تین حقائق جس سے پردہ اٹھانا ضروری ہے

(Nida Yousuf Shaikh, )

 تین ایسے حقائق جس سے پردہ اُٹھانا میں بہت ضروری سمجھتی ہوں ،حالانکہ میں اس بات سے بخوبی واقف ہوں کہ جو حقائق میں بیان کرنے جا رہی ہوں ہر باشعور شخص ان حقائق کو بہت بہتر انداز میں جانتے ہونگے مگر عام عوام شاید ان حقائق کے بارے میں صحیح طرح واقف نہیں اور میں یہ سمجھتی ہونکہ بلکہ ہم سب کو یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ان حقائق کے بارے میں جتنی بار بھی کسی بھی انداز میں آواز اُٹھائی جائے کم ہے کیونکہ ظلم اور حق بات کیلئے حکم ہے کہ اگر آپ اتنی ہمت رکھتے ہیں کہ ظلم کو بڑھ کے اپنے بازو کی طاقت سے روکا جا سکتا ہے تو روکیں نہیں تو الفاظ سے اگر الفاظ سے روکنے میں کوئی قباحت ہے تو اپنے زورِقلم کی طاقت استعمال کریں اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو اسکی سب سے ادنیٰ صورت یہ ہے کہ اسکو دل میں بُرا جانیں،میرے ان تین حقائق میں سب سے پہلا یہ ہے کہ جیسا کہ ااپ سب جانتے ہیں کہ فلسطین اسرائیل تنازعہ برسوں پُرانا ہے جو ہم عرصہ دراز سے دیکھتے اور سنتے چلے آرہے ہیں اس کے اصل حقائق کیا ہیں وہ میں آج آپکو بیان کرونگی دوسرے نمبر پہ اس ہی سے متعلق تحریکِ انتفاضہ کی اصل تاریخ کیا ہے تیسرے اور آخری نمبر پہ ظلم و بربریت جو کہ پورے عالم میں عفریت کی طرح پھیلتی جا رہی ہے اسمیں شامل عناصر میں سب سے پہلی اور بڑی عفریت کون ہے یہ تینوں حقائق میں آج آپکو بتاونگی۔
سب سے پہلے اسرائیل اور فلسطین کی حیثیت تاریخی تناظر میں اسکے پیچھے کیا حقائق ہیں وہ بتاتی چلوں ،یہودیوں کے پاس کبھی بھی کوئی بھی اپنا ملک نہیں تھا اور وہ آوارہ ہی رہے ہیں ہالینڈ کا ایک رہائشی قانونی وکیل ٹیوڈور ھرزل اس سے یہ بات برداشت نہیں ہوتی تھی اس نے 1896میں ایک کتاب ملکِ یہود میں لکھا کہ ہمیں لازماََ یہودیوں کیلئے ایک مستقل مملکت تشکیل دینا ہوگی، اس ضمن میں 19تا31اگست کی تاریخ میں اگلے سال 300یہودیوں کو سوئزرلینڈ میں جمع کیا تا کہ طے کیا جاسکے کہ کسطرح اس یہودی ریاست کو بنایا جائے اس بارے میں بات چیت ہوئی لیکن بالاخر فلسطین پر سب کا اتفاق ہو گیا اور کیونکہ فلسطین میں یہودی مقدسات بھی موجود ہیں جو عوامی ترغیب کیلئے بہترین بہانا قرار پائے ہرزل نے سلطنتِ عثمانی کے سلطان عبد الحمید ثانی کو بہت سے تحائف ارسال کئے اور ساتھ ہی یورپی یہودیوں کے فلسطین آنے کی اجازت مانگی جسے سلطان نے قبول نہیں کیا لیکن ہرزل نے امریکی اور یورپی یہودیوں کی مدد سے ایک کمپنی بنائی جو فلسطین میں رہنے والے یہودیوں کی مالی مدد کیا کرتی تھی ۔

