خاموشی (نویں قسظ)

(Kanwal Naveed, Karachi)

کچھ دیر باتیں کرنے کے بعد غزل جب اپنے کمرے میں گئی تو اس کے ذہین میں رفیق کا خیال آیا ، کیا واقعی ہی کوئی پیتل کو سونے کی قیمت میں لے کر خوش رہ سکتا ہے۔ لیکن ممکن ہےکہ پیتل سونا ہی ہو اور خود پیتل کو یہ احساس نہ ہو ۔ اس نے کیچر اُتار کر اُس سے کھیلتے ہوئے سوچا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رفیق نے گھر پہلے ہی انٹر نیٹ کے ذریعے سے دیکھ رکھے تھے ،اس نے بلکل نیا بنا ہوا ایک فلیٹ اپنی امی کے نام پر لیا۔ انہوں نے دو دن میں ہی وہا ں شفٹ کر لیا تو ڈاکٹر شیزاد اور ان کی فیملی کو دعوت دی۔ ڈاکٹر شیزاد نے عنابیہ کو ساتھ چلنے کو کہا۔
عنابیہ: کتنے بجے کی دعوت ہے۔
ڈاکٹر شیزاد: شکریہ ۔تمہیں غزل کی شادی کا خیال ہے۔
عنابیہ: مجھ سے ذیادہ کس کو خوشی ہو گی وہ اس گھر اور آپ کی زندگی سے چلی جائے۔ہم دونوں میں کس قدر دوری پیدا ہو چکی ہے ،اس کی وجہ سے کبھی غور کیا ہے ۔ آپ نے؟
ڈاکٹر شیزاد: دوری اور قربت کسی کی وجہ سے نہیں پیدا ہو سکتی عنابیہ ۔ ہمارے رویے ،ہماری سوچ دوری اور قربت پیدا کرنے کا باعث بنتی ہے ۔ ان کچھ سالوں میں تم چاہتی تو اسے اپنی بیٹی ہی سمجھ لیتی ۔ لیکن تم نہیں کر سکی ۔ میں بھی اگر اسے دارالایمان ہی چھوڑ آتا تو شاہد زندگی مختلف ہوتی ۔ مگر ہم اپنی اپنی کشتی کو چلاتے ہیں ۔ اپنی اپنی خواہشات کے زیر اثر ۔ مجھے تم سے کوئی شکایت نہیں ۔ محبت دل میں خود جگہ بناتی ہے۔ میرے کہنے سے تم غزل کو نہ چاہ سکتی تھی نہ تم نے چاہا۔
عنابیہ: آپ کو اندازہ بھی نہیں ہے ،آپ نے اپنا کتنا وقت اس لڑکی کو دیا ۔ جو میرا حق تھا۔آپ کو پل پل اس کی فکر تھی ،جس فکر پر میرے بیٹوں کو حق تھا ۔ اور آپ کہتے ہیں ، آپ کو مجھ سے شکایت نہیں ۔مجھے شکایت ہے ۔ مجھے بہت سی شکایات ہیں ۔ جنہیں آپ نے سن کر ان سنا کر دیا ۔ کیوں کہ آپ کو غزل کی ان کہی باتیں بھی سنائی دیتی تھیں۔
ڈاکٹر شیزاد : عنابیہ ، کبھی کبھی خاموشی چیخ رہی ہوتی ہے۔ اس خاموشی میں دیگر آوازیں سنائی نہیں دیتی ۔ غزل کی خاموشی اس قدر بولتی تھی کہ مجھے کسی اور کی آوازیں سنائی ہی نہیں دیتی تھی۔ تمہاری یہ شکایت بھی ٹھیک ہے کہ میں نے شا یان اور آفان سے بڑھ کر اسے چاہ ہے ۔ مگر اس میں بھی میرا خود پر اختیار نہیں تھا۔ رب نے میرے دل میں اس کا خیال ڈال دیا تھا۔ وہ راستے بناتا ہے ۔ اپنے بندوں کے لیے۔
عنابیہ: اگر غزل کا شوہر اپنی بیوی کے ساتھ ایسا کرئے جیسا آپ نے میرے ساتھ کیا تو آپ کو کیسا لگے گا۔
ڈاکٹر شیزاد: میرا خیال ہے غزل اپنے شوہر کی خوشی کے لیے قربانی دینے سے گریز نہیں کرئے گی۔ محبت کا دوسرا نام ہی ایثار اور قربانی ہے۔میری زندگی میں تمہاری جگہ کسی نے کبھی نہیں لی۔ نہ ہی میں نے تمہارے علاوہ کسی کو نظر بھر کر بھی دیکھا ہے۔میں نے ہمیشہ تمہاری خوشی کو بھی اہمیت دی۔ اپنے فرائض کو مقدم رکھا۔ اگر میری بیٹی کا شوہر بھی صدا میری طرح کا شوہر بن کر رہے تو میں اچھا محسوس کروں گا۔
عنابیہ کے چہرے پر آنسووں کے ساتھ مسکراہٹ آگئی۔ وہ اپنے صوفہ سے اُٹھ کر ڈاکٹر شیزاد کے پاس آ کر صوفہ پر بیٹھ گئی۔
عنابیہ:کاش آپ یہ بات اس وقت کہتے، جب میں نے آپ کو غزل اور ہم میں سے کسی ایک کے انتخاب کا بولا تھا ۔ تب آپ نے کہا تھا تم اپنا فیصلہ کر سکتی ہو۔
ڈاکٹر شیزاد : کیا تم نہیں جانتی تھی،کہ میں تمہیں کس قدرچاہتا ہوں ۔ سوچو۔اگرمجھے تمہاری خوشی کا خیال نہیں ہوتا تو میں تمہیں اپنے نہ چاہنے کے باوجود ٹی وی شو کرنے دیتا ، اگرچہ مجھے انتہائی بُرا لگتا تھا ۔لیکن تمہیں اچھا لگے، میں نے کبھی تمہیں منع نہیں کیا ۔ جب تم نے غزل کے معاملے میں خود غرضی دیکھائی۔ تو مجھے بہت بُرا لگا تھا ۔ اسی لیے میں بھی تلخ ہو گیا تھا۔کچھ باتیں لازم و ملزوم ہوتی ہیں ،ہم خودسوچ سمجھ کر نہ بھی کریں تو ہماری فطرت کے تحت ہو جاتی ہیں ۔ اگر تم میری ایک بات کو لے کر اب تک پریشان ہو ،تو میں اس کے لیے سوری کہتا ہوں۔
عنابیہ : سوری تو مجھے کہنا چاہیے۔ میں کس قدخود غرض ہو گئی تھی ۔ مجھے ایسے لگتا تھا ،جیسے غزل نے آپ کو مجھ سے چھین لیا ہے ۔ آپ ٹھیک کہتے ہیں ۔ہم سب سےذیادہ ذیادتی خودہی اپنے ساتھ کرتے ہیں ،ہمیں لگتا ہے کہ دوسرے ہما رے ساتھ غلط ہیں ۔ہمارا ایسا لگنا ہی حقیقت میں ہمیں درست سوچ کی طرف جانے ہی نہیں دیتا۔ کیا تھا اگر میں بھی اس لڑکی کو اپنی غزل مان لیتی مگر ۔
عنابیہ کی انکھوں میں آنسو تھے ۔
ڈاکٹر شیزاد: آنسو بچا کر رکھو ۔ بیٹی کی رخصتی میں کام آئیں گئے ۔شادی کر کے وہ جا بھی بہت دور رہی ہے ۔یو ۔ کے۔
ان کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔انہوں نے عنابیہ کو ہاتھ پکڑ کر دبا کر کہا ،تو اس نے اپنا سر ڈاکٹر شیزاد کے کندھے پر رکھ دیا۔ڈاکٹر شیزاد نے خوشی کی ایک لہر اپنے اندر اُترتی ہوئی محسوس کی۔
عنابیہ: میں بہت خوش قسمت ہوں شیزاد کہ مجھے آپ جیساشوہر ملا۔
ڈاکٹر شیزاد : میں بھی۔
عنابیہ: آفان کہہ رہا تھا کہ وہ نیوروسرجن بنے گا،اس کا رحجان ہے ڈاکٹر بننے کا ۔ وہ لندن جا کر پرھنا چاہتا ہے ۔ اچھا ہے غزل اور رفیق وہاں ہو گئے تو ۔ورنہ تو میں نے اسے منع کر دیا تھا۔
ڈاکٹر شیزاد : اگر وہ ایسا چاہتا ہے تو میں اسے منع نہیں کروں گا۔ میں تو کہتا ہوں بچوں کی ہر جائز خواہش پوری ہونی چاہیے ۔ مجھے شایان کی فکر ہوتی ہے۔
عنابیہ : زمہ داری کا احساس ہے اس میں ۔بس میری طرح۔۔۔۔۔
ڈاکٹر شیزاد : میں سمجھتا ہوں ۔ امید تو مجھے بھی اچھی ہی ہے۔ غزل کی شادی ہو جائے ۔ پھر اس سے تفصیل سے بات کروں گا۔ کچھ تو منصوبہ بندی اس نے بھی کی ہو گی۔
عنابیہ: ہاں ، یہ تو آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رفیق نے فلیٹ لے لیا تھا۔ اورسامان شفٹ بھی کر لیا تھا ۔ ڈاکٹر شیزاد ،آفان اور عنابیہ ان کے گھر آئے تھے ۔ رفیق نے اچھا فلیٹ لیا تھا۔ڈاکٹر شیزاد اس کی تعریف کر رہے تھے۔
ڈاکٹر شیزاد : کراچی جیسے شہر میں گھر اپنا ہونا قسمت کی بات ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ قیمتیں آسمان چھو رہی ہیں ۔
