خاموشی (دسویں قسط)

(Kanwal Naveed, Karachi)

غزل : وہ آپ سرف لیں گی۔ بہت سستا ہے۔
فاخرہ : مفت تو نہیں ہے نا۔
غزل : ایک گلاس پانی ملے گا۔
فاخرہ : لاتی ہوں۔
غزل : وہ آپ کے ساتھ جو فیملی رہتی ہے ،انہوں نے بھی لیا ہے ۔
فاخرہ : لیا ہو گا ۔ ان لوگوں کو کیا پتہ چیزوں کا باپ بیٹا دونوں ہی پاگل ہیں ۔
غزل : کیوں ،کوئی عورت نہیں ہے ان کے گھر۔
فاخرہ : عورت۔ صبا کو مرے تو تین سال ہو گئے۔ عورت ۔ ۔ ۔ اب تو کوئی نہیں آتا جاتا اس گھر میں۔
غزل:امی مر گئی ۔کہہ کروہ کچھ بھی سوچے سمجھے بغیر رونے لگی۔
فاخرہ : تمہیں کیا ہوا ۔اندر آو۔
غزل نے فاخرہ کے گھر کے اندر آتے ہی بیگ رکھااور زمین پر ہی بیٹھ گئی۔ اس کا چہرہ آنسووں سے بھیگ چکا تھا۔
غزل :کب ۔کب مر گئی ،کیوں ۔کیسے؟ کیا ہوا؟
فاخرہ : کون ، کس کا پوچھ رہی ہو۔
غزل : میں خوشی ہوں ، آنٹی ۔نیلم اور نائلہ کی بہن۔
فاخرہ : تم تو گھر سے بھاگ گئی تھی ۔تم کہاں تھی۔ تمہارا ہی غم کھا گیا تمہاری ماں کو ۔ وہ تو کہتی تھی ۔میری خوشی کےلیے دُعا کیا کرو۔پتہ نہیں کہاں ہو گی ۔کس حال میں ہو گی ۔میری خوشی ۔ جب بھی بات کرتی تھی ،رونےلگتی تھی ۔ تم نے تو پلٹ کر دیکھا بھی نہیں ۔ اب کہاں سے آگئی ہو؟
غزل زمین پر بیٹھی ،پاگلوں کی طرح رو رہی تھی۔ فاخرہ اور پانی لے کر آئی ۔
غزل : میرے خوف نے مجھے آنے نہیں دیا۔ جب ہمت کرکے آ پائی تو امی کیوں چلی گئی۔ اسے اپنا سانس بند ہوتا ہوامحسوس ہو رہا تھا۔
فاخرہ : چلوجو ہونا تھا ۔وہ تو ہو گیا ۔ اب تو تین سال ہو گئے ۔پرانی بات ہے۔
غزل: نیلم اور نائلہ وہ ٹھیک ہیں ؟
فاخرہ:نیلم بے چاری تو پہلے بچے کی پیدائش کے وقت مر گئی تھی۔ صابر اور صبا نے نائلہ کی شادی اکبر سے کر دی ۔
غزل : نیلم۔
فاخرہ : یہ جو بڑا قبرستان نہیں ہے۔ جہاں سدرہ کو دفن کیا تھا۔پرانا والا وہاں دفن ہیں دونوں ماں ، بیٹی۔
غزل :نائلہ آتی ہےیہاں؟
فاخرہ : وہ کس کے پاس آئے گی؟ ماں ہوتی تھی ،تو آتی تھی۔ اب تو عرصہ ہو گیا نہیں دیکھا اُسے۔
غزل نے پانی کا ایک گھونٹ لیا ۔جو اسے اپنے سینے پر جمتا ہوا محسوس ہوا۔ نیلم نہیں رہی ، امی نہیں رہی ۔ کوئی بھی تو نہیں رہا اس گھر میں ۔
غزل : میں چلتی ہوں ۔
اس نے اپنا سرف والا بیگ یہاں ہی چھوڑ دیا۔وہ گاڑی چلاتے ہوئے لگا تار رو رہی تھی ۔ وہ بار بار دل میں ایک ہی بات کہہ رہی تھی۔ کاش وہ امی کو ایک بار دیکھ پاتی ۔ کاش ،نیلم کا اس کے سامنے روٹی رکھنا اسے بار بار یاد آ رہا تھا۔ اکبر کی مار کے نشان اس کے چہرے پر اسے صاف دیکھائی دے رہے تھے ۔ اس کا جی چاہ کہ وہ قبرستان چلی جائے ،لیکن اسے اپنا دل بند ہوتا ہوا محسوس ہو رہا تھا ۔ وہ واپس ڈاکٹر شیزاد کے گھر لوٹ آئی۔ رو رو کر اس کی بُری حالت تھی۔ وہ خاموشی سے سسکیاں لے رہی تھی ۔
موت کس قدد بھیانک چیز ہے ،کیسے اپنوں کو اپنوں سے جدا کر دیتی ہے ۔ غزل کو زندگی کی بے اثباتی کا احساس ہو رہا تھا۔ اس کے آنسو تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے ۔ اس کے موبائل کی آواز نے اسے متوجہ کیا۔
رفیق: غزل کہاں ہو تم ؟ کسی کو کچھ پتہ نہیں ہے۔یہ ساتویں کال کی ہے میں نے تمہیں ۔ عجیب لاپروائی ہے یہ؟
غزل: ڈیڈی کے گھرپر ہوں۔