1914ء پہلی جنگِ عظیم شروع ہوئی ان حالات میں یہودیوں نے جنگ کو بہانا بنا کر بے شمار یہودیوں کو فلسطین مہاجرت کروائی جنگ کے بعد سلطنتِ عثمانی کمزور پڑ گئی اور1916ء میں سائس ایکو قرارداد کے مطابق فرانس اور برطانیہ کے حصے میں تقسیم ہو گئی فلسطین برطانیہ کے حصے میں آیا اور برطانوی فوجی وہاں قابض ہوگئے برطانوی وزیرِ خارجہ کی کوششوں سے 2نومبر 1917ء کو ایک یہودی بے نام رچرڈ کو خط لکھا اور کہا کہ برطانوی حکومت یہودیوں کیلئے فلسطین کو اپنا ملک بنانے کی ہمایت کرتی ہے ساتھ ہی امریکی صدر بلسن نے بھی خط کی حمایت کردی یہودیوں کے اچھے دنوں کا آغاز ہوا پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ یہودیوں کی فلسطین مہاجرت شروع ہو گئی املاک اور زریعی اراضی کو اپنے ہاتھ میں لینا شروع کر دیا شروع میں پیسے سے اور پھر اگر کوئی مزاہمت کرتا تو برطانوی فوج کی مدد لی جاتی۔
25نومبر 1920ء پہلی جنگِ عظیم کے فاتحین نے سان ریمو اٹلی میں اعلان کیا کہ یہودیوں کو آزاد ہونا چاہئے اور فلسطین میں اُنکا اپنا ملک ہونا چاہئے اس قرارداد کو اقوامِ متحدہ نے بھی فوراََ منظور کر لیا اور ایک یہودی بے نام سامی کو فوراََ اس کام پر معمور کر دیا 1920ء میں چرچل برطانوی جنگ کا فاتح کود شریف چلا گیا اور سفید نامی کاغذ کی اصطلاح کو بیان کر کے کہا کہ ہمیں ہر حالت میں قبول کرنا ہوگا کہ یہودی فلسطین میں آئیں اور اپنی ایک الگ ریاست بنائیں ۔

1930ء کے شروع میں یہودی مخالف نازیوں نے قدرت حاصل کی یہودیوں کی فلسطین میں مہاجرت کے سلسلے میں بے پناہ اضافہ ہو گیا انہی سالوں میں دوسری جنگِ عظیم شروع ہو گئی اور چھ سال مسلسل جاری رہی جنگ کے فوراََ بعد ایک نیا کھیل شروع کر دیا گیا ،ہولو کاسٹ اجتماعی طور پر یہودیوں کے قتلِ عام کی فرضی کہانیاں جو ایل نیا بہانا بن گیا ان یہودیوں کیلئے جو یورپ سے فلسطین نا جاسکے تھے دیکھتے ہی دیکھتے فلسطین میں یہودیوں کی تعداد چھ لاکھ سے تجاوز کر گئی اس دفع بر طانیہ کی جگہ وہ ملک مدد کر رہا تھا جس نے جنگ کے دوران یہودیوں کی مدد سے نئی طاقت و ہیبت حاصل کر لی تھی یعنی امریکہ، اب تو آپ جان ہی گئے ہونگے کے جارحیت اور ظلم و بربریت کے پیچھے امریکہ لازمی شامل ہوتا ہے۔