رفیق: سر آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں ۔
مہناز: بھائی صاحب ،آپ نے کیا سوچا۔
ڈاکٹر شیزاد : غزل نے تو سارا فیصلہ مجھ پر چھوڑ دیا ۔ رفیق کو میں تو کبھی انکار نہیں کروں گا۔ میں توا سے بہت پسند کرتا ہو۔ رفیق اب بس تم میری پسند کی عزت رکھنا ،غزل کو کبھی کوئی شکایت نہ ہو تم سے۔ اس بات کا خیال رکھنا ۔
رفیق کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی ۔
رفیق: آپ بے فکر رہیں سر ۔ میں آپ کے بروسہ کو کبھی شرمندہ نہیں ہونے دوں گا۔
مہناز : پھر تو میں میٹھائی لے کر آتی ہوں ۔
ڈاکٹر شیزاد : اللہ دونوں کو ہمیشہ خوش رکھے۔
مہناز میٹھائی لے کر آگئی۔
مہناز: آپ تو جانتے ہیں بھائی صاحب ، رفیق کو تو جلدی ہی واپس جانا ہے ۔ یہ خود تو جائے گا ،غزل کو بھی لے جائے گا۔ میں چاہ رہی ہوں ۔آپ شادی کے لیے جلدی کوئی تاریخ دیں تا کہ میں بھی اپنے بہو بیٹے کو ،کچھ دن ہنستا بستا دیکھ سکوں۔
ڈاکٹر شیزاد : جی جی ،میں سمجھ رہا ہوں ۔ آپ لوگ اب جب آئیں گئے تو ہم کوئی تاریخ رکھ لیں گئے۔اسی ماہ کی۔
رفیق:آنٹی آپ کچھ لیں نا۔ آپ نے تو کچھ بھی نہیں لیا۔
عنابیہ: بیٹا لے رہی ہوں ۔ شکریہ
مہناز : مجھے تو یقین ہی نہیں آ رہا ابھی بھی، اللہ میرے بیٹے کو سلامت رکھے ۔ اس کی کچھ دنوں میں شادی ہو جائے گی۔ اللہ تیرا شکر ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
غزل اپنے لیپ ٹاپ پر ربیعہ کی فیس بک دیکھ رہی تھی ۔جس پر اس نے رفیق کی تصاویر بھی لگا رکھی تھی۔ رفیق اسے بہت سنجیدہ لگا تھا۔وہ اس کی تصویر کو غور سے دیکھ رہی تھی۔ اس کے ذہین میں بہت سی چیزیں ساتھ ساتھ چل رہی تھی۔ کیا کچھ دنوں میں میری شادی ہو جائے گی ۔ پھر چند ماہ بعد میں اسے کے ساتھ یہ ملک بھی چھوڑ دو ں گی۔ میری تو شاہد سات نسلوں میں کوئی شاہد جہاز میں نہ بیٹھا ہو ۔ اگر میرے گھر والے مجھے یہاں دیکھ لیں تو ۔ کاش میں اپنی امی کو مل سکتی ۔ کاش ،لیکن اگر مراد مر گیا ہوا تو ۔ نہیں میں کبھی واپس نہیں جاوں گی ۔ اس نے اپنی کہانیوں کا فولڈر کھولا ،وہاں اپنے گھر کا لکھا ہوا ،گھر کا پتہ فوراًً سے ڈیلیٹ کر دیا ۔ جو اس کے دل و دماغ سے کبھی ڈیلیٹ نہیں ہو سکتا تھا ۔ وہ اکثر سوچتی کہ وہ اپنے گھر جائے ۔بس ایک نظر دور سے دیکھ کر واپس آجائے ،اس کے وہ والدین کیسے ہیں۔ جنہوں نے اسے سولہ سال تک پالا پوسا ، کیا انہیں اس کی یاد تک نہیں آتی یا پھر وہ بھی اسے یاد کرتے ہیں ۔ اس کی بہنیں کیسی ہو ں گی۔ نیلم اور نائلہ۔ نیلم کے تو شاہد اب بچے بھی ہوں ۔ نائلہ کا کیا ہوا ہو گا۔ وہ اپنے ماضی کی بھول بھلیوں میں گم بیٹھی تھی کہ عنابیہ نے اس کےکمرے کے باہر دستک دی۔
عنابیہ: غزل بیٹا میں اندر آ جاوں ۔
غزل : جی ۔
عنابیہ کو کمرے میں آتے دیکھ کر اسے حیرت ہوئی تھی ۔ وہ کبھی اس کے کمرے میں نہیں آتی تھی۔ اگر انہیں کچھ کہنا ہوتا تو وہ سغرہ کو کہہ کر اسے اپنے کمرے میں بلا لیتی تھیں ۔ وہ ان کی بات اکثر کھڑے کھڑے سن کر ان کے کمرے سے باہر آ جاتی تھی۔
غزل : آنٹی آپ ، مجھے بلا لیتی ۔ غزل کھڑی ہو گئی۔
عنابیہ : بیٹھو بیٹا۔ہم لوگ رفیق کے گھر سے ہو کر آ رہے ہیں ۔ اچھا گھر لیا ہے ۔لوگ بھی اچھے ہیں ۔امید ہے کہ تمہاری زندگی اچھی گزرے گی وہاں ۔رفیق کو پتہ ہے کہ تم ہماری سگی اولاد نہیں ہو ۔ اس کی فیملی کو نہیں پتہ ۔ اس نے تمہارے ڈیڈی سے کہا ہے کہ بتانے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ ویسے بھی جب لڑکے کو پتہ ہے تو کیا فرق پڑتا ہے ۔ شادی تم نے لڑکے سے کرنی ہے ، فیملی سے تھوڑی ہی کرنی ہے۔
غزل : ڈیڈی نے بتایا ہے ۔ انہیں ؟
عنابیہ: نہیں ۔ تمہیں پتہ ہے نا ۔ وہ کچھ ماہ یہاں ڈرائیور رہا ہے ۔ تو وہ جانتا تھا کہ شایان اور آفان ہی ہمارے گھر میں تھے ۔
غزل : اس نے پوچھا نہیں ڈیڈی سے میرے اصل ماں باپ کے بارے میں؟
غزل نے کچھ دیر کی خاموشی کے بعد کہا تو عنابیہ نے اس کے قریب بستر پر بیٹھتے ہوئے کہا۔
عنابیہ: نہیں ۔ اس نے کہا ،میر ے لیے وہ آپ کی بیٹی ہی ہے اور آپ کی ہی بیٹی رہے گی۔سچ بھی تو یہی ہے نا۔ تم ہماری ہی بیٹی ہو ۔ ہو نا؟
غزل کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے ،عنابیہ نے پہلی بار اس کے سر پر اس طرح ہاتھ رکھا تھا جیسے اس نے سچ میں اسے اپنی بیٹی مان لیا ہو ۔ عنابیہ کی آنکھوں میں بھی آنسو آ گئے۔
عنابیہ: مجھے یقین نہیں آ رہا ،اِتنے سالوں تک میرے دل میں تمہارے لیے رنجش تھی ،مجھے لگتا تھا تم میرے اور شیزاد کے درمیان آ گئی ہو۔ مگر آج نہ جانے کیوں جب مجھے لگ رہا ہے ۔تم اس گھر سے چلی جاوگی ،تو مجھے کوئی خوشی نہیں ہو رہی ۔ مجھے تو ایسے لگ رہا ہے کہ ہمارے گھر سے خوشی جانے والی ہے۔کاش کہ میں تمہیں پہلے ہی اپنی بیٹی مان لیتی ۔ اللہ تمہیں زندگی کی ہر خوشی دے ۔بیٹا۔
عنابیہ کا چہر ہ بھی آنسووں سے بھیگ چکا تھا۔غزل کو اِتنے سالوں بعد اپنا اصل لیا جانے والا نام اپنے دل کی تہہ میں اُترتاہوا محسوس ہوا ۔ اسے لگا۔ اس کا دل اس کے جسم سے، جیسے باہر نکل جائے گا ۔وہ روتی ہوئی واش روم کی طرف بھاگی ۔ کافی دیر تک وہ واش روم کے کموڈ پر بیٹھی روتی رہی ،پھر کھڑے ہونے کے بعد اس نے آئینہ میں اپنا چہرہ دیکھا اس کی انکھیں سوجی ہوئی تھیں ۔ کچھ دیر خاموشی سے وہ اپنے چہرے کو دیکھتی رہی ،پھر اپنے آپ سے کہنے لگی۔ گٹر میں گرنے سے ہمارا باطن گندہ نہیں ہوتا ۔ روح تو ہمیشہ پاک ہی رہتی ہے ۔ ہمیشہ ۔ہمیشہ۔ ۔۔کوئی ہم سے کچھ نہیں چھین سکتا مگر فقط اِتنا ہی جتنا ہم خود دینا چاہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شفق کو اپنے امید سے ہونے کا پتہ چلا تو اس نے دانش کو خوشخبری سنائی ۔ وہ فوراً مٹھائی لینے چلا گیا۔ شفق نے اپنی امی کو فون کیا۔ وہ ان سے بات کر رہی تھی۔
شفق: امی آج صبح گئی تھی میں ڈاکٹر کے پاس ،تو میرے ٹیسٹ پازیٹو آئے ہیں ۔
مہناز: یہ تو بہت خوشی کی بات ہے بیٹا ۔ اللہ تمہاری خوشیوں کو کسی کی نظر نہ لگائے۔بہت بہت مبارک ہو۔
شفق : دانش تو کافی دیر ہو گئی ۔مٹھائی لینے گئے ہیں ۔ بہت خوش تھے وہ بھی۔
