تحریک آزادی کشمیر ،انسانی حقوق اور سکیورٹی فورسز

(Munzir Habib, )

تحریر : شفقت حسین انجم
بھارت اس قدر اخلاقی گراوٹ کا شکار ہوچکا ہے کہ اس کو سسکتی انسانیت ،لاشے اٹھاتے کشمیری ،نوجوانوں کا تاریک مستقبل نظر نہیں آرہا ۔اسے صرف ایک فکر ستائے جارہی ہے کہ سکیورٹی فورسز کے بھی انسانی حقوق ہیں اور خاص کر ا ن ظالم فورسز کے جنہوں نے سات دہائیوں سے مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کی نہ صرف آزادی صلب کررکھی ہے بلکہ اب تک سواپانچ لاکھ انسانوں کی جان بھی لے چکے ہیں ۔نبی رحمت ﷺ نے غزوہ ہندکے بارے میں بشارت فرمائی تو ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ کہنے لگے اگر میں نے غزوہ ہند پالیا اور اس میں شہید ہوگیا تو قیامت کے دن افضل شہداء میں اٹھایا جاؤں گا اور اگر غازی بن کر لوٹاتو یہ ابوہریرہ نہیں بلکہ جہنم سے آزاد ابوہریرہ ہوں گا ۔(مسند احمد )اس حدیث کو بیان کرنے کا مقصد ان مشکلات کی طرف اشارہ کرنا ہے جو اس غزوہ میں پیش آرہے ہیں ۔یہاں پر بیک وقت کئی محاذوں پر جنگ لڑی جارہی ہے ۔فیس ٹو فیس ،پراکسی وار ،میڈیا وار اورثقافتی وار سمیت کئی حربے استعمال کیے جارہے ہیں۔ سب سے خطرناک بے حیائی کا وار ہے جس سے بھارت مسلمانوں کو ان کی اصل بنیاد اسلام سے دور کررہاہے ۔تحریک آزادی سات دہائیوں سے جاری ہے۔ 27اکتوبر1947کو بھارت نے اپنی افواج اتارکر کشمیر پر قبضہ جمالیا جبکہ کشمیریوں نے الحاق پاکستان کی قرارداد 1931میں ہی پاس کردی تھی۔سوشل میڈیا اور عالمی ذرائع ابلاغ کے ذریعے بھارت اپنے گناہوں کو چھپانے کا کام تیزی سے کررہاہے ۔ایسی میڈیا رپورٹس بناکر شائع کروائی جارہی ہیں جس سے دنیا کو یہ تاثر دیا جائے کہ کشمیر میں جاری تحریک آزادی دہشتگردی ہے ۔بھارتی میڈیا کا تعصب اور خبث باطن کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے ۔وہ تحریک آزادی کو بدنام کرنے کا کوئی موقع جانے نہیں دیتا بلکہ روزانہ ہر بھارتی نیوز چینل کشمیریوں کے خلاف زہر اگلتانظر آتاہے ۔اس کے ساتھ ہی وہ پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرنا کبھی نہیں بھولتا ۔بھارتی اینکر اپنے منہ سے آگ برساتے نظرآتے ہیں اور بدتمیزی کی تمام حدوں کوپار کرتے ہوئے یہ بھی احترام کرنا بھول جاتے ہیں کہ مہمان کو ہندوؤں کے نزدیک بھگوان ماناگیا ہے ۔اب میڈیاٹول کا استعمال کشمیر میں کیسے کیا جارہاہے بتعاون بی بی سی زرا غورکیجیے ۔ سات دہائیوں سے کشمیری مسلمانوں پر ظلم وجبر کے پہاڑ توڑنے والے ،خواتین کو بیوہ بنانے والے ،بچوں کو یتیم کرنے والے ،شہدا ء کے قبرستان بنانے والے ،وادی جنت نظیر کو جہنم میں تبدیل کرنے والے درندہ صفت شیطان بھارتی غنڈے بھی سکیورٹی فورسز کے حقوق کی بات کررہے ہیں ۔روزنامہ چٹان میں چھپنے والے کالم کشمیر کی کہانی سی آرپی ایف کی زبانی میں ماجد جہانگیر اور دیویہ آریہ بیان کرتے ہیں کہ بی بی سی کو انٹرویو میں ڈی جی سی آرپی ایف سنجے کمارنے کہاہے کہ وادی کشمیر ایک چھوٹی جگہ ہے جہاں پر زیادہ سکیورٹی فورسز کو رکھا گیا ہے ۔عام آدمی آٹھ گھنٹے ڈیوٹی کرتاہے تو سکیورٹی فورسز کے گماشتوں کو16گھنٹے تک ڈیوٹی کرنا پڑتی ہے ۔اور ان پر پتھراؤ ہوتاہے جو کہ غیرانسانی حملہ ہے ۔اور اس طرح مجبورا انہیں کشمیریوں کی جان لینی پڑتی ہے ۔سنجے کمار نے مثال دیتے ہوئے کہاکہ اس وقت سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہے جس میں کشمیری نوجوان پولنگ عملے کے چھ لوگوں پر نعرے بازی کرتے نظر آرہے ہیں اور ہمارے جوان صبر کا مظاہر ہ کرتے ہوئے چلے جارہے ہیں ورنہ دنیا کی کوئی فورس اس ذلت پر خاموش نہیں رہ سکتی ۔