14 مئی1948ء سب کچھ پہلے سے ہی طے شدہ تھا صبح برطانیہ نے اعلان کیا کہ اب ہمارا فلسطین پر قبضہ قانونی حاکمیت کا وقت ختم ہو گیا ہے اور اسی دن وقتِ ظہر سے پہلے یہودیوں نے اسرائیل کے نام سے اپنے ملک کا اعلان کر دیا اسی دن بعد ظہر اقوامِ متحدہ میں بھی اس پر ووٹ ڈالا گیا صرف چند ہی منٹوں میں ووٹوں کے نتائیج کے بعد اسرائیل کو قانونی حیثیت دے دی گئی ٹھیک آٹھ منٹ بعد سویت یونین نے اسرائیل کو تسلیم کر لیا اور اسی طرح فلسطینیوں سے پوچھے بنا ہی انہی کی سرزمین پر ایک اور ملک بنا دیا گیا اور 21000 کلو میٹر کی سر زمین فلسطین پر یہودی قابض ہوگئے دوسرے دن مصر، اُردن، شام ،سعودیہ ،عراق،اور لبنانی فوجوں نے حملہ کر دیا اور کافی زیادہ حد تک کامیاب بھی ہو گئے لیکن اچانک اقوامِ متحدہ نے سازش کار لوگوں کے ساتھ ساز باز کر کے 20 روزہ جنگ بندی کروادی اور اس جنگ بندی کے دوران اسرائیل کو بھرپور تصلیحاتی مدد حاصل ہو گئی تھی جسکی بنا پر اسرائیل نے 20دن بعد اچانک عربی فوجوں کو شکست سے دوچار کردیا اور پوری سر زمینِ فلسطین سوائے ترانے باختری اور غزہ کے قابض ہو گیا یعنی در حقیقت فلسطین نامی ملک ختم ہو گیا اور لاکھوں فلسطینی اپنے ہی گھروں سے بے دخل کر دئے گئے۔
1968ء میں صاف کی کوششوں سے عربی حکومتوں نے اسرائیل پر حملے کا ارادہ کیا جسکے جواب میں اسرائیل نے حملہ کر کے عربوں کو شکست دے دی یہودیوں کے ہاتھوں غصب شدہ فلسطین کی سر زمین تین برابر ہوگئی بلاآخر امریکی اور یہودی دباؤ کے نتیجے میں عرب اور ساف عہدے وفا سے پیچھے ہٹ گئے سب سے پہلے مصر المرقدات نے 1978ء کیانگ ڈیوڈ نے اسرائیل کو تسلیم کر لیا پھر کیا تھا آہستہ آہستہ دنیا نے فلسطین پر اسرائیلی قبضے کو قبول کر لیا لیکن پھر وقتِ بیداری آن پہنچا تھا اور آج تک فلسطینی مجاہدین نے غاصب یہودیوں سے اس جنگ کو جاری رکھا ہوا ہے اور اس مقاہمت بیداری کے سامنے حقوقِ انسانیت کے نام لیوا آنکھیں بند کئے سر جھکائے کھڑے ہیں اور غاصب سیہونی یہودیوں کو مدد کیلئے چھتری فراہم کر رہے ہیں لیکن مقاہمت جاری ہے اور فلسطین آج بھی اسلام کا ناختم ہونے والا حصہ ہے۔
اب باری آتی ہے دوسرے حقائق سے پردہ اُٹھانے کی یعنی تحریکِ انتفاضہ یہ کیا ہے اور اسکے پیچھے کیا محرکات ہیں اسکی تاریخ کیا ہے اکثر لوگ اس کی اصل حقیقت سے لا علم ہیں تو میں آپکو بتاتی چلوں انتفاضہ عربی کے اس لفظ جسکے معنی ہیں ــ’’خوابِ غفلت سے بیداری ‘‘

