محبت اک سلسلہ تشنگی (قسط ا)

(Kanwal Naveed, Karachi)

آج یونیورسٹی کا آخری دن تھا ۔وہ بڑے اہتمام سے تیار ہو رہا تھا۔ اس نے سوچا تھا کہ وہ سبین کو شادی کے لیے پرپوز کرئے گا۔ اس نے اس کے لیے ایک چھلا بھی لے لیا تھا۔ وہ اچھی طرح سے جانتا تھا کہ سبین کو کیا پسند ہے کیا نہیں ۔وہ اس کی ہر چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی خواہش سے اگاہ تھا۔ وہ اپنی ہر بات اس سے بانٹتی تھی۔ وہ اپنی سوچوں میں گم تھا کہ اسے امی کی آواز سنائی دی شارب آ کر ناشتہ کر لو بیٹا ٹھنڈا ہو جائے گا۔ شارب نے پھر شیشے میں اپنے آپ کو دیکھا۔ پھر اپنی پینٹ کی جیب میں ہاتھ ڈال کر اس چھلے کی ڈبی کو ٹٹولا جو اس نے سبین کے لیے لیا تھا ۔ اس کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی۔ وہ کمرے سے باہر ناشتہ کے لیے ٹیبل پر آیا ہی تھا کہ امی نے فوراً سے اس کی تعریف کی۔

اللہ میرے بیٹے کو نظر بد سے بچائے۔ شارب نے امی کی طرف مسکرا کر دیکھا۔ امی آپ بھی ناشتہ کریں نا پاپاچلے گئے۔ نازیہ اور عارف ۔ وہ اپنی بات کو ادھورا چھوڑ کر تھرموس سے چائے ڈالنے لگا۔ امی نے بیٹھتے ہوئے پیار سے اس کی طرف دیکھا۔ شارب بیٹا آج تم کافی لیٹ ہو گئے۔ عارف اور نازیہ تو کب کے نکل چکے۔ آج تمہارا آخری دن ہے نا۔ شارب نے پراٹھا توڑتے ہوئے امی کی طرف دیکھا ۔ جی جی۔ امی اس نے امی کی طرف دیکھے بغیر ہی جواب دے دیا۔ غزالہ حسن کا وہ سب سے بڑا بیٹا تھا ۔ جس سے انہیں بہت امیدیں تھیں ۔اس نے انہیں کبھی مایوس نہیں کیا تھا۔ لیکن انسان صدا امیدوں کو پورا نہیں کر سکتے ۔ اس کا اندازہ انہیں بہت جلد ہونے والا تھا۔ غزالہ حسن نے شارب سے بات کرنا چاہی ہی تھی کہ وہ ناشتہ کی ٹیبل سے اُٹھ گیا۔

اچھا امی میں اب چلتا ہوں ۔ شارب کے کہنے پر غزالہ حسن بھی اُٹھ کر کھڑی ہو گئی۔ شارب بیٹا چھتری لے جاؤ ۔یہ نہ ہو بارش ہو جائے۔ تمہارے پاپاگاڑی چھوڑ گئے ہیں تمہارے لیے تم نے کہا تھا انہیں ۔ شارب امی کی بات سن کر خوشی سے بولا امی چابی کہاں ہے۔ اس نے سوچا تھا کہ سبین جیسے ہی ہاں کہے گی ۔ وہ اسے اچھے سے ہوٹل میں کھانا کھلانے کے لیے لے کر جائے گا ۔ اس لیے اس نے پاپاسے گاڑی مانگی تھی۔ حسن صاحب بہت شفیق باپ تھے ۔ وہ اپنی حثیت کےمطابق اپنے تینوں بچوں کی ہر ضرورت کا خیال رکھتے تھے۔

وہ یونیورسٹی کے لیے گاڑی لے کر نکلا ہی تھا کہ ہلکی ہلکی پھوہار سے موسم خوشگوار ہو گیا۔وہ دھیرے دھیرے غزل گنگنا نے لگا۔
آپ سے مل کر ہم کچھ بدل سے گئے
شعر پڑھنے لگے گنگنائے لگے۔
پہلے مشہور تھی اپنی سنجیدگی
اب جب دیکھئے مسکرانے لگے
ہم کو ملنے ملانے کا کب شوق تھا
ہم کو محفل آرائی کا کب ذوق تھا
آپ کی خاطر ہم نے یہ بھی کیا
ملنے چلنے لگے آنے جانے لگے۔آپ سے مل کر ہم

