15رمضان المبارک :عالمی یومِ یتامیٰ (یتیموں کا عالمی دن)

(Dr Rais Ahmed Samdani, Karachi)

15رمضان المبارک کو پاکستان اور اسلامی ممالک کی عالمی تنظیم او آئی سی (آرگنائزیشن آف اسلامک کوآپریشن ( کے تحت مسلم دنیا میں ’’یومِ یتا میٰ ‘‘ (Orphans Day)کے طور پر منانے کا اعلان کیا ۔ مسلمان کی حیثیت سے اللہ تبار و تعالیٰ کے قرب کے حصول کا ایک ذریعہ یتیم کی کفالت ، ان کی زندگیا سنوارا، ان کے سر پر ہاتھ رکھنا، ان کے ساتھ اچھا سلوک کرنا ہے اور یہ ہمارے نبی آخر الزماں حضرت محمدﷺ کی سنت بھی ہے۔ عام طور پر عالمی دن کا تعین اقوام متحدہ ، یونیسف وغیرہ نے کیا ہے لیکن بعض صورتوں میں مختلف ممالک نے مخصوص دنوں کو اپنے طور پر منانے کا اہتمام کرلیا ہے۔ یتیم کی کفالت ، اس سے خصوصی محبت، عقیدت اور احترام مذہب اسلام میں ہی پایا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ یاکسی بھی عالمی تنظیم سے یہ امید ہی نہیں کی جاسکتی کہ وہ یتیموں، بیواؤں ، مسکینوں یا کسی بھی اسلامی روایات کے حوالے سے کسی دن کو عالمی دن قرار دیں۔پاکستان کے منتخب ایوان ’’سینٹ‘‘ نے یتیم اور بے سہارا بچوں کے لیے قرآن و حدیث میں موجود ہدایات کی روشنی میں اور ان کے جانب عوام کی توجہ مبزول کرانے کے لیے 15رمضان المبارک کو یتیموں اور بے سہار بچوں کا دن قرار دینے کی قرار داد ایوان میں منظور کی۔یہ قرار داد سینٹ میں قائد ایوان سینیٹر راجہ محمد ظفر الحق نے پیش کی تھی جسے متفقہ طور پر 20مئی 2016کو منظور کر لیا گیا ۔ جو ریزولوشن نمبر264کہلاتی ہے۔ اس کا بنیادی مقصد اس دن یتیم اور بے سہارا بچوں کے بارے میں آگاہی اجاگر کرنا ہے۔ متعلقہ اداروں کوایسے بچوں کی فلاح و بہبود کے لیے سماجی بہبود کے منصوبے تشکیل دینے کی جانب توجہ مبزول کرانا ہے۔ پاکستان کے علاوہ او آئی سی (Organization of Islamic Cooperation,OIC)نے بھی 15رمضان کو ’’یوم یتامیٰ‘‘ (Ophans Day)کے طور پر منانا طے کیا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد مسلم معاشرہ میں یتیم بچوں کے حقوق اور من حیث القوم معاشرے کی اجتماعی ذمہ داریوں کا شعور اجا گر کرنا ہے۔ پاکستان میں او آئی سی(OIC) کے اس فیصلے کا احترام کرتے ہوئے بے شمار تنظیموں نے خیر مقدم کیا اور اس دن یتیموں اور بے سہار بچوں کے حوالے سے پروگرام ترتیب دیے جاتے ہیں جن میں یتیموں کے لیے قر آن و سنت میں جو احکامات آئے ہیں ان پر مسلمانوں کی توجہ مبزول کرائی جاتی ہے۔ اس سلسلے میں یتیم بچوں کی فلاح و بہبود اور کفالت کرنے والے رفاہی ادارے ’’پاکستان آرفن کئر فورم ‘‘(Pakistan Orlphan Care Forum) کے پلیٹ فارم سے 15رمضان المبارک کو ملک بھر میں ’’یومِ یتامیٰ‘‘ منایا جاتا ہے۔ اس شعبہ سے وابستہ دیگر ادارے بھی اس دن مختلف پروگراموں کا اہتمام کرتے ہیں۔

