افطار پارٹیاں

(Ghulam Ullah Kiyani, )

دین میں روزہ کی اہمیت ہے۔یہ دین کے ستونوں میں سے ایک ہے۔ روزہ دار کو افطار ی کرانے کی بھی اپنی افادیت ہے۔ اسلام کے ہر رکن میں، ہر ایک ہدایت میں ، ہر ایک فعل میں انفرادیت سے زیادہ اجتماعیت کا تصور اجاگر ہوتاہے۔ کسی کی انفرادی حیثیت پر کم ہی توجہ دی گئی ہے۔ نماز، زکوٰۃ، روزہ، حج تمام کے تمام کا پیغام اجتماعیت ہے۔ یہ اجتماعیت ایک گاؤں محلہ شہر سے لے کر ملک اور دنیا تک ہے۔ نماز محلہ کی مسجد، جمعہ شہر کی جامع مسجد، حج دنیا کے مرکز مکہ میں ادا کرنے کا یہی واضح پیغا م ہے۔ اس کا ایک بڑا مقصد عبات ہی نہیں بلکہ انسانی معاملات ہیں۔

عبادات اور معاملات کیا ہیں۔ اس پر تفکر کی ضرورت ہے۔ عبادات کا بھی بنیادی مقصد معاملات کو سنوارناہے۔ انسان کا انسان کے کام آنا، اس کے دکھ درد، خوشی غمی میں شریک ہونا، اس کے ساتھ تعاون کرنا، اس کی تیمار داری کرنا، اس کے لئے تحائف کا اہتمام کرنا، اس کو اپنے دسترخوان میں شامل کرنا، کفن ودفن میں شرکت وغیرہ ان میں شامل ہے۔

روزہ کا بھی ایک بڑا مقصد ہے۔ ایک مالدار، خوشحال، کشادہ رزق شخص روزہ رکھتا ہے ،اسے بھی ایک بھوکے اور پیاسے کی بھوک پیاس کا احساس ہوتا ہے۔ اس پر بھی بھوک پیاس کا دور گزرتا ہے۔ وہ اپنے مال اور رزق میں غریب اور محتاج، مستحقیقن کو بھی شامل کرتا ہے۔ اسے دلی سکون حاصل ہوتا ہے۔ یہی سکون قلب ہے جس کی ہر کسی کو تلاش ہے۔ وہ افطاری میں بھی غریبوں کومدعو کرتا ہے۔اپنا دستر خوان بچھا دیتا ہے۔آج کی افطار پارٹیاں اور ان میں شریک لوگوں کا جائزہ لیں تو ایسا لگتا ہے کہ ہم نے اچھائی میں ملاوٹ کر دی ہے۔ ہمارے دسترخوان پر اب غریب اور یتیم، محتاج خال خال ہی نظر آتا ہے۔ ہماری پارٹی میں شہر کے خوشحال لوگ، وزراء، سکریٹری، مال دار، امراء وزراء شامل ہوتے ہیں۔خلوص نیت اپنی جگہ ،ان لوگوں کو ہم اس لئے بھی مدعو کرتے ہیں تا کہ یہ ہمارے کام آئیں۔ ہمیں مفاد اورمراعات میں معاونت کریں۔ ہماری ترقی، تبادلے ، کاروبار کے فروغ کا بندوبست کر سکیں۔ مفادات ہی مفادات۔ الا ماشا ء اﷲ۔
آپ افطار پارٹی کا اہتمام کرنا چاہتے ہیں۔ اپنے دل پر ہاتھ رکھیں۔ ایک منٹ کے لئے اپنی آنکھیں بند کر دیں۔ اور اب بتائیں آپ کن لوگوں کو مدعو کریں گے۔ آپ کے مقاصد کیا ہوں گے۔ سیاسی مقاصد، زاتی مقاصد، مفادات اور مراعات کے لئے۔ کیا آپ کی افطاری کا مقصد پورا ہوگا۔مگر ہم اﷲ کو راضی کرنا چاہتے ہیں۔ اگر آپ کے دسترخوان پر غریب اور مسکین، یتیمزیادہ تعداد میں جمع ہوں۔ مستحق کو آپ افطاری کرائیں، آپ کا عمل اﷲ کی خوشنودی کے لئیہو گا۔ رحمان کی خوشنودیمطمئن نفس کی خواہش ہوتی ہے۔