رفیق: بندہ بتا کر چلا جاتا ہے ،ایسے کرتے ہیں ۔تم بچی ہوکیا ۔ کتنی پریشانی ہو رہی تھی مجھے۔ مائی گارڈ۔
غزل : وہ میں ۔
رفیق : میں آتا ہوں۔
غزل نے اپنی سوچوں کے سمندر کو بند باندھنے کی کوشش کی ۔وہ کسی کو نہیں بتا سکتی تھی کہ اس نے کیا کھو دیا۔ وہ اُٹھ کر واش روم میں گئی ۔ اپنا منہ شیشے میں دیکھا۔ اس کے دل و دماغ میں اپنی ماں اور نیلم کا چہرہ گھوم رہا تھا۔ کس قدر شفیق اور مہربان چہرے تھے دونوں ۔ زندگی بھی کیسی عجیب ہے۔ کیا کیا کچھ دیکھاتی ہے۔ کاش میں ان سے پہلے مر گئی ہوتی ۔ کاش۔
اس کے دروازے پر کسی نے دستک دی ۔
سغرہ : عنابیہ بی بی آپ کو بلا رہی ہیں ۔
غزل نے اپنے آنسو صاف کیے۔ افسردہ دل صرف اپنے بارے میں ہی سوچتا ہے ۔ اس کو اپنے غم کے سوا کچھ دیکھائی نہیں دیتا ۔ غزل خود کو سنبھالو ،وہ اپنے آپ سے ہمکلام تھی ۔اس نے اپنی نظریں اوپر اُٹھائیں ۔ شاہد اللہ چاہتا تھا کہ مجھے حقیقت پتہ چل جائے ۔اسی لیے اس نے مجھے وہاں جانے کے لیے بے چین کر دیا تھا۔ شاہد وہ چاہتا تھا کہ میں جان جاوں ،میری ماں لے لی ہے اس نے ۔ نیلم ۔ وہ پھر رونے لگی اور بستر پر لیٹ گئی۔ عنابیہ نے دروازے پر دستک دی۔
عنابیہ: کیا ہو گیا ہے تمہیں ۔ غزل ؟ ارے اس حالت میں نہیں روتے ۔ نہیں کرو ایسے ۔
غزل نے بھاگ کر واش روم جانے کی کوشش کی اسے چکر آیا اور وہ فرش پر گِر گئی ،اسے بے ہوش دیکھ کر عنابیہ نے ڈاکٹر شیزاد کو فون کیا ۔ کچھ دیر بعد غزل نے اپنے آپ کو شیزاد مموریل ہوسپٹل میں پایا۔
ڈاکٹر شیزاد: غزل اپنے آپ کو سنبھالو بیٹا ، جو ہونا تھا ہو چکا۔
غزل نے مذید رونا شروع کر دیا ۔ وہ اپنے غم کو چھپا نہیں پا رہی تھی ۔ مگر وہ بتاتی بھی تو کیا ۔ ڈاکٹر شیزاد اس کے قریب آ کر بیٹھےاور اس کے سر پر ہاتھ پھیرا ۔
ڈاکٹر شیزاد : رو لو بیٹا ۔ جی کھول کر رو لو ۔ہماری زندگی میں بہت سے مسائل ہم بیان نہیں کر پاتے مگر آنسو خاموش نہیں رہ سکتے ۔ وہ تو ہر دیوار پھیلانگ کر باہر آجاتے ہیں ۔
غزل نے اپنا چہرہ تکیے کے نیچے چھپانے کی کوشش کی۔
ڈاکٹر شیزاد کے جانے کے بعد رفیق نے غزل کے پاس بیٹھتے ہوئے کہا۔
رفیق: غزل اپنے آپ کو سنبھالو ۔ کوئی بات نہیں اللہ تعالیٰ مہربان ہے ۔ہمیں اور اولاد دے دے گا۔ ہر کام میں رب نے کچھ بہتری ہی رکھی ہوتی ہے۔
غزل: کیا مطلب؟
روتے ہوئے نڈھال ہوتی ہوئی غزل نے سوالیہ نظروں سے رفیق کو دیکھا ۔
رفیق: میں جانتا ہون تم یہ بچہ چاہتی تھی۔ پر اللہ کو جو منظور ہو انسان تو بے بس ہے ۔ زندگی اور موت تو اسی کے ہاتھ میں ہے۔
غزل نے اپنے آپ کو محسوس کیا ۔
غزل: او مائی گارڈ۔
اس نے اپنی انکھیں بند کر لی۔ میں نے اپنا بچہ بھی کھو دیا ۔
سٹریس کی وجہ سے وہ نڈھال تھی ،بے ہوش ہو کر گِرنے سے اسکا مس کیریج ہو چکا تھا۔ سب لوگ سمجھ رہے تھے کہ وہ مس کیریج کی وجہ سے رو رہی ہے ۔ اسے اندر تک جاننے والا صرف اس کا رب ہی تھا ۔اس کے آنسو تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے ۔ وہ سوچ رہی تھی کہ یہ آنکھوں کے اندر آنے والا پانی کہاں سے آتا ہے جو ختم ہی نہیں ہو پاتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شفق اور اس کی ساس غزل کو پوچھنے کے لیے گھر آئیں ۔ وہ اپنے کمرے میں ہی بیٹھی تھی۔ اس کا دل کسی چیز میں نہیں لگ رہا تھا۔کوئی بہت اپنا جب مر جاتا ہے ،موت کی حقیت اور انسان کی بے بسی کا احساس صرف اسی وقت ہوتا ہے ، غزل ہر وقت گم سم رہتی تھی ۔ جبکہ رفیق جانے کی تیاریوں میں مصروف تھا۔ غزل کے لیے بھی تیاری وہی کر رہا تھا۔
