پاکستان تحریک انصاف کے برباد کئے گئے چار سال اور پاکستان کی ترقی کی جانب سفر سے محرومی

(M. Furqan Hanif, Karachi)

گزشتہ انخابات کے بعد سے پاکستان کی سیاست اور سیاستدانوں کے غیر معقول رویوں اور بیانات کے بعد یہ بات بالکل واضع ہے کہ پاکستان بیرونی خطراف کے ساتھ ساتھ شدید اندرونی خطرات کا بھی شکار ہے، اس سلسلے میں جس غیر مقعولیت کا مظاہرہ پاکستان کی نومولود جماعت پی ٹی آئی کی جانب سے کیا جارہا ہے وہ اہل وطن کے سامنے ہے کہ جلسے جلوسوں اور دھرنوں میں کس طرح ایک دوسرے کی تضحیک و توقیر کی جارہی ہے اور صرف اپنے سیاسی شعبدے بازیوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے احمقانہ بیانات اور تقریر کی جارہی ہیں۔

افسوس کی بات ہے کہ تحریک انصاف ٢٠١٣ کے عام انخابات میں عوام کی تائید حاصل کرنے سے مکمل قاصر رہی اور سوائے خیبر پختونخواہ کے کہیں بھی عزت دار ووٹ حاصل نہ کرسکی اس پارٹی نے کس طرح گزشتہ چار سالوں سے تماشہ لگایا ہوا ہے اور کس طرح چار سال گزار دئیے کبھی انتخابی دھاندلیوں کا شور کرکے کبھی کسی ڈان لیکس، کبھی پانامہ لیکس اور کبھی کچھ اور کبھی کچھ جبکہ اپنے صوبے کی گورننس میں بھی بہتری لانے سے قاصر رہی اور کبھی انگلی کے چکر میں رہی، کبھی عدالتوں اور کبھی فوجی لیڈر شپ سے امیدیں لگائے بیٹھی رہی اور مزے کی بات یہ ہے کہ ہر فورم پر پی ٹی آئی کو جب فتح نصیب نہیں ہوئی تو کبھی الیکشن کمیشن، کبھی ججز اور اب فوجی قیادت پر بھی تنقیدوں اور طعنے کے تیر برسانے میں مصروف ہے۔

اب بالاخر اگلے سال متوقع انتخابات کے پیش نظر تحریک انصاف دوبارہ انتخابی جلسے جلوس کرنے میں مصروف ہے مگر لطف کی بات جب ہوگی کہ اگلے الیکشن میں بھی تحریک انصاف خاطر خواہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہے گی تو پھر یہ اپنی سیاسی ناپختگی کا مظاہرہ کرکے اہل وطن کو کامیابیوں اور خوشحالی سے دور رکھ کر اپنا رونا رونے میں مصروف ہوجائے گی جس کے نتیجے میں ملک کی ترقی اور خوشحالی پر وہی ضرب لگے گی جو ہمارے دشمن ممالک کا مطمع نظر ہے۔

امید تو یہی کی جاسکتی ہے کہ تحریک انصاف بھی انتخابی سیاست سے باہر نکل کر اپوزیشن کی حیثیت سے ہی سہی کچھ معقول کام کرے اور پاکستان میں قانون سازی کے عمل میں اپنا مثبت کردار ادا کرے تاکہ ہمارا ملک بھی اقوام عالم میں ایک ذمہ دار ملک کی حیثیت اختیار کرسکے۔ اٹھتے نہیں ہیں ہاتھ میرے اس دعا کے ساتھ، اللہ پاکستان کی اندرونی و بیرونی سازشوں سے حفاظت فرمائے آمین

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: M. Furqan Hanif

Read More Articles by M. Furqan Hanif: 432 Articles with 319574 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
13 May, 2017 Views: 580

Comments

آپ کی رائے