سچی بات یہ ہے کہ میرے علم میں بھی یہ نہیں تھا کہ ’یوم یتامیٰ‘ کے لیے15رمضان عالمی دن قرار دیا ہوا ہے۔میں متعدد عالمی دنوں کی مناسبت سے کالم تحریر کرچکا ہوں جیسے ماں کا عالمی دن، باپ کا عالمی دن، کتاب کا عالمی دن، ویلنٹائن ڈے، ضعیف العمر افراد کا عالمی دن، معذوروں کا علمی دن، حجاب کا عالمی دن وغیرہ ۔مجھے اقوام متحدہ ، یونیسف، یونسکو یا کسی بی عالمی ادارے کی ویب سائٹس پر یتیموں کے عالمی دن کے بارے میں کچھ نہیں ملا۔ 29مئی کو ہمارے دوست معروف صحافی ، کالم نگار عطا محمد تبسم کی جانب سے ایک ای میل موصول ہوئی جو فارورڈیڈمیل تھی یعنی اس کے اصل محرک ایس اے شمسی تھے۔ای میل میں تحریر تھا کہ’’15رمضان المبارک کو دنیا بھر میں یتیموں کا عالمی دن منایا جاتا ہے ۔ اس سلسلے میں امید ہے آپ اپنے قلم کی ذکواۃ ادا کرنے کے لیے کچھ ضرورلکھیں گے‘‘۔ یہ تحریر عطا صاحب کی بھیجی ہوئی ای میل کے نتیجے میں تحریر ہوئی۔ جس کے لیے ان کا شکریہ کہ انہوں اہم موضوع پر لکھنے کی ترغیب دی اور میں نے اپنے قلم کی ذکواۃ بھی ادا کردی۔

اسلام ایک ایسا مذہب ہے کہ جس نے انسان کو تاریکی، بے راہ روی، اندھیرے، ظُلم و ستم، تیرگی، جہالت ، بے انصافی، بے حیائی ، بے اعتدالی ، انتشار، ناشائستگی ، فحاشی ، عریانیت ، ہوس پرستی ، فاحشہ پن ، ہزل ، عصمت وردی، زبر دستی، غرض ہر طرح کی سماجی برائیوں کے اندھیروں سے نکال کر روشنی ، پاکیزگی، طہارت، نظافت، اعتدال، عصمت ، عفت، شائستگی، پاک دامنی، تقویٰ، پرہیز گاری، ایمانداری، دیانت داری، ازار بندی، حجاب ، عورت کو برابری کا حق، بڑوں کا احترام چھوٹا سے شفقت، بزرگوں کا ادب ولحاظ ، غریبوں اور ضروت مندوں کی حاجات کا احترام ، بیواؤں اور یتیم بچوں کے ساتھ حسن سلوک کا درس دیا۔ یتیموں کے حوالے سے قرآن ہمیں جو ہدایت دیتا ہے اور ر نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ نے جو ہدایات دیں وہ ہمارے لیے رہنما ہیں۔ ان پر عمل کرنا مسلمان کے لیے لازم ہے۔ قرآن کریم اور رسول اکرم ﷺ کے فرمودات ہی ہیں کہ ہمارے ملک میں غریب، مسکین، بے سہارا ، یتیم بچوں اور بے سہارو مردوں اور عورتوں کی دیکھ بھال کے لیے فلاحی اداروں کا ایک جال بچھا ہوا ہے۔ ان فلاحی اداروں کی سرگرمیاں یوں تو سال بھر جاری و ساری رہتی ہیں لیکن رمضان المبارک کی برکت سے فلاحی سرگرمیاں نہ صرف زیادہ ہوجاتی ہیں بلکہ اس میں ہر ایک صاحب استطاعت کوشش کرتا ہے اپنا حصہ ڈالنے کی۔ جگہ جگہ افطار و سحری کا اہتمام، غریبوں ، مسکینوں، یتیموں ، بے سہارا خاندوں میں کھانے پینے کی اشیاء کی تقسیم، کپڑوں کی تقسیم الغرض جس کو اللہ نے جو دیا وہ اس کے مطابق اللہ کی راہ میں دیتا ہے اور اس کار خیر میں شریک ہوکر اللہ کی خوشنودی حاصل کرتا ہے۔لمحہ موجود میں پاکستان کے ٹی وی چینلز جہاں اچھائیاں کم اور برائیاں کی جانب زیادہ مائل نظر آتے ہیں اپنے مخصوص رمضان کے پروگراموں میں یتیم، مسکین، بے سہارا بچوں اور خاندانوں کی فلاح و بہبود کے لیے انہیں دلاسا دینے کے لیے انہیں اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کے لیے، بیمار لوگوں کے علاج کے لیے، بے گھروں کیلیے گھروں کا انتظام کرنے کے لیے اچھا کام کیا ہے، جو اچھا ہے اسے اچھا کہنا چاہیے جو برا ہے ، منفی اثرات معاشرے پر ڈال رہا ہے اسے غلط اور اس کی نفی کرنی چاہیے۔ چاہے کسی کو اچھا لگے یا برا۔

