مسلم لیگ (ن) کی حکومت مشکلات میں گھر گئی

(عابد محمود عزام, Lahore)

پاناما لیکس کے ہنگامے نے گزشتہ سال سے ملکی سیاست میں بھونچال برپا کیا ہوا ہے۔ پاناما لیکس کی وجہ سے شریف فیملی مختلف قسم کی مشکلات کا شکار ہے۔ پاناما لیکس میں نام آنے پر مختلف ممالک کے سربرہان نے استعفیٰ دے دیا تھا، اس لیے پاکستان میں بھی حکمرانوں سے گزشتہ سال سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا جارہا ہے، مگر پاکستان میں ایسا نہیں ہوا، جس کے بعد عوام کی جانب سے مظاہرے ہوئے، احتجاج کیے گئے، لیکن حکمران استعفیٰ دینے کو تیار نہ ہوئے۔ اپوزیشن کا زور بڑھتا گیا۔ مختلف مراحل سے گزر کر اب جے آئی ٹی اس معاملے میں اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔ شریف فیملی کے ارکان جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہورہے ہیں۔ میاں نواز شریف کو بھی جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونا پڑ سکتا ہے۔ جے ٹی آئی میں پیش ہونے والے ثبوت اور دیگر کئی معاملات کی وجہ سے شریف فیملی مشکلات میں گھرتی نظر آرہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شریف فیملی شدید دباؤ میں ہے اور میاں نواز شریف استعفیٰ دے سکتے ہیں۔بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پانامالیکس کی تحقیقات کرنے والے جے آئی ٹی کے پاس درجن سے زاید افراد نے رضاکارانہ طور پرشریف فیملی کی کرپشن کے ثبوت پہنچادیے ہیں، جن سے معلوم ہوا ہے کہ پاناماکیس کے علاوہ وزیراعظم اوران کا خاندان کس طرح کرپشن کرکے لوٹ مارکرتارہا، جس کے بعد وزیراعظم نوازشریف کے لیے بچنامشکل ہوگیا ہے۔ ان دنوں میاں نواز شریف کے لیے کئی قسم کی مشکلات ہیں۔ اپوزیشن کی جانب سے کئی ایشوز پر محاذ کھولا گیا ہے۔ اپوزیشن کی تمام جماعتیں حکومت کے خلاف متحد ہوکر میدان میں ہیں۔ جبکہ مسلم لیگ کے سینیٹر نہال ہاشمی کی تقریر نے حکومت کے لیے مزید مشکلات پیدا کردی ہیں۔ نہال ہاشمی نے اپنی تقریر میں شریف فیملی کا احتساب کرنے والے ججوں کو دھمکیاں دیتے ہوئے کہا تھا کہ جب وہ ریٹائرڈ ہوجائیں گے تو اس کے بعد ان پر زمین تنگ کردیں گے۔ نہال ہاشمی کی تقریر ہی ابھی موضوع بحث بنی ہوئی ہے کہ پاناما لیکس کے معاملے میں اب شریف فیملی کا اہم ثبوت قطری خط لکھنے والے شہزادے نے بھی جے ٹی آئی کے سامنے پیش ہونے سے انکار کردیا ہے، حالانکہ جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونا ضروری تھا۔ اس سے حکومت کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔

