رمضان ِالمبارک میں باجماعت نمازکی رحمتیں اور برکتیں

(Nadeem Rehman Malik, Muzzafar Garh)

ہمارے پیارے رسول عربی ﷺ سے ثابت ہے کہ آپ صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کو رمضان المبارک کی یوں بشارت دیتے تھے ترجمہ: تمھارے پاس رمضان کا بابرکت مہینہ آیا ہے،اﷲ تعالیٰ اس مہینے میں تمھیں(اپنی رحمتوں سے) ڈھانپ لیتا ہے،وہ اپنی رحمت نازل کرتا ہے،اور گناہوں کو مٹاتا ہے،نیز دعاؤں کو قبول کرتا ہوں،وہ تمھاری رغبت چاہت اور جوش و خروش کو دیکھ کرفرشتوں پر فخر کرتا ہے،اس لیے تم اﷲ تعالیٰ کو اپنی طرف سے بھلائی دکھلاوٌ،اور جو اس مہینے میں اﷲ کی رحمت سے محروم ہوگیاوہ انتہائی بد بخت ہے۔
اس رمضان المبارک میں روزہ رکھنا بھی فرض ہے اور نماز بھی۔۔! نماز تو ایک انسان کے لیے عمر بھر فرض ہے،کسی بھی صورت میں اسکی معافی نہیں،بیمار،بڑھاپا،تنگ دستی،مفلسی،جنگ غرض کوئی معافی نہیں،سوائے خواتین کے مخصوص ایام،وہ بھی بعد میں رہے جانے والی نمازیں ادا کرنے کی پابند ہیں۔صرف مجنوں دیوانہ اور ہوش و حواس سے بیگانہ۔فاترالعقل کو نماز معاف ہے،شکر ہے الحمداﷲ کہ سب کوشش کرتے ہیں کہ نماز اپنے وقت پر ادا ہو جائے ،بے نمازی بھی بار بار کوشش کر کے نماز کی پابندی کر ہی لیتے ہیں،ہمارے تاجر،دکاندار اور بازار میں کاروبار کرنے والے تو عموما قریبی مسجد میں باجماعت نماز ادا کرتے ہیں لیکن اکثر دیکھا گیا ہے کہ جب وہ اپنے کاروبار کا اختتام کرتے ہیں تو واپسی گھر جاتے ہوئے وہ عشاء اور فجر گھر پر ادا کر لیتے ہیں،گویا اس سے نماز کا فرض تو ادا ہو گیا لیکن وہ باجماعت نماز اور عظیم الشان نماز تراویح کی انوار و برکات سے محروم ہو جاتے ہیں۔ارشادباری تعالیٰ ہے کہ ترجمہ: اﷲ تعالیٰ کی مسجدیں وہی آباد کرتے ہیں جو اﷲ اور قیامت پر ایمان لائے اور نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور اﷲ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے تو قریب ہے کہ یہ لوگ ہدایت والوں میں سے ہوں۔(سورۃ التوبہ)

