کوئی تو دیکھو

(Shaheen Zarrar, Hajira Azad Kashmir)
انڈین آرمی کی نے ایک بزگ کشمیری پی او کے سے اغوا کر کے آءی او کے میں لے جا کر شہید کر دیا

کاظم شاہ صاحب کی فائل فوٹو

وقت ایک عشرے سے بھی زیادہ گزر گیا ۔مگر کاظم شاہ صاحب کی لاش نہ لائی جا سکی ۔ آپ 27مئی کو گھر سے لکڑیاں کاٹنے نکلے مگر گھر واپس نہ لوٹے ۔ بچوں کا انتظار بڑھنے لگا۔ تھوڑی دیر بعد تلاش شروع کر دی ۔ مگر شاہ صاحب نے نہ ملنا تھا نہ ملے۔ قریب موجود پاکستانی آرمی کی چوکی سے پتہ کیا گیا تو انہوں نے لاعلمی ظاہر کر یہ کہہ کر ٹال دیا کوئی جنگلی درندہ کھا گیا ہو گا ۔ کیوں کہ موصوف کی چادر اور ایک آری (جو لکڑیاں کاٹنے کے لیے استعمال ہوتی ہے ) وہیں پاس پڑی تھی ۔ ہجیرہ تھانہ میں گمشدگی کی اطلاع دی گئی ۔ مگر رات کے 2بجے سارا عقدہ حل ہو گیا ۔ ہندوستانی چینلز نے خصوصی خبر نشر کرتے ہو ئے کہا کہ دراندزی کرتے ہوئے ہماری سینا نے ایک آدمی کو قتل کر دیا اور تصاویر بھی دیکھائیں جن میں 80سالہ ریٹائرڈ ہیڈ ماسٹر کاظم شاہ صاحب کو شہید کیا گیا تھا اور ان کی جیب سے 500روپے کا نوٹ اور کچھ ٹافیاں برامد ہوئیں ۔انہیں ہندوستانی آرمی اغوا کر کے لے گئی تھی۔ اخبارات نے خبریں لگائیں۔ انٹر نیشنل میڈیا بھی پہنچا مگر اس دن ہندوستانی افواج کی بلا اشتعال فائرنگ کی وجہ سے اصل مقام تک نہ جا سکا ۔ اور اگر حکومت کی بات کی جائے تو کشمیریوں کے پاس اپنا کوئی سفارتی فورم نہیں ہے ۔ جس سے اقوامِ عالم میں کشمیری اپنا موقف اور آپ بیتیاں سنا سکیں ۔ پاکستانی مقبوضہ کشمیر کی وکالت پاکستان کرتا ہے جس نے پوری عالمی دنیا میں کشمیری مجاہدین کو دہشگرد قرار دیا اور آج وہ اس قابل نہیں کہ دہشتگردی اور تحریک کے آزاد میں فرق کر سکے ۔ اور اگر دفاع کی بات کی جائے تو ایک تلخ مگر حقیقت پر مبنی بات یہ ہے کہ 1971میں پاکتانی مقبوضہ کشمیر کی گردن ہندوستانی فوج کے منہ میں چلی گئی۔ اور کنٹرول لائن سے ملحقہ تمام علاقے انتہائی غیر محفوظ ہو گے ۔ اب ہندوستانی آرمی جب چاہتی ہے ، جیسے چاہتی ہے اور جہاں چاہتی ہے کشمیریوں کو دونوں اطراف میں نشانہ بناتی ہے ۔ کھیتوں میں کام کاج کرنے والے افراد اور مویشیوں کو سنائپرز کا نشانہ بنانا تو ان کا پسندیدہ کھیل ہے ۔ اور مارٹر گولوں سے سویلین کے گھروں کو اجاڑنا اور تاک تاک کر گھروں پر نشانے لگانے کو انڈین آرمی ہمیشہ اپنی بہادری سے جوڑتی رہی ہے ۔