شفق: غزل بہت افسوس ہوا ہمیں ۔ بس جو اللہ کی مرضی ہو انسان تو بس اسی کامحتاج ہے۔
کلثوم: بیٹا خوشی اور غم تو زندگی کا حصہ ہوتے ہیں ۔ ہر مشکل کے بعد آسا نی کا وعدہ کیا ہے ۔ اس رب نے،تم فکر نہ کرو اللہ نے چاہا تو بہت جلد پھر سےتمہاری گود بھر جائے گی۔
غزل خاموشی سے ان کی باتیں سن رہی تھی ۔ اس نے دل میں سوچا ، کچھ رشتے ایسے ہوتے ہیں۔ جن کی جگہ کوئی نہیں لے سکتا ۔ کاش میں صرف ایک نظر اپنی ماں کو دیکھ سکتی ، صرف ایک نظر ۔اس کا دل بھر آیا ،وہ پھر سے رونے لگی۔
شفق: غزل ،اللہ کی ذات سے مایوس نہیں ہوتے ۔ وہ جو کرتا ہے اچھے کے لیے کرتا ہے۔ ہم ہی سمجھ نہیں پاتے۔
غزل نے یقین نہ آنے والی نظروں سے شفق کی طرف دیکھا۔ ربیعہ چائے لے کر اندر داخل ہوئی ۔
مہناز: اللہ بہتر کرئے گا ،بیٹا ۔
مہناز نے غزل کے سر پر ہاتھ پھیرا ۔
مہناز: میرے تین مس کیریج ہوئے تھے ،رفیق سے پہلے میں بلکل مایوس ہو گئی تھی۔ لیکن آج دیکھو رفیق ،شفق اور پھر ربیعہ ۔بیٹا وہ دینے والا بے نیاز ہے ۔ تم اس سے نا امید نہیں ہو ۔ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ان لوگوں کے ٹکٹ ہو گئے ہیں ۔ اللہ خیر سے لے کر جائے انہیں اور پھر جب واپس آئیں تو اکیلے نہ آئیں ، تین ہو ں میری تو یہی دُعا ہے۔مہناز نے غزل کا ہاتھ پکڑ کر سہلاتے ہوئے کہا۔
غزل کی آنکھوں میں مایوسی بددستور قائم تھی۔ وہ سوچ رہی تھی کہ رفیق کو اپنے ماضی کے بارے میں ہر ایک بات بتا دے ،شاہد کہ اس کے دل کا بوجھ ہلکا ہو جائے ۔ اس کی تکلیف کم ہو جائے۔ سب لوگوں کی بات جیت میں وہ خاموش اپنی ہی سوچوں میں گم بیٹھی تھی۔ رات کو جب رفیق بیٹھا اپنے لیب ٹاپ کو گود میں لیے کچھ پڑھ رہا تھا ۔ تو وہ خاموشی سے اس کے پاس جا کر بیٹھ گئی ۔ اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ بات کس طرح شروع کرئے ،کافی دیر بیٹھنے کے بعد اُسے خود پر شدید غصہ آیا ۔ وہ کچھ کہہ ہی نہیں پا رہی تھی ۔تو وہ رونے لگی۔
رفیق : کیا ہوا ؟
(رفیق نے پریشانی سے اپنا لیب ٹاپ بند کیا ۔)
رفیق :غزل بولو نایار ۔ تم مجھے بہت پریشان کرنے لگی ہو۔ جو ہونا تھا ہو گیا۔ حادثہ زندگی کا حصہ ہوتے ہیں ۔ جب میں چودہ پندرہ سال کا تھا تو میرے ابو کی موت سے میں ٹوٹ گیا تھا۔جب بھی وہ مجھے یاد آتے میں رونے لگتا ۔ میری یادیں تھیں ۔ان کے ساتھ ۔ہم باتیں کرتے تھے ۔ میں بہت پیار کرتا تھا ان سے۔ لیکن تم، ابھی جو بچہ پیدا ہی نہیں ہوا تھا ۔اس کو لے کر خود بھی ہلکان ہو رہی ہو اور سب کو پریشان کر کے رکھا ہے۔ ڈاکٹر شیزاد ،امی سب لوگ مجھے کہتے ہیں ۔میں تمہیں سمجھاوں ۔ پر کیا سمجھاوں تمہیں ۔ تم سنتی ہی نہیں ہو۔ رونا بس کرو گئی تو سنو گی نا۔غزل ۔
غزل : میرے اختیار میں کچھ نہیں ،کاش کہ میں جو کہنا چاہتی ہوں کہہ پاوں ،مگر ۔۔۔۔۔
