جارج بیسٹ

(Rafi Abbasi, Karachi)
فٹ بال کے اس کھلاڑی نے انتہائی چھوٹی عمر میں جو شہرت حاصل کی، وہ اب تک چند افراد کے حصے میں ہی آتی ہے۔ وہ جتنے بہترین کھلاڑی تھے ، اتنے ہی خوش شکل بھی تھے، ۔کھیل کے دوران ان کی ڈربلنگ دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی

جارج بیسٹ

فٹ بال کےشائقین کے لیے 2005ء رنج والم کا سال ثابت ہوا۔ اس سال 25؍نومبر کوبرطانیہ کے عالمی شہرت یافتہ فٹ بالر، جارج بیسٹ دنیا سے رخصت ہوگئے۔ 25؍مئی 1946ء کو بلفاسٹ، آئر لینڈ میں پیدا ہونے والے فٹ بال کے اس کھلاڑی نے انتہائی چھوٹی عمر میں جو شہرت حاصل کی، وہ اب تک چند افراد کے حصے میں ہی آتی ہے۔ وہ جتنے بہترین کھلاڑی تھے ، اتنے ہی خوش شکل بھی تھے، ۔کھیل کے دوران ان کی ڈربلنگ دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی۔ وہ رائٹ ونگر کی پوزیشن پر کھیلتے تھے لیکن کھیل کے دوران پیروں کا انتہائی مہارت سے استعمال کرتے ہوئے مڈ فیلڈ میں پہنچ جاتے تھے۔ ان کی چابک دستی کا یہ عالم تھا کہ وہ اپنے ساتھی فٹ بالر کو بیک پاس دینے کے لیے کبھی کبھی مخالف ٹیم کے کھلاڑی کے پاؤں پر فٹ بال مارتے تھے اور جاب دستی سے بیک پاس دینے میں کامیاب ہوجاتے تھے۔ وہ مخالف کھلاڑیوں کو جب فٹ بال چھیننے کے لیے چیلنج کرتے تھے تو وہ نظارہ قابل دید ہوتا تھا۔ ان کا موازنہ برطانیہ کے نامور فٹ بالر سر اسٹینلے متھیوز سے کیا جاتا تھا۔ اسٹینلے متھیوز بہترین رائٹ آؤٹ تھے لیکن جارج بیسٹ کی طرح دونوں پیروں کا استعمال کرنے میں انہیں بھی مہارت نہیں تھی،نہ ہی وہ مڈ فیلڈ میں جاتے تھے جب کہ جارج بیسٹ مخالف ٹیم کےمڈ فیلڈرز کو ڈاج دیتے ہوئے مصروف رکھتے اور اپنی تیزی اور پھرتی کے باعث مخالف ٹیم کی گول پوسٹ تک پہنچ جاتے تھے۔ انہیں دنیا میں پانچویں’ ایل’بیٹل‘‘ کے طور پر بھی جانا جاتا تھا۔1960ء کے عشرے میں دنیا بھر میںبرطانیہ کے چار لمبے بالوں والے گلوکاروں کی دھوم مچی ہوئی تھی، جنہیںدنیائے فن میں ’’بیٹل‘‘ کا خطاب دیا گیا تھا۔ جارج بیسٹ فٹ بال کے پہلے کھلاڑی تھے جو اپنے لمبے بالوں کی وجہ سے پسند کیے جاتے تھے۔ وہ جب فٹ بال کے ساتھ ڈربلنگ کرتے تو ان کے بال فضا میں لہراتے تھے۔ یہ نظارہ دیکھنے والوں کو کافی مسحور کن لگتا تھا۔ کھیل کے دوران دونوں پیروں کا یکساں استعمال کرتے ہوئے ان کا ایکشن اس قدر خوب صورت ہوتا تھا کہ وہ رقص کرتے ہوئے معلوم ہوتے تھے۔ فٹ بال میچ کے دوران ان کی کارکردگی بہترین ہوتی تھی، اٹیکنگ پوزیشن ہو یا دفاعی، وہ پوری فیلڈ میں ہر جگہ متحرک نظر آتے تھے۔ جرمنی کے ایک فلم ساز ہیلمٹ کوسٹارڈ نے 12؍ستمبر 1970ء کو مانچسٹر یونائیٹڈ اور کووینٹری کے درمیان کھیلے جانے والے ایک میچ کی فلم بندی کی تھی، جو مانچسٹر یونائیٹڈ نے 2-0سے جیت لیا تھا۔ میچ کی ریکارڈنگ کرنے والا کیمرہ مسلسل اس نوجوان کھلاڑی پر مرکوز تھا اور اس کی کھیل کے دوران تمام حرکات و سکنات کو سلو لائیڈ کے فیتے پر منتقل کررہا تھا۔ جب تماش بینوں نے اس فلم کو دیکھا تو اس کھلاڑی کے کھیل کو بہت پسند کیا۔ جارج بیسٹ کھیل کے دوران تمام وقت اپنے جوہر دکھاتے نظر آئے، وہ اپنی پوزیشن، فٹ بال کی موومنٹ کے ساتھ ساتھ بدلتے رہے، مخالف کھلاڑیوں سے گیند کو چھین کرڈاج دیتے ہوئے اپنے ساتھی کھلاڑیوں کو پاس دینے میں مصروف پائے گئے ۔ ایک فٹ بالر کی حیثیت سے ان کی زندگی کا آغاز 1961میںصرف 15سال کی عمر میں ہوا۔ اس وقت وہ آئر لینڈ کےایک کلب فٹ بال میچ میںجونیئر کھلاڑی کی حیثیت سے شریک تھے، وہاںمانچسٹر یونائیٹڈکلب کے اسکاؤٹ باب بشپ بھی وہاں موجود تھے۔ انہوں نے اس میچ میں جب نو عمر کھلاڑی ، جارج بیسٹ کا کھیل دیکھا تو انہیں ان کی موومنٹ اتنی پسند آئی کہ انہوں نے اپنے کلب کے ذمہ داران کو بذریعہ ٹیلی گرام پیغام بھجوایا کہ اس کھیل میں انہوں نے ایک ایسا ہیرا تلاش کیا ہے جو مستقبل میں فٹ بال کی دنیا کا درخشاں ستارہ بنےگا۔ اسی سال انہیں کلب میں امیچر کی حیثیت سے جگہ مل گئی۔شروع میں یہ شرمیلا سا لڑکا کافی نروس تھا، لیکن کلب کے منتظمین کی حوصلہ افزائی کے بعد اس کے کھیل میں نکھار آنے لگا۔ مانچسٹر یونائیٹڈ کلب کا شمار فٹ بال کی مشہور ٹیموں میں ہوتا تھا لیکن 1958ء میں ہونے والے میونخ کے فضائی حادثے میں وہ اپنی ٹیم کے بہترین کھلاڑیوں سے محروم ہوگیا تھا، جن میں مڈفیلڈر ویجن ایڈورڈز بھی شامل تھے جن کا شمار برطانیہ اور مانچسٹر یونائیٹڈ کے شاندار کھلاڑیوں میں ہوتا تھا۔ اس کلب کے پاس نامور کھلاڑیوں میں سے صرف بوبی چارلٹن ہی باقی بچے تھے ۔ان دنوں اس کے حکام ٹیم کے لیےٹیلنٹڈکھلاڑیوں کی تلاش میں سرگرداں تھے تاکہ ایک اچھی ٹیم تشکیل دی جاسکے۔ اس وقت بھی دنیا کے بہترین کھلاڑی اس کلب کے ساتھ کھیلنے کو ایک اعزاز سمجھتے تھے اور اس میں نامی گرامی فٹ بالر شامل تھے لیکن جب انہوں نے جارج کی کارکردگی کھیل کے میدان میں دیکھی تو سب کی متفقہ رائے تھی کہ ان سے بہتر کھلاڑی ان کے پاس کوئی نہیں ہے۔ ان کی 17ویں سالگرہ پر کلب کی جانب سے انہیں پروفیشنل کنٹریکٹ دیا گیا، اس وقت جارج کی خوشی دیکھنے کے قابل تھی۔

