار ہوں گے۔ ہمیں اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ اس نعمت کاصحیح استعمال کر کے اپنے معبود کا شکر ادا کر نا چاہیے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے مختلف طبقات کے ساتھ نرم اور شیریں لب ولہجے میں بات کر نے کی تاکید فر مائی ہے ، لیکن ہم نے قرآنی ارشادات کو بھلا دیا ہے ،ہماری زبانیں زہر اگلنے لگی ہیں، جہاں محبتوں کے پھول کھلانے کی ضرورت ہے،وہاں نفرتوں کے کانٹے پچھا ئے جارہے ہیں ، اسلامی معاشرے کی خواتین کا حال اس سلسلے میں بہت ہی قابل رحم ہے،وہ اپنی بے لگام زبان کے خنجر خوں خوار سے دن بھر نہ جانے کتنے دلوں کی زخمی کرتی ہیں اور کتنے ایمان والوں کو ایذا پہنچا کر اپنی تباہی وبر بادی کا سامان مہیا کرتی ہیں، اگر ہمارے معاشرے کی خواتین اپنی زبان پر کنٹرول کرلیں تو بہت سارے گھریلو جھگڑے ، آپسی اختلافات اور باہمی عداوتوں کا خود ہی خاتمہ ہو جائے گا۔ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہمیں آفات لسان سے محفوظ رکھ کردنیا وآخرت کی سعادتوں کو جمع کر نے کی توفیق عطا فرمائے ، اٰ مین بجاہ حبیہ الکریم ۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 1812 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: محمد ساجد رضا مصباحی

Read More Articles by محمد ساجد رضا مصباحی: 22 Articles with 16806 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language:    

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