لفظ ’یتیم‘ ایسے بچے (لڑکے) یا بچی (لڑکی) کے لیے استعمال ہوتا ہے جس کے باپ کا انتقال ہوچکا ہو۔ اسلامی قانون کی روشنی میں یتیم کی یہ تعریف کی گئی ہے کہ ایسا بچہ (لڑکا یا لڑکی) جس کا باپ نہ ہو یا اس کا انتقال ہوچکا ہو اور وہ ابھی سمجھداری یا شادی کی عمر کو نہ پہنچا ہو’’یتیم ‘‘ کہلاتا ہے۔ دوسرے معنوں میں بن باپکا، بے بدر، بے مثال، بے نظیر،بے نظیر موتی، بے کس، بے یار، بے یار و مددگار، قیمتی جواہر، وہ بچہ جس کی ماں یا باپ دونوں مر گئے ہوں یتیم (Orphan) کہلاتا ہے ۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید کی کئی آیات میں یتیم کے حوالے سے بہت تفصیلی بات کی ہے۔ یتیموں کے بارے میں ہمیں متعدد احادیث بھی ملتی ہیں۔ مسلمان کی رہنمائی کے لیے قرآن اور حدیث سے بڑھ کر کوئی اور ذریعہ نہیں ہوسکتا ۔ ان ہدایات پر عمل کر کے ہم دنیا اور آخرت کے لیے نیکیاں کماسکتے ہیں۔اصطلاع میں یتیم کا لفظ اس وقت تک استعمال کیا جاسکتا ہے جب تک کہ ایک لڑکی بلوغت کی عمر کو نہ پہنچ جائے لیکن یہ مجازاً استعمال کیا جاسکتا ہے حقیقی طور پر نہیں۔

