کیا خلاصی ممکن ہے ؟

(Shafiq Ahmad Dinar Khan, Peshawar)

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں دو قسم کے لوگ رہتے ہے ایک عوام اور دوسرا صاحب اقتدار کا طبقہ۔ عوام چونکہ نام سے واضح ہے، “عام لوگ“ تو ان کے نام کی بہ نسبت صا حب اقتدار طبقہ نے بھی خاطر خواہ کرامات نہیں کیں، بلکہ ان کو عام ہی رکھا۔ کبھی مسسلوں کو جڑ سے ختم کرنے کی کوشش نہیں کی۔ بلکہ کبھی خیرات ، قرضوں اور کبھی نوجوانوں کو لیپ ٹاپ کی صورت میں لولی پوپ دیا جا تا رہا، اور دوسرے مختلیف حربے استعمال کرکے عوام کو نہ صرف ما تحت بلکہ شعوری طور پہ بھی گداگر بنا دیا ۔ اگر کو ئی عوام میں مسیحائی کی امید بنتی ہے تو خوف اور ظلم کے ترانوں سے اس کی مدح سرائی کی جاتی ہے جس سے تبدیلی تو نہیں آتی صرف ایک شور دکھائی دیتا ہے، بد قسمتی سے یہ معیار اتنا مظبوط جڑ پکڑ چکا ہے کہ غآلب کا یہ شعر یاد آتا ہے
کوئی امید بھر نہیں آتی
کوئی صورت نظر نہیں آتی

اب سوال یہ ہے کہ کیا عوام کو صاحب اقتدار کے ان لوٹیروں سے خلاصی ممکن ہے ، اگر ہاں تو کیسے؟
تو اس سوال کے جواب میں بھی اقبا ل کا یہ شعر یاد آتا ہے۔
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال خؤد اپنی حالت کے بدلنے کا

اگر بہ نگاہ معنی دیکھیں تو عوام عام لوگ نہیں بلکہ طاقت ہے، اگر اہل اقتدار ہم پر حکمرانی کرتے ہے تو یہ بھی ہماری ان پر مہربانیاں ہے ،ہم نے ان کو خدمت کا مو قع دیا۔ عا م مفہو م میں دیکھیں تو رہنما عوام کے خادم ہوا کرتے ہے، کیونکہ ایک صحیح رہنما کا سیاست میں انے کا مقصد عوامی خدمت ہے۔ لیکن یہ اور بات ہے کہ ہمارے ہاں الٹا ہوا کرتا ہے صرف جوشیلے تقاریر کے سوا کبھی کاارآمد نتائج موصول نہیں ہوئے۔تو بات ہو رہی تھی عوام کی،

ہمیں بیدار ہو نا ہو گا، اور ان لوگوں کی حمایت کرنا ہو گا، جو صداقت اور عوامی مسیحائی کو اولیں فرض سمجھتے ہون۔ ہیمیں با شعور ہونا ہو گا۔ اور وہ عوامل جو ہمیں جہل و نادانی کی طرف لے جاتے ہے ، ان کے خلاف آواز بلند کرنا ہوگا۔ علم و آگہی کو خوش اسلوبی سے قبول کرنا ہوگا۔ اگر چہ وقت لگے گا، لیکن دیرے دیرے ہمیں تبدیلی اور ایک خوش حال پاکستان کو تخلیق کرنا ہو گا۔ انسا نی قدروں کو بالائے طاق رکھنے کی بجائے ہمیں وفائے آدمیت پر یقین رکھنا ہو گا۔ ہر فرد نے اپنا زاتی کردار آدا کرنا ہوگا۔ حکمرانوں کی خاک چاننے کی بجائے ان کا احتساب اور ان کی حمایت میں ہر آواز کو دبانہ ہو گا۔ فرقہ واریت اور مذہبی مخالفت کی بجائے ہمیں مختلیفیت کو ایک نعمت سمجھ کر گونا گونی کو فروغ دینا ہوگا۔ اتحاد کے ساتھ آگے بڑھنا ہو گا۔ تاکہ ایک پر امن اور خوشحال پاکستا ن کا خواب شرمندہ تعبیر ہو۔ تب ہی خلا صی ممکن ہے۔ باقی آپ خود فیصلہ کریں ؟۔۔۔۔۔،
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shafiq Ahmad Dinar Khan

Read More Articles by Shafiq Ahmad Dinar Khan: 35 Articles with 23717 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
04 Jun, 2017 Views: 193

Comments

آپ کی رائے