مسجد میں نماز باجماعت پڑھنے کی غرض سے جانا گویا اﷲ کے گھر کو آباد کرنے میں اپنا حصہ ڈالنا اور اس عظیم ذات باری کی خوشنودی کا حصول ہے،گھر میں سنت اور نفل پڑھنا احسن و افضل ہے، لیکن گھر میں فرض نماز پڑھنا کوئی اچھا عمل نہیں،مسلمانوں کی ایک بڑی اکثریت محض سستی اور کوتاہی کی وجہ سے نماز باجماعت کا اہتمام نہیں کرتی ، یہ ایک بہت بڑی برائی اور انتہائی گھاٹے کا سودا ہے،خود اﷲ سبحان و تعالیٰ نے نماز باجماعت کا حکم قران میں دیا ہے،رسول کریم ا نے اس حوالے سے بہت تاکید اور فکر کی ہے۔ایسے لوگوں کے لیے یہ بابرکت مہینہ ایک شاندار چانس اور موقعہ ہے کہ وہ مسجدوں میں جا کر تکبیر اول کے ساتھ باجماعت نماز ادا کریں،دنیاوی ضرورتوں کو بیشک ساتھ رکھیں،کاروبار اور نوکری کو بھی ہرگز نظرانداز مت کریں لیکن کم از کم اس مہینے کے تقدیس،تقاضے اور اہمیت کو سب سے اول و مقدم رکھیں،حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہا سے مروی ہے کہ حضور کریم انے فرمایا :جب آدمی اچھی طرح وظو کر کے مسجد کی طرف جاتا ہے اور اس طرح جاتا ہے کہ نماز کے سوا کوئی دوسری چیز اسے نہیں لے جاتی تو وہ جو قدم بھی اُٹھاتا ہے اس کے ذریعہ اس کا ایک درجہ بلند کیا جاتا ہے اور ایک گناہ کا بوجھ ہلکا کیا جاتا ہے،پھر جب وہ نماز پڑھتا ہے تو فرشتے اس پراس وقت تک سلامتی بھیجتے رہتے ہیں جب تک وہ باوضورہتا ہے،اور اس کے لیے یہ دعا کرتے ہیں : اے اﷲ ! اس پر سلامتی بھیج،اے اﷲ ! اس پر رحم فرما ۔
اﷲ تعالیٰ نے کثرت سے نماز کا تزکرہ قران شریف میں فرمایا ہے،اسے باجماعت اور پابندی سے ادا کرنے کا حکم دیا ہے،اور یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ اس معاملے میں سستی اور کوتاہی کرنا منافقین کی نشانی ہے، اﷲ تبارک و تعالیٰ نے حالت جنگ میں بلکہ عین جنگ میں بھی باجماعت نماز ادا کرنے کا حکم دیا ہے، سوچئے اگر نماز باجماعت کی کسی کو معافی یا رعایت مل سکتی تو دشمن کے سامنے لڑتے ان اسلام دوست مسلمان کو ملتی جن کو ہر لمحہ حملہ اور اچانک ہلہ بول دینے کا دھڑکا لگا رہتا تھا لیکن انہیں بھی نماز باجماعت چھوڑنے کی رعایت یا معافی نہ ملی، لہذا معلوم ہوا کہ نماز باجماعت کسی بھی حالت میں چھوڑی نہیں جاسکتی یہ سب سے اہم فرض ہے۔

بخاری اور مسلم شریف میں روایت ہے کہ حضور کریم ا نے ایک جگہ فرمایا کہ میں نے پختہ ارادہ کر لیا تھا کہ نماز کا حکم دوں ، جب اذان ہو جائے تو کسی کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے،پھر ایسے لوگوں کی طرف جاؤں جو نماز } باجماعت { میں شریک نہیں ہوتے اور میرے ہمراہ ایسے ساتھی ہوں جن کے پاس لکڑیوں کا گٹھا ہواور میں جماعت میں نہ پہنچنے والوں کے گھروں کو ان سمیت آگ لگا دوں۔ حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہا نے فرمایا: اگر تم منافقوں کی طرح بلاعذر مسجدوں کو چھوڑ کر اپنے گھروں میں نماز پڑھنے لگو گے تو اپنے نبی کی سنت کو چھوڑ بیٹھو گے اور اگر تم اپنے نبی کی سنت کو چھوڑ دو گے تو گمراہ ہو جاؤ گے۔مسلم۔

حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے کہ حضور کریم انے فرمایا : باجماعت نماز ادا کرنا تنہا نماز ادا کرنے سے ستائیس درجے افضل ہے۔