جارج بیسٹ نے مانچسٹر یونائیٹڈ کلب کی طرف سے پہلا میچ 14؍ستمبر1963ء کو ویسٹ براموچ البین کے خلاف کھیلا، جس میں انہوں نے اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرکے اپنے انتخاب کو درست ثابت کیا۔ دوسرا میچ 28؍دسمبر 1963ء کو برنلے کے خلاف کھیلااور انہوں نے کلب کی جانب سے اپنا پہلا گول اسکور کیا۔ اس کے بعدوہ شہرت کی بلندیوں کو چھونے لگے۔گیارہ سال کے عرصے میں انہوں نے مانچسٹر یونائیٹڈ کی جانب سے 470لیگ میچوں میں حصہ لیا، جن میں انہوں نےمخالف ٹیموں کے خلاف179گول اسکور کیے، جو ایک ریکارڈہے۔ ان کے کلب نے ان کی صلاحیتوں سے بھرپور استفادہ کیا اور1965ء اور1967ء میں لیگ چیمپئن شپ جیتی جب کہ 1968ء میں یورپین کپ فائنل میں رئیل میڈرڈکی پانچ سال تک مسلسل چیمپئن بننے کے ریکارڈکامیابی کے سلسلے کا بھی خاتمہ کیا۔ 1966ء کے یورپین کپ میں جارج نے بہترین کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرتگال کے مشہور کلب بین فیکا کے خلاف دو شاندار گول اسکور کیے۔ ان کی ٹیم نے اس میچ میں 5-1سے کامیابی حاصل کی، اس میچ میں شاندار کارکردگی کے مظاہرے پر جارج بیسٹ کا شمار فٹ بال کی دنیا کے سپر اسٹارز میں ہونے لگا۔ اپنی ٹیم کی ہر کامیابی ان کی اعلیٰ کارکردگی کی مرہون منت ہوتی تھی۔ شائقین فٹ بال، خاص طور سے صنف مخالف میں ان کے کھیل کا انداز بہت پسندکیا جاتا تھا۔ 1967ء اور 1968ء میں انہیں آئر لینڈ میں سال کے بہترین فٹ بالرجب کہ 1968ء میں یورپ کےفٹ بال کے بہترین کھلاڑی کااعزاز دیا گیا۔ 1963ء سے 1974ء تک انہوں نے مانچسٹر یونائیٹڈ کی طرف سے شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے کئی کارہائے نمایاں انجام دیئے۔ اس دوران انہوں نے اپنی معاشی ضرورت پوری کرنے کے لیے ایک ٹریولنگ ایجنسی اور دو فیشن بوتیک قائم کیے ۔کاروبار میں الجھ کر وہ اپنے کھیل کی طرف سے لاپرواہ ہوگئےجس کی وجہ سے 1974ء میں ان کے مانچسٹر یونائیٹڈ کلب سے اختلافات ہوگئے جو اس نہج پر پہنچ گئے کہ ا نہیںمذکورہ کلب کو خیرباد کہنا پڑا۔ لیکن اس کے بعد وہ گیارہ تک مختلف کلبوں کی طرف سے کھیلتے رہےجن میں جنوبی امریکا کے فٹ بال کلب بھی شامل تھے۔ 1977ء تک انہوں نے فٹ بال کے 37عالمی مقابلوں میں حصہ لیا جن میںاس نے 9 انفرادی گول اسکور کیے۔