قرآن پاک کی سورۃ الضحیٰ کی آیت 9میں کہا گیا ’’لہٰذا یتیم پر سختی نہ کرنا‘‘۔ سورۃ الماعون کی آیت 1،2میں کہا ’’ کیا تم نے اس شخص کو دیکھا جو جزا ور سزا کو جھٹلاتا ہے؟ یہ وہی (بد بخت) ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے‘‘۔سورۃ البقرہ سورۃ 220میں کہا گیا ترجمہ ’’اور تم سے یتیموں کے بارے میں بھی دریافت کرتے ہیں کہہ دو ان کی (حالت کی ) اصلاح بہت اچھا کام ہے اور اگر تم اُن سے مل جُل کر رہنا (یعنی اکٹھا رکھنا) چاہوں تو وہ تمہارے بھائی ہیں‘‘۔سورۃ النساء آیت 2۔10میں یتیموں اور ان کے مال کے بارے میں فرمایا گیا ’’اور یتیموں کا مال (جو تمہاری تحویل میں ) اُن کے حوالے کردو اور اُن کے پاکیزہ (اور عمدہ) مال کو( اپنے ناقص اور( بُرے مال سے نہ بدلو۔ اور نہ اُ ن کا مال اپنے مال میں ملاکر کھاؤ۔ کہ یہ بڑاسخت گناہ ہے‘‘۔ آگے کہا گیا ’’اور یتیموں کو بالغ ہونے تک کام کاج میں مصروف رکھو پھر (بالغ ہونے پر) اگر اُن میں عقل کی پختگی دیکھو تو اُن کے حوالے کردو‘‘۔ اور اسی سورہ کی اگلی آیت میں کہا گیا ’’جو لوگ یتیموں کا مال ناجائز طور پر کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں آگ بھرتے ہیں اور دوزخ میں ڈالے جائیں گے‘‘۔ سورۃ الا نعام آیت152میں کہا گیا ’’اور تیم کے مال کے پاس بھی نہ جانا مگر ایسے طریق سے کہ بہت ہی پسندیدہ ہو۔ یہاں تک کہ وہ جوانی کو پہنچ جائیں‘‘۔

اللہ کے رسول نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ نے یتیموں کے ساتھ حسنِ سلوک کرنے اوران کی دیکھ بھال کرنے کے بارے میں سخت تاکید فرمائی۔ سیدنا ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہﷺ سے دل کی سختی کی شکایت کی۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اگر تم چاہتے ہو کہ تمہارا دل نرم ہو تو مسکین کوکھانا کھلاؤ اور یتیم کے سرپر ہاتھ پھیرو‘‘۔ترمذی شریف کی حدیث ہے ،ابو اُمامہؓ حدیث کے راوی ہیں ۔ فرمایا نبی کریم ﷺ نے ’’اگر کوئی شخص کسی یتیم کے سرپر شفقت سے اپنا ہاتھ پھیرے گا، تو اللہ قیامت کے دن اس یتیم کے اُن بالوں کی تعداد کے برابر ، جن پر اس شخص کا ہاتھ مس ہوا ، نیکیاں لکھ دے گا، اور اگر کوئی شخص کسی یتیم لڑکے یا لڑکی کے ساتھ نیکی یا بھلائی سے پیش آتا ہے تو میں اور وہ جنت میں پاس پاس ہونگے جس طرح میرے ہاتھ کی یہ دو انگلیاں قریب قریب ہیں‘‘۔ایک دوسری حدیث جس کے راوی حضرت ابو ہریرہؓ ہیں فرماتے ہیں آپ محمدﷺ نے فرمایا ’’مسلمانوں کا وہ گھر بہترین گھر ہے جس میں کوئی یتیم بچہ یا بچی ہو اور اس کے ساتھ اچھا سلوک کیا جاتا ہو۔ اور بدتر گھر مسلمانوں میں وہ گھر ہے جس میںیتیم ہو اور اس کے ساتھ برا سلوک کیا جاتا ہو‘‘۔ صحیح بخاری کی حدیث جسے بیان فرمایا ہے سہیل بن سعدؓ نے ۔ آپ محمدﷺ نے فرمایا ’’میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا شخص جنت میں اس طرح قریب ہونگے اور آپ ﷺ نے اپنی شہادت کی انگلی اور بیچ والی انگلی سے اشارہ کیا کہ اس جیسے یہ دو انگلیاں ہیں‘‘۔سیدنا ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :’’اے اللہ! میں دو ضعیفو کے حق سے بہت ڈرتا ہو(کہ ان میں کوتاہی مت کرنا) ایک یتیم اور دوسری عورت‘‘۔ قرآنی آیات اور احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ہمیں بہ حیثیت مسلما ن یتیموں کے ساتھ ہر ممکن پیار و محبت اور حسن اخلاق سے پیش آنا چاییے ان کی معاشرتی ضروریات پر توجہ رکھنی چاہیے۔