مسجد میں نماز باجماعت کی اہمیت اور فضائل بارے بہت سی احادیث ہیں،لہذا ہمیں چاہیے کہ ان احادیث اور قران کی روشنی اور حکم کے مطابق دن میں پانچ بار نماز بروقت اور جماعت کے ساتھ ادا کریں ،اس کے لیے مسجد جانا بہت ضروری اور افضل ترین عمل ہے،گھر میں نماز پڑھنا محض انسان کی سستی اور آرام طلبی کی علامت ہے،ایک لحاظ سے ہم نماز کو اسکی وہ عزت و تحریم اور توقیر کا حق ادا نہیں کر پا رہے جو اسکا ایک اعلیٰ حق ہے ،اس عظیم اور عالیشان عبادت کے جو تقاضے اور فرمان ہیں ،ہم اسکے ثمرات اور انورات سے خود کو محروم کر دیتے ہیں۔نماز باجماعت میں کئی فائدے اور بے شمار بھلائیاں پوشیدہ ہیں، ایک صاحب ایمان اور صاحب بصیرت شخص با آسانی اندازہ لگا سکتا ہے کہ باجماعت نماز کے کتنے ان گنت اجر و ثواب ہے ،صبح بیداری سے لیکر رات سونے تک کے اگر ثواب و اکرام دیکھیں تو انسان شکر الحمداﷲ بجا لاتا ہے کہ اﷲ نے اس پر کس قدر انعامات اور رحمتوں کا نزول کیا ہے، ایک مومن بندہ جو جماعت کی غرض سے مسجد جاتا ہے ،دیکھیں اسے کیا کیا اجر و ثواب ملتا ہے،

اذان سے ثواب شروع: اذان سننے کا ثواب اور اسکے جواب دینے کا ثواب۔ مسواک اوروضو کرنے کا ثواب۔پیدل گھر سے نکلنا۔ راستے میں کلمہ و درود کا ورد کرنے کا ثواب ۔ہر ہر قدم پر ثواب۔عشاء اور فجر کی تاریکی میں مسجد جانے کا ثواب۔ بارش آندھی طوفان میں مسجد جانا اسکا ثواب۔مسجد میں داخل ہونے اور مسجد سے واپسی پر ہرہرقدم پر ثواب۔ مسجد میں داخل ہونے پر نفلی اعتکاف کی نیت کا ثوا ب۔ مسجد میں قران پاک پڑھنے کا ثواب۔پہلی صف کا ثواب۔تکبیر اولیٰ کا ثواب۔نماز باجماعت کا ثواب۔اجتماعی دعا کا ثواب۔فرض کے بعد اپنی جگہ بدلنے کا ثواب ۔ نماز کے بعد ایک دوسرے کے حالات سے آگاہی کا ثواب۔مسجد کے بعض امور میں حصہ لینے کا ثواب یعنی بجلی پانی کا بل مسجد کی تعمیر، چندہ وغیرہ۔

اگر جماعت پڑھنے کی نیت سے مسجد گئے اور پتہ چلا کہ جماعت ہوچکی ، تو آپ کو جماعت پڑھنے کا ثواب۔ سنتوں کا گھر میں پڑھنے کا حکم اور اسکا ثواب اور آخر میں ایک نماز کے بعد دوسری نمازکے انتظار کا ثواب۔

اس پُرفتنہ دور میں آپ نے ایک سنت کو بھی زندہ کر لیا اسکا بھی ثواب۔۔ غرض یہ کہ صبح آنکھ کھلنے سے رات آنکھ بند یعنی سونے تک ثواب ہی ثواب، خود سوچیں نماز تو آپ نے بہرحال ہر صورت میں پڑھنی ہی ہے اگر مسجد جا کے پڑھ لی تو مندرجہ بالا ثواب بھی حاصل ہوا اور اﷲ اور اسکے رسول کا حکم بھی پورا ہوا اور اس رمضان المبارک میں ہر ہر عمل کا کم از کم 70 درجے زیادہ ثواب ملتا ہے الحمداﷲ یہ محض ایک نماز کا اتنا ثواب ہے دن میں جب پانچ بار یہی عمل ہو تو انسان کتنا اجر و ثواب پائے گا، انشااﷲ دنیا بھی اور آخرت بھی اور ساتھ اﷲ پاک کی بے شمار نعمتوں اور رحمتوں کا ملنا بھی اس کا مقدر ٹھہرے گا۔۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Nadeem Rehman Malik

Read More Articles by Nadeem Rehman Malik: 18 Articles with 12753 views »
MS.c Mass com, M.A Political Science.gentleman with excellent social etiquettes and refined manners. He is a resourceful, active,hardly,carefull and.. View More
30 May, 2017 Views: 457

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