کاروباری مصروفیات کی وجہ سے ان کی زندگی بے اعتدالی کا شکار ہوتی گئی، وہ شراب کے عادی ہوگئے اور 1984ء میں انہیں نشے میں گاڑی چلاتے ہوئے گرفتار کیا گیا اور کرسمس کا تہوار انہوںنے جیل میں گزارا۔ رہائی کے بعد جب وہ باہر آئے تو ان کا کاروبار تباہ ہوچکا تھا، اور وہ کئی اداروں کے مقروض ہوگئے تھےجس کی وجہ سے انہیں اپنا چیلسی والا فلیٹ چھوڑنا پڑا۔ انہوں نے گزر بسر کے لیے ٹیلی ویژن پر میزبان کی حیثیت سے ملازمت کرلی۔ 1982ء کے بعد وہ یوروپین اور عالمی چیمپین شپ کےکسی مقابلے میں شریک نہیں ہوئے۔1984ء میں انہوں نے فٹ بال سے ریٹائر منٹ کا اعلان کیا۔ شراب نوشی کی زیادتی ان کے گردوں پراثر انداز ہونے لگی ،وہ متعدد مرتبہ اسپتال میں داخل ہوئے۔ان کے کئی جسمانی اعضاء ناکارہ ہوگئے تھے ۔ آخر کار 2005ء میں دنیا ئے فٹ بال کا یہ عظیم کھلاڑی 59سال کی عمر میںاس دنیا سے رخصت ہوگیا۔ ان کی وفات پر دنیا بھر میں سوگ منایا گیا،فٹ بال کے شائقین نے رنج و غم کا اظہار کیا، کئی ٹورنامنٹ ان کی موت کی وجہ سے ملتوی ہوگئے۔ جمہوریہ آئرلینڈ کے وزیر اعظم برٹی ایہرن نے ان کی وفات کو قومی سانحہ قرار دیا جب کہ یوروپین لیگ نے انہیںخراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ فٹ بال کے لیجنڈ کھلاڑی تھے اور ان کا مقام کوئی بھی کھلاڑی حاصل نہیں کرسکے گا۔ ان کی وفات سے کچھ عرصے قبل دنیا کے 100عظیم فٹ بالر کے انتخاب کے لیے ووٹنگ ہوئی جس میں عالمی کھلاڑیوں کی رینکنگ میں ان کا آٹھواں درجہ تھا جب کہ 1999ء میں آئی ایف ایف ایچ ایس کی جانب سے بیسویں صدی کے بہترین فٹ بال کے کھلاڑیوں کی درجہ بندی میں انہوں نے 16ویں بہترین عالمی کھلاڑی کااعزاز حاصل کیا۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rafi Abbasi

Read More Articles by Rafi Abbasi: 13 Articles with 9797 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
19 May, 2017 Views: 404

Comments

آپ کی رائے