مہناز : خوش تو ہو گا ہی ۔ دنیا کی سب سے بڑی خوشی جو مل رہی ہے اُسے۔
رفیق نے امی کو فون پر بات کرتے سنا تو قریب آتے ہوئے پوچھا۔
رفیق: امی کس کو دنیا کی سب سے بڑی خوشی مل رہی ہے؟
مہناز: ماموں بننے والے ہو تم ۔
رفیق: اچھا
مسکراتے ہوئے۔
مہناز : دانش کی امی کو بتایا۔
شفق : جی امی ۔ انہوں نے ہی تو دانش کو مٹھائی لینے بھیج دیا ۔ ورنہ میں تو کہہ رہی تھی ۔ابھی کیا ضرورت ہے۔
مہناز : میری بات کروا دو ان سے ۔
شفق نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو دانش کھڑا مسکرا رہا تھا۔
شفق: جی امی میں کچھ دیر میں بات کرواتی ہوں آپ کی آنٹی سے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رفیق اپنے کمرے میں بیٹھا کتاب کا مطالعہ کر رہا تھا۔مہناز کمرے میں داخل ہوئی۔ اس نے رفیق کو اپنے ساتھ چلنے کے لیے کہا۔
رفیق: امی آپ تاریخ لینے جا رہی ہیں۔ میں وہاں جا کر کیا کروں گا ۔ آپ شفق ،ربیعہ ۔شفق کی ساس کو لے جائیں نا۔آنٹی کلثوم اچھی ہیں۔
مہناز : اچھا ہوتا تم بھی چلے جاتے ۔
رفیق : عجیب لگتا ہے مجھے ، میں نہیں جاوں گا۔آپ لوگ ہی جائیں ۔ بتا دیں اگر کچھ خریدنا ہے تو ۔
مہناز : ہاں چلو پہلے شاپنگ پر چلو میرے ساتھ ۔
رفیق: اچھا ،میں گاڑی کی چابی لے کر آتا ہوں ۔آپ پرس وغیرہ لے لیں۔
مہناز : اچھا ٹھیک ہے۔
رفیق نے دراز میں سے چابی اُٹھائی وہاں غزل کی تصویر بھی ساتھ ہی پڑی تھی۔ رفیق نے خود سے کہا۔ بہت جلد یہاں تصویر کی ضرورت نہیں رہے گی ۔وہ مسکراتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا۔
مہناز اور رفیق نےغزل کے لیے شاپنگ کی اور پھر کچھ اپنے لیے بھی۔ رفیق امی دانش اور شفق کے لیے بھی شاپنگ کریں ۔واپسی پر کافی دیر ہو چکی تھی ۔ انہوں نے تھوڑی دیر ہی شفق کے گھر گزاری اور انہیں ساتھ چلنے کے لیے دعوت بھی دی ۔شفق کی ساس نے ساتھ چلنے کے لیےرضامندی ظاہر کی۔ دوسرے دن دانش ، شفق کی ساس ، ربیعہ اور مہناز مٹھائی کے ٹوکرے اور کچھ تحفوں کے ساتھ ڈاکٹر شیزاد کے گھر آئے۔ مہناز نے غزل کو سونے کی انگوٹھی پہنائی۔
مہناز: میرے بیٹے کا ہمیشہ خیال رکھنا۔آج سے میں نے رفیق تمہیں دیا۔
غزل نے انگوٹھی اپنی انگلی میں دیکھتے ہوئے ان کی بات سنی اور نظریں نیچے جھکا لیں ۔
کلثوم:مہناز واقعی لڑکی تو تم نے بہت ہی خوبصورت دیکھی ہے اپنے بیٹے کے لیے ۔
مہناز: سچ تو یہ ہے ساری بات نصیب کی ہوتی ہے۔ یہ تقدیرتو آسمان پر پہلے ہی جڑی ہوتی ہے۔ ماں ، باپ تو بس وسیلہ ہی بنتے ہیں۔کیوں ڈاکٹر صاحب ٹھیک کہہ رہی ہوں نا۔
عنابیہ: بے شک ۔آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں ۔رفیق کی قسمت بہت اچھی ہے ۔
ڈاکٹر شیزاد : میری غزل کی بھی ۔رفیق بہت اچھا لڑکا ہے۔آپ نے اس کی بہت اچھی تربیت کی ہے۔
انہوں نے مہناز کی طرف دیکھا۔تو انہوں نے بھی فخر سے سر ہلایا۔
مہناز : آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں ۔ میرا بیٹا کڑوروں میں ایک ہے ۔آپ دیں نا کوئی دن۔ رفیق نے کہا تھا کہ آپ سے کہہ دوں ،جہیز وغیرہ کا سامان لینے کی کوئی ضرورت نہیں ۔ آپ کو پتہ ہے نا ۔ انہیں جلدی ہی یو۔کے جانا ہے ۔ اس لیے ۔
عنابیہ : ہاں مگر ہم بیڈ اور ڈرسنگ تو دیں گئے لازمی۔ باقی جیولری اور کپڑے وغیرہ بھی لینے ہیں ،تو کچھ وقت تو ہمیں چاہیے۔
مہناز: پھر بھی ۔میں چاہتی ہوں۔ اسی ماہ میں شادی ہو۔تاکہ دو ماہ میں بھی انہیں بستا دیکھوں ۔نظر کے سامنے۔
ڈاکٹر شیزاد : ٹھیک ہے ، آپ بتائیں، آپ کون سا دن دل میں لے کر آئیں ہیں ۔
مہناز : اگلے جمعہ کا آج بدھ ہے نا۔ تو ۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر شیزاد : آپ تو دس دن بھی نہیں دے رہی ہمیں تیاری کے ۔ اکلوتی بیٹی ہے میری ۔
مہناز : چلیں دس دن لے لیں۔
ڈاکٹر شیزاد : اگلے نہیں ،بلکہ اگلے سے اگلے جمعہ ہی کا دن رکھ لیں ۔
مہناز : چلیں ٹھیک ہے ۔ جیسے آپ کی مرضی ۔ منہ میٹھا کریں۔
ڈاکٹر شیزاد : چلیں دُعا کرتے ہیں ،بچوں کے اچھے مستقبل کی۔
سب نے دُعا کے لیے ہاتھ کھڑے کئے۔غزل نے ڈاکٹر شیزاد کی طرف دیکھا۔اس نے سوچا،یہ محرم و غیر محرم کچھ نہیں ہوتے ،اپنے اور غیربس الفاظ ہی ہیں ۔کبھی کبھی کچھ لوگ غیر ہو کر آپ کے وجود کا نہ قابل یقین حصہ بن جاتے ہیں۔ کبھی کبھی اپنے آپ کی تکلیف اور شرمندگی کی وجہ ہوتے ہیں ۔ جس سے دل کا رشتہ بن جائے وہی اپنا ۔سارے لوگ جا چکے تھے لاونچ خالی پڑھا تھا ۔ غزل اپنے کمرے کا پردہ ہٹا کر خالی لاونچ دیکھ رہی تھی۔ کبھی کبھی زندگی بھی خالی کمرے ہی کی طرح ہوتی ہے ۔ لوگ اس کو آ کر کیسے آباد کرتے ہیں ۔ وہ اپنی سوچوں میں گم پردہ پکڑ کر کھڑی تھی ۔ اس کے فون کی بیل بجی۔ اس نے پردہ کو چھوڑا اور فون کو اُٹھایا۔
ربیعہ: اسلام علیکم ۔بھابی جان۔
غزل: واعلیکم اسلام ۔ ربیعہ تم مجھے غزل ہی کہو،تو اچھا ہے۔
ربیعہ: کیوں ۔ مجھے تو بھابی کالفظ ذرا ذیادہ اچھا لگ رہا ہے۔
غزل : ہم دوست بھی تو ہیں۔
ربیعہ: بھائی تم سے بات کرنا چاہ رہے تھے ۔
غزل : کیوں ،کیسی بات ؟
رفیق کیا میں کیا بات کروں ،میں پانی پینے باہر آیا تھا۔
ربیعہ : رشتے کی مبارک ہی دے دیں ۔
رفیق: پاگل ہو تم کیا ۔ وہ کیا سوچے گی۔ مجھ سے چھچھو ری حرکتیں نہیں ہوتی ۔
وہ ربیعہ سے ہاتھ چھڑاتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا۔
فون پر رفیق کی آواز صاف سنائی دے رہی تھی۔ غزل ہنس رہی تھی۔ جب ربیعہ نے دوبارہ ہیلو کہا۔
ربیعہ: ہیلو۔ غزل،وہ بھائی کہہ رہے ہیں کہ بعد میں بات کریں گئے۔
غزل: آواز آرہی تھی تمہارے بھائی جو کہہ رہے تھےسب کچھ سن لیا میں نے۔ ویسے تمہیں کس نے کہا تھا دادی اماں بننے کو۔
ربیعہ : میں نے سوچا اب شادی میں اچھے خاصے دن ہیں تو ہیرو اور ہیروئن کی بات کروا دوں مگر تم لوگ تو بہت ہی آن رومینٹک ہو یار۔
غزل: ٹھیک ہے ۔تمہارے لیے کوئی رومانس کرنے والا ڈھونڈتے ہیں ۔
ربیعہ : نہیں نہیں ۔ مجھے ابھی گاڑی چلانا بھی سیکھنا ہے اور اپنا بی ایڈ بھی پورا کرنا ہے ۔ مجھے نہیں چاہیے ۔
