’’ون بیلٹ اینڈ ون روڈ‘‘ نامی عالمی وژن اور پاکستانی سماج

(Mian Muhammad Ashraf Asmi, Lahore)

نواز شریف کی حکومت میں پاکستان کو گو کہ بہت سے مسائل کا سامنا ہے ۔لیکن معاشی ترقی کے حوالے سے اُن کی کوششوں کو خراجِ تحسین پیش کیا جانا ضروری ہے۔ جتنا مکار ہمارا ڈُشمن بھارت ہے اور اُس کی دُشمنی کا یہ شاخسانہ ہے کہ ایران ہمیں دھمکیاں دئے رہا ہے۔ افغانستان بھی پاکستان کو بُرا بھلا کہہ رہا ہے۔ ایسا ِ اس لیے ہورہا ہے کہ اگر پاکستان کی معیشت مضبوط ہوگئی تو پھر پاکستان میں دہشت گردی کا خاتمہ ہو جائے گا۔ اور یوں را کے ہھتکنڈئے ئے ناکام ہوں گے۔ بلوچستان سمیت پورئے ملک میں امن ہوگا اور کشمیر کی آزادی کے لیے بھی پاکستان یکسو ہو سکے گا۔ معاشی ترقی سے پاکستانی سماج پر انتہائی مثبت اثرات مرتب ہوں گے اور عام آدمی جو اشرافیہ کے ہاتھوں یر غمال بنا ہوا ہے اُسے بھی غلامی سے نجات مل سکے گی۔بھارت اور جاپان نے اِس منصوبے میں شامل ہونے سے انکار کردیا ہے۔ بھارت چونکہ پاکستان کا ازلی دُشمن ہے اُسے ایک نظر نہیں بھاتا کہ پاکستان ترقی کرئے۔چین کے صدر شی جن پنگ نے اپنے ’’ون بیلٹ اینڈ ون روڈ‘‘ نامی عالمی وژن کو عملی جامہ پہنانے کیلئے پاکستان سمیت مختلف ممالک میں 124ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔بیجنگ میں کانفرنس کے آغاز پر شی جن پنگ نے 'بیلٹ اینڈ روڈ فورم' کے اپنے انیشی ایٹو کا خاکہ پیش کیا۔اس کیلئے انہوں نے 124 ارب ڈالر کی سکیم کا عہد کیا۔ انہوں نے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 'تجارت معاشی ترقی کا اہم ذریعہ ہے۔ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے تحت قدیم ’’سلک روٹ‘‘ یا شاہراہ ریشم کو دوبارہ قائم کرنا شامل ہے اور اس کیلئے بندرگاہوں، شاہراہوں اور ریل کے راستوں کے بنانے میں سرمایہ کاری کی جائیگی تاکہ چین کو ایشیا، یورپ اور افریقہ سے جوڑا جا سکے۔ انہوں نے کہا بیلٹ اینڈ روڈ کو فروغ دے کر ہم دشمنوں کے کھیل کی پرانی راہ پر نہیں چلیں گے۔ اس کے برعکس ہم تعاون اور آپس کے فائدے کا نیا ماڈل تیار کریں گے۔ ہمیں تعاون کا کھلا پلیٹ فارم تیار کرنا چاہیے اور ایک کھلی عالمی معیشت کو فروغ دینا چاہیے۔ خیال رہے کہ جاپان اور بھارت نے اس کانفرنس سے دوری اختیار کر رکھی ہے۔ چینی صدر نے کہا چین اپنی ترقی کے تجربات تمام ممالک کے ساتھ مشترک کرنے کیلئے تیار ہے۔ ہم کسی بھی ملک کے اندرونی معاملات میں دخل نہیں دیں گے۔ انہوں نے مزید کہا وہ خواہ ایشیا اور یورپ کے ہوں یا افریقہ اور امریکہ کے سب بیلٹ اینڈ روڈ کو تیار کرنے میں ہمارے تعاون کرنے والے شراکت دار ہیں۔صدر شی جن پنگ نے اپنے اس انیشی ایٹو کو ’’صدی کا بڑا پراجیکٹ‘‘ قرار دیا ہے جس سے دنیا بھر کے لوگوں کو فائدہ پہنچے گا۔ انہوں نے کہا کہ بیلٹ اینڈ روڈ تعاون انیشی ایٹو میں بین الاقوامی اداروں کے ساتھ تقریباً 60ممالک تجارت میں ایک ساتھ جڑ جائیں گے۔ کانفرنس سے روسی صدر ولادی میر پیوٹن کے علاوہ ترکی کے وزیراعظم رجب طیب اردگان اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹریس نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر روس کے صدرپیوٹن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ون بیلٹ اینڈ ون روڈمنصوبے سے دنیاکامستقبل وابستہ ہے،ترکی، چین اورپاکستان سمیت تمام ممالک کیساتھ مل کرکام کرنے کیلئے تیار ہے،روس منصوبے میں سرمایہ کاری کیلئے تیار ہے۔ روسی صدر نے کہا کہ اقتصادی ترقی کے کئی منصوبے ناکام ہوچکے، اکیسویں صدی کے چیلنجزسے نمٹنے کیلئے بیلٹ اینڈروڈفورم اہم منصوبہ ہے،یورپی یونین کے ممالک کوبیلٹ اینڈروڈفورم میں خوش آمدیدکہتے ہیں۔ کانفرنس میں 29 ممالک کے سربراہان شریک ہیں سربراہان کی گول میز کانفرنس اور اعلیٰ سطح کے مذاکرات بھی ہوں گے۔وزیراعظم نواز شریف دونوں گول میز کانفرنسز اور اختتامی سیشن سے بھی خطاب کریں گے۔ چین نے دی بیلٹ اینڈ روڈ کی تعمیر میں مزید مالی معاونت کی حمایت کرتے ہوئے سلک روڈ فنڈ میں مزید ایک کھرب چینی یوآن فراہم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ تین برس میں مزید منصوبوں کی تعمیر کیلئے بیلٹ اینڈ روڈ کی تعمیر میں شریک ترقی پذیر ملکوں اور عالمی تنظیموں کو 60 ارب آر ایم بی کی امداد فراہم کریں گے۔چین اور بیلٹ اینڈ روڈ سے وابستہ ممالک کے درمیان تجارتی مالیت30 کھرب امریکی ڈالرز سے تجاوز کرگئی ہے، ان ممالک میں چینی سرمایہ کاری کی مالیت 50 ارب امریکی ڈالرز تک جاپہنچی ہے۔ چینی صدر مملکت نے کہا کہ ہزاروں کلومیٹر طویل قدیم شاہراہ ریشم کی تاریخ ایک ہزار سال سے زائد ہے اور اس شاہراہ سے امن و تعاون، کھلے پن اور شراکت داری، باہمی استفادے اور باہمی مفادات کی بنیاد پر مشترکہ ترقی پر مبنی جذبے کی عکاسی ہوتی ہے۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوٹریس نے کہا ہے کہ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ کو 2030ء تک مسلسل ترقی کے ایجنڈے سے منسلک کیا جائے، دونوں کا ہدف پائیدار ترقی ہے، مختلف ممالک اور خطوں کے درمیان روابط میں اضافے کیلئے کوشش کی جارہی ہے۔ علاوہ ازیں ترک صدر رجب طیب اردگان نے کہا ہے کہ دنیاشاہرائے ریشم پروجیکٹ دہشت گردی کو نیست و نابود کردے گا۔مجھے یقین ہے کہ ایشیا، یورپ، افریقہ یہاں تک کہ جنوبی امریکہ کو بھی ایک دوسرے کے ساتھ منسلک کر نے کے ہدف کے ساتھ نئی شاہرائے ریشم کے نام سے شروع کیا جانے والا یہ پروجیکٹ مستقبل پر اپنی دھاک بٹھا دے گا۔چین اور روس کا شنگھائی تعاون تنظیم کے فروغ، دی بیلٹ اینڈ روڈ کی تعمیر اور یورو ایشیا اقتصادی یونین کے درمیان رابطے کی مضبوطی کے لیے مزید کوشش کرنے پر اتفاق ہوگیا۔ چین کے صدر مملکت شی جن پنگ نے پیوٹن سے ملاقات کے موقع پر کہا کہ چین اور روس اچھے دوست اور بہترین شراکت دار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مئی 2015ء میں چین اور روس نے دی بیلٹ اینڈ روڈ کی تعمیر کو یوروایشائی اقتصادی یونین سے منسلک کرنے پر اتفاق کیا ہے اور اسکے بعد گذشتہ دو برسوں میں مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دیتے ہوئے زبردست پیشرفت ہوئی ہے۔ پیوٹن نے کہا کہ فریقین کو تجارت، توانائی، مشینری، تعلیم سیاحت اور سپورٹس سمیت دیگر شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا چاہیے۔وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری سرحدوں کی پابند نہیں، ون بیلٹ ون منصوبہ تین براعظموں کو ملائے گا، اس سے دہشت گردی اور انتہا پسندی پر قابو پانے میں مدد ملے گی، ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ آنے والی نسلوں کیلئے تحفہ ہے۔ بیجنگ میں بیلٹ اینڈ روڈ فورم سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ چین میں بیلٹ اینڈ فورم کا انعقاد تاریخی موقع ہے، غربت کا بھی خاتمہ ہوگا۔ وزیر اعظم نواز شریف نے کہا پاک چین اقتصادی راہداری سرحدوں کی پابند نہیں ٹھوس منصوبہ بندی اور پختہ عزم اقتصادی راہداری کی تکمیل کا ضامن ہے۔ انہوں نے کہا پاکستان کی نوجوان نسل کی صلاحیتوں سے استفادہ کرنا چاہئے، وزیر اعظم نے علاقائی روابط کیلئے چین کی قیادت کے وژن کی تعریف کرتے ہوئے کہا یہ منصوبہ ہم سب کیلئے ہے، اس کو ملکر کامیاب بنائیں۔ ہم اس وقت جیو اکنامک دور میں داخل ہورہے ہیں ہم ون بیلٹ ون روڈکی کامیابیوں کا اعتراف کرنے جمع ہوئے ہیں، منصوبے سے ایشیا، افریقہ اوریورپ کوملانے میں مدد ملے گی۔وزیراعظم نے کہا کہ چائنا ریلوے کا منصوبہ باہمی روابط کا پل ہے،منصوبے سے دنیا کے 65 ممالک استفادہ کرسکتے ہیں،علاقائی روابط کے منصوبوں پربے مثال سرمایہ کاری ہورہی ہے، ممالک کے درمیان تنازعات کے بجائے تعاون فروغ پاناچاہیے۔ ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ شاہراہ ریشم جیسے منصوبوں کی یاد تازہ کرتا ہے،ایسے منصوبے غربت کے خاتمے کا باعث بنیں گے اور معاشی خوشحالی دہشت گردی اورانتہاپسندی پرقابوپانے میں معاون ہوگی۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں بنیادی ڈھانچے کے منصوبے تیزی سے مکمل ہورہے ہیں۔ منصوبے سے خطے کے تمام ممالک مستفید ہو سکتے ہیں‘ یہ کسی گھیرنے نہیں ملکوں کو آپس میں ملانے کا منصوبہ ہے۔ ممالک کے درمیان تنازعات کی بجائے تعاون فروغ پانا چاہیے‘ معاشی خوشحالی دہشت گردی اور انتہا پسندی پر قابو پانے میں معاون ہوگی اور ون بیلٹ ون روڈ منصوبے سے بین البراعظمی تعاون کا نیا دور شروع ہو گا۔ ہمیں آپس کے تنازعات کو جنم دینے کے بجائے تعاون کو فروغ دینا چاہئے جب کہ یہ فورم رکن ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لانے کا بہترین موقع ہے جب کہ چائنا ریلوے ایکسپریس منصوبہ باہمی روابط کیلئے پل ہے ۔چین میں منعقد ہو نے وا لے دو روزہ ون بیلٹ ون روڈ فو رم میں وزیر اعظم نواز شر یف نے چاروں صو با ئی وزرا ئے اعلیٰ سمیت و فا قی کابینہ کے اراکین نے شرکت کی۔ وزیراعظم نوازشریف نے ون بیلٹ ون روڈ (اوبور) کے تحت ہونے والے سربراہی اجلاس میں انڈیا کے لیے ایک واضح پیغام میں کہا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کا منصوبہ خطہ کے تمام ممالک کے لیے ہے اور اس منصوبے پر سیاست نہیں کی جانی چاہیے۔ وزیر اعظم نے انڈیا کا نام لیے بغیر کہا کہ میں یہ بات واضح کرنا چاہتا ہوں کہ سی پیک کا منصوبہ ایک اقتصادی منصوبہ ہے جس میں سرحدوں کی کوئی قید نہیں ہے اور کوئی بھی ملک اس میں شامل ہو سکتا ہے لیکن اس کیلئے ضروری ہے کہ اس کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا اوبور کا منصوبہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جغرافیائی معاشیات، جغرافیائی سیاست سے زیادہ ضروری اور فائدہ مند ہے جس کی مدد سے ملکوں کے مابین تصادم کے بجائے تعاون کو فروغ ملے گا۔انہوں نے سی پیک منصوبے کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ سی پیک کا منصوبہ اوبور کے اہم ترین منصوبوں میں سے ہے جس کی مدد سے پاکستان تجارت کے لیے راستہ اور منزل دونوں بن سکتا ہے۔ چین سے دوستی پر اظہار تفخر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان اور چین کے تعلقات بہت قریبی ہیں اور چین پاکستان کا بہترین دوست اور پر اعتماد اتحادی ملک ہے۔ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹیو پر مبنی اس کانفرنس میں 29 ممالک کے سربراہان شامل ہوئے اور اسکے علاوہ 1500 مندوبین بھی اس میں شرکت کرنے کیلئے بیجنگ آئے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: MIAN ASHRAF ASMI ADVOCTE

Read More Articles by MIAN ASHRAF ASMI ADVOCTE: 445 Articles with 225976 views »
MIAN MUHAMMAD ASHRAF ASMI
ADVOCATE HIGH COURT
Suit No.1, Shah Chiragh Chamber, Aiwan–e-Auqaf, Lahore
Ph: 92-42-37355171, Cell: 03224482940
E.Mail:
.. View More
16 May, 2017 Views: 576

Comments

آپ کی رائے