حسن ظن کا تقاضا ہے کہ شہر میں ہونے والی ہر افطاری صرف اﷲ کی رضا کے لئے ہو گی۔ آپ نے مال خرچ کیا۔ اﷲ پاک قبول فرمائے اور آپ کو اس کا بہتر اجر عطا کرے۔ ہم نے اپنا جائز ہ لینا ہے۔ اپنی اصلاح کرنی ہے۔ اپنا احتساب کرنا ہے۔ اپنے معاملات کو درست کرنا ہے۔ اس کا علاج ہے۔ توبہ استغفار۔ توبۃالنصوۃ۔ توبہ وہی قبول ہوتی ہے۔ جس کے بعد مزید غلطی سے بچنے کا عہد اور عزم ہو۔ اگر ہم یہ سمجھ لیں کہ توبہ کر لی۔ اب پھر وہی عمل۔ پھر توبہ کریں گے۔ غلطی کر لیں۔ پھر توبہ ہے تو ایسی توبہ ایک دھوکا ہے۔ کیا ہم اﷲ تعالیٰ کو دھوکا دے سکتے ہیں ۔ کیا ہم ملک الموت کو گمراہ کر سکتے ہیں۔ کیا حکیم لقمان ایسا کر سکے۔ سلطان سکندر بھی نہ کر سکے۔کیا آج تک اس روئے زمین پر کوئی ایک بھی ایسا کر سکا ۔ نہیں کوئی نہیں۔ یہ ہو ہی نہیں سکتا ہے۔ تو پھر بھلائی کی طرف لوٹ آنا ہی بہتر ہے۔

ہمارے وزیر، مشیر، بیوروکریٹ بھی افطاری دیں گے۔جس کو اﷲ نے توفیق دی، اپنے مال سے نوازا، وہ افطاری دے گا۔ پڑوس میں نادار اور غریب کا خیال رکھے گا۔اپنے عزیز و اقارب کا حق سب سے زیادہ ہے۔ان کا خیال رکھے گا۔ اﷲ مزید توفیق دے۔اﷲ کے نیک اور برگزیدہ بندے اپنے مفادات کے لئے۔ اپنی شہرت کے لئے، دکھاوے کے لئے کوئی بھی کام نہیں کرتے۔جس نے ریاکاری کی اس نے خود کو ہی دھوکا دیا۔افطاری میں، اپنے مال میں غریبوں، مسکینوں کو زیادہ سے زیادہ شامل کرنے کی ضرورت ہے۔ ہماری نیت، ہمارا خلوص اﷲ بہتر جانتا ہے۔ صدر،وزیر اعظم بھی افطاری دیتے ہیں۔ بھارتی وزیر اعظم ،مریکی صدر بھی افطاری دیتے ہیں۔ ایک اہم دینی فریضہ پر سیاست چمکانے کی بھی کوشش ہوتی ہے۔ رئیس لوگ ان میں مدعو ہوتے ہیں۔ بڑے تاجر، صنعتکار بلائے جاتے ہیں۔ ان سے چندہ لیا جاتا ہے ۔ پھر یہ سب سیاست کی نذر ہو جاتا ہے۔ روزہ، افطاری، شب کی تلاش سب پر سیاست، دکھاوا غالب آ جائے تو اﷲ ہی بہتر جانتے ہیں کہ اس کی جزا یا سزا کیا ہو گی۔ اﷲ ہماری نیت کو خالص کر دے۔اجتماعیت کو فروغ دینے کی توفیق عطا فرمائے۔اپنے پڑوسیوں، غرباء، محتاجوں، مسکینوں، مسافروں، طلباء سمیت تمام مستحقین کے ساتھ بھر پور تعاون کی توفیق عطا فرمائے۔ہماری افطاریوں کو قبول اور نیتوں کو خالص کر دے۔

عظیم لوگ ہیں جو ایک ہاتھ سے ایسے اﷲ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں کہ دوسرے ہاتھ کو خبر نہیں ہو تی۔ اﷲ پاک ان کے مال و دولت میں برکت دے اور رزق کو کشادہ فرمائے۔یہی لوگ ہیں جو معاشرے کے چمکتے ستارے ہیں۔ ان نیک لوگوں کی وجہ سے ہم بھی اﷲ کے عذاب اور قہرسے بچے رہتے ہیں۔یہی نیک لوگ اﷲ کی مخلوق کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتے ہیں۔ خیر اور نیکی کو عام کرتے ہیں۔اﷲ پاک ہمیں بھی نیکی کو عام کرنے کی ہدایت اور توفیق دے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulamullah Kyani

Read More Articles by Ghulamullah Kyani: 589 Articles with 231529 views »
Simple and Clear, Friendly, Love humanity....Helpful...Trying to become a responsible citizen..... View More
01 Jun, 2017 Views: 444

Comments

آپ کی رائے