غزل: اچھا سغرہ آئی ہے ۔مجھے بلانے کے لیے،ڈیڈی نے بلایا ہے ۔ اللہ حافظ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر شیزاد اور عنابیہ بیٹھے بات کر رہے تھے ، غزل ان کے کمرے میں گئی ۔
غزل : ڈیڈی آپ نے مجھے بلایا ہے۔
ڈاکٹر شیزاد : بیٹا تم میرے پاس یہاں آکر بیٹھو ،مجھے تم سے بات کرنی ہے۔

غزل: جی۔
ڈاکٹر شیزاد: بیٹا ،عنابیہ کہہ رہی ہے ،ہمیں تمہیں بہت تھوڑی سی جیولری دینی چاہیے ،جو تم پہنو ،باقی تمہیں کیش دے دیں ۔اگر تمہیں شادی کے بعد پاکستان ہی رہنا ہوتا تو بات اور تھی ۔ مجھے بھی عنابیہ کی بات ٹھیک لگ رہی ہے ۔ میں سوچ رہا ہو ں۔ تمہارے نام پچاس لاکھ روپے جمع کروا دوں ۔ تمہیں جو بھی ضرورت ہو ۔تم بعد میں لیتی رہنا۔ اپنی مرضی سے ۔ابھی صرف وہ شاپنگ کرو ۔ جو تم استعمال کرو۔ تمہارا کیا خیال ہے۔
غزل : ڈیڈی ،آپ نے پہلے ہی میرے لیے بہت کیا ہے ۔ مجھے آپ کی دعاوں کے علاوہ کچھ نہیں چاہیے۔
ڈاکٹر شیزاد: تم میری بیٹی ہو ۔ تمہیں تو میری ہر چیز سے حصہ ملے گا ۔میرا جو بھی ہے ،میرے تمام بچوں کا ہے۔
عنابیہ : ڈاکٹر شیزاد ٹھیک کہہ رہے ہیں بیٹا۔تمہیں جو مل رہا ہے ، اسے اپنی قسمت سمجھو۔ انسان تو بس وسیلہ ہوتے ہیں ۔دیتی تو اسی کی ذات ہے۔
غزل : آپ لوگ جو بہتر سمجھیں کریں ۔ میرا خیال ہے ۔ آپ لوگ ہر چیز مجھ سے بہترسمجھ سکتے ہیں ۔
ڈاکٹر شیزاد: تو ٹھیک ہے ۔ ہم پھر جیولری زیادہ نہیں لیتے ۔ تم چاہو گی تو بعد میں پیسہ ٹرانسفر کروا لینا ۔یو۔کےمیں ۔
غزل اپنے کمرے میں واپس آ چکی تھی۔کچھ دنوں میں اس کی شادی تھی۔اس نے دو طرح کی شادی شدہ زندگی دیکھی تھی ۔ اپنی ماں صبا کی اور عنابیہ کی اس نے دل ہی دل میں دُعا کی اے اللہ رفیق میرے باپ جیسا نہ ہو ۔ اس کے آئیڈیل ڈاکٹر شیزاد ہیں تو وہ بھی ڈاکٹر شیزاد جیسا ہی رہے ۔ پھر اس نے سوچا ۔کیا کسی کو اپنے بارے میں سب کچھ نہ بتانا دھوکا دینا ہوتا ہے۔ کیا میرے شوہر کو میرے بارے میں ہر بات معلوم ہونی چاہیے۔ اس نے فوراً ہی کچھ سوچے بغیر خود سے کہا ۔ میرا نہیں خیال ۔ ہم ہر بات تو اپنے آپ سے بھی دوسری دفعہ نہیں کرتے۔
سارا سارا دن شاپنگ میں گزر رہے تھے ۔ شایان اور آفان کو بھی عنابیہ نے کاموں میں شریک کر لیا تھا ۔
عنابیہ : کتنے نخرے ہیں ان درزیوں کے ،توبہ ہے۔
غزل : اس سے اچھا تھا ۔ہم لوگ سلائی ہوئے ،ہوئے کپڑے لے لیتے ۔
عنابیہ : چلو ،اب ایک دو مال دیکھ کر گھر چلتے ہیں ۔میں تو تھک گئی ہوں ۔
غزل : کل ،چلتے ہیں ،آج آپ آرام کر لیں ۔
عنابیہ :نہیں نہیں ۔ پانچ دن تو رہ گئے ہیں ۔ ابھی جائیں گئے ۔
غزل نے گاڑی پارک کی ،وہ جیسے ہی ڈالمن مال کی سیڑھیوں سے اوپر چڑھ رہی تھی تو رفیق سیڑھی سے اُتر رہا تھا۔اس نے ان کی خیرت دریافت کی۔ اس کے ہاتھ میں بھی کچھ سامان تھا۔وہ ان کے ساتھ واپس مال کے اندر آگیا ۔
رفیق: آنٹی چلیں کچھ کھا لیتے ہیں ۔
عنابیہ : ہاں بیٹا ۔ واقعی تھک تو کافی گئی ہوں ۔ وقت کے بھی جیسے پر ہیں ۔ اِتنی جلدی گزر رہا ہے ۔
رفیق: آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں ۔
رفیق: آپ کے لیے کون کون سے فلیور کی آئس کریم لاوں ۔
عنابیہ : سٹابری فلیور کی۔
غزل: کوئی بھی لے آئیں ۔
رفیق: کوئی بھی تو کوئی فلیور نہیں ہوتا ۔
غزل مسکرانے لگی۔
غزل : مینگو۔
رفیق چلا گیا۔ اس کے ہاتھ میں دو مینگو فلیور اور ایک اسٹابری فلیورتھا۔
عنابیہ: تم نے جان بوجھ کر فلیور ملایا ہے یا تمہیں مینگو ہی پسند ہے رفیق۔
رفیق: جان بوجھ کر ہی ملایا ہے ۔
عنابیہ اور غزل اس کا سچ سن کر ہنس دیں ۔ کچھ دیر میں آئس کریم ختم ہو چکی تھی ۔
رفیق: آنٹی مجھے اجاذت دیں ۔ مجھےکہیں جانا ہے۔
عنابیہ : ہاں ہاں تم جاو۔ اللہ حافظ
شادی کے دن دُلہن سے خوبصورت کوئی لڑکی نہیں ہو سکتی ۔ دُلہن اگر تم سی ہو تو پھر تو سب کی نظریں اُسی کو دیکھتی ہیں۔عنابیہ غزل کو بار بار بتا رہی تھی کہ وہ کس قدر خوبصورت لگ رہی ہے۔ اس کی کچھ دوست بھی شادی میں شریک تھیں۔ جو اس کی تعریف کرتے نہیں تھک رہیں تھیں۔شادی اس قدر دھوم دھام سے ہوئی تھی کہ شریک ہونے والے سب ہی بہت خوش دیکھائی دے رہے تھے۔
تمام رسمیں ہو چکی تھیں ۔ رات کےساڑھے بارہ ہو چکے تھے ،جب غزل کو عروسی گاڑی میں بیٹھا دیا گیا۔ ربیعہ غزل کے ساتھ بیٹھی تھی۔ لہنگا اس قدر بھاری تھا کہ وہ کبھی ایک سائیڈ سے تو کبھی دوسری سائیڈ سے سمیٹتی تھی۔گھر تک پہنچتے ہوئے دو بج رہے تھے ۔ شفق نے جلدی سے گلاس میں دود ھ ڈالا تاکہ دُلہے اور دلہن کو ایک ہی گلاس میں دودھ پلانے کی رسم پوری کی جا سکے ۔ رفیق اور غزل بھی تصاویر بنوا ، بنوا کر تھک چکے تھے ۔ ربیعہ کو مہناز نے کہا۔
مہناز: بس کرو ،باقی کی کل بنا لینا تم ۔اب انہیں سونے بھی دو ،اس سے پہلے کہ غزل خود ہی بول دے ۔
ربیعہ : اچھا امی ،بس یہ والی آخری ۔
شفق: یہ لو رفیق ،پہلے تم پیو۔
رفیق نے دودھ پی کر غزل کو دیا۔ تو اس نے کلاس کولیا مگر دودھ کو ہونٹوں تک لے جا کر چھوڑ دیا۔ شفق فوراً بولی۔ ش
شفق: یہ غلط ہے میں دیکھ رہی ہوں ۔ دودھ تو پینا ہو گا ۔ یہ گلاس کو منہ لگانے کی رسم نہیں ہے۔دودھ کو اندر لے جانے کی رسم ہے۔
غزل : وہ مجھ سے دودھ نہیں پینے ہوتا ۔ وومٹ ہو جاتی ہے۔
شفق: لیکن
رفیق : رہنے دو ۔ بہت دیر ہو رہی ہے ۔باقی کی رسمیں کل پر رکھ لیں۔
مہناز :ہاں ،یہ لڑکیاں بھی نا۔
سارے کمرے سے جا چکے تھے ۔ غزل سوچ رہی تھی کہ تکیہ کو قریب کر کے ٹیک لگا لے ۔ مگر جیسے ہی اس کی نظر رفیق پر پڑھی وہ کیا سوچ رہی تھی بھول گئی۔ رفیق اس کے پاس آکر بیٹھ گیا ۔ اس نے اپنی جیب سے انگوٹھی کی ڈبیہ نکالی ۔ اس میں سے ایک چھلا نکالا جو بلکل گول تھا ۔اس نے چھلا دیکھاتے ہوئے غزل سے کہا۔
رفیق :میں جب انگوٹھی لینے گیا تو طرح طرح کی انگوٹھیاں دیکھی ، لیکن مجھے یہ چھلا ہی پسند آیا۔ پتہ نہیں کیوں ۔ کچھ چیزیں اور انسان بس آپ کو اچھے لگتے ہیں ،کیوں اچھے لگتے ہیں ،اس بات کا جواب ملنا مشکل ہوتا ہے۔انگلی دو پہنا دوں ۔
غزل نے اپنا ہاتھ آگے کیا۔ اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ اس نے اپنا آپ کسی مرد کو لکھ کر دے دیا ہے ۔ جس کے عوض وہ اس کی حفاظت کرے گا۔