رفیق: تم ٹھیک کرنے کی کوشش کرو گی ،تو سب ٹھیک ہو جائے گا ۔ اگر تم اپنے غم پر فوکس کرنے کی بجائے ان خوشیوں پر فوکس کرو ۔ جو ہمیں کچھ دنوں بعد ملنے والی ہیں تو تمہارا غم ہلکا ہو جائے گا۔ ہم ایک نئی شروعات کر سکتے ہیں ،اگر کرنا چاہیں تو۔غزل کو اس نے اپنی باہوں میں لیتے ہوئے تسلی دی۔ اس کی ذبان نے کچھ بھی بولنے سے انکار کر دیا ۔ رفیق نے اس کے آنسوصاف کرتے ہوئے کہا۔ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ ہمارے بچے کو پسند نہیں تھا کہ اس کے امی ،ابو ایک دوسرے سے اس کی وجہ سے جدا ہوں ۔اسی لیے۔ اس نے سوچا کہ وہ ہماری جدائی کا سبب نہ بنے ۔ سمجھی ۔
وہ اسے ہنسانے کی کوشش کر رہا تھا۔ جبکہ وہ اس کی باتوں کو سننے کی بجائے سوچ رہی تھی۔ کاش کہ میں اپنی بات کہہ پاتی۔یہ رات بھی گزر گئی ۔ جانے میں صرف نو دن باقی تھے ۔ غزل نے قبرستان جانے کی ٹھائی ،وہ نائلہ سے بھی ملنا چاہتی تھی۔اب کی بار اس نے کوئی نقاب نہ کیا تھا ۔ اس نے گاڑی کی چاپی اُٹھائی اور گھر سے نکل گئی۔
گاڑی اس نے قبرستان سے کچھ فاصلے پر ایک درخت کے قریب پارک کی ،جہاں پہلے ہی کسی کی گاڑی کھڑی تھی۔اس نے گاڑی کی طرف دیکھا ۔ شاہد اس کی طرح کوئی اپنے غموں کو مٹی سے بانٹنے آیا تھا ۔ وہ سوچ رہی تھی ،کیسا عجیب ہے ، انسان کبھی تو زندہ رشتے اس کے لیے مٹی ہوتے ہیں ،بے قیمت اور کبھی مٹی اس کے لیے زندہ ہوتی ہے ،بہت قیمتی۔ اس نے اپنی انکھوں سے بہتے آنسووں کو صاف کرنے کی کوشش کی جن کی جگہ دوسرے آنسو لے چکے تھے۔ وہ دھیرے دھیرے قبروں کے درمیان چل کر ہر قبر کو دیکھ رہی تھی۔ کچھ قبریں بہت خوبصورت پکی تھیں ،جن پر ماربل لگا تھا۔ جبکہ کچھ قبریں کچی تھیں ،جن کے سر کی طرف فقط ایک پتھر لگا تھا ۔ وہ ہر قبر کو ہی بغور مشاہد کرتی نظر سے دیکھ رہی تھی ۔ یہ بہت بڑا قبرستان تھا ۔ اسے اپنی ماں اور بہن کی قبر نہیں مل رہی تھی ۔ کافی دیر گھوم گھوم کر اسے قبر نہ ملی وہ تھک کر قبرستان کی دیوار کے ساتھ بیٹھ گئی۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی کہ اس نے اپنے پاس کسی لڑکے کو گھڑا محسوس کیا۔
لڑکا : آپ کیوں رو رہی ہیں ؟ کیا میں آپ کی کچھ مدد کر سکتا ہوں؟
غزل نے سر اُٹھا کر اوپر دیکھا تو وہ مراد تھا۔ کیسا عجیب اتفاق تھا۔ مراد ۔
غزل : وہ میں ،مراد نے خوشی کو دیکھا۔
مراد: کیا آپ ؟
اس نے سوالیہ نظروں سے غزل کی طرف دیکھا۔ تو وہ مذید رونے لگی ۔
غزل : ہاں میں خوشی ہوں ۔ ہاں میں ۔
مراد خاموشی سے اسے دیکھ رہا تھا۔
مراد: امی کی قبر اُس طرف ہے۔
غزل نے مراد کی طرف دیکھا ۔
مراد : آو ،ادھر آو۔
غزل اس کے پیچھے پیچھے چل پڑی۔مراد ایک قبر کے پاس جا کر رُک گیا۔
مراد : یہ امی کی ہے ۔امی کو تیرا بہت غم تھا۔ تو واپس کیوں نہیں آئی خوشی۔ تو کہاں تھی۔
وہ بھی رونے لگا ۔ خوشی بول نا ۔
غزل : امی۔ امی۔
وہ قبرسے لپٹ کر ایسے رو رہی تھی جیسے سچ میں صبا کےسینے سے لگی ہوئی ہو۔وہ مٹی کو چوم رہی تھی ۔ مراد اس کے پاس کھڑا تھا۔ کافی دیر تک وہ روتی رہی ۔مراد گاڑی سے پانی لے کر آیا۔
مراد : خوشی ،یہ پی لے۔
اس نے پانی خوشی کی طرف بڑھا دیا۔
غزل نے پانی پیا۔
مراد : تو اکیلی ہے ۔ کوئی بھی نہیں ہے تیرے ساتھ۔
غزل : نیلم کی قبر کون سی ہے۔
مراد : اُدھر ہے۔ وہ تو امی سے بہت پہلے مری تھی۔ امی کو تم دونوں کا ہی غم کھا گیا۔ ان کی عمر نہیں تھی مرنے والی۔
مراد نے ایک آہ بھری۔
نیلم کی قبر پر پھر غزل رو رہی تھی ۔