مغربی خبری زرائع کا تعارف 1987ء میں ہوا تھا 9دسمبر کو ایک اسرائیلی ٹرک غزہ میں جبلیہ کے پناہ گزیں کیمپ میں سوئے ہوئے چار فلسطینیوں کو کچلتا ہوا گزر گیا تھا جس پر یہ پہلا انتفاضہ شروع ہوا اور جنگل کی آگ کی طرح پوری فلسطینی آبادی میں پھیل گیا تھا ،یہ تحریک چھ سال تک کبھی نرم کبھی گرم جاری رہی اور اتنی موثر ثابت ہوئی کہ اسرائیل مزاکرات کرنے اور سمجھوتا کرنے پر مجبور ہوگیا ، ستمبر 1993ء میں اوسلو معاہدے پر یاسر عرفات اور یتزہک ربین کے دستخط پر اس پہلے انتفاضہ کا خاتمہ ہو ا دوسرا انتفاضہ 28دسمبر2000ئکو اس وقت شروع ہوا جب حزبِ مخالف کے ایک ممتاز رہنما آرئیل شیرون نے (جو بعد میں اسرائیل کے وزیرِ اعظم بن گئے )مسجدِ اقصیٰ میں جانے کا فیصلہ کیا ۔اس دورے کو فلسطینیوں نے اشتعال انگیز قرار دیا اس دوسری لہر کو اسی لئے انتفاضہ اقصیٰ کہا جاتا ہے اس نئی لہر نے اوسلو سمجھوتے اور امن کے عمل کو دفن کر دیا جسکو اسرائیلیوں نے اپنی ہٹ دھرمیوں سے گھائیل کر کے کنار گور پہنچا دیا تھا ۔

دوسرے انتفاضہ میں خاص بات اسکی شدت تھی پہلا انتفاضہ زیادہ ترہڑتالوں شہری نافرمانیوں اور اسرائیلی مال کے بائیکاٹ سے عبارت تھا پہلے انتفاضہ میں ڈھائی سال میں 470افراد ہلاک ہوئے تھے دوسرے انتفاضہ کے پہلے دس ہفتے میں 300ہلاک ہو چکے تھے جوں جوں دن گزرتے گئے تباہی اور خون خرابے میں اضافہ ہوتا گیا فلسطینیوں نے اسرائیلی شہریوں پر خودکش حملے کئے اسرائیل نے فلسطینی انتظامیہ کے علاقوں یعنی غزہ اور غربِ اُردن کے شہروں پر فوج کشی کی کرفیو لگائے بلڈوزروں سے مکان گرائے یاسر عرفات کو اُنکے مکان میں قید کر دیا فلسطینی رہنماوئں کی مردم کشی (چن چن کر ہلاک )کیا ایف 16لڑاکا طیارے مشین گنیں ہیلی کاپٹر اور ٹینک کا استعمال ان حملوں میں عام ہو گیا۔

فلسطینیوں نے اسرائیل پر خودکش حملے کئے اور سینکڑوں عام شہریوں کو ہلاک کیا ان حملہ آوروں کو روکنے کیلئے جون 2002ء میں اسرائیل نے غربِ اردن کے اندر 700کلو میٹر لمبی فصیل کی تعمیر شروع کردی جو آٹھ میٹر بلند ہے اور جس پر جگہ جگہ پہرے کے مینار بنائے گئے ہیں اس فصیل نے فلسطینیوں کو ان کے کھیتوں اور باغوں سے کاٹ کے رکھ دیا ہے فلسطینی کہتے ہیں کہاسرائیل اسے آئیندہ سمجھوتے کے وقت بین الاقوامی سرحد کے طور پر منوائے گا اس انتفاضے کا اختتام کب ہوا اس بارے میں اختلاف ہے لیکن عام رائے یہی ہے کہ نومبر2004ء میں یاسر عرفات کے انتقال کے بعد اس تحریک کی کمر ٹوٹ گئی ۔اس دوسرے انتفاضہ کے اختتام تک ساڑھے پانچ ہزار5500 فلسطینی ایک ہزاراسرائیلی اور اکسٹھ غیر ملکی اشندے ہلاک ہو چکے تھے۔ان لڑائیوں میں جب بھی فلسطینیوں نے صف بندی کی ہے تو دنیا نے اسے انتفاضہ کا نام دیا ہے۔

