پاکستانیوں کے قاتل دہشت گردکلبہوشن یادو کی عالمی عدالتِ انصاف سے وقتی جان بخشی

(Mian Muhammad Ashraf Asmi, Lahore)

وہی ہوا جس کا اندیشہ تھا کہ عالمی عدالت انصاف نے بھارتی کی بات مان لی اور بھارت کے دہست گرد یادو کی سزا پر عمل درآمد روک دیا گیا۔شاید پاکستانی وکلاء عالمی عدالت کو مطمن نہیں کر سکے کہ کہ کلبہوشن یادو دہشت گرد ہے عالمی عدالت انصاف نے دائرہ اختیار کی پاکستانی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے اپنے عبوری حکم نامے میں فاضل عدالت کا حتمی فیصلہ آنے تک بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی پھانسی پر عملدرآمد روک دیااو رہدایت کی ہے کہ بھارت کو اپنے جاسوس تک قونصلر رسائی دی جائے جبکہ اس ضمن میں کیے جانیوالے اقدامات سے عالمی عدالت کو آگاہ کیا جائے۔عالمی عدالت انصاف کے 11رکنی بینچ کا بھارتی درخواست پر محفوظ کردہ فیصلہ سناتے ہوئے جج رونی ابراہیم نے کہا کہ کلبھوشن یادیو پاک فوج کی تحویل میں ہے اور درخواست کے مطابق بھارت نے پاکستانی ہائی کمشنر کے ذریعے قونصلررسائی مانگی تاہم پاکستان نے تحقیقات میں معاونت طلب کرتے ہوئے جواب دیا کہ قونصلر رسائی کی درخواست کو بھارتی معاونت کے تناظر میں دیکھاجائے گا۔ دوران سماعت پاکستان نے ثابت کیا کہ کلبھوشن یادیو بھارتی شہری ہے، بھارت نے بھی تسلیم کیا اور مارچ 2016 ء سے پاکستانی حکام کی تحویل میں ہے جس پر پاکستانی آرمی ایکٹ کے تحت کورٹ مارشل کے ذریعے سزا سنائی گئی۔ پاکستان نے باضابطہ طورپر گرفتاری سے متعلق بھارت کو آگاہ کیا۔

رونی ابراہیم نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ یہ کیس عالمی عدالت انصاف کے اختیار میں آتا ہے۔دہشگردی میں ملوث شخص پر ویانا کنونشن کا اطلا ق نہیں ہوتا۔بھارت عدالتی فیصلے تک کلبھوشن یادیو کی پھانسی رکوانا چاہتا ہے اور ویانا کنونشن کے تحت ریلیف چاہتا ہے۔ بھارت ہمیں کیس کے میرٹ پر مطمئن نہیں کر پایا۔دونوں ممالک کی قونصلر رسائی پر مختلف آراء سامنے آئی ہیں، پاکستان نے کہا تھا کہ قونصلر رسائی پر غور کیا جائے گا۔عالمی عدالت انصاف کے جج نے کہا کہ ویانا کنونشن کے تحت جاسوس تک رسائی ممکن نہیں، پاکستان اور بھارت ویانا کنونشن کے فریق ہیں۔کلبھوشن کو پاکستان آرمی ایکٹ 1952ء کے تحت سزا سنائی گئی۔پاکستان نے کہہ دیا تھا کہ قونصلررسائی بھارت کے جواب سے منسلک ہے۔رونی ابراہمی نے بھارتی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے مزید کہا کہ بھارت نے عالمی عدالت میں کلبھوشن تک قونصلر رسائی کی درخواست کی۔بھارت کا دعویٰ ہے کہ کلبھوشن ہمارا شہری ہے اور پاکستان بھی یہ مانتا ہے۔پاکستانی قانون میں کلبھوشن کے پاس اپیل کیلئے 40 دن تھے مگر اس کی جانب سے کوئی اپیل دائر نہیں کی گئی۔