غزل : میری بہن ۔ کاش
مراد : خوشی چل گھر چل نا۔
غزل : کون سا گھر ۔ کس کا گھر ۔ میرا گھر تو یہاں ہے ۔ امی یہاں ہے۔ نیلم یہاں ہے ،گھر اس نے چیخ اُٹھنے والے انداز میں مراد کو کہا۔ تمہاری وجہ سے ،تمہاری وجہ سے میں نے سب کچھ کھو دیا۔
مراد: میری وجہ سے؟ نہیں میری وجہ سے نہیں خوشی ،میری وجہ سے نہیں ۔ ایک حادثہ تھا وہ ۔ امی کو بتایا تھا میں نے ۔ وہ سب پڑھ چکا تھا ، میں جو تو نے لکھا تھا ۔ میں تو بس تجھے تنگ کر رہا تھا۔ مگر جو ہوا وہ نہ میں نے سوچا تھا ۔نہ تو نے۔
غزل : کاش وہ سب نہ ہوتا۔
مراد: تجھے پتہ ہے چھت سے گِرنے کی وجہ سے میری ایک ٹانگ کی ہڈی ٹوٹ گئی ،میری ٹانگ میں راڈ ڈالا گیا۔ چھ ماہ تک تو میں بستر میں رہا ۔ چلنا پھرنا تو دور اُٹھ کر بیٹھ نہیں سکتا تھا۔
وہ خاموش ہو گیا۔
غزل : ایم سوری۔
مراد: ہوں، کیا کہا تو نے؟
غزل : تم اب کیا کرتے ہو۔
مراد : گاڑیاں ٹھیک کرتا ہوں ۔ میکینک ہوں ۔ میٹرک کے بعد آگے داخلہ ہی نہیں لیا۔ امی کے بعداب دل ہی نہیں کرتا کچھ کرنے کا ۔ ابو چھوٹی چھوٹی بات پر لڑائی کر کے ناراض ہو جاتے ہیں ۔ گھر میں کوئی عورت نہ ہو تو زندگی کس قدر دشوار ہو جاتی ہے۔
اس نے آہ بھرتے ہوئے کہا۔
غزل:نائلہ کیسی ہے۔
مراد: ٹھیک ہے ،خوش ہے اپنے گھر میں اکبرے کے ساتھ۔ آتی نہیں ہے اب۔ جب بھی آتی تھی ۔ ابوکام کروانے لگتے تھے اس سے ۔ اب بلکل آنا چھوڑ دیا ہے اس نے۔
مراد نے مایوسی سے خوشی کی طرف دیکھا۔ میں جاتا رہتا ہوں۔ اس کے گھر بیٹا ہے اس کا۔نیلم کی بیٹی پیدا ہوئی اور وہ مر گئی۔
مراد: جس دن سے تو گھر سے گئی ہے لگتا ہے ،خوشی ہی روٹھ گئی ،پہلے نیلم بہت بیمار رہنے کے بعد مر گئی ، پھر نائلہ کی شادی ابو نے ذبردستی اکبرے سے کر دی ،وہ بہت روتی رہی ۔ اس کی کسی نے سنی ہی نہیں ۔ مجھے لگتا ہے ،ہمارے ہاں لڑکیوں کے ساتھ اچھا نہیں کیا جاتا ۔
غزل : چلو شکر ہے! کسی کو تو احساس ہوا ۔
مراد: مگر میرے چاہنے سے کیا ہوتا ہے۔
غزل : بہت کچھ ہوتا ہے ۔ تم ابو جیسا گھر نہیں بنانا ۔ اپنے بچوں میں فرق نہیں کرنا ،خواہ وہ بیٹے ہوں یا بیٹیاں۔ انہیں جینے دینا ۔ان کی خواہشو ں کو پورا ہونے دینا ۔ بہتری خود بخود آئے گی۔
مراد: تو !تو بہت بڑی ہو گئی ہے خوشی۔
غزل : مراد ۔ دس سے آگے بھی تعلم ہوتی ہے ۔ تم پڑھو آگے ۔
غزل نے مراد کو کہتے ہوئے اس کی انکھوں میں دیکھا۔یہ وہ مراد نہیں تھا ،جو اسے پسند نہیں تھا۔ یہ مراد خوشی کا بھائی تھا جو کسی لڑکی کو روتا دیکھ کر اس کی مدد کے لیے دوڑا آیا تھا ۔ اس کی انکھوں سے آنسو چھلک گئے۔
غزل : ہم میں جو دوری ہمارے ابو کی وجہ سے پیدا ہوئی تھی ،تمہاری سوچ نے مٹا دی ہے ۔مراد
غزل نے اپنے آنسووں بھرے چہرے کو صاف کیا۔ تم کالج میں داخلہ لو ۔ میں تمہاری ہر ممکن مدد کروں گی ۔
مراد: مدد۔
غزل : ہاں ،تم میرے چھوٹے بھائی جو ہو۔ امی کہتی تھی نا ۔ اپنے چھوٹے بھائی کی مدد کیا کر خوشی۔ اسے بھی لائق بنا دے ۔ وہ پھر سے رونے لگی ۔
مراد بھی رونے لگا ۔وہ اپنی بہن سے لپٹ گیا۔ وہ دونوں دیر تک روتے رہے۔
خوشی : میں نائلہ سے ملوں گی۔
مراد : چل ، میں تجھے لے جاتا ہوں ۔ گاڑی ہے میرے پاس ۔ اُسےہی دینے جا رہا تھا تو راستے میں سوچا امی سے مل کر جاوں ۔
خوشی : ٹھیک ہے چلو۔
