پاکستان کی معجزاتی حقیقت اور سی پیک

(Atiq Yousuf Zia, )

انبیائے کرام کے واقعات جو قرآنِ مجید نے ہمیں بتائے ہیں اُن میں مالکِ کائنات نے جابجا اپنے معجزات کا ذکر کیا ہے ، جو قومیں معجزات کو دیکھ کر ایمان نہ لائیں اور معجزات کی قدر نہ کی، تباہی اور بربادی ان کا مقدر بن گئی، ایسے انبیاء کی فہرست میں حضرت صالح علیہ السلام کا ذکر بھی ہے جنھیں اﷲ نے ثمودیوں کی طرف بھیجا، قومِ ثمود انتہائی بے ہودہ اور بگڑی ہوئی قوم تھی جن کے پاس دولت کی ریل پیل تھی، عیش و عشرت نے ان کے اخلاقی پن کا جنازہ نکال دیا تھا، طاقتور، گرانڈ یل اور عمارات کی فن تعمیر میں ان کا کوئی ثانی نہیں تھا، علاقہ سر سبز و شاداب، اُردن سے عرب تک اور مدینہ شہر سے تبوک کے درمیان تک ان کی جغرافیائی حد ختم ہوتی تھی، معاشی خوشحالی اور دولت کی چمک نے اُنھیں خود غرض اور اکڑوں بنا دیا تھا، تکبر، غرور اور برتری ان کے رگ و پے میں سرایت کر چکا تھا، اونچے پہاڑوں کو اندر سے تراش خراش کر خوب صورت محل بنانا اور اعلیٰ درجے کی نقش و نگاری ان کا خاصہ تھا، آج بھی اُردن کے علاقے میں بڑے پہاڑوں کے اندر ان کی بنی ہوئی عمارتوں کو دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے، اپنے آپ کو بڑے معتبر اور معزز سمجھنے والی یہ قوم بتوں کی پوجا کرتی تھی، تو اﷲ تعالیٰ نے اُنھیں راہِ راست پر لانے کیلئے بہت ہی اونچے درجے کی انتہائی پاکیزہ نبی حضرت صالح علیہ السلام کو بھیجا، قوم نے صالح علیہ السلام کو نبی ماننے سے انکار کر دیا، عرصہ دراز وعظ و نصیحت میں گزر چکا تھا، قوم نے تنگ آکر صالح علیہ السلام سے عجیب وغریب معجزے کی پیش کش کر دی، خوش نصیب ہوتی ہیں وہ قومیں جو لڑائی جھگڑے کر لیتی ہیں مگر معجزات طلب نہیں کرتیں کیونکہ اگر معجزہ مانگ لیا جائے اور وہ ظہور پذیر ہو جائے ،پھر مانا نہ جائے تو اﷲ تعالیٰ کی طرف سے عذاب طے شدہ بات ہے، قوم کو صالح علیہ السلام نے بہت سمجھایا مگر قوم اس پر ڈَٹی رہی کہ اپنے رب سے کہو کہ یہ جو سامنے چٹیل پہاڑ کروڑوں بر سے اپنی جگہ پر قائم ہے تیرا رب اس سے اونٹنی پیدا کرے اور اونٹنی پہاڑ سے نکلتے ہی بچہ جنے اور وہ ہماری بستی میں آکر رہے تو پھر مانیں گے کہ تم اﷲ کے نبی ہو۔۔۔ اس آس امید کے ساتھ کہ شاید قوم یہ متکبرقوم راہِ راست پر آجائے اور بتوں سے ہٹ کر اﷲ کی عبادت کرنے لگے، صالح علیہ السلام نے اپنے رب سے معجزے کی درخواست کر ڈالی، قوم پہاڑ کے سامنے کھڑی ہوگئی، اﷲ کے حکم سے اس سنگلاخ اور چٹیل پہاڑ سے اونٹنی نکلی اُس نے بچے کو جنم دیا اور چلتی ہوئی بستی والوں میں آن کھڑی ہوئی، قوم حیران و ششدر رہ گئی، صالح علیہ السلام نے اُس کا نام ناقتہ اﷲ رکھ دیاکہ یہ اﷲ کی اونٹنی ہے، اسے کوئی گزند نہیں پہنچائے گا اور یہ ہماری معزز ترین مہمان ہے، یہ سب کچھ دیکھ کر قومِ ثمود ایمان لانے کی بجائے اونٹنی کی قتل کرنے کی منصوبہ بندی کرنے لگی اور آخر کار اُنھوں نے اونٹنی کو قتل کر دیا ، جب صالح علیہ السلام کو علم ہوا تو اُنھوں نے قوم کو مخاطب کرکے کہا کہ تم نے اﷲ کے معجزے کو جھٹلایا ہے اب تین دن کے اندر اندر تم نیست و نابود ہو جاؤ گے اور قیامت تک تمہارے محل ویران رہیں گے، پھر ایسے ہی ہوا، پہلے دن اُن کے رنگ پیلے ہوگئے، اگلے دن بے حد سرخ اور پھر کالے پھر ایسی خوفناک چنگھاڑآئی کہ سارے کے سارے نیست و نابود ہوگئے، یہ کائنات کے رب کے معجزے سے انکار کی سزا تھی جس پر قیامت تک تاریخ انگلیاں اُٹھائے گی اور عقل و خرد رکھنے والے اس سے نصیحت حاصل کریں گے۔