پاکستان نے دہشتگردی کے الزامات پر کلبھوشن یادیو کو سزا سنائی۔کلبھوشن کی گرفتاری پر دونوں فریقین کے دلائل مختلف تھے۔عالمی عدالت انصاف نے فیصلے میں کہا ہے کہ عدالت صرف اسی صورت حتمی فیصلہ سنا سکتی ہے جب اختیار ثابت کیا جائے۔ویانا کنونشن سے جاسوسی کے الزام میں گرفتار افراد کو علیحدہ نہیں کیا جا سکتا۔کلبوشن یادیو کو 3مارچ 2016ئکو حراست میں لیا گیا۔

عدالت نے بتایاکہ کلبھوشن یادیو کے پاس اپیل کیلئے 40 دن کا وقت تھا تاہم یادیو کی طرف سے کوئی اپیل دائر نہیں کی گئی۔پاکستان اور بھارت میں سے کوئی بھی ویانا کنونشن سے انکار نہیں کرسکتا، دونوں ممالک نے دستخط کیے لیکن قونصلر رسائی کے معاملے میں دونوں ممالک کے د رمیان اختلاف پایا جاتاہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ ویانا کنونشن کے آرٹیکل 36 کا اطلاق اس کیس پر نہیں ہوتا تاہم مکمل شواہد کے بعد بھارت کو ریلیف مل سکتا ہے، بھارت عدالت کو کیس کے میرٹ پر مطمئن نہیں کرسکا تاہم عالمی عدالت کا حتمی فیصلہ آنے تک عالمی عدالت نے کلبھوشن یادیو کی سزائے موت پر عمل درآمد روک دیا۔ عدالت کے جج رونی ابراہم کاکہناتھاکہ عدالت آرٹیکل ون کے تحت اس معاملے میں مکمل سماعت کا اختیار رکھتی ہے اور جاسوسی کے الزام میں گرفتار افراد کو ویانا کنونشن سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔
یادرہے کہ پاکستان میں دہشتگردانہ کارروائیوں کا اعتراف کرنے والے جاسوس کلبھوشن یادیوکے خلاف عالمی عدالت انصاف میں کیس کی سماعت کے دوران پاکستانی وکلاء نے بھارتی وکلاء کے دلائل مسترد کردیئے تھے اور ایسے جوابات دیئے کہ بھارتی وکیل کے پسینے چھوٹ گئے تھے۔ پاکستان نے موقف اپنایا کہ کلبھوشن ویڈیو بیان میں اپنے جاسوس ہونے کا اعتراف کرچکا ہے لہٰذا اس پر ویانا کنونشن کا اطلاق نہیں ہوتا اور اس کے علاوہ معاملہ ہنگامی نوعیت کا بھی نہیں، بھارت کے پاس کلبھوشن یادیو کو جعلی پاسپورٹ پر بھجوائے جانے کابھی جواب نہیں اور باضابطہ طورپر بھارت کو گرفتاری کی اطلاع دی گئی تھی۔یہاں یہ امر بھی قابل ذ کر ہے کہ بھارت نے کلبھوشن یادیو کی سزائے موت کے خلاف عالمی عدالت انصاف سے رجوع کیا تھا جس کے بعد ایک ہی سماعت میں عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔

عالمی عدالت انصاف کی جانب سے کلبھوشن یادیو کی سزائے موت رکنے کے بعد بھارت میں شادیانے بجائے جا رہے ہیں۔ مستقبل میں اس کیس کے حوالے سے پاکستان کو بڑی کامیابی ملے گی کیونکہ ہمارے پر ٹھوس ثبوت موجود ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ کلبھوشن یادیو بھارتی جاسوس ہے۔ ابھی بھارتی میڈ یا اور حکومت کلبھوشن یادیو کی پھانسی رکنے کے معاملے پر شادیانے بجا رہے ہیں لیکن یہ زیادہ عرصہ تک نہیں رہے گا۔ پاکستان کے پاس ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ کلبھوشن یادیو بھارتی جاسوس ہے جو پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث تھا۔ اب پوری دنیا کی نظر اس کیس پر ہو گی،جب پاکستان ثابت کرے گا کہ کلبھو شن یادیو بھارتی جاسوس ہے تو اس سے بھارت کا مکروہ چہرہ دنیا کے سامنے آئے گا۔ عالمی عدالت میں پاکستان کو پورا موقع ملے گا کہ وہ اپنا موقف بیان کرسکیں۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجو ہ نے کہا کہ کلبھوشن کے لئے وکیل ہم نے بلایا،ساری ذمہ داری صرف فوج پر ڈالنے سے ملک آگے نہیں چل سکتاسب کو اپنی ذمہ داری ادا کرنا ہوگی اور فوج اکیلے کچھ نہیں کرسکتی۔پاک فوج کے سپہ سالار نے کہا کہ گزشتہ دنوں فوج اور بالخصوص مجھے ٹارگٹ کیا گیا۔انہوں نے
کہا کہ کراچی یابلوچستان میں کچھ ہوتو فوج کو بلایا جاتا ہے،ریکوڈ ک پر فوج کام کررہی ہے،انڈس واٹر ٹریٹی پر فوج کام کررہی ہے۔جنرل قمر جاوید باجوہ نے مزید کہا کہ دہشتگردی کے خلاف ہم نے جرات آمیز جنگ لڑی،فوجی جوانوں کو آرام کا وقت نہیں مل رہا، کوئی جوان شہید ہو تو غم اپنے دل پر محسوس کرتاہوں اور میں روز اپنے بچوں کا درد سہتا ہوں۔فوج پر تنقید آسان ہے مگر اس کی تکلیف کا کسی کو
احساس نہیں،مجھے احساس ہے جوان 24گھنٹے ڈیوٹی دیتے ہیں۔آرمی چیف نے کہا کہ ڈان لیکس پر جب پہلا فیصلہ کیا تو میرے بیٹے نے کہا کہ آپ نے ایک پاپولر لیکن غلط فیصلہ کیا لیکن جب دوسرافیصلہ کیا تو بیٹے نے کہا کہ آپ نے غیر مقبول مگر درست فیصلہ کیا ہے،نوجوان نسل سٹریٹ فارورڈ ہے اور ہماری سمت درست بہتر بنادے گی۔ان کا کہنا تھا کہ بھارت میں انتہا پسندی کی ایک نئی جہت پروان چڑھ رہی ہے اور نفرت کا کلچر تیزی سے فروغ پارہا ہے،نفرت کے فروغ سے بھارت اپنا قومی تشخص مسخ کررہا ہے،انتہا پسند ہندو تنظیم نے ہندو توا اور گاؤ رکھشا جیسی مہم شروع کررکھی ہے اور بھارت کے مغربی علاقوں میں مساجد اور گردوارے جلائے جارہے ہیں۔آرمی چیف کا کہنا تھا کہ ریاست کی رٹ کو مکمل طور پر بحال کریں گے،انتہا پسندی کی بنیاد کوئی نظریہ یا مذہب نہیں،انتہا پسندی کا مقصد نفرت اور عدم برداشت پیدا کرنا ہے۔ اب ہم جائز لیتے ہیں کہ اِس کیس کو اب تک پاکستان نے عاملی عالت میں کیسے چلایا ہے۔ جندال کی پاکستان آمد ہ ہمارئے وزیر اعظم صاحب سے خفیہ ملاقات اور پھر چند ہفتوں بعد ہی بھارت اپنے دہشت گرد کلبہوشن یادو کی رہائی کے لیے انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس جا پہنچا۔ اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایک دہشت گرد جو کہ بلوچستان کو لہو لہان کرنے کے ٹاسک کے ساتھ پاکستان میں براجمان تھا۔ جو کہ بھارتی بحریہ کا حاضر سروس کمانڈر تھا۔ جس نے پاکستان میں خون کی ہولی کھیلنے کے لیے نام نہاد طالبان اور را کے ایجنٹوں کو خوب کمک فراہم کی ۔ وہ کلبہوشن یادو جو ہزاروں پاکستانیوں کے قتل کا سبب بنا ۔ کیا ایسے قاتل کی طرف سے انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس میں اپنی جان بخشی کی اپیل بنتی ہے۔ بھارت نے عالمی عدالت انصاف سے پاکستان کو کل بھوشن یادیو کی پھانسی پر عملدرآمد روکنے کے احکامات جاری کرنے کی استدعا کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ یادیو ایک بے قصور بھارتی شہری ہے جو ایک سال سے زیادہ عرصے سے پاکستان میں قید ہے اور اسے ویانا کنونشن کے تحت اس کے حقوق نہیں دیئے جا رہے، پاکستانی فوجی عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔ خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلانے والے بھارت کے سیاستدان تو سیاستدان سرکاری افسر بھی پست ذہنیت کے نکلے دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی میں بھارتی افسر اخلاقی اور سفارتی آداب بھی بھلا بیٹھے گزشتہ روز ہیگ میں بھارتی دہشت گرد کلبھوشن یادیو کی سزائے موت کو عالمی عدالت انصاف میں چیلنج کئے جانے کے موقع جب پاکستانی وفد سماعت شروع ہونے پر عدالت میں پہنچا تو وفد کے ارکان نے اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارتی سفارتکاروں اور افسروں سے بھی ہاتھ ملائے پاکستان کا مقدمہ لڑنے والے ڈی جی ساؤتھ ایشیا محمد فیصل نے بھارتی وزارت خارجہ کے سینئر افسر دیپک متل کی طرف مصافحہ کیلئے ہاتھ بڑھایا تو بدتہذیب متل نے ہاتھ ملانے کی بجائے دونوں ہاتھ جوڑ کر پھیکی مسکراہٹ سے نمسکار کہہ کر جان چھڑالی حالانکہ یہ شخص بھارتی وزارت خارجہ میں پاکستانی ڈویژن کا سربراہ ہے یہ اچھی طرح سے پاکستانی اور اسلامی روایات کو جانتا ہے کہ پاکستانیوں سے ملتے وقت نمسکار نہیں کیا جاتا السلام علیکم یا زیادہ تنگ نظر بھارتی باشندے ہوں تو ہیلو ہائے کرکے مصافحہ کرلیتے ہیں مگر دیپک متل نے جان بوجھ کر بدتہذیبی دکھائی۔ واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے جاپان میں ایک ٹی وی مباحثے میں شرکت کے لئے موجود وزیرخزانہ اسحاق ڈار سے ملاقات سے بچنے کے لئے بھارتی وزیر ارون جیٹلی اپنا منہ ہی دوسری طرف کئے بیٹھے ہے۔

نیدر لینڈز کے شہر دی ہیگ میں قائم عالمی عدالت انصاف کے گیارہ رکنی بنچ نے کل بھوشن یادیو کی پھانسی کی سزا کیخلاف بھارتی درخواست کی سماعت کی۔ کیس میں بھارت کی نمائندگی13 رکنی ٹیم کررہی ہے جو وزارت خارجہ میں جوائنٹ سیکرٹری دیپک میٹل (پرنسپل ایجنٹ)، جوائنٹ سیکرٹری وی ڈی شرما (کوایجنٹ)، نامور وکیل ہریش سالو، بھارتی سفارتخانے میں فرسٹ سیکرٹری کاجل بھٹ اور جونیئر وکیل چٹنا این رائے سمیت دیگر حکام شامل ہیں جبکہ پاکستان کی قانونی ٹیم کی سربراہی اٹارنی جنرل اشتر اوصاف علی کر رہے ہیں۔ عدالت نے دونوں فریقوں کو اپنا اپنا موقف پیش کرنے کیلئے نوے منٹ دیئے۔ پاکستان نے عالمی عدالت میں کلبھوشن یادیو کے بارے میں بھارتی درخواست کو نامکمل اور حقائق کے خلاف قرار دیتے ہوئے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی سزائے موت کے خلاف بھارت کی درخواست پر عالمی عدالت کے دائرہ کار کو بھی چیلنج کردیا۔ پاکستانی ٹیم نے عالمی عدالت انصاف میں کلبھوشن یادیو کیس پر دلائل دئیے۔ پاکستان کی وزارت خارجہ میں ڈی جی ساؤتھ ایشیا اینڈ سارک ڈاکٹر فیصل نے عالمی عدالت انصاف میں دلائل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان دہشتگردوں سے نہیں ڈرے گا۔ کمانڈر کلبھوشن یادیو نے پاکستان میں دہشت گردی کرنے کا اعتراف کیا۔ کلبھوشن یادیو کے پاسپورٹ کی کاپی عالمی عدالت انصاف میں بڑی سکرین پر دکھائی گئی۔ ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ کمانڈر کلبھوشن کا جبری اعتراف کا بھارتی الزام بے بنیاد ہے۔ عالمی عدالت انصاف کو کلبھوشن یادیو کی اعترافی ویڈیو دیکھنی چاہئے۔ بھارت نے کلبھوشن یادیو کے پاسپورٹ کے بارے میں خاموشی اختیار کئے رکھی اور اس معاملے پر بھارتی وکلاء کو سانپ سونگھ گیا۔ کلبھوشن نے دہشت گردی کرکے پاکستان کو نقصان پہنچانے کا اعتراف کیا۔ کلبھوشن معصوم شہریوں کو نقصان پہنچانے کا اعتراف کرچکا ہے۔ ہمیں عالمی عدالت میں کھینچا گیا ہے ہم خوشی سے پیش ہوئے۔ پاکستان نے کلبھوشن کی گرفتاری پر بھارت کو بھی آگاہ کیا تھا۔ کلبھوشن کے پاس اپنی صفائی کیلئے 150 دن تھے، پاکستان کیخلاف سیاسی پوائنٹ سکورنگ سے بھارت کو فائدہ نہیں ہوگا۔ پاکستانی وکیل خاور قریشی نے عالمی عدالت انصاف میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ کلبھوشن کے پاسپورٹ پر مسلمان کا نام لکھا تھا۔ کمانڈر کلبھوشن کی گرفتاری سے بھارتی ہائی کمشن کو آگاہ کیا گیا۔ بھارت نے کلبھوشن کے پاسپورٹ پر خاموشی اختیار کئے رکھی۔ کلبھوشن کے پاسپورٹ پر فرضی نام لکھا ہے۔ بھارتی میڈیا نے عالمی عدالت انصاف کے خط کو بھی غلط انداز میں پیش کیا۔ بھارت کی طرف سے مشروط قونصلر رسائی کی بات بے بنیاد ہے۔ کلبھوشن یادیو کو پاکستان کے صوبہ بلوچستان سے گرفتار کیا گیا۔ کمانڈر کلبھوشن یادیو کا کیس ہنگامی نوعیت کا نہیں ہے۔ ویانا کنونشن کے تحت بین الاقوامی عدالت انصاف کا دائرہ کار محدود ہے۔ بھارتی درخواست کی سماعت آئی سی جے میں ممکن نہیں۔ بھارت کے پیش کردہ دلائل نامکمل اور تضاد سے بھرپور ہیں۔ بھارت آئی سی جے سے حد سے زیادہ ریلیف چاہتا ہے۔ بھارت نے عالمی عدالت کو سیاسی تھیٹر کے طور پر استعمال کیا، عوام اور اپنی سرزمین کی حفاظت کیلئے تمام قانونی ذرائع استعمال کریں گے۔ اقوام متحدہ میں سب سے بڑا جرم دہشت گردی سمجھا جاتا ہے۔ کلبھوشن کو معدنی دولت سے مالامال بلوچستان سے گرفتار کیا گیا۔ عالمی عدالت کلبھوشن کے معاملے پر بھارت کی درخواست مسترد کردے۔ کلبھوشن کی سرگرمیوں کے ٹھوس شواہد فراہم کئے گئے۔ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو قونصلر رسائی کا حق نہیں رکھتا۔ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو سزائے موت قانون کے مطابق سنائی گئی ہے۔ بھارت اپنے دلائل میں غلط بیانی اور تضاد سے کام لے رہا ہے۔ کلبھوشن جعلی پاسپورٹ پر ایران سے پاکستان آیا تھا۔ کلبھوشن یادیو کی سرگرمیوں کے ٹھوس شواہد فراہم کئے گئے ہیں۔ دہشت گرد کو سز ا دینا تمام ممالک کی ذمہ داری ہے۔ پاکستان کی طرف سے شرائط عائد کرنے کا بھارتی الزام غلط ہے بھارت نے پاکستان کی طرف سے فراہم کئے گئے شواہد عالمی عدالت کے سامنے پیش کئے شواہد عالمی عدالت کے سامنے پیش نہیں کئے۔پاکستانی وکیل خاور قریشی نے عالمی عدالت کو پہلی دلیل پیش کرتے ہوئے کہا کہ کلبھوشن کا معاملہ ہنگامی نوعیت کا نہیں۔ کلبھوشن کا کیس عالمی عدالت میں نہیں چلایا جاسکتا۔ یادیو کا کیس عالمی عدالت انصاف کے دائرہ کار میں نہیں آتا۔ عالمی عدالت انصاف سے کلبھوشن کو ریلیف نہیں دیا جاسکتا۔ پاکستان نے کلبھوشن یادیو کی تحقیقات سے متعلق معلومات بھارت کو دیں لیکن جواب نہیں آیا۔ کمانڈر کے بارے میں تحقیقات کیلئے بھارت سے تعاون کی درخواست کی۔ بھارت کی اپیل کا مقصد سٹے آرڈر حاصل کرنا ہے۔ عالمی عدالت انصاف کریمنل نوعیت کے کیس کی سماعت نہیں کرسکتی۔ ہم نے معاہدے کی پاسداری کرتے ہوئے ہائی کمیشن سطح پر بھارت کو کلبھوشن کی گرفتاری سے آگاہ کیا۔ کلبھوشن کو ایران سے اغواء کرکے پاکستان لاکر اعتراف کرانے کا دعویٰ مضحکہ خیز ہے اسے مسترد کرتے ہیں۔ عالمی عدالت انصاف قرار دے چکی ہے کہ قونصلر رسائی ریاست کا اپنا معاملہ ہے بھارت نے اگست 1999ء میں رن آف کچھ میں پاکستان کا طیارہ گرایا تھا۔ پاکستان طیارہ گرنے پر عالمی عدالت انصاف میں گیا تھا لیکن بھارت نے کہا کہ یہ کیس عالمی عدالت انصاف کے اختیار میں نہیں۔ بھارت نے کلبھوشن کا بھارتی پاسپورٹ اور برتھ سرٹیفکیٹ پیش نہیں کیا۔ بھارت کے پاس کلبھوشن کے جعلی پاسپورٹ کی کیا دلیل ہے؟ بھارت نے تسلیم کیا کہ کلبھوشن یادیو ان کا شہری ہے۔ پاکستان چاہتا ہے کہ قومی سلامتی کا ایشو عالمی عدالت میں نہ چلایا جائے بھارت نے کلبھوشن یادیو کے بیگناہ ہونے کا کوئی ثبوت نہیں دیا۔ اس سے قبل بھارتی قانونی ٹیم نے دلائل کاآغازکرتے ہوئے عالمی عدالت انصاف میں کلبھوشن کی سزائے موت رکوانے کا مطالبہ کیا۔