بچوں کی خوشی والدین کو خوشی

(Maryam Arif, Karachi)

نجم الدین خان، ڈیرہ اسماعیل خان
چچا اور میں اسپتال آئے ہوئے تھے۔ میں چہل قدمی کرتا ہواباہر نکلا تو باہر دو لڑکے درخت سے شہتوت توڑ کر کھا رہے تھے۔ میں نے آکر چچا سے کہا کہ آپ شہتوت کھائیں گے؟ انہوں نے میری طرف حیرت سے دیکھا اور پوچھا کہاں ہیں۔ میں نے انہیں اپنے ساتھ لیا اسپتال سے کچھ فاصلے پر درخت تھا وہاں لے گیا۔ ہم نے ٹہنیوں سے توڑ توڑ کر کھانے شروع کردیے۔ چچا نے کچھ کھائے ہی تھے کہ اچانک مجھ سے کہا کہ شاپر کہیں سے ڈھونڈکر لاؤ۔میں حیران ہوا کہ شاپر کی کیا ضرورت پیش آگئی۔ شہتوت کھانے ہیں سو وہ تو ہم ویسے بھی کھا رہے تھے۔ میں نے پوچھا شاپر کس لیا منگوا رہے ہیں۔ چچا نے مجھ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کچھ گھر لے جاتے ہیں تاکہ بچے بھی کھالیں ۔میں نے کہا چھوڑ یے! اتنا بھی تو نہیں ہے۔ جواب ملا کہ نہیں لے جانا چاہیے کیونکہ بچوں نے بہت عرصے سے نہیں کھایا ہوگا۔ یہاں تو اس کے درخت بہت کم ہیں۔ میں یہ سن کر خاموش ہوگیا۔ہمارے بڑے کیسا احساس رکھتے ہیں۔ بڑوں کے دل میں بچوں کے لیے کتنا محبت اور پیار پایا جاتا ہے۔ انہوں نے کچھ شہتوت توڑ کر شاپر میں ڈال لیے۔ میں نے دیکھے تو وہ بہت کم تھے۔ کہنے لگے۔ کم ہیں تو کیا ہوا، دو دو دانے ہی سہی پر کھانے کو مل تو جائیں گے۔ گھر تک میں یہ سوچ رہاتھا کہ والدین کس طرح سوچتے ہیں۔ کس طرح ہم ان کو ہر وقت یاد رہتے ہیں۔گھر پہنچ کر وہ بچوں میں وہ توت تقسیم کرنے لگے۔ شہتوت کے دو دو دانے ملے تو بچے بہت خوش ہوئے۔ بچے تو معمولی بات سے بھی خوش ہوجاتے ہیں۔ چچا بچوں کی خوشی میں خوش تھے اور پرسکون نظر آرہے تھے۔ شاید بچوں کی خوشی ان کی خوشی تھی۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1232 Articles with 502846 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
24 May, 2017 Views: 478

Comments

آپ کی رائے