پاکستان بھی ایک معجزہ ہے، یہ کوئی جغرافیائی حقیقت نہیں،یہ اتنا بڑا معجزہ ہے کہ جتنا قومِ ثمود کیلئے پہاڑ سے اونٹنی کا پیدا ہونا تھا، خدا کیلئے اس پاکستان سے کھلواڑ کرنا چھوڑ دو ورنہ تم بھی حرفِ غلط کی طرح مٹ جاؤ گے، تمہاری داستان تک نہ رہے گی داستانوں میں، دنیاکی نعمتوں سے مالامال، قدرتی خزانوں کی سرزمین پر بسنے والے، خط ِغربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور عوام کہاں سے مسیحا تلاش کریں، قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے بعد نسل در نسل حکمرانی کا شوق اور خاندانی وارثت قائم رکھ کر کبھی بھٹو ازم کا پرچار کبھی نوازشریف فیملی کی بادشاہت 70 سال گزر جانے کے باوجودقوم آج بھی اپنے لیے لیڈر کی تلاش کرتی پھر رہی ہے، قومی وسائل کو لوٹنے والوں نے گدھوں کی طرح معجزے کے جسم سے گوشت ادھیڑ کر رکھ دیا ہے، اب ہڈیاں اور پنجر باقی ہے، اس پر تو رحم کریں، مگر نئے شکاری اپنے سازو سامان کے ساتھ بڑے جوش و خروش اور ولولے سے داخل ہو رہے ہیں ، سی پیک اور ون بیلٹ ون روڈکا شور اپنے عروج پر ہے ، کبھی مغرب سے ایسٹ انڈیا کمپنی بڑے بڑے سہانے خواب دکھا کر اس خطے میں وارد ہوتی تھی جس کا خمیازہ سینکڑوں سال اس قوم کو بھگتنا پڑا، اب چائنہ کوریڈور بڑی تیزی کے ساتھ اس خطے کی قسمت بدلنے آرہا ہے، یہ اژدھا پتہ نہیں کیا کیا نگل جائے گا، یہ و سو فیصد ہے کہ پاکستان کی انڈسٹری تباہ ہی نہیں ختم ہو جائے گی، پاکستانیوں کی ثقافت، تمدن، رہن سہن، مذہبی اقدار بھی تبدیل ہو جائیں گی، بتوں کو پوجنے والے اﷲ سے ناآشنا ہوتے ہیں، کمیونسٹ کو روکنے کیلئے تو ہم نے بڑی جنگ لڑی مگر اب بت برستوں اور بدھ مذہب والوں کے آگے بچھے چلے جارہے ہیں، صلیبی تو رب کو مانتے ہیں جو ہم میں قدر مشترک ہے، وہ ہمارے خیر خواہ نہیں ہوسکتے تو یہ کیسے ہوسکتے ہیں، جن کو راہِ راست پر لانے کیلئے مسلسل انبیاء آتے رہے ،جو اﷲ کے عذابوں کا شکار ہوئے لیکن بت پرستی سے توبہ نہ کی، بقول علامہ اقبالؒ
بتوں سے تجھ کو اُمیدیں، خدا سے نومیدی
مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے!

مدینتہ الرسول کے بعد پاکستان مسلمانوں کے لیے کسی معجزے سے کم نہیں مگر ہمارے ہی لیڈر ہمیں ایک نئی دلدل میں دھکیل رہے ہیں، سی پیک ایک ایسی بند مٹھی کا نام ہے جس کے رموز و نکات کے بارے اکثریت حکومتی ارکان بھی ناآشنا ہیں، اُنھیں پتہ ہی نہیں کہ اس کے اندر کیا ہے، ابھی تک جو چیز سامنے آئی ہے اُس میں چائنہ کی زراعت، گالف، ٹی وی چینلز، چینی ثقافت ، موج مستی اور تین ہزار ایکڑ زمین پر گوادر میں صنعتی زون اولین ترجیحات ہیں، اپنی انڈسٹری کیلئے ٹیکسوں کی بھرمار ہے جبکہ چائنہ کو ٹیکس فری زون دی جارہی ہے، جتنے بڑے سرمائے کی بات ہو رہی ہے اُتنا ہی اُس پر سود بھی ادا کرنا ہوگا، سری لنکا میں بھی چائنہ نے انویسٹمنٹ کی تھی اس کا حال ہی دیکھ لیں، شاید عبرت مل جائے، کلمہ طیبہ کے نام پر بنائے گئے ملک پر بت پرستوں کی طرف سے ضربِ کاری لگنے کی تیاری ہو رہی ہیں اور ہمارے حکمران اپنی کمپنیوں کے چکر میں ان کے آلۂ کار بن رہے ہیں، سب سے پہلے تو سی پیک اور چائنز منصوبوں کے بارے قوم کو اعتماد میں لینا ہوگا اور ابہام کو ختم کرنا ہوگا کہ کیا ہونے جارہا ہے، یہ گیم چینجر تو واقعی گیم چینجر ہے مگر چائنز کیلئے ، بے شمار قربانیوں کے بعد حاصل کیا گیا ملک جس میں آج ہماری عبادات کی آزادی ہے، مذہبی رسومات کی آزادی ہے، اس معجزہ کو اگر اپنے ہاتھوں سے گنوا دیا تو عذابِ الٰہی ہمارے مقدر بن جائے گا، ہمارے لیڈر ملکی ترقی و خوشحالی کیلئے اتنے ہی سنجیدہ ہیں تو ملک سے لوٹی ہوئی دولت کا آدھا حصہ ہی واپس لے آئیں تو اس ملک میں اتنی صلاحیت ہے کہ نسلوں تک اس ملک سے خوشحالی اور ترقی کوئی نہیں چھین سکتا۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Atiq Yousuf Zia

Read More Articles by Atiq Yousuf Zia: 30 Articles with 14602 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
24 May, 2017 Views: 437

Comments

آپ کی رائے