اجساس محرومی کی سچی کہانی

(Muneer Ahmad Khan, Rahimyarkhan)

احساس محرومی اسے کہتے ہیں کہ کوئی انسان کسی چیز کی خواہش کا اظہار کرے مگر وہ پوری نہ ہوسکے اور اسکی یہ حسرت دل ہی دل میں رہ جائے احساس محرومی خدا کسی کو نہ دیکھاے اور یہ اس سے پوچھیے جو اسکا شکار ہوتے ہیں. یہ اجساس محرومی ایک بچے کے ساتھ ہو سکتا ہے ایک ماں کے ساتھ ہو سکتا ہے ایک باپ کے ساتھ ہو سکتا ہے ایک بھای کے ساتھ ہوتا ہے ایک بہن کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے اور احساس مجرومی بہت بڑا المیہ ہے جس کسی کو بھی اس سے گزرنا پڑتا ہے یہ اسی کو پتہ ہوتا ہے اور پاکستان ایک ایسا ملک ہے جپاں ہر دوسرا آدمی اجساس محرومی کا شکار ہے اور یہ اجساس مجرومی کسی کے نصیب میں ہوتا ہے اور کسی کیلیے احساس مجرومی کی دلدل میں جان بوجھ کر پھینک دیا جاتا ہے اور احسا س مجرومی. انسان کو جیتے جی مار دیتا ہے اود پاکستان میں جن لوگوں کو اس دلدل میں پھینکا گیا اس میں زیادہ تر کردار ہمارے سیاستدانوں کا ہے جو نوجوانوں کو صرف خواب تو دیکھا رہے ہیں مگر انکو احساس مجرومی سے نکالنے کی کوشش نہیں کی اور پاکستان کی نوے فیصد آبادی احساس محرومی کا شکار ہے اور ستر سال سے احساس محرومی کو ختم کرنیوالے کے انتظار میں بیٹھے ہیں مگز ستر سالوں میں سواے قاید اعظم کے جو حکمرا ن اے انھوں نے صرف اپنا اور اپنے رشتہ داروں کا سوچا اور ستر سال سے کرسی کی نورا کشتی چل رہی ہے ایک پارٹی بنک بیلنس بناکر چلی جاتی ہے پھر دوسری پارٹی آجاتی ہے فوج اور جمہوریت کی آنکھ مچولی چلتی رہی اور آج احساس مجرومی پہاڑ جیسی بڑی ہو چکی ہے. اور موجودہ قیادت صرف پروٹوکول کی عادی ہے موجودہ لیدر شپ جاہتی ہے اسکی اولادیں تو اربوں میں کھیلیں. اور عوام کی کی نسلیں احساس مجرومی کا شکار ہوکر جا چکی ہیں اور کی جانے والی ہیں. اور ان سیاستدانوں کی ایک اور نسل حکمرانی کیلیے تیار بیٹھی ہے اور عوام کی ایک اور نسل احساس محرومی کی چکی میں پسنے کیلیے تیار بیٹھی ہے اللہ پاک کسی کو احساس محرومی کا شکار نہ کرے اللہ پاک کسی کو کسی کا محتاج نہ کرے اور اللہ پاک پاکستان سے احساس محرومی کو ختم کرے اور اللہ پاک سب کوترقی دء خوشحالی دے اور حکمرانوں کو عوام کا درد سمجھنے کی تو فیق دے اور انہیں عیش و عشرت سے فرصت دے دے. اور انکو اگلی زندگی کا احساس دے تاکہ وہ اپنا سب کچھ احساس محرومی کا شکار لوگوں پر نچھاور کر سکیں. اللہ پاک. سب کو خوشی دے. آمین

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muneer Ahmad Khan

Read More Articles by Muneer Ahmad Khan: 303 Articles with 165413 views »
I am Muneer Ahmad Khan . I belong to disst Rahim Yar Khan. I proud that my beloved country name is Pakistan I love my country very much i hope ur a.. View More
24 May, 2017 Views: 557

Comments

آپ کی رائے