امریکہ کسی کا دوست نہیں

(Hur Saqlain, Chakwal)
یہ بات اب پوشیدہ نہیں کہ داعش امریکہ کہ ہی پیداوار ہے اور اس تنظیم کے ذریعے امریکہ نے مسلمانوں میں فرقہ واریت کو فروغ دیا ہے۔ یورپ نے امریکہ کی ان چالوں پر خاموشی اختیار کیے رکھی۔اس کے ذہین پر مسلم دشمنی غالب رہی۔داعش اور امریکہ کے تعلقات پر یورپ نے صرفِ نگاہ سے کام لیا۔یہی وجہ ہے کہ اب یہ تنظیم شام اور عراق سے نکل کر افغانستان،پاکستان ،فلپائن اور یورپ تک پھیل چکی ہے۔

برطانیہ میں ہونے والے حالیہ دہشت گردی کے واقعات نے پورے یورپ کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ یورپ میں دہشت گردی کی لہر میں اب تیزی آتی جارہی ہے۔وہاں ڈر اور خوف کا عنصر غالب ہوتا جا رہا ہے۔یہ دہشت گردی کی لہر 24مئی 2014کو اس وقت شروع ہوئی جب برسلزکے ایک یہودی عجائب گھر میں مہدی نموش نامی حملہ آور نے فائرنگ کر کے چار افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔اس حملہ آور کا تعلق داعش سے بتایا گیا تھا۔پھر 2015میں فرانس اور بعد ازاں 2016 میں بیلجیئم اور جرمنی دہشت گردی کا شکار ہوئے۔اسی سال فرانس پر پھر دہشت گردی کاحملہ ہوا۔سات اپریل دو ہزار سترہ کو سویڈن کے دارالحکومت سٹاک ہوم میں ازبک شہری رحمت عقیلوف نے چار افراد کو ہلاک کر دیا تھا اس کا تعلق بھی داعش سے بتایا جاتا ہے۔

امریکہ نے 9/11 کے واقعات کا ذمہ دارالقائدہ کو قرار دیا تھا اور اس تنظیم کو کچلنے کے لیے اس نے عراق اور افغانستان پر فوجی یلغار کی۔اس عمل میں یورپ نے امریکہ کا ساتھ دیا۔امریکہ نے یورپ کو اپنے مقاصد کے لیے خوب استعمال کیا ان کے وسائل اور فوجیوں کو بھی اس جنگ کا ایندھن بنایا۔مسلمان حکمران بھی ان کا ساتھ دینے لگے۔پاکستان اس جنگ کا ہراول دستہ بنا۔دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں سب سے زیادہ قیمت پاکستان نے ہی چکائی۔پاکستان دنیا کو بتاتا رہا کہ وہ محض اپنی بقا کی جنگ نہیں لڑ رہا بلکہ پوری دنیا کو دہشت گردی سے پاک کرنے کے لیے سرگرم ہے۔یورپ اور امریکہ نے پاکستان کی اس طرح مدد نہیں کی جس طرح کا وہ حق دار تھا۔دوسری طرف ایران اور شام نے مل کر داعش کے خلاف بھر پور جنگ لڑی اور اس کو عراق اور شام میں اپنی ریاست قائم کرنے سے روکے رکھا۔ روس نے بھی ان دو ملکوں کی بھر پور مدد کی وہ جانتا تھا کہ داعش کی معاونت امریکہ کر رہا ہے۔یہ بات اب پوشیدہ نہیں کہ داعش امریکہ کہ ہی پیداوار ہے اور اس تنظیم کے ذریعے امریکہ نے مسلمانوں میں فرقہ واریت کو فروغ دیا ہے۔ یورپ نے امریکہ کی ان چالوں پر خاموشی اختیار کیے رکھی۔اس کے ذہین پر مسلم دشمنی غالب رہی۔داعش اور امریکہ کے تعلقات پر یورپ نے صرفِ نگاہ سے کام لیا۔یہی وجہ ہے کہ اب یہ تنظیم شام اور عراق سے نکل کر افغانستان،پاکستان ،فلپائن اور یورپ تک پھیل چکی ہے۔