قبرستان سے نکل کر خوشی اور مراد سڑک پر آ گئے۔
غزل : تم آگے چلاو، گاڑی ۔میں پیچھے پیچھے تمہارے آتی ہوں ۔
مراد: یہ تیری گاڑی ہے؟
غزل: ہاں۔
مراد:تو گاڑی چلا لیتی ہے؟
غزل:ہاں۔
مرادنےحیرت سے خوشی کو دیکھا ۔
مراد: اگر امی تجھے ابھی دیکھ سکتی ،تو خوشی سے پاگل ہو جاتی ۔
غزل: ہاں شاہد۔ہماری ماں کی خواہشات ان کے وجود سے ہی دب گئی۔ان کی سوچوں نےانہیں خوف میں مبتلا رکھا ۔ ایک عرصہ تک مجھے بھی۔
غزل نے گاڑی کے دروازے کو کھولتے ہوئے کہا۔
غزل : زندگی عجیب ہے ۔
غزل گاڑی میں بیٹھ چکی تھی۔ اسےاپنی ماں کی قبر پر جانے کے بعد عجیب سا اطمینان محسوس ہو رہا تھا۔ اس نے اپنی گاڑی کو مراد کی گاڑی کے پیچھے چلانا شروع کر دیا۔ کچھ دیر بعد گاڑی ایک سڑک کے کنارے مراد نے پارک کر دی۔غزل نے اپنی گاڑی اس کی گاڑی کے قریب ہی پارک کی۔
مراد: وہ ۔اس سے آگے گاڑی نہیں جاتی۔ ہمیں گلیوں سے ہی جانا پڑے گا۔ تجھے اکبر کا گھر یاد ہے۔
غزل : ہاں ، یاد ہے۔ مراد تو ابو جیسا نہیں بننا ، ورنہ تیری بیٹی بھی تجھ سے ملنے کی کوئی خواہش نہیں کرے گی۔ نہ ہی وہ یہ خواہش کرئے گی کہ اس کا شوہر اس کے باپ جیسا ہو۔
مراد: تو تھیک کہہ رہی ہے۔ ابونے ہمیشہ تم لوگوں میں اور مجھ میں بہت فرق کیا ۔ آج تم امی اور ان میں فرق کر رہی ہو۔ ایسا ہی ہوتا ہے۔
غزل : ایسا ہی ہونا چاہیے ۔ غم دے کر خوشی حاصل نہیں کی جا سکتی ۔نہ ہی کانٹوں کے بدلے پھول مل سکتے ہیں ۔بیٹی ہونا کون سا گناہ ہے۔ جس کی وجہ سے ایک معصوم سے دل میں خلش پیدا کر دی جائے۔ میرا سارابچپن ابو کے غلط رویے کی وجہ سے کشمکش کا شکار رہا۔ امی نے ایک دفعہ کہا تھا ۔مرد سانپ ہوتے ہیں ۔ کاش وہ مجھے ملتی تو میں انہیں بتا سکتی ،امی مرد سانپ نہیں ہوتے ۔ مجھے ایک مرد نے سہارا دیا ۔ اپنی بیٹی بنایا بلکہ اپنے سگے بیٹوں سے بھی ذیادہ اہمیت دی ۔کبھی کبھی اپنے ہی زندگی میں زہر گھول دیتے ہیں ،اگر مجھے ابو کا خوف نہ ہوتا تو میں گھر سے باہر جاتی ہی نہیں ۔ تمہارے ساتھ ہونے والے حادثہ نے مجھے اس قدر خوفزدہ کر دیا تھا ۔مجھے گھر سے باہر رہنا ،گھر کے اندر رہنے سے زیادہ بہتر لگ رہا تھا۔
نائلہ کا گھر آچکا تھا۔ مراد نے دروازے پر دستک دی۔نائلہ نے دروازہ کھولا۔مراد کو اندرآنے کا کہا۔ خوشی مراد کے پیچھے سے ہلکے سے جھانکی۔
نائلہ: خوشی تو۔
حیرت کے مارے نائلہ جہاں کھڑی تھی وہیں کھڑی رہ گئی۔
نائلہ: اسے کہاں سے لے کر آیا ہے تو۔ مراد؟
اس نے اپنی پلکو ں کوبار بار جھپکا کر دیکھا ۔ کہیں یہ کوئی خواب تو نہیں ۔
مراد: دروازے پر ہی کھڑا رکھے گی یا اندر بھی آنے دے گی تو ؟
نائلہ : آو ،آو۔ خوشی تو کہاں غائب ہو گئی تھی۔ پتہ ہے امی کتنی دُعائیں کرتی تھیں ،تیرے لیے ۔ کہتی تھیں ۔میری خوشی کو اللہ گرم ہوا بھی نہ لگے ۔ میری بچی کو خوش رکھنا ۔ آخری وقت بھی امی تجھے بہت یاد کرتی رہی ۔ تو تھی کہاں ۔ اب کہاں سے آگئی؟
غزل چپ چاپ اس کی سنتی جارہی تھی ۔ اس کی بات جیت کا انداز ، اس کا حلیہ سب کچھ اسے اس کی ماں کی یاد دلانے لگے ۔ وہ بلکل صبا کی طرح لگ رہی تھی۔صحن سے ایک چار سال کی بچی اچانک سے اندر آ گئی ۔ اندر موجود لوگوں کو دیکھ کر ڈر کر واپس دروازے سے باہر جا کر دروازہ پکڑ کر کھڑی ہو گئی۔ خوشی کو اپنا بچبن یاد آ گیا۔ اسی طرح وہ بھی ڈر کرچھپ چھپ کر مہمانوں کو دیکھتی تھی۔