ساتھ ہی اس نے اپنے موقع کوغنیمت جانتے ہوئے پاکستان پر متعصبانہ بیان دینابھی ضروری سمجھا ۔سنجے کمار نے کہاکہ کشمیری نوجوان بھارت کے خلاف نہیں ہیں بلکہ پاکستان ان کو ورغلاکرہمارے خلاف بھڑکارہاہے ۔پتھراؤ کرنے والے عام کشمیری نہیں ہے بلکہ ان کے اپنے ذاتی مفاد ہیں ۔یہاں چاہیے تو یہ تھا کہ بی بی سی پیشہ وارانہ دیانت داری کا مظاہر ہ کرتے ہوئے حریت قائدین کا موقف لیتی اور لفظ بلفظ چھاپتی ۔مگر،، برٹش براڈ کاسٹ ،،ہمیشہ اسلام دشمنی پر ہی اپنی رپورٹس شائع کرتاہے ۔اگر وقتی طور پر سنجے کمار کی اس بات کو مان لیا جائے کہ کشمیری بھارت کے ساتھ ہیں تو پھر اس کو اپنی پہلی بات کا رد کرنا پڑے گاکہ کشمیر چھوٹی سے جگہ ہے اور یہاں آٹھ لاکھ سے زیادہ فورسز تعینات ہیں ‘ دنیا کے کسی بھی ملک میں ایسا نظر نہیں آتا ۔دوسرا اگر کشمیر ی بھارت کے ساتھ ہیں تو پھریہاں بھارت مردہ باد کے نعرے کیوں بلند ہوتے ہیں ۔کیوں نعرہ لگتاہے INDIAN DOGS GO BACK . ۔ ہم کیا چاہتے آزادی ۔ پاکستان سے رشتہ کیا لاالہ الا اﷲ ۔کیوں کشمیری شہداء کفن کی بجائے سبزہلالی پرچموں میں دفن ہورہے ہیں؟ ۔کیوں ایک شہید کا جنازہ سات سات بار پڑھا یاجاتاہے اور لاکھوں لوگ اس میں شرکت کرتے ہیں ۔ جبکہ وزیر اعلیٰ کا والد مفتی سعید وفات پاتا ہے تو چند لوگ کھڑے ہوتے ہیں۔کیا سوشل میڈیا پر بھارتی مظالم کے ان گنت ثبوت موجود نہیں ہیں جس میں بے دردر ی سے معصوموں پر تشدد کیا جارہاہے ۔ایسی تصاویر سے ٹویٹر،یوٹیوب،فیس بک بھرا پڑاہے جس میں خواتین ،اور بچیوں پر بھارتی فورسز غنڈہ گردی کرتے نظر آرہے ہیں ۔حال ہی میں چکوٹھی لائن آف کنٹرول پرایک 80سالہ بزرگ کاظم شاہ کو بھارتی فوجیوں نے لکڑیاں کاٹتے ہوئے گولی مار کرشہید کردیا اس کی لاش ابھی تک ان کے پاس ہے جب کہ لواحقین لاش کا مطالبہ کررہے ہیں ۔ ظلم وستم کی روادار بھارتی فوج نے گزشتہ ہفتے رام پورہ اڑی میں 12معصوموں کو دہشتگردقراردے کر شہید کردیا ۔کشمیرمیں بھارت اس کو دہشتگردکہتاہے جو اپنے حق آزاد ی کی بات کرتاہے ۔کیا ان مظالم کے باوجودہ بھارتی سکیورٹی فورسز کے انسانی حقوق ہیں اور جن کی نسلیں تباہ کردی گئیں ہیں ان کے انسانی حقوق کون بیان کرے گا؟۔ اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ مسئلہ کشمیر کو اپنے ایمان کا حصہ ،اپنے جسم کا حصہ اور اپنے ملک کا حصہ سمجھ کر دنیا کے سامنے بیان کیا جائے ۔عالمی برادری کے سامنے بھارت کے دہشتگردانہ چہرے کو بے نقاب کرنے کے لیے سفارتی محاذ پر جنگ لڑی جائے ۔سبزہلالی پرچموں میں دفن ہونے والے کشمیری شہداء کا خون پاکستانی حکومت ،عوام اورمیڈیا پر قرض ہے کیونکہ کشمیری تکمیل پاکستان کی جنک لڑرہے ہیں۔ وہ جنگ جس کا حکم بانی پاکستانی قائداعظم محمد علی جناحؒ نے دیا تھا ۔رمضان المبارک اور جہاد کا گہرا ساتھ ہے ۔اس ماہ مبارک میں قرآن کو اتار ا تو اس میں جہاد کا حکم بھی نازل ہوا اور اس حکم کی عملی تفسیر کوغزوہ بدر اور فتح مکہ کی صورت میں پیش کیا گیا ۔بھارت انتہائی مکاری کے ساتھ تحریک آزادی کو سبوتاژ کرنے کے لیے ہر محاذ پر جنگ لڑرہاہے ۔ ہمیں اس تحریک کو بچانے کے لیے اپنا مثبت کردار کرنا ہوگا ۔حکومتی سطح پر ،میڈیا کی سطح پراورعوام الناس کی سطح پر ۔یہ غزوہ ہند ہے اس میں بہت سارے فتنے اور مشکلات ہیں مگربالآخر جیت مسلمانوں کی ہوگی کشمیریوں کی ہوگی ۔ حدیث رسول کی روشنی میں ہر مسلمان اس کا حصہ بن سکتاہے ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Munzir Habib

Read More Articles by Munzir Habib: 184 Articles with 71663 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
06 Jun, 2017 Views: 331

Comments

آپ کی رائے