امن کیسے ممکن ہے؟

(Shafiq Ahmad Dinar Khan, Peshawar)
ایک باشعور قوم ہی پر امن اور مثالی معا شرے کا ضامن ہے۔ تب جا کہ شاید ایک پر امن پاکستان کا خواب شرمندہ تعبیر ہو۔

اردو لغت میں لفظ امن کے معنی امن (ع۔مذ) آرام ، حفاظت، صلح ، پناہ۔ امن و امان (ع۔مذ) حفاظت ، سکوں ، بچاو۔

لیکن غور کرنے کی بات یہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ان خوبصورت لفظوں کی عملی تعبیر دکھائی نہیں دیتی۔ انسانیت نوحہ خواں ہے۔ اور ہمارے تحفظ کے زمہ دار ادارے، اس کے ساتھ ساتھ صاحب اختیار خاص مفاداتی اور سیا سی مقاصد کی خاطر سادہ لوح عوام کو عبرت کا نشان بنائے ہوئے ہے۔ اگر یہ لذت دوام حاصل کرتے ہے تو ان لوگوں کے محنت اور معاش سے، لیکن اسی خآص طبقے نے ہمیشہ عوام کو اپنے ماتحت رکھا۔ کبھی مذہبی فرقہ واریت اور عقائد کے دائرے میں کبھی غربت کی بے بسی میں ، غرض کسی نہ کسی صورت میں اتنا کرم کر چکا کہ یہ قوم با شعور نہ ہو، اور بدقسمتی سے ہوا بھی یوں ۔۔۔
اب سوال یہ ہے کہ امن کیسے ممکن ہے؟

کیا حکومتی اور سیکورٹی اداروں کی اس ملی بھگت کوششوں سے ہی امن ممکن ہے ؟ جنہوں نے صرف عوام کو بیوقوف بنانے کے سوا، اور کچھ معجزے نہیں دکھائے۔ کیونکہ کام کرنے والے کھلے عام اپنا کام کر جاتے ہے۔ اور نتیجہ حسرت ہی رہ جاتی ہے۔ اس کے ساتھ مذمت اور ناپسندید گی کے فرماں بھی موصول ہو تے ہے۔لیکن کچھ ایسا نہیں ہوتا کہ فساد ختم ہو۔ چاہے ردالفساد ہی کیوں نہ شروغ کریں۔

لیکن زیادہ دور جانے کی بجائے اپنی سوال کی طرف آتاہوں کہ امن ممکن ہے۔ لیکن اس وقت کہ جب عوام با شعور ہو جائے۔ مذہبی مختلیفیت کو تکثیریت کی نگاہ سے دیکھیں اور ترقی و معاشی استحکام کو اپنا شعار بنائیں۔ اگر چہ شاید کچھ وقت لگیں لیکن اپنی موجودہ اور آنے والی نسلوں کو مفادات کی سیاست اور اشرافیہ کے اس منفی کردار سے نجات دلا دیں۔ علم کا خیر مقدم کریں، فکر و آگہی کو تسلیم کریں۔ اور علم و عمل ، اسلام کی حقیقی تعلیمات کی روح کے ساتھ ایک پر امن اور ترقی یافتہ معا شرے کی تشکیل کریں ۔ کیونکہ یہ ہم عوام سے ہی ممکن ہے کہ ہم ان درندوں سے خود کو آزاد کریں۔ اور وہ علم و آگہی سے ہی ممکن ہے۔ کیونکہ ایک باشعور قوم ہی پر امن اور مثالی معا شرے کا ضامن ہے۔ تب جا کہ شاید ایک پر امن پاکستان کا خواب شرمندہ تعبیر ہو۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shafiq Ahmad Dinar Khan

Read More Articles by Shafiq Ahmad Dinar Khan: 35 Articles with 23663 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
01 Jun, 2017 Views: 397

Comments

آپ کی رائے