جون 2007ء میں ہماس نامی گروہ نے فلسطین میں انتخابات میں کامیابی حاصل کی اور اختیارات سنبھال لئے تاہم حماس نے اسرائیل کو بطور ریاست تسلیم کرنے سے انکار کیا تب سے اب تک اسرائیل نے غزہ کا محاصرہ کر رکھا ہے یعنی اسرائیل غزہ کی سرحدوں میں آمدورفت کنٹرول کرتا ہے بہت سے لوگ چاہتے ہیں کہ غزہ اور غربِ اُردن پر مشتمل نیا ملک فلسطین بن جائے دوسری جانب اسرائیل اسکے لئے تب تک راضی نہیں ہوگا جب تک خود کو محفوظ نہیں سمجھ لیتا اور حماس اسکی حیثیت کو تسلیم نہیں کر لیتا متنازع باتوں میں یہ بھی شامل ہے کہ یروشلم کی حیثیت کیا ہوگی فلسطین مہاجرین اور یہودیوں کی جبری قبضہ کی ہوئی بستیوں کا کیا ہوگا۔

تیسرے اور آخری حقائق جو میں آپکے سامنے پیش کرنا چاہ رہی ہوں اُسکا صرف میں نہیں دراصل خود اُنہی کے دانشور اس حقائق سے پردہ اُٹھا رہے ہیں اور وہ یہ ہے کہ دنیا میں جہاں جہاں دہشت گردی اور جارحیت بپا ہے اسکے پسِ پردہ دراصل ہے کون اسبات سے بہت سے لوگ واقف نہیں اور جو واقف ہیں وہ حقیقت سے نظریں دانستگی میں چُرائے ہوئے ہیں اور وہ لوگ اس جارحیت اور ظلم کا زمہ دار صرف اور صرف مسلمانوں کو ٹھراتے ہیں جب کہ اسکا اصل زمہ دار درحقیقت امریکہ ہے اور یہ صرف میں نہیں کہہ رہی بلکہ وہ تاریخی حقائق اور شواہد کہتے ہیں جنکو خود امریکی دانشور بیان کرتے ہیں پروفیسر نوم چومسکی جو ممتاز مصنف اور امریکی دانشور بھی ہیں وہ خود امریکہ کے بارے میں کہتے ہیں کہ
’’اگر عالمی قوانین نافذکئے جائیں تو امریکہ دہشت گردوں کی فہرست میں پہلے نمبر پہ آتا ہے ،امریکہ نے دوسرے ممالک کے قدرتی وسائل پر قبضہ کرنے کیلئے وار آن ٹیرر کا ڈھونگ 1980ء میں رونالڈ ریگن کے دورِ حکومت میں شروع کیا جو آج تک جاری ہے‘‘

عراق پر امریکی حملے پر اُنکا کہنا تھا کہ ’’2003ء میں وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی موجودگی کا بہانہ بنا کر نا صرف عراق کو تباہ کر دیا گیا ،بلکہ دس لاکھ عراقی شہریوں کو بھی موت کی نیند سُلا دیا گیا ‘‘ وہ تسلسل کے ساتھ یہ کہتے رہے ہیں کہ’’عالمی رائے عامہ کے مطابق امریکی عالمی امن کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہے کوئی دوسرا ملک اس سلسلے میں امریکہ کے ہم پلہ نہیں ۔دنیا کی سب سے بڑی دہشت گردی کی مہم واشنگٹن میں چلائی جارہی ہے ۔یہاں دنیا بھر میں ڈرون حملوں کے منصوبے بنائے جاتے ہیں ‘‘۔

نوم چومسکی کے مطابق انہوں نے اس سے زیادہ دہشت گردی کہیں نہیں دیکھی ولیم بیلم نے اپنی کتاب ’’روگ اسٹیٹ‘‘اور نوم چومسکی نے اپنی کتاب میں امریکی دہشت گردی اور مختلف ممالک میں مداخلت کی 1889ء سے2003ء تک مکمل فہرست پیش کی ہے جسے پڑھنے کے بعدنوم چومسکی کہ یہ الفاظ کہ ـ
’’امریکہ دنیاکاسب سے بڑا دہشت گرد ملک ہے ‘‘ بالکل درست معلوم ہوتے ہیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Nida Yousuf Shaikh

Read More Articles by Nida Yousuf Shaikh: 19 Articles with 7584 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
22 May, 2017 Views: 637

Comments

آپ کی رائے