رفیق: میں جانتا ہوں بہت رات ہو چکی ہے ۔ تم بہت تھک چکی ہو گی ۔چلوتم کپڑے تبدیل کر لو وہ سامنے اٹیچ باتھ ہے ۔
غزل: جی
غزل اُٹھی اور واش روم میں چلی گئی ۔جب وہ واپس آئی تو رفیق ٹروزر اور ٹی شرٹ پہنے ہوئے بستر پر ٹیک لگا کر بیٹھا تھا۔ غزل نے گلابی رنگ کا نائیٹ سوٹ پہنا ہوا تھا۔ وہ دھیرے دھیرے چلتی ہوئی آئی اور بستر پر بیٹھ گئی۔
رفیق: نفل پڑھو گی تم ۔شکرانہ کے۔
غزل : نفل۔
وہ امی بتا رہی تھیں کہ شادی کے بعد شکرانہ کے نفل ضرور پڑھتے ہیں ۔ دو نفل ہی ہوتے ہیں ۔
غزل : وہ میں وضو کر کے آتی ہوں ۔
غزل دوبارہ واش روم چلی گئی ۔ جب وہ واپس آئی تو رفیق کمرے میں نہیں تھا۔ وہ دروازے کے پاس گئی ہی تھی کہ اس نے دروازہ کھولا، غزل فوراً سے پیچھے ہوئی۔
رفیق: کچھ چاہیے تھا تمہیں ۔
رفیق نے نرمی سے کہا۔
غزل: نہیں ،کچھ نہیں ۔
رفیق : مجھے تو نماز ملی ہی نہیں ،تو میں یہ چادر لے کر آ گیا۔
اس نے چادر بچھا دی۔ پھر شروع کرتے ہیں ۔ وہ خود دائیں طرف کھڑا ہو گیا۔ غزل نے نفل ادا کیے ۔ پھر اس نے اپنی گردن گما کر دیکھا ۔ رفیق دُعا مانگ رہا تھا۔ وہ ہاتھ پھیلا کر اسے دیکھ رہی تھی۔ اچانک رفیق نے انکھیں کھول لی تو غزل اپنی ہتھیلی دیکھنے لگی۔
رفیق اُُٹھ کر بستر پر چلا گیا۔ غزل کچھ لمحہ ہی نماز پر اور بیٹھی ، پھر اُٹھ کر اس نے چادر کو فولڈ کیا ۔رفیق بستر پر سیدھا لیٹا ہوا تھا ۔ اس کی انکھیں بند تھیں۔
غزل دھیرے دھیرے بستر کے قریب آئی ۔ وہ سوچ رہی تھی ،ہر کوئی اس کی خوبصورتی کی تعریف کرتا ہے ۔ رفیق نے تو ایک لفظ بھی نہیں کہا۔ وہ بستر پر لیٹا ہوا اسے دیکھ رہی تھی۔ کیسے نکاح نامہ کے چند ورق دواجنبی لوگوں کو عمر بھر کے لیے قریب کر دیتے ہیں ۔ قریب ۔ اس نے ایک نظر خود پرڈالی اور دوسری رفیق پر جو سیدھا لیٹا تھا۔
اس کی رنگت چھوٹے سے لال روشنی دینے والے بلب میں اور بھی نکھر رہی تھی ۔ غزل نے محسوس کیا کہ وہ کہیں سے بھی اس سے کم خوبصورت نہیں تھا۔ وہ اسے سر سے پاوں تک دیکھ رہی تھی ۔ اس کے پیر اسے کافی بڑھے بڑھے محسوس ہو رہے تھے ۔ اس کا قد بھی تو لمبا ہے ، اس نے اپنی سوچ کی تردید کی۔وہ اس کے پاوں ہی کی طرف کھڑی سوچ رہی تھی۔ کچھ سوچیں شادی ہوتے ہی بدل جاتی ہیں ۔ کچھ خواہشات نہ جانے کہاں سے دل میں سر اُٹھانے لگتی ہیں ۔ ان کے لیے بیج شاہد شادی ہوتی ہے۔ وہ سوچ رہی تھی ،رفیق کا چندلمحے کے لیے ہاتھ پکڑکر اسے چھلا پہنانا ،اُسےکس قدر اچھا لگ رہا تھا۔ اسے میرا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لینا کیسا لگا ہو گا۔ وہ یہ ہی سوچ رہی تھی کہ رفیق نے انکھیں کھول لیں ۔ وہ تھوڑی پریشان ہو گئی ۔اس کی نظریں رفیق کی نظروں سے ٹکرائی ،اس نے نظریں جھکا لیں ۔
رفیق: تم ابھی تک وہاں کھڑی ہو کر کیا کررہی ہو ۔ آو نا ۔سو جاو۔ صبح ولیمہ ہے۔
وہ جلدی سے آ کر بستر کی خالی سائیڈ پر بائیں طرف لیٹ گئی۔
رفیق: مجھے لگا تم تھک گئی ہو گی۔ لیکن لگتا ہے ، مجھے غلط لگ رہا تھا۔میری طرف منہ کرو۔
غزل نے رفیق کی طرف کروٹ لی۔رفیق نے غزل کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر ہکا سا دبایا اور پھر دھیرے سے کہا۔
رفیق: میں کوشش کرو گا۔ تمہیں اپنے فیصلے پر کبھی دُکھ نہ ہو۔

غزل نے اپنے دل کی دھڑکن کو تیز ہوتے ہوئے محسوس کیا۔ وہ سوچ رہی تھی ۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو کیسا بنایا ہے ۔ جیسے ہی رشتہ بنتا ہے ، اس سے متعلقہ جذبات خود بخود جنم لینے لگتے ہیں ۔
رفیق: غزل تمہیں کوئی بھی مسلہ یا پریشانی ہوتم اس پر خود سوچنے سے پہلے ہی مجھے بتا سکتی ہو ،ہم مل جل کر زندگی کی ہر مشکل کو حل کر سکتے ہیں ۔ تم مجھ پر مکمل اعتبار کر سکتی ہو۔تم بھی تو کچھ بولو۔ میں ہی بولتا جا رہا ہوں۔
غزل : میں سن رہی ہوں۔
رفیق: میں بھی تو سننا چاہتا ہوں ۔
رفیق نے اس کی انگلیوں کو دبا کر مسکراتے ہوئے کہا۔
غزل : خاموشی کی بھی تو زبان ہوتی ہے۔
رفیق: ہوتی ہے ۔ مگر کچھ جذبے اگر بیان نہ کیے جائیں تو چاہنے والوں میں قربت نہیں رہتی ۔ زبان سے اظہار بہت ضروری چیز ہے ،اگر ایسا نہیں ہوتاتوشاہد ہم خاموش ہی بیٹھے رہتے ۔محبت بھی اقرار کی محتاج ہوتی ہے ۔ ہوتی ہے نا؟
غزل : پتہ نہیں ۔
رفیق : مجھے پتہ ہے۔
وہ مسکرا رہا تھا۔لمحات اپنےحصے کا وقت سمیٹ چکے تھے ۔ غزل سوتے ہوئے رفیق کے چہرے کو دیکھ رہی تھی۔اس کا رنگ گندمی تھا۔ وہ اسے اپنا آپ سونپ چکی تھی مگر اسےعجیب سا احساس جرم محسوس ہو رہا تھا۔ وہ سوچ رہی تھی کہ رفیق کو اس کے ماضی کے بارے میں سب پتہ ہونا چاہیے تھا۔کاش وہ ڈاکٹر شیزاد کو کہہ دیتی کہ وہ رفیق کو سب کچھ بتا دیں ۔اس نے ایسا کیوں نہیں کیا۔ کاش۔ کاش کرتا اس کا دماغ کب گہری نیند میں چلا گیا ۔اسے کچھ خبر نہ ہوئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر شیزاد : ایک عجیب سا سکون محسوس کر رہا ہوں ۔عنابیہ،بہت عجیب سا۔ کچھ چیزوں کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔
عنابیہ: مجھے لگتا تھا ۔جب غزل اس گھر سے جائے گی تو سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا ۔ آپ میں اور مجھ میں جو دوری ہے ، اسی کی وجہ سے ہے ۔ لیکن اب جب وہ یہاں نہیں ہے ،گھر بہت خالی خالی سا لگ رہا ہے ۔اگرچہ وہ ذیادہ اپنے کمرے میں ہی رہتی تھی۔
ڈاکٹر شیزاد : ہزار بیٹوں سے ذیادہ خوبصورت احساس دیتی ہے بیٹی ۔ جس وقت میں نے اسے غزل کا نام دیا تھا ،تب ہی اسے اپنا مان لیا تھا۔ اس نے بھی مجھے کبھی کسی معاملے میں مایوس نہیں کیا۔ اللہ خوش رکھے اسے ۔ہمیشہ۔
عنابیہ: یہ بہت اچھا ہے کہ رفیق سب کچھ جانتا ہے اس کے بارے میں ۔ہر مرد آپ کی طرح اعلیٰ ظرف نہیں ہو سکتا۔آپ کو بتاوں میں نے جو آخری پروگرام کیا تھا بے نقاب کے لیے ۔ اس میں سگے بھائی اور شوہر نے مل کر ،چھریاں مار مارکر ایک عورت کو جان سے مار ڈالا ۔ اس کے دو چھوٹے بچے تھے ۔ صرف اس بات پرکہ ۔ اس کی ساس کو شک ہوا تھا کہ وہ کسی آدمی سے چھپ کر باتیں کرتی ہے ۔ جبکہ پولیس نے تحقیق کی تو پتہ چلا کہ فون کرنے والا چودہ پندرہ سال کا لڑکا تھا ۔ محض رونگ نمبر سے لطف اندوز ہونے کے لیے مقتولہ کو تنگ کر رہا تھا۔ جبکہ عورت نے ایک بار بھی اسے فون نہیں کیا تھا ۔ بھائی کو جب پتہ چلا کہ اس نے بے گناہ بہن کی جان لی ہے ،تو اس نےجیل میں خود کشی کر لی ۔شوہر اور ساس شرمندہ تھے۔مقتولہ کی ماں غم سے نڈھال تھی ،جس کا جوان بیٹا اور بیٹی محض شک کی بھینٹ چڑھ گئے تھے۔