یورپ نے جس ظلم پر خاموشی اختیار کیے رکھی وہ آج اسی ظلم کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔یورپ امریکہ جیسے ظالم کا اتحادی تھا اب وہی امریکہ اس کے لیے مشکلات پیدا کر رہا ہے۔ داعش نے اپنا رخ یورپ کی طرف موڑ لیا ہے۔وہاں اب دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ امریکہ کابہترین ہتھیار فرقہ واریت ہے اس نے اس ہتھیار سے برطانیہ پر حملہ کر دیا ہے۔امریکہ صدر ٹرمپ نے برطانیہ میں ہونے والے حالیہ حملوں کی وجہ لندن کے مسلمان میئر کو قرار دیا ہے۔ٹرمپ کا یہ بیان وہاں جلتی پر تیل کا کام کر گیاہے۔اگرچہ کہ وہاں کے مسلمان میئر نے کہا ہے کہ اس وقت اس کے پاس کرنے کو بہت کام ہے اور وہ امریکی صدر کے بیان پر تبصرہ نہیں کرنا چاہتا مگر برطانوی عوام نے اب مسلمانوں کے خلاف سوچنا شروع کر دیا ہے۔یورپ میں بسنے والے عیسائی اب یہ سمجھنے لگے ہیں کہ مسلمان ہی دہشت گرد ہیں ۔حالیہ برسوں میں یورپ میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات میں داعش کے لوگ ہی ملوث پائے گئے ہیں اور اہلِ یورپ انہیں مسلمان کے طور پر جانتے ہیں۔وہاں کی عوام امریکی چالوں سے بے خبرہے۔اب یورپی قیادت نے مختلف سوچنا شروع کیا ہے مگر آگ ان کے گھر کے اندر پہنچ چکی ہے۔امریکہ نے یورپ کا بھی وہی حال کرنا ہے جو اس نے مسلم دنیا کا کیا ہے۔

ایسی صور ت میں برطانیہ اور پورے یورپ کو اپنی پالیسیوں پر نظرِ ثانی کرنا ہو گی۔انہیں امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کا ازسر نو جائزہ لینا ہو گا۔انہیں یہ جان لینا چاہیے کہ امریکہ کسی کا بھی دوست نہیں ہے وہ دنیا کے وسائل کو لوٹنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔یورپ کو مسلم معاشرے کے قریب آنا ہوگا۔انہیں ایک دوسرے کو سمجھنا ہو گا۔اب یہ بات طے کرنا ہو گی کہ دونوں کا مشترکہ دشمن امریکہ ہی ہے۔دونوں مل کر عالمی سیاست میں امریکہ کے خلاف متحد ہو سکتے ہیں۔وہ مسلمان حکمران جو امریکہ کی دوستی کے دلداہ ہیں انہیں بھی یہ جان لینا چاہیے کہ امریکہ ہی ان کی بربادی کا سبب بنے گا۔تاریخ گواہ ہے کہ امریکہ ہمیشہ اپنے دوستوں کو تباہ کرتا ہے۔صدام اس کی صرف ایک مثال ہے۔ یورپ کو اپنی طاقت اور صلاحیت پر بھروسہ کرنا ہو گا۔اسے امریکہ کی طرف دیکھنے کی بجائے خود پر انحصار کرنا ہوگا۔ یورپ اور باقی دنیا کو یہ جان لینا چاہیے کہ جب تک امریکہ کو عالمی منظر نامے میں محدود نہیں کیا جاتا اس وقت تک دنیا میں امن کو خطرہ ہی رہے گا۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: hur saqlain

Read More Articles by hur saqlain: 77 Articles with 36980 views »
i am columnist and write on national and international issues... View More
05 Jun, 2017 Views: 566

Comments

آپ کی رائے