پاکستان میں بے سہارا، بے یار و مددگار اور یتیموں کی بنیادی زندگی کی ضروریات کو پورا کرنے کے متعدد ادارے قائم ہیں، بعض ادارں نے یتیموں اور بے سہارا خواتین کے ادارے بھی قائم کیے ہوئے ہیں۔ ان میں الخدمت فاؤنڈیشن ملک بھر میں آرفن کیئر پروگرام کے تحت یتیم بچوں کی کفالت کر رہی ہے۔عالمی ادارے یونیسیف کے مطابق ملک بھر میں 42لاکھ بچے یتیم ، جو زندگی کی بنیادی ضروریات سے محروم ہیں۔ ’الخدمت‘ ملک بھر میں 7ہزار سے زائد یتیم بچوں کی ان کے گھروں پر کفالت کر رہی ہے۔ الخدمت کے مطابق 10ہزار بچوں کی کفالت کا ہدف مقرر کیا گیا تھا جسے جلد پورا کیا جائے گا۔یہ ہر یتیم بچے کی کفالت 3ہزار روپے ماہانہ اور 36ہزار روپے سالانہ سے کر رہی ہے۔ صارم برنی ٹرسٹ کی خدمات یتیم بچوں اور بے سہارا لوگوں کے لیے سب کے سامنے ہیں ، روشنی ہوم ٹرسٹ، ایدھی فاؤنڈیشن نے بے سہارا لوگوں کے لیے متعدد ادارے قائم کیے ہوئے جن میں یتیم ، بے سہارا مرد و خواتین اپنی زندگی گزار رہے ہیں۔ سیلانی ویلفئر سینٹر، خپل کور فاؤنڈیشن، منہاج ویلفئر فاؤنڈیشن کے تحت ’آغوش‘ یتیموں کی دیکھ بھال میں مصروف ہے۔ اس کاآرفن کیٗر ہوم کام کررہا ہے۔ نیڈو آرفن کیٗر ہوم، دارالا امان ، Adopt an Orphanage, New Life Orphanage, Islamabad, Nido Orphan Homeاور دیگر ادارے اس شعبے میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ پاکستان میں دینی مدارس ہزاروں کی تعداد میں قائم ہیں جہاں یتیم و بے سہارا بچوں کو دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ ان کے طعام و قیام کے انتظامات بھی ہوتے ہیں۔ یہ ادارے یتیموں کی فلاح و بہبود کے حوالے سے اپنا ثانی نہیں رکھتے۔قرآن کی تعلیم کے ساتھ ساتھ ان کی روزمرہ زندگی کی ضروریات کی تکمیل عوام کی مدد اور تعاون سے انجام دیتے ہیں۔اسلامی معاشرہ اولڈ ہومز کی نفی کرتا ہے اور بزرگ شہریوں کی دیکھ بھال اور ان کی نگہداشت ان کے بچوں کی ذمہ داری قرار دیتا ہے۔ ہمارے ملک میں اہل مغرب کی طرح اولڈ ہاوسیز تو نہیں لیکن بے کس و بے سہار، الوگوں اور یتیموں اور مسکینوں کے لیے ادارے قائم ہیں۔یتیموں اور بے سہارا بچوں اور افراد کی مدد کرنے کے لیے کوئی دن مقرر نہیں جس کو جب اور جہاں موقع ملے ان کی مدد کی جاسکتی ہے۔ 15رمضان کا دن یتیموں کے لیے مقرر کرنے کا مقصد یہ نہیں کہ ہم صرف اسی دن ان کے لیے سوچیں یاان کی مدد کریں۔ اس دن کے انتخاب کا واحد مقصدلمحہ موجود میں یتیم بچوں کے حقوق اور من حیث القوم معاشرے کی اجتماعی ذمہ داریوں کا شعور اجا گر کرنا ہے۔

Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
10 Jun, 2017 Views: 2049

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ
An important step is being taken for the orphans and abandoned children around the world. The fifteenth of Ramadan has been declared as a special day for the orphan children of the world for the first time in 2014.