جب میں نے اس کی ساس سے سوال کیا ،کہ آپ کو افسوس نہیں ہے کہ آپ نے دو بچوں سے ان کی ماں چھین لی اور ایک ماں سے اس کے دو بچے چھین لیے۔تو بولی مجھے کیا پتہ تھا ، مجھے تو لگا اس کا چکر ہے ۔ غلطی میری نہیں فون کی ہے ۔ میں نے کہا ہے اپنے بیٹے کو جب دوسری بیوی کروتو اسے موبائل نہیں دینا۔ میرا تو فرض تھا اپنے بیٹے کو جو دیکھوں وہ بتاوں ۔
ڈاکٹر شیزاد : ٹھیک کہہ رہی ہو ۔ میں نے بھی رفیق کو اسی لیے غزل کے حق میں بہتر جانا ۔ اچھا ہوتا ہے۔ اگر رشتوں میں جھوٹ کی آمیزش نہ ہو ۔ اسی لیے میں نے فیضان کو انکار کر دیا ۔ اگرچہ اس کی ماں سب کچھ جانتی تھی مگر وہ کچھ نہیں جانتا تھا ۔غزل کے ماضی کے بارے میں ۔ اب مجھے غزل کی کوئی فکر نہیں ۔ میں پرسکون ہوں۔
عنابیہ: ڈاکٹر شہر بانو جیسے لوگوں ہی کی وجہ سے یہ معاشرہ زندہ ہے۔مجھے تو ان کی سوچ بہت بھلی لگی۔
ڈاکٹرشیزاد: ٹھیک کہہ رہی ہو۔ واقعی بہت اچھی ہیں وہ ۔
عنابیہ : اب تو سارے فنگشن بھی ہو گئے ۔ آپ نے تو ہوسپٹل جانا بہت کم کیا ہوا ہے ۔ سب دوسروں کے ہاتھ دینا بھی ٹھیک نہیں ہے۔
ڈاکٹر شیزاد: کیا کروں ،طبعیت اجاذت ہی نہیں دیتی ۔ ایسے لگتا ہے بوڑھا ہو گیا ہوں ۔
عنابیہ: خیر وہ تو آپ نہیں لگتے ۔
ڈاکٹر شیزاد: پتہ نہیں جسم تو میرا مجھ سے یہی کہتا ہے۔ مجھے لگتا ہے ،میں نے اپنے جسم کو نظر انداز کئے رکھا ہے ۔ اسی لیے مجھ سے ناراض ہے ۔ میں صبح چند قدم چلنے کو ورزش سمجھ کر پورا دن اپنے جسم کو بھول جاتا تھا۔ اب لگتا ہے،غلط کیا میں نے۔
عنابیہ : اب تو کچھ نہیں ہو سکتا ۔ اس معاملے میں ۔ کچھ چیزیں وقت پر ہی کی جاتی ہیں ،پھر کریں نہ کریں کوئی فائدہ نہیں ۔ مجھے بھی چند معاملات پر افسوس ہوتا ہے۔
ڈاکٹر شیزاد : سب کی لائف ایسی ہی ہے ،عنابیہ ،ہر کسی کی زندگی میں کچھ نہ کچھ کمی رہ ہی جاتی ہے۔ جب انسان پیچھے مڑ کر دیکھتا ہے ،تو کچھ نہ کچھ ایسا ضرور ہوتا ہے ،جس کو دیکھ کر افسوس ہوتا ہے ۔مگر کچھ نہ کچھ ایسا ضرور ہونا چاہیے ،جسے دیکھ کر فخر ہو کہ کچھ کمیاں ہیں مگر میں نے جو کیا وہ کسی بھی کمی سے بڑھ کر اچیومینٹ ہے۔ غزل کے معاملے میں مجھے خوشی ہوتی ہے ۔ مجھے لگتا ہے ،میں نے کچھ اچھا کیا ہے۔میری زندگی بے کار نہیں گئی۔
عنابیہ :ہماری کامیابیاں واقعی ہمارے افسوس کے لمحات کو ہم سے دور کر دیتی ہیں۔ہمیں اپنی زندگی میں کچھ نہ کچھ ایسا ضرور کرنا چاہیے ۔جو ہمیں سکون دے ۔
ڈاکٹر شیزاد : جب تم نے غزل کو اور تمہیں چننے کا کہا تھا ۔ اگر تم سچ میں مجھے چھوڑ دیتی تو زندگی بہت مشکل ہو جاتی ،شاہد ایسی نہ ہوتی ۔ میرا ساتھ دینے کا شکریہ۔
عنابیہ: آپ نے بھی تو مجھے میری کسی خواہش کو پورا کرنے سے نہیں روکا ، میں آپ کو چھوڑ کر کیسے چلی جاتی ۔ ہاں مگر میں آپ سے ناراض بہت تھی اس وقت ۔
ڈاکٹر شیزاد : ناراض بھی تو انسان کسی اپنے سے ہی ہوتا ہے نا۔ چاے پلاو اچھی سی اپنے ہاتھ کی۔
عنابیہ : لاتی ہوں ۔
عنابیہ: اب آپ چینی کم کریں ،بہت موٹے ہو رہے ہیں ۔
ڈاکٹر شیزاد ابھی ڈال کر لانا کل سے کم کر دوں گا۔
سغرہ : باجی کیا کر رہی ہیں ۔میں بنا دوں چائے؟
عنابیہ : نہیں ،میں خود بناوں گی ۔ تم رہنے دو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رفیق : جلدی کرو ،بہت دیر ہو گئی ہے ۔ انہوں نے نو بجے کا کہا تھا ، ابھی ساڑھے نو ہو رہے ہیں ۔ وہاں تک پہنچتے ہوئے سوا دس سے اوپر ہو جائیں گئے۔
غزل : بس چلیں۔
غزل نے دوپٹہ ٹھیک کرنے کی کوشش کی۔
رفیق: تم کب سے دوپٹہ کو اتنی اہمیت دینے لگی ہو۔
غزل : وہ آنٹی نے کہا تھا۔ سر پر دوپٹہ لینے کے بعد میں زیادہ اچھی لگتی ہوں تو۔
رفیق نے مسکراتے ہوئے کہا۔ اچھاتو یہ بات ہے۔
رفیق: امی، اچھا ہم چلتے ہیں ، بہت دیر ہو گئی ،سر کا دو دفعہ فون آ چکا ہے۔
مہنا ز: رفیق رات کو وہاں نہیں رکنا بیٹا ۔ وہ کل شفق کے گھر بھی جانا ہے ۔
رفیق: جی امی ،ہم رات کو واپس آ جائیں گئے۔
غزل: چلتی ہوئی گاڑی سے باہر دیکھ رہی تھی۔
رفیق: دیکھ لو اچھی طرح ۔ پتہ نہیں یو ۔کے جانے کے بعد ہم کتنے عرصہ بعد واپس لوٹتے ہیں۔
غزل :ویسے مجھے پاکستان ذیادہ پسند ہے۔
رفیق: مجھے بھی۔ لیکن کبھی کبھی صرف پسند کافی نہیں ہوتی۔ ہمیں اپنے مستقبل کو دیکھنا ہوتا ہے ، کہاں ہم ذیادہ حاصل کر سکتے ہیں ۔ میں نہیں چاہتا جو محرومیاں میں نے اپنی لائف میں دیکھی ہیں ،میرے بچے دیکھیں ۔
غزل: یہ تو ہے ۔ انسان کبھی نہیں چاہتا جو تکالیف اس نے دیکھی ،اس کے بچے بھی دیکھیں۔
سگنل ریڈ ہو گیا۔ ساری گاڑیاں ایک کے بعد ایک رُک رہی تھیں ایک بیکاری نے غزل کی سائیڈ پر کھڑے ہو کر گاڑی کا دروازہ بجایا ۔ غزل نے بیکاری کو دیکھا تو وہ سر سے پاوں تک لرز گئی، وہ خوشی کا چچا تھا ۔ غزل نے فوراً رفیق کو دیکھا۔ رفیق نے گاڑی کی چھوٹی سی دراز سے پیسے نکال کر غزل کو دیے ۔یہ اسے دے دو۔ غزل نے رفیق کی طرف پیسے لینے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو، اس کا ہاتھ کانپ رہا تھا۔ اس نے فوراً اپنا ہاتھ اپنے پرس کی طرف کیا اور دھیرے سے کہا۔مجھے نہیں لگتا ایسے بیکاریوں کو کچھ دینا چاہیے۔ اس نے اپنی انکھوں کو بند کیا اور دل کو تسلی دینے کی ناکام کو شش کی جو بہت ذور سے دھڑک رہا تھا ۔ اسے ایک انجانا سا خوف محسوس ہوا ۔ رفیق کے ہاتھ میں پیسے دیکھ کر بیکاری رفیق کی سائیڈ پر چلا گیا۔ رفیق نے گاڑی کا شیشہ کھولا اور اسے کچھ پیسے دے دیئے۔
رفیق: میں جانتا ہوں ،ایسے لوگوں کو پیسے نہیں دینے چاہیں ،لیکن کبھی کبھی بہت دُکھ ہوتا ہے ۔ نہ جانے کیوں لوگ اپنی زندگی برباد کر لیتے ہیں ۔
غزل : اپنی زندگی ۔ایسے لوگ پتہ نہیں کتنےلوگوں کی زندگی برباد کرتے ہیں ۔ میرا بس چلے تو ایسے لوگوں کو جان سے مار ڈالوں ۔