نہال ہاشمی نے 28 مئی کو تقریر کی تھی جس میں وزیر اعظم میاں نواز شریف اور ان کے صاحبزادوں کے حوالے سے یہ دھمکیاں دی گئی تھیں کہ جو کوئی نواز شریف کے بیٹوں سے حساب لے رہا ہے، اس کے، اس کی اولاد اور خاندان پر زمین تنگ کردی جائے گی۔ اس تقریر کے بعد ن لیگ نے ان سے بطور سینیٹر استعفیٰ لے لیا تھا اور ان کی پارٹی رکنیت معطل کردی گئی تھی۔ سپریم کورٹ کی جانب سے اس تقریر پر ازخود نوٹس کے بعد نہال ہاشمی کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا گیا تھا اور اٹارنی جنرل اشتراوصاف کو اس تقریر کے حوالے سے مزید کارروائی اور رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کرنے کی ہدایت کی تھی جس کے بعد اٹارنی جنرل کی جانب سے سندھ حکومت کو ایک خط لکھا گیا تھا جس میں نہال ہاشمی کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے کہا گیا تھا۔ ادھر خط ملنے پر سندھ کے ایڈووکیٹ جنرل ضمیر گھمرو نے صوبائی حکومت نہال ہاشمی کیخلاف مقدمہ درج کرانے کے لیے خط لکھا تھا۔ سندھ حکومت نے اس خط کی روشنی میں ایس ایچ او بہادرآباد خوشنود جاوید کی مدعیت میں مقدمہ الزام نمبر 112/2017 درج کرلیا۔ مقدمے میں 189, 228, 505 کی دفعات لگائی گئی ہیں۔ مقدمے کے مطابق نہال ہاشمی نے یہ خطاب بنگلہ نمبر G-89 کے ڈی اے اسکیم ون کراچی (مسلم لیگ ہاوس) میں کیا تھا۔ ایف آئی آر میں لکھا گیا ہے کہ نہال ہاشمی نے عدلیہ کے خلاف دھمکی اور تضحیک آمیز الفاظ استعمال کیے، جبکہ عدلیہ کے فرائض منصبی کو نقصان پہنچانے کی دھمکی دی گئی اور عدلیہ کی توہین کی گئی۔ نہال ہاشمی نے اپنی تقریر میں عدلیہ اور سرکاری تحقیقاتی اداروں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور عوام میں عدلیہ خلاف نفرت انگیز جذبات پیدا کیے۔ ایس پی گلشن اقبال غلام مرتضی نے بتایا کہ ملزم کی گرفتاری کے لیے ٹیم تشکیل دی جا رہی ہے، جس کے بعد ان کی گرفتاری عمل میں لائی جائے گی۔ نہال ہاشمی کی تقریر حکومت کے لیے گلے کی ہڈی ثابت ہوئی ہے، کیونکہ ان کے تقریر کرنے کے بعد حکومت نے ان کو استعفیٰ دینے کا کہا تھا، جس کو اپوزیشن نے حکومت کی ملی بھگت قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ نہال ہاشمی نے جو بھی کہا حکومت کے کہنے پر کہا ہے۔

اپنی متنازعہ تقریر پر ہنگامہ کھڑا ہونے کے بعد نہال ہاشمی نے مسلم لیگ (ن) کی قیادت کی ہدایت پرسینیٹ کی رکنیت سے استعفیٰ چیرمین سینیٹ کے دفتر میں جمع کرادیا تھا، لیکن اب وہ چاہتے ہیں کہ یہ استعفیٰ منظور نہ کیا جائے۔ اس سلسلے میں انہوں نے دو روز قبل اپنے وکیل کے ذریعے رضا ربانی کو ایک خط بھی بھیجوایا تھا اور اب نہال ہاشمی نے بذات خود ان سے ملاقات کی ہے، جس میں انہوں نے درخواست کی ہے کہ سینیٹ رکنیت سے استعفیٰ غیر معمولی حالات میں دیا۔ اس وقت ان پر شدید دباؤ تھا۔ اس حوالے سے عدالتی کارروائی بھی چل رہی ہے۔ اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے فوری استعفیٰ واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔مسلم لیگ (ن) کے وفد نے بھی چیرمین سینیٹ سے ملاقات کی ہے جس میں انہوں نے درخواست کی ہے کہ نہال ہاشمی کا استعفیٰ منظورکیا جائے۔ اپوزیشن نے نہال ہاشمی کے استعفے اور واپسی کی کہانی کو (ن) لیگ کا کھیل قراردیتے ہوئے کہا کہ نہال ہاشمی وہی کررہے ہیں جو نوازشریف نے انہیں بتایا۔ سینیٹ میں قائد حزب اختلاف سینیٹر اعتزاز احسن نے نہال ہاشمی کی تقریر اور ان کے خلاف اپنی ہی پارٹی کا ایکشن سمیت استعفے کی واپسی کو (ن) لیگ کا کھیل قراردیتے ہوئے کہا ہے یہ سب کچھ طے شدہ منصوبے کے تحت ہورہا ہے۔اپوزیشن کے مطابق تمام واقعات کا تسلسل بتاتا ہے کہ سب کچھ منصوبہ بندی کے تحت کیا جارہا ہے۔ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا کہنا تھا کہ نوازشریف کرپشن کے گاڈ فادر ہیں اور وہ ان مافیا کے گاڈ فادر ہیں جو ملک کو لوٹ رہے ہیں، یہ سیاسی مافیا ریاست کے اداروں کو تباہ کررہی ہے جب کہ جے آئی ٹی کے قیام کے فیصلے پر یہ لوگ خوشیاں منارہے تھے، مگر اب یہی جے آئی ٹی کو مشکوک بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں پیش گوئی کررہا ہوں یہ لوگ اب پھنس چکے ہیں کیوں کہ قطری شہزادے نے بھی گواہی کے لیے آنے سے انکار کردیا ہے اور مجھے لگ رہا ہے (ن) لیگ جے آئی ٹی پر حملہ کرے گی تاہم یہ 1997 نہیں اور نہ ہی اب کوئی چپ بیٹھے گا۔