ٹیم میں شامل وکیل دیپک متل نے عدالت سے کہا کہ کل بھوشن ایک بے قصور بھارتی شہری ہیں جو من گھڑت الزامات میں ایک سال سے زیادہ عرصے سے پاکستان میں قید ہیں، انہیں ویانا کنونشن کے تحت ان کے حقوق نہیں دیئے جا رہے۔انہوں نے کہاکہ بھارت کوکل بھوشن کی سزائے موت کے بارے میں میڈیارپورٹس سے معلوم ہوا اوریہ سزاء ایک مبینہ اعترافی بیان پرسنائی گئی۔پاکستان نے کوئی چارج شیٹ یادوسری دستاویزفراہم نہیں کی جس سے واضح ہوتاہے کہ کل بھوشن کودفاع کاحق نہیں دیاگیا۔ کوایجنٹ وی ڈی شرما نے کہاکہ پاکستان نے کل بھوشن کے معاملے پرقانونی تقاضے پورے نہیں کئے عالمی عدالت انصاف سزائے موت پرعملدرآمدرکواکربھارتی شہری کوریلیف فراہم کرے اورفوجی عدالت کافیصلہ کالعدم قراردے۔سنیئر بھارتی وکیل ہریش سالو ے نے کہاکہ پاکستان کی طرف سے قونصلررسائی فراہم نہ کئے جانے کے باعث بھارت کل بھوشن کے دفاع کیلئے وکیل کابندوبست بھی نہیں کرسکا۔انہوں نے کہاکہ پاکستان نے نہ صرف قونصلررسائی کیلئے بھارت کی طرف سے بارہاکی جانے والے درخواست کومستردکیابلکہ اس نے کل بھوشن کے مقدمے سے متعلق دستاویزات بھی فراہم نہیں کیں۔کل بھوشن کااعترافی بیان اس وقت سامنے آیاجب وہ فوج کی تحویل میں تھا۔انہوں نے کل بھوشن کی سزاء پرعملدرآمدرکوانے کی استدعاکرتے ہوئے کہاکہ کل بھوشن کے ناقابل تنسیخ حقوق غصب ہونے کاسلسلہ روکنااشدضروری ہے۔انہوں نے جرمنی اورمیکسیکوکی نظیروں کاحوالہ دیتے ہوئے کہاکہ بھارت اپنے شہری کی سزائے موت پرعملدرآمدرکواناچاہتاہے۔انہوں نے فوجی عدالت کی غیرجانبدار پرشک کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ کل بھوشن کی اپیل فوجی عدالت ہی سن رہی ہے جس کی سربراہی ٹوسٹارجنرل کررہاہے جبکہ سزائے موت کی توثیق فورسٹارجنرل نے کی۔ بھارتی قانونی ٹیم نے عدالت سے یہ بھی کہاکہ23 جنوری 2017 کو پاکستان نے کل بھوشن کے پاکستان میں جاسوسی اور شدت پسند سرگرمیوں میں شامل ہونے کے معاملے کی تحقیقات میں مدد مانگی تھی اور کہا تھا کہ قونصلر رسائی کی درخواست پر غور کرتے ہوئے بھارت کے جواب کو ذہن میں رکھا جائے گا جبکہ تحقیقات میں مدد مانگنے کو قونصلر رسائی کے مطالبے سے جوڑنا ویانا نونشن کے خلاف ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان اور بھارت کا عالمی عدالت انصاف میں 18 سال بعد آمنا سامناہو ا ہے۔ کل بھوشن یادیو کوگزشتہ سال بلوچستان سے گرفتار کیا گیا تھا، بھارتی بحریہ کے ا فسر اوررا کے جاسوس کلبھوشن یادیونے دہشت گرد کارروائیوں کا اعتراف کیا تھا، جس کے بعد فوجی عدالت نے موت کی سزا سنائی تھی۔ بھارت نے رواں ماہ ہی عالمی عدالتِ انصاف سے رجوع کرتے ہوئے اس معاملے میں مداخلت کی درخواست کی تھی۔ بھارت نے بین الاقوامی عدالت سے اپیل کی تھی کہ یادیو کی پھانسی کے خلاف اپیل کرنے کے لیے بہت کم وقت ہے اور پاکستان میں تمام امکانات پر غور کرنے کے لیے وقت نہیں ہے۔ اس درخواست کے بعد بھارتی میڈیا میں ایسی خبریں گردش کرنے لگی تھیں کہ عالمی عدالت انصاف نے اس پھانسی پر عملدرآمد کے خلاف حکمِ امتناعی جاری کیا ہے تاہم انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس نے ایسی تمام خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ عالمی عدالت انصاف نے ایسا کوئی حکم جاری نہیں کیا ہے۔دوسری طرف بھارت نے کہا ہے کہ وہ پاکستان میں گرفتار جاسوس کلبھوشن یادیو کی رہائی کیلئے کوششیں جاری رکھے گا۔ بھارتی وزیرمملکت برائے خارجہ امور ہنس راج ائر نے کہا ہے کہ بھارت نے اس حوالے سے اپنا موقف عدالت کے سامنے رکھا ہے اور ہمیں امید ہے کہ کلبھوشن کو انصاف ملے گا۔عدالت نے دلائل سننے کے بعد ریمارکس دئیے کہ فیصلہ جلد سنائیں گے۔ فریقین کو تاریخ سے آگاہ کردیا جائے گا۔ عدالت نے اس حوالے سے وکلاء کو دستیاب رہنے کی ہدایت کی۔ پریس ٹرسٹ آف انڈیا نے بھارتی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے عالمی عدالت نے پاکستان کی طرف سے کلبھوشن یادیو کے اعترافی بیان کی ویڈیو کو عدالت میں چلانے کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔راقم کی سوچ کے مطابق بھارتی دہشت گرد کی سزا کے حوالے سے پاکستان کو کسی طرح کے بھی دباؤ میں نہیں آنا چاہیے۔ اگر یہ بات ہے تو جس طرح بھارت کشمیریوں کا قتل عام کر رہا ہے وہ بھارت کو نظر نہیں آتا، اور اقوام متحدہ کی عدالتِ انصاف کو یہ سب کچھ نظر نہیں آتا۔ ابھی بھارتی میڈ یا اور حکومت کلبھوشن یادیو کی پھانسی رکنے کے معاملے پر شادیانے بجا رہے ہیں لیکن یہ زیادہ عرصہ تک نہیں رہے گا۔ پاکستان کے پاس ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ کلبھوشن یادیو بھارتی جاسوس ہے جو پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث تھا۔ اب پوری دنیا کی نظر اس کیس پر ہو گی،جب پاکستان ثابت کرے گا کہ کلبھو شن یادیو بھارتی جاسوس ہے تو اس سے بھارت کا مکروہ چہرہ دنیا کے سامنے آئے گا۔ عالمی عدالت میں پاکستان کو پورا موقع ملے گا کہ وہ اپنا موقف بیان کرسکیں۔
امید ہے کہ موجودہ حالات کے تناظر میں کلبہوشن یادو کیس ریمنڈ ڈیوس کیس نہیں بن پائے گا۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: MIAN ASHRAF ASMI ADVOCTE

Read More Articles by MIAN ASHRAF ASMI ADVOCTE: 445 Articles with 225869 views »
MIAN MUHAMMAD ASHRAF ASMI
ADVOCATE HIGH COURT
Suit No.1, Shah Chiragh Chamber, Aiwan–e-Auqaf, Lahore
Ph: 92-42-37355171, Cell: 03224482940
E.Mail:
.. View More
20 May, 2017 Views: 475

Comments

آپ کی رائے