نائلہ نے بچی کو اندر بلایا ۔ جو دروازے کی اوٹ لے کر کھڑی تھی۔
نائلہ : خوشی اس کی انکھیں تیری طرح ہیں ۔ نیلم نے تو اسے دیکھا بھی نہیں ،پیدا کرتے ہی مر گئی۔ امی کہتی تھیں ،یہ تجھ پر گئی ہے۔اس نے پھر بچی کا نام پکارا نویدہ اندر آ۔ بچہ ۔
غزل نے بچی کوجھک کر دیکھا۔ تو وہ اور پیچھے چھپ گئی۔
غزل : تمہارابچہ کہاں ہے؟
نائلہ : کیا کہا تو نے ۔تمہارا،استانی بن گئی ہے تو کیا؟
غزل : سمجھو بن ہی گئی۔
وہ اسے دیکھتی جا رہی تھی ،جیسے اس میں ہی نیلم اور صبا کو تلاش کر رہی ہو۔
نائلہ : میرا بیٹا ہے ۔ ابھی لاتی ہوں ۔
وہ دوسرے کمرے میں چلی گئی ۔ غزل نے مراد کی طرف دیکھا۔
غزل: تم جانتے ہو مراد یہ بچی اس طرح دروازہ پکڑ کر کیوں کھڑی ہے۔
مراد نے خوشی کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
غزل : کیونکہ ہم اپنے بچوں کو سب سے پہلا تحفہ خوف کادیتے ہیں ۔ خاص کر لڑکیوں کو۔ وہ چاہتی تو ہے کہ اندر آ کر سب سے ملے مگر اس کی ہر خواہش پر ایک خوف بیٹھا دیا گیا ہے۔کہیں کچھ غلط نہ ہوسوچ کر ہم ہر غلط چیز کو دعوت دیتے ہیں ۔ ہم صیح کےبارے میں تو سوچتے ہی نہیں ۔ یہی وجہ ہے کی زندگی صیح کی طرف جاتی ہی نہیں۔
نائلہ کی گود میں ایک سال کا لڑکا تھا۔
نائلہ : یہ ہے ۔ اصغر ۔
غزل : نویدہ کو بھی لے کر آو نا۔ اسے مجھے دے دو۔
نائلہ: اچھا۔
وہ باہر جا کر بچی کا ہاتھ پکڑ کر اسے کمرے میں ذبر دستی گھسیٹ کر لا رہی تھی ۔ جبکہ وہ ہاتھ کو چھروانے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔
نائلہ: اس کے ابو کہتے ہیں ،یہ ساری خوشی ہے۔
غزل: اکبر پیار کرتا ہے اس سے۔ یا صرف اپنے بیٹے سے ہی پیار ہے اسے بھی۔
نائلہ: پہلے پہلے تو منحوس سمجھتا تھا اسے ۔ اب جب سے اصغر آیا ہے تو اسے بھی پیار کرتا ہے تھوڑا بہت۔
غزل :کیسا پیار؟
غزل کے لہجے میں افسردگی تھی۔
نائلہ: جیسا پیارمجھے اور تجھے ملا ہے ویسا ہی پیار کرتا ہے ۔ اب ٹھیک ہے۔
غزل : ہاں اس کا چہرہ دیکھ کر نظر آ رہا ہے۔ پتہ نہیں ہمارے ہاں بچیوں کے نام خوشی یا نویدہ کیوں رکھ دیتے ہیں ۔ ساری عمر کوئی خوشی تو دیتے نہیں ہیں ،اُنہیں ۔
نائلہ: تو ویسی کی ویسی ہی ہے ،بدلی نہیں ذرا بھی ۔ اب بھی کوستی رہتی ہے ،مردوں کو۔ مراد کے سامنے بھی کوئی لحاظ نہیں کر رہی۔
غزل: کس چیز کا لحاظ کروں ۔
اس نے ایک آہ بھری ۔
غزل :یہاں جلدی تبدیلی کا کوئی امکان نہیں ہے۔ ایک اورصبا اور ایک اور خوشی میں دیکھ رہی ہوں ۔
اس نےنائلہ اور نویدہ کی طرف دیکھ کر کہا۔
نائلہ: ہاں تو ،بیٹی ماں ہی کی طرح ہو گی ۔ تو کیا چاہتی ہے۔سب لڑکیاں گھرچھوڑ دیں ۔ہر کوئی استانی تو نہیں بن سکتی۔ تیری طرح۔
غزل: اللہ نہ کرئے کسی کو میری طرح گھر چھوڑنا پڑے ۔ اپنے گھر سے محفوظ کوئی جگہ نہیں ہوتی۔اپنی ماں سے مہربان کوئی بھی نہیں ہو سکتا۔
نائلہ : اچھامیں ابھی آتی ہوں ۔