سگنل پر گاڑ ی رُک چکی تھی اور وہ بار بار گھڑی دیکھ رہا تھا۔ لمحے صدیوں سے طویل محسوس ہو رہے تھے ۔ کبھی وہ گھڑی دیکھتا اور کبھی گاڑیوں کا قطار۔اسے اپنے جسم کے ہر حصے سے لہریں پھوٹتی ہوئی محسوس ہو رہیں تھیں ۔ اگرچہ وہ روز ہی سبین سے ملتا رہا تھا۔ مگر آج اسے اس سے مانگنے کا مرحلہ شارب کو انتہائی مشکل محسوس ہو رہا تھا۔ اسے یقین تھا کہ وہ ہاں ہی کہے گئی لیکن پھر بھی،اس کے دل کی دھڑکن اسے تھمتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔ وہ سوچ رہا تھا، سبین کا چہرہ کیسا ہو گا جب وہ اسے شادی کی آفر کرئے گا ۔ وہ خوش ہو گی یا شرمائے گی۔ ایک کالا سا بچہ گاڑی کا شیشہ بجانے لگا۔ شارب اکثر سگنل پر بھکاریوں کو پیسے دیتا تھا۔ آج بھی اس نے اپنی پینٹ کی جیب سے پرس نکالا ہی تھاکہ سگنل سرخ ہو گیا۔ اس نے اس بچے کی انکھوں میں مایوسی اترتی ہوئی محسوس کی۔ کچھ لمحے اس کے دل و دماغ میں اس کی تصویر چھائی رہی ۔

وہ یونیورسٹی پہنچا ،ابھی سبین نہیں آئی تھی۔ وہ روز ہی اس کاانتظار کرتا تھا ۔ مگر آج ہر لمحہ اسے صدیوں کی مسافت پر محسوس ہو رہا تھا۔ کبھی کبھی مکمل اظہار کے لیے لمحہ بھر کی نظروں کا مل جانا ہی کافی ہوتا ہے اور کبھی کبھی پوری زندگی بھی باتیں کر کے لوگ ناآشنا ہی رہتے ہیں۔وہ دل ہی دل میں اس لمحہ کو سوچنے لگا جب پہلی بار وہ سبین سے ملا تھا۔ اس نے لائبریری کے دروازے پر ۔پیچھے سے شارب کو آواز دی تھی۔ ایکسکیوز می پلیز ۔ شارب نے اسے مڑ کر دیکھا تو دیکھتا ہی رہ گیا۔ اس نے دوبارہ سے ایکسکیوز می کہا تھا تو وہ مسکرا کر بولا ۔جی ۔ سبین کی نظریں کتاب پر تھیں جو شارب کے ہاتھ میں تھی۔ شارب کی اس کے چہرے پر۔کیسی پیاری سی بھولی سی صورت ہے اس لڑکی کی ۔ شارب کے دل نے کہاتھا۔

شارب سے اس نے سوالیہ نگاہوں سے کہا ۔ کیا آپ یہ کتاب مجھے دے سکتے ہیں ۔ میں کل تک آپ کو واپس کر دوں گی۔ شارب نے سوچے سمجھے بغیر ہاں کر دی۔ اگرچہ کتاب کی ضرورت اسے بھی تھی۔ محبت کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے ۔شارب کے ساتھ بھی یہی ہوا ۔ ان میں دوستی کب اور محبت کب ہوئی اسے کچھ سمجھ نہیں آیا۔ محبت بھی زہر کی طرح رگوں میں اندر تک اُتر جاتی ہے۔ سوچنے سمجھنے غور کرنے یا بچاو کا موقع بہت کم لوگوں کو میسر آتا ہے ۔ شارب ان خوش قسمت لوگوں میں نہیں تھا۔ جنہیں سنبھلنے کے لیے وقت مل جائے ۔ وہ تو یونیورسٹی میں داخل ہوتا تو اس کی نظریں سبین کو تلاش کرنا شروع کرتیں ۔ جب تک وہ اپنی گاڑی میں بیٹھ کر گھر کے لیےچلی نہ جاتی وہ یونیورسٹی سے کبھی نہیں نکلتا تھا۔