ان حالات میں کشمیری قوم پریشان ہے کہ آج کے اس جدید اور میڈیائی دور میں ہمار ا کوئی پرسان حال نہیں ہے ۔ ہم ایک ایسی ریاست میں زندہ ہیں جہاں ہمیں اپنے دفاع کے بارے میں خود سوچنا پڑھتا ہے ۔ کنڑول لائن کے قریب ایسے بہت سے واقعات ہو چکے ہیں جن میں سماہنی بنڈالہ اور لنجوٹ کھیتی گالہ کا واقعات بہت اہم ہیں ۔ مگر اس وقت تو مجاہدین کا کافی اثر رسوخ تھا ۔ اس وقت کے معروف کشمیری عسکریت پسند جنہیں اس وقت کشمیری قوم کا ہیرو کہا جاتا تھا۔ اور ان کے ساتھ فوٹو کھنچوانے کو اپنا اعزاز سمجھا جاتا تھا، نے کنٹرول لائن پر ہونے والے ہر ہندوستانی ظلم کا بھرپور بدلہ لیا ۔ مگر شومئی قسمت یہی ہیرو اس وقت ’’دہشگرد‘‘ بنا دیا گیا جب اسے تحریک آزادی کشمیر میں بعض اداروں کی منافقت کاادراک ہوا۔ پھر اسے کشمیر بدر کر دیا گیا اور اور اچھی قیمت امریکیوں سے وصول کر کے کشمیریوں کے ساتھ ’’اظہار یکجہتی ‘‘ کی گئی ۔ پوری دنیا میں لاشیں واپس کی جاتی ہیں ۔ ایک اصول ہے ۔ ایک ظابطہ ہے مگر کشمیریوں کے لیے نہ کوئی اصول ہے نہ کوئی ضابطہ ہے ۔ نہ ہی کوئی سفاری فورم ہے ۔ اگر یہ خود سے کوئی آواز بلند کرے تو ہشتگرد قرار دے کر سارے ستم کے پہاڑ جائز ہو جاتے ہیں ۔نام نہاد آزاد کشمیر کے حکمرانوں کا برا ہو جن کی ایک بھی سٹیٹ منٹ کاظم شاہ کے حوالے سے سامنے نہیں آئی اور نا ہی کوئی خاص کاوش سامنے آسکی ۔ جب حکومتیں اپنی عیاشی کو قومی سلامتی پر ترجیح دینا شروع کر دیں تو اس قوم کو تباہ ہونے سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ اور جب ایک شہری خوں سستا ہو جائے تو پھر پوری قوم کا خون پانی کی طرح بہہ جایا کرتا ہے ۔ ہمیں اپنے آپ پر نظر ڈالنی ہو گی ۔ قوم کی اس سر نو تربیت کرنی ہو گی ۔ ہمیں اٹھنا ہوگا۔ ہمیں اقوام عالم میں اپنی حالت زار کو بیان کرنا ہو گا۔ ہمیں دنیا کو بتا نا ہو گا کے دنیا کی جنت کشمیر کن مسائل کا شکار ہے جہاں کے باسی زندگی کی بنیادی سہولتوں ، صحت ، پانی ، بجلی تک سے محروم ہیں ۔ اور انہیں اتنا بھی تحفظ میسر نہیں جتنا ایک جانور کو اپنے مالک کے گھر میں ہوتا ہے ۔ہمیں اپنی آواز خود بلند کرنی ہوگی۔ کیوں کہ آخر ایک انسان ہونے کے ناطے ہم بھی جینے کا پورا پورا حق رکھتے ہیں اور یہاں حقوق دہلیز پر نہیں ملتے چھین کے لینا پڑھتے ہیں ۔

ہمیں حکومت پر دباؤ بڑھانا ہو گا کہ لاش کی واپسی اور دیت کے لیے ہر فورم پر آواز اٹھائی جائے
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shaheen Zarrar
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
06 Jun, 2017 Views: 250

Comments

آپ کی رائے