رفیق : کیا۔
وہ سنجیدہ تھی ، جبکہ رفیق مسکرا رہا تھا۔ غزل نے دوسری دفعہ اس بیکاری کی طرف نہیں دیکھا وہ سڑک کی دوسری طرف دیکھ رہی تھی۔ اس نے اِتنے سالوں میں کبھی اپنی پرانی زندگی سے متعلقہ لوگوں کو حقیقت میں نہیں دیکھا تھا ۔ شادی کے بعد اچانک آج غزل کا ،خوشی کے اس چچا کو دیکھنا ،جس نے نشہ کی حالت میں اسے اپنی بھتیجی ماننے سے انکار کر دیا تھا ، اسے بہت عجیب لگا تھا ۔ وہ دل میں سوچ رہی تھی کہ کاش وہ اسے کبھی نہ دیکھتی ۔ اسے اپنا ماضی آئینہ کی طرف صاف نظر آ رہا تھا۔ اس کی انکھوں میں آنسو بھر آئے۔
رفیق: کیا ہوا ،تم رو رہی ہو؟ مجھے نہیں پتہ تھا ۔میر اپیسے دینا تمہیں اِتنا بُرا لگے گا۔
غزل : نہیں تو ، میری انکھ میں کچھ پڑ گیا ہے ۔
غزل نے ٹشو سے آنسو کو چھپا نے کی کوشش کی ۔
اس کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں تھا۔کچھ دیر میں وہ ڈاکٹر شیزاد کے گھر پر تھے۔ ڈاکٹر شیزاد ، اب تم روز ہماری بیٹی کو ہم سے ملوانے لایا کرو ،اب ایک ماہ ہی تو سمجھو رہتا ہے تم لوگوں کا۔
رفیق : سر آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں ۔ چلیں روز تو نہیں ،ہر دو دن بعد میں لے کر آ جایا کروں گا۔ آپ کی بیٹی کو ۔
ڈاکٹر شیزاد: ہاں بھئی اب تو تمہاری ہے ۔ جو تم کہو۔
ڈاکٹر شیزاد نے غزل کی خاموشی کو محسوس کیا۔
ڈاکٹر شیزاد : آج تم لوگ یہاں ہی رُک جاو، بہت دیر ہو گئی ہے ،ویسے بھی۔
رفیق : سر وہ امی نے کہا تھا ۔ کل شفق کے ہاں جانا ہے ،تو آج تو نہیں رُک سکتے ۔ہاں جب اگلی دفعہ آئیں گئے تو ضرور رکیں گئے۔
ڈاکٹر شیزاد:غزل تم بھی کچھ بولو ، رفیق کو کہتی کیوں نہیں۔ مجھے سر نہیں کہا کرئے، اب میں اس کا بھی ڈیڈی ہوں ۔
غزل : جی۔
ڈاکٹر شیزاد : کیا جی۔
غزل نے ان کی آپس میں بات جیت کو سنا ہی نہیں تھا ۔ وہ تو اپنے ماضی میں غرق بیٹھی تھی ۔ سب لوگوں نے کیا باتیں کیں۔ اسے کچھ خبر نہ تھی۔
ڈاکٹر شیزاد: غزل بیٹا ۔ تمہاری طبعیت تو ٹھیک ہے۔
رفیق: گھر سے نکلتے وقت تو ٹھیک تھی ،پھر پتہ نہیں کیا ہوا ۔ لگتا ہے اس کا موڈ خراب ہے۔
غزل: نہیں وہ میرے سر میں کچھ درد ہو رہی ہے ۔ میں کچھ دیر کمرے میں سے ہو کر آتی ہوں ۔
وہ بغیر کسی کی طرف دیکھے کمرے کی طرف چلی گئی۔ کمرے میں جا کر وہ پاگلوں کی طرح رو رہی تھی۔ وہ کیوں رو رہی تھی ،وہ خود بھی نہیں جانتی تھی ۔ شاہد اس کا زخم کسی نے بُرے طریقے سے کھرچ کر رکھ دیا تھا۔ اسے اپنی امی صبا یاد آ رہی تھی ۔ اسے اپنا دل ڈوبتا ہوا محسوس ہوا۔ عنابیہ کمرے میں آئی۔ اس نے غزل کو روتے ہوئے دیکھا تو حیران ہوئی۔
عنابیہ : غزل کیا ہوا۔ سب ٹھیک تو ہے ،رفیق نے کچھ کہا۔ کچھ ہوا ۔ تم خوش تو ہو نا اپنی سسرال میں ۔ بیٹا کچھ تو بولو۔
غزل : نہیں کچھ نہیں ۔
وہ بھاگتی ہوئی واش روم کی طرف گئی ۔ اسے وومٹ ہو رہی تھی۔
عنابیہ: اچھا۔ تمہیں متلی ہو رہی تھی۔ اس لیے ۔ تم رو کیوں رہی ہو۔
غزل نے خود کو سنبھالنے کی کوشش کی ۔
عنابیہ: کیا تم پریگنیٹ ہو گئی ہو ۔
غزل : جی ، نہیں تو۔
عنابیہ: لگ تو ایسا ہی رہا ہے ۔
غزل : جی ،کیوں ۔میرا مطلب ہے ۔ آپ کو ایسا کیوں لگا۔
عنابیہ : تم چیک کروا لینا کل ڈاکٹر سے یا خود چیک کر لینا ، مجھے تو ایسا ہی لگ رہا ہے ۔اس طرح دل کا تنگ پڑنا اور متلی سے الٹی ہو جانا ،علامات تو ساری ماں بننے کی ہی ہیں ۔
غزل نے حیرت سے عنابیہ کی طرف دیکھا۔ وہ سچ کہہ رہی تھی ۔ اس کی صبح سے عجیب کیفیت تھی۔ مگر اس نے اس طرح سے نہیں سوچا تھا۔
غزل : میں چیک کروالوں گی کل ۔
اس نے کھوئے ہوئے انداز میں کہا۔عنابیہ نے اس کے قریب ہوتے ہوئے اس کا ہاتھ پکڑا ۔
عنابیہ: بیٹا ۔ تمہیں کوئی بھی مسلہ ہو ،میں اور ڈاکٹر شیزاد ہیں تمہارے ساتھ ۔ میں جانتی ہوں ۔ میرے ساتھ تمہارا کبھی ماں ، بیٹی والا رشتہ نہیں رہا ۔ مگر پھر بھی تم اپنا کوئی بھی مسلہ بتا سکتی ہو۔ ہم ہیں تمہارے لیے۔
غزل: جی
سغرہ : باجی ،وہ باہر بلا رہے ہیں ، آپ دونوں کو۔
عنابیہ : تم جاو ، ہم آتے ہیں ۔ دیکھو غزل کل چیک کروا کے فون کر کے بتانا کیا نیوز ہے ، اچھا ۔ڈاکٹر شیزاد نانا بن رہے ہیں یا نہیں ۔
وہ کہتے ہوئے مسکرا رہی تھی۔ غزل نے مسکرانے کی ناکام کوشش کی ۔ باہر آنے پر رفیق نے غزل کی طر ف دیکھا۔
رفیق: ہم تو چائے پی چکے ہیں ۔ تم بھی پی لو تو پھر چلیں ۔
غزل : میرا دل عجیب ہو رہا ہے ۔ مجھے نہیں چاہیے چائے۔
عنابیہ: ہاں رہنے دو ۔ غزل کو کل ضرور ڈاکٹر کو چیک کروا لینا۔ شاہد تم لوگوں کے لیے گڈ نیوز ہو۔
رفیق: گڈ نیوز ۔مطلب
عنابیہ: وہ تمہیں غزل ہی بتائے گی۔
غزل نے عنابیہ اور پھر رفیق کی طرف دیکھا۔ڈاکٹر شیزاد بھی مسکرائے ۔
غزل : اچھا پھر چلیں ، چلتے ہیں ۔
غزل کو مذید گھبراہٹ محسوس ہو رہی تھی۔ وہ سوچ رہی تھی سچ میں کیا وہ ،
رفیق: یہ آنٹی کس گڈ نیوز کی بات کر رہی تھیں ۔
غزل : انہیں لگا کہ ۔۔۔۔۔۔۔
رفیق: کہ ،کیا؟
غزل: انہیں لگا کہ ہم وہ ، میں ماں۔
رفیق : تم مطلب ،او مائی گارڈ ،اگر ایسا ہوا تو بہت مسلہ ہو جائے گا غزل۔
غزل: کیوں ؟
رفیق: تمہارا ویزالگوانے کا مسلہ ہو جائے گا۔ یہ نہ ہو کہ وہ لوگ ویزا نہ دیں ۔ میڈیکل ہوگا تو۔
غزل : کانفرم نہیں ہے ۔ اگر ایسا ہوا تو کیا ہو گا۔
رفیق: کچھ نہیں ہو گا۔ جو تم چاہو گی ،وہ ہی ہو گا۔
غزل : میں کیا چاہوں گئی؟
رفیق : ہمارے پاس دو آپشن ہوں گئے ۔ پہلا ہم اس بچے کو جانے دیں ۔وہاں جا کر اور بچے ہو جائیں گئے نا۔ دوسرا اگر تم نہیں چاہو گی تو تمہیں یہاں رہ کر میرا انتظار کرنا ہو گا۔پھر ممکن ہے کچھ سال لگ جائیں لیکن میں تمہیں وہاں بلا لوں گا۔ٹھیک ہے۔
غزل :اگر کانفرم ہوتا ہے تو میں انتظار کر لوں گی ، میں یہاں ہی رہ جاوں گی ۔ ربیعہ اور امی کے ساتھ۔
رفیق: ہاں ، اللہ کرئے ایسا نہ ہو ۔ میں تمہیں ساتھ ہی لے کر جانا چاہتا ہوں ۔
رفیق نے افسردگی سے کہا۔ غزل نے تھکی ہوئی نظروں سے رفیق کی طرف دیکھا۔
رات کے ایک بجے جب وہ لفٹ کے پاس پہنچے تو لفٹ بند تھی۔ وہ سیڑھیوں سے چڑھ کر اپنے فلیٹ تک پہنچے تھے ۔
رفیق : شکر ہے تھرڈ فلور پر گھر لیا تھا۔ میرے خدا ۔ لگتا ہے میں گاڑی چلا چلا کر سست ہو گیا ہوں۔