سبین کو یونیورسٹی کے گیٹ سے اندر داخل ہوتا دیکھ کر اس کی سوچوں کا دھارا ٹوٹ چکا تھا۔ جیسے کسی نے پھولے ہوئے غبارے کو پن مار دی ہو اور اس کی ساری ہوا جلدی جلدی سے نکل جائے ۔ شارب کے دماغ سے سوچیں بھی اسی طرح نکل چکی تھی۔ وہ جلدی جلدی قدم بھرتا ہوا یونیورسٹی کے دروازے تک پہنچا تاکہ روز کی طرح سبین کویونیورسٹی کے دروازے سے لے آئے۔سبین نے کچھ فاصلے پر شارب کو دیکھا۔ مسکراہٹ کے ساتھ ہاتھ ہلایا۔ شارب اس کے پاس پہنچ چکا تھا۔

سبین نے ہاتھ میں اُٹھائے ہوئے آئی فون پر آنے والے میسج کو ایک نظر دیکھا۔ شارب اپنے دل میں ان الفاظ کو دہرانے کی کوشش کر رہا تھا جو وہ سبین سے بولنے والا تھا۔ اس سے بے نیاز کہ سبین اسے کیا کہنے والی تھی۔ اس کامل یقین تھا کہ سبین خوش ہو گی۔ محبت ہونے کے بعد محبوب کی انکھوں میں عاشق کو پیار ایسے دیکھائی دیتا ہے جیسے سمندر میں پانی ۔ لیکن کچھ لوگوں کی محبت صحرا کے مسافر کی سی ہوتی ہے جہاں سراب کے سوا کچھ بھی نہیں ملتا ۔ شارب نے اپنی پینٹ کی جیب کو پھر سے ٹٹولا اور ڈبی کو مٹھی میں کس کے پکڑ لیا۔ سبین نے شارب کی طرف دیکھتے ہوئے اپنے چشمہ کو سر سے اُتار کر انکھوں پر لگایا۔لگتا ہے آج خو ب بارش ہو گی شارب ،تمہارا کیا خیال ہے۔ شارب جو کسی اور ہی کام میں مصروف تھا۔ چونک گیا۔ ہوں کیا ۔ سبین نے مسکرا کر اس سے کہا۔ کیا کیا؟ تم نے سنا نہیں میں نے کیا کہا۔ نہیں شارب نے افسوس نے سبین کی طرف دیکھا۔ تم مجھ سے کچھ کہہ رہی تھی۔ سبین نے عنابیہ کو آتے دیکھا ۔ شارب نے عنابیہ کو دیکھا تو بیزاری سے کہا وہ عنابیہ بھی آگئی۔ سبین نے شارب کی بیزاری کو بھانپتے ہوئے کہا۔ تمہیں عنابیہ اچھی نہیں لگتی ۔شارب نے شکر کیا کہ اسے اظہارکا موقع ملا ۔ اتنے لمبے عرصہ میں وہ کبھی سبین سے اپنی محبت کا کھل کے اظہار نہ کر سکا تھا۔ اس کا خیا ل تھا کہ سبین کو اس کی حرکتوں سے اندازہ ہو گا کہ وہ اس سے کتنا پیار کرتا ہے۔ وہ سبین کی ہر بات فوراسے مان لیتا ۔ شارب نے عنابیہ کو آتا دیکھ کر فوراًسے کہا ۔ بات عنابیہ کی نہیں ہے ۔ میں چاہتا ہوں کہ جب تم میرے ساتھ ہو تو ہمارے درمیان کو ئی تیسرا نہ ہو۔ سبین نے مسکرا کر کہا تم کیا کہہ رہے ہو۔ شارب کی ہمت بڑھی ۔ اس نے پھر جو سوچا تھا سب بولنے لگا ۔ سبین میں تمہیں اس وقت سے چاہتا ہوں جب سے تمہیں پہلی بار میں نے دیکھا۔ میں جانتا ہوں کہ میں تمہارے لیے سب کچھ کر لوں گا۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: kanwalnaveed

Read More Articles by kanwalnaveed: 124 Articles with 186028 views »
Most important thing in life is respect. According to human being we should chose good words even in unhappy situations of life. I like those people w.. View More
28 May, 2017 Views: 795

Comments

آپ کی رائے