اسے لگا نائلہ کو سمجھانا بے کار ہے ۔ جو چیز وہ سمجھ نہیں سکتی،اس سے متعلق دلائل دینا ، بے وقوفی ہو گی ۔ وہ فقط اسے دیکھتی رہی۔ دل ہی دل میں سوچ رہی تھی۔ کاش میں نائلہ کو سمجھا سکتی کہ وہ امی کی طرح کی کہانیاں سنا سنا کر نویدہ کے دل میں مردوں کے لیے نفرت نہ ڈالے ۔کاش ۔ مگر نائلہ کو سمجھانا ناممکن ہے ،کیونکہ جب انسان یقین کر لیتا ہے کہ بدقسمتی اس کا مقدر ہے تو خوش قسمتی اس کی دہلیز پر سر پیٹتی رہ جاتی ہے ۔ وہ اسے اپنانے سے انکار کر دیتا ہے۔ راستے کبھی بھی اس قدر مشکل نہیں ہوتے ،بس انسان ہمت ہی نہیں کرتا ۔ وہ سوچ رہی تھی۔ وہ پہلے بھی اپنے گھر آنے کا سوچ سکتی تھی۔شاہد انسان فیصلے کرنے میں بہت وقت لگا دیتا ہے ۔ پھر پچھتاوے اس کا مقدر بن جاتے ہیں ۔
نائلہ: تو نے اپنی تو کوئی بات کی ہی نہیں ۔اس نے چاے ، بسکٹ ٹپائی پر رکھتے ہوئے کہا۔
غزل: مجھے ایک اچھے انسان نے اپنی بیٹی بنا لیا تھا۔کچھ عرصہ پہلے ہی اس نے میری شادی کروا دی۔
نائلہ : تیری شادی ہو گئی۔
غزل: ہاں ،میری شادی ہو گئی۔
نائلہ: کون ہے ۔ کیا کرتا ہے ۔
غزل :کچھ نا کچھ کر تا ہی ہے۔
غزل نے چاے کا گھونٹ آگے کرتے ہوئے،اس کے تجسس کو محسوس کرتے ہوئے مسکرا کر کہا۔
نائلہ:ہاے ،اسے بھی لے کر آتی نا۔ دیکھنے میں کیسا ہے۔ اکبر کی طرح مونچھیں رکھی ہیں ۔ کس سے ملتا ہے۔
غزل نے اپنے پرس سے موبائل نکالا۔ اسے آن کیا ۔ اس کی گیلری کھولی۔
غزل : یہ دیکھو۔ یہ ہے۔
اس نے اپنی اوررفیق کی تصاویر نائلہ کو دیکھانی شروع کی ۔ وہ حیران تھی۔
نائلہ : یہ تو ہے ؟ تو ہے سچ مچ۔ یقین نہیں آتا۔
مرادبھی قریب آ کر تصاویر دیکھ رہا تھا۔
مراد: خوشی کی قسمت بہت اچھی ہے ۔
نائلہ: ہاں ، تو سچ کہہ رہا ہے۔ مجھے تو لگتا ہے ،امی کی دُعائیں کام آ گئیں اس کے۔ کیسے پانچ وقتی نمازی ہو گئی تھی۔ اس کے گم ہونے کے بعد۔ رات کو بھی رو رو کر اسی کے لیے دُعا کرتی رہتی تھی۔
غزل: میں کچھ دنوں میں شاہد یہاں سے بہت دور چلی جاوں ۔ دوسرے ملک۔
نائلہ: دوسرے ملک کیوں؟
غزل: جس سے میری شادی ہوئی ہے ۔ وہ وہاں کام کرتا ہے ۔ اس لیے۔
نائلہ : تو اب پھر کبھی یہاں نہیں آئے گی۔
غزل : کیوں نہیں آوں گی۔ زندگی رہی تو ضرور آوں گی۔
نائلہ :اچھا۔ دوسرا ملک کیسا ہوتا ہے۔
غزل : تم ٹی وی نہیں دیکھتی۔
نائلہ: وہ تو اکبر نےاپنے کمرے میں ہی رکھا ہے ۔ابو کی طرح ۔وہی دیکھتا ہے۔ ویسے بھی وقت کہاں ملتا ہے ٹی وی دیکھنے کامجھے۔
غزل : تم نے کبوتر نہیں رکھے۔
نائلہ : تجھے یاد ہے ،میری کبوتروں والی بات۔
غزل: مجھے سب کچھ یاد ہے۔
نائلہ: کہاں ،مرغیاں رکھیں ہیں ۔انڈے گھر کے ہو جاتے ہیں ۔ کبوتروں کا کیا فائدہ۔
غزل کے فون پر کال آرہی تھی،اس نے فون لیا تو رفیق کا تھا۔
رفیق: تم کہاں ہو غزل ؟
غزل : وہ میں ایک دوست کے گھر پر ہوں ۔
رفیق : کسی کو بتا کر جانا چاہے ۔ یہ ٹھیک بات نہیں ہے ۔ میں ڈاکٹر شیزاد کے ہاں ہوں ۔ مجھے لگا تم یہاں ہو ۔یہاں آ کر پتہ چلا ۔انہیں بھی کچھ پتہ نہیں کہ تم کہاں ہو ۔
غزل : میں کچھ دیر بعد یہاں سے نکلوں گی ۔ کہاں آوں ،ڈیڈی کے گھر یا پھر۔۔وہ بات کو ادھورا چھوڑ کر خاموش ہو گئی۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: kanwalnaveed

Read More Articles by kanwalnaveed: 124 Articles with 182326 views »
Most important thing in life is respect. According to human being we should chose good words even in unhappy situations of life. I like those people w.. View More
23 May, 2017 Views: 919

Comments

آپ کی رائے