غزل خاموشی سے ساتھ چل رہی تھی۔ اس کے ماضی اور حال میں عجیب جنگ جاری تھی۔اسے اپنی ماں اس شدت سے یاد آ رہی تھی کہ پہلے کبھی نہیں آئی تھی ۔ اسے محسوس ہو رہا تھا کہ صبا اس کےبالوں میں انگلیاں پھیر رہی ہے ۔ اپنی ماں کا مسکرانا ، رونا ۔اسے سب یاد آرہا تھا۔ رات کے کون سے پہر اس کی انکھ لگ گئی ۔ اسے کچھ پتہ نہ چلا۔
دوسرے دن وہ ڈاکٹر کے پاس گئی ۔ اس کے ٹیسٹ پازیٹو تھے۔رفیق نے اسے کھویا کھویا دیکھا ۔
رفیق: غزل تم خوش ہو ؟
غزل : ہاں ،کیوں؟
رفیق: بس ایسے ہی ، تمہارے چہرے پر کوئی خوشی نہیں ہے ۔
غزل : خوشی۔
غزل کا جی چاہ رہا تھا کہ وہ سب سے پہلے اپنی ماں کو یہ خبر سنائے مگر وہ وہاں نہیں جا سکتی تھی۔
رفیق: کیا بات ہے؟ بتاونا؟
غزل: کیا بیوی کی ہر بات شوہر کو پتہ ہونی چاہیے۔
رفیق: لازمی نہیں ہے ہر بات پتہ ہو ۔ مگر چندہ باتیں اہم ہوتی ہیں۔
غزل : اگر کوئی عورت اپنا ماضی اپنے شوہر کو نہ بتائے تو یہ بے وفائی ہو گی ۔ جبکہ اس کا تعلق اس کے شوہر یا خود اس سے بھی نہ رہا ہو۔
رفیق: کچھ باتوں کو بھول جانا ہی اچھا ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر جب میں یو،کے میں گیا تو شروع کے ماہ میں میں نے وہاں الیکٹریشن کا کام بھی کیا ۔ ایک دفعہ کام کے دوران میں کافی اونچائی سے گِر گیا ۔ میرے اس انگوٹھے کی ہڈی ٹوٹ گئی ۔ بہت تکلیف میں رہا ۔ لیکن میں نے یہ بات اب تک کسی کو نہیں بتائی۔ اس وقت اس لیے کہ امی کو تکلیف ہو گی ۔ اب بتانے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔
غزل : سب سے ذیادہ ہمارا غم اور ہماری خوشی ہماری ماں ہی محسوس کرتی ہے۔ ہے ناں۔
رفیق: ہاں ،اس میں تو کوئی شک نہیں۔
غزل: ہم اس کے لیے کیا کرتے ہیں۔
رفیق : ہم انہیں خوشی دے سکتے ہیں ۔اپنے ہونے کا احساس دے کر ۔ ایک ماں فقط اپنے بچے کے وجود کو ہی سب سے ذیادہ چاہتی ہے ۔ تمہیں یہ احساس جلد ہونے والا ہے۔ کسی حد تک تو ہو بھی گیاہے ۔ اسی لیے تو تم نے ایک لمحہ بھی سوچے بغیر میرے ساتھ جانے کی بجائے اپنے بچے کو اہمیت دی۔ مجھے یقین تھا کہ تم ایسا ہی کرو گی۔ اگر تم میرے ساتھ جانے کا فیصلہ کرتی تو میرے لیے بھی مشکل ہوتا اپنے پہلے بچے کوکھو دینا۔
غزل : آپ کو لڑکا چاہیے یا لڑکی۔
رفیق: اختیار تھوڑا ہی ہے ۔
غزل : پھر بھی ؟
رفیق: مجھے تو بیٹی چاہیے ۔پر ہونی تمہاری طرح چاہیے ،نیلی نیلی آنکھوں والی۔
غزل نے مسکرانے کی کوشش کی۔ دل ہی دل میں اس نے سوچا کاش کہ ہر آدمی رفیق اور ڈاکٹر شیزاد کی طرح اپنی بیٹی کو بھی بیٹے جیسی اہمیت دیتا ہو ۔ مگر ایسا ہوتا نہیں ۔ اگر ایسا ہوتا تو وہ شاہد یہاں نہ ہوتی ۔
اسے جب سے اپنے وجود میں ایک جان کے ہونے کا احساس ہوا تھا ۔ وہ ہر وقت اپنی سگی ماں کو یاد کرتی اور بے چین رہتی ۔ چار دن ہی گزرے تھے کہ اس نے اپنی ماں سے ملنے کے لیے منصوبہ بندی شروع کی ۔ سب سے پہلے اس نے کانٹیک لینس لیے ۔تا کہ اپنی انکھوں کا رنگ بدل لے ۔ پھر ایک عبائیہ کی دوکان سے اس نے عبائیہ لیا ۔ دوکان دار نے بہت مہذب لہجے میں کہا۔ میڈم آپ کالے دستانے لیں گئی ۔ آج کل بہت لیے جاتے ہیں ۔ غزل نے دوکان دار کے کہنے پر دستانے بھی لے لیے۔وہ شاپنگ کر کے سیدھی ڈاکٹر شیزاد کے گھر گئی۔وہاں سے اس نے اپنا ایک بیگ لیا۔ ڈاکٹر شیزاد اور عنابیہ گھر پر موجود نہ تھے ۔ اس نے برقع پہنا اور پرس کے ساتھ ایک بیگ تیار کیا جس میں اس نے سرف کے کچھ پیکٹ ڈالے ۔خوشی کے گھر اکثر سرف بیچنے والی عورتیں آتی تھی تو اسے حیرت ہوتی تھی ۔ ان کے باپ، بھائی نہیں ہوتے امی۔ خوشی ،صبا سے حیرت سے پوچھتی تو صبا اسے جواب دیتی ۔ بچہ ہر طرح کے لوگ ہوتے ہیں ۔
غزل نے گاڑی کو اپنے اس گھر کی طرف چلانا شروع کر دیا جہاں خوشی رہتی تھی۔ اسے اپنے گھر کا پتہ اور گھر صاف یاد تھے ۔ اس کے ذہین میں نیلم ،نائلہ اور اپنی ماں سے متعلقہ باتیں چل رہی تھی ۔ کہ وہ گھر کے قریب پہنچ چکی تھی ۔ اس نے اپنے سکول کو دیکھا اور گاڑی کو سڑک کی دوسری طرف پارک کیا ۔ اپنا سرف والا تھیلا اس نے کندھے پر ڈالا اور پرس کو ہاتھ میں پکڑا ،دھیرے دھیرے اپنے گھر کی طرف چلنے لگی۔ وہ راستوں کو دیکھتی جاتی ،جن میں کچھ ذیادہ تبدیلی نہ آئی تھی۔ اس نے وہ میدان دیکھا جہاں اینٹوں کے پیچھے چھپ کر وہ بیٹھی تھی۔اب وہاں کوئی میدان نہ تھا ۔ ڈبل سٹوری مکان بن چکے تھے ۔ اس نے دروازہ بجایا۔ایک بھاری بھرکم عورت باہر آئی ۔
غزل : اسلام علیکم ، کیاآپ سرف لینا چاہیں گئ؟ یہ ہماری کمپنی کا سرف ہے۔
عورت: نہیں ،اس نے کہہ کر دھڑام سے دروازہ بندکر دیا۔
غزل پھر چلتے ہوئے فاخرہ آنٹی کے گھر کے پاس کھڑی تھی۔ اس کی دروازہ بجانے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی ۔ وہ کچھ دیر وہاں پر کھڑی رہی ،اچا نک اس نے مراد کو گلی میں آتے ہوئے دیکھا۔ اس نے اپنا چہرہ دوسری طرف گما لیا ۔ اگرچہ اس نے برقع پہن رکھا تھا ۔لینس لگا رکھے تھے ۔پھر بھی اسے گھبراہٹ محسوس ہوئی ۔ مراد اس کے بلکل پاس کھڑا دروازہ بجا رہا تھا۔ غزل نے متمنی نظروں سے دروازے کی طرف دیکھا۔ وہ صبا کی منتظر تھی ۔دروازہ مگر صابر نے کھولا۔ جو کافی کمزور لگ رہا تھا ۔ اس کے چہرے پر کافی بڑھی ہوئی دھاڑی تھی ۔ جبکہ خوشی جب تک اس گھر میں تھی صابر نے دھاڑی نہیں رکھی تھی۔
دونوں باپ بیٹا اندر جا چکے تھے دروازہ بند ہو چکا تھا۔غزل نے بے چینی محسوس کی ۔ اس نے ہمت کر کے فاخرہ آنٹی کا دروازہ بجایا۔ انہوں نے کچھ دیر بعد دروازہ کھولا۔ ان کے بال کافی سفید ہو چکے تھے ۔ ان کے گال لٹکے ہوئے محسوس ہو رہے تھے ۔
فاخرہ : کیا ہے بی بی؟ کیوں دروازہ بجا رہی ہو۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: kanwalnaveed

Read More Articles by kanwalnaveed: 124 Articles with 182862 views »
Most important thing in life is respect. According to human being we should chose good words even in unhappy situations of life. I like those people w.. View More
23 May, 2017 Views: 902

Comments

آپ کی رائے