دوسری جانب قطری شہزادے حماد بن جاسم جے آئی ٹی کے سامنے پیش نہ ہونے کا فیصلہ بھی حکومت کے لیے ایک بڑا دھجکا ہے۔ حکمران خاندان کی مشکلات کم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہیں۔ پاناما لیکس کی جان قطری شہزادے کے خط میں اٹکی ہوئی ہے۔پاناما معاملے کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی نے 19 مئی کو قطری شہزادے کوخط لکھ کر25 مئی کو پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔ قطری شہزادے کوخط پاکستانی سفیرنے قطر میں پہنچایا تاہم شہزادہ حماد بن جاسم کے قطرمیں موجودہونے کے باعث خط بروقت نہ مل سکا، لیکن بعد میں انہوں نے خط کا جواب دیا ہے۔ سپریم کورٹ میں پاناما لیکس کیس کی سماعت کے دوران وزیراعظم اوران کے خاندان کو آزمائش سے نکالنے کے لیے قطری شہزادے کا خط آگیا۔ قطری خط میاں صاحب کے صاحبزادوں کی بیگناہی کے ثبوت کے طور پر پیش کیا گیا،کیس کا فیصلہ آیا تو کہا گیا کہ قطری شہزادے کو جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہو کر اس خط کی سچائی کے بارے میں گواہی دینا ہو گی، جس پر جے آئی ٹی نے قطری شہزادے کو نوٹس جاری کر دیا۔ قطری شہزادے حماد بن جاسم نے اب جے آئی ٹی کے نوٹس کا جواب دے دیا ہے۔ جے آئی ٹی نے قطری شہزادے کو خط کے ذریعے تین تجاویز دی تھیں کہ وہ پانامہ کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں پاکستان آ کر تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہوں یا ویڈیو لنک کے ذریعے اپنابیا ن ریکار ڈ جمع کرائیں، جبکہ آخری تجویز تھی کہ جے آئی ٹی کے دو ممبران قطر جا کر ان کا بیان لیں۔ تاہم ذرائع کے مطابق قطری شہزادے حماد بن جاسم نے جے آئی ٹی کی تینوں تجاویز کو مسترد کر دیا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ دنوں عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر حماد بن جاسم پیش نہ ہوئے تو ان کے خط کی کوئی اہمیت نہیں رہے گی۔ نامہ لیکس مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے اجلاس میں قطری شہزادے حمد بن جاسم کے جوابی خط کا جائزہ لیا گیا۔جے آئی ٹی آج 15روزہ پیشرفت رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کرے گی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ قطری شہزادے کے پیش نہ ہونے سے شریف فیملی کی مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں، جبکہ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے دعویٰ کیا کہ پاناما لیکس اسیکنڈل پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بننے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی ابتدائی کارروائی کے بعد وزیراعظم نواز شریف اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کے لیے ذہنی طور پر تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی کو بھی غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے لندن فلیٹس قطریوں کی ملکیت ہیں۔ سیکورٹی کی یقین دہانی کروا نے کے بعد قاضی خاندان بھی اپنا بیان ریکارڈ کروانے پاکستان آجائے گا۔ وزیراعظم اپنے صاحبزادی کو بچانے کے لیے ہر حد تک جانے کو تیار ہیں۔ کیس جتنا پیچیدہ ہوتا جائے گا، اتنی ہی ن لیگ کی مشکلات میں اضافے کا سبب بننے گا۔ جے آئی ٹی کے ارکان کی سیکورٹی پر بھی خدشات کا اظہار کیا، انہیں مکمل تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت جے آئی ٹی کے ارکان پر سخت دباو ہے، اگر سیکورٹی نہ دی گئی تو ان 60 دنوں میں کوئی بڑا حادثہ بھی پیش آسکتا ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شریف فیملی مشکلات میں گھرتی جارہی ہے، آئندہ دنوں میں شریف فیملی کے لیے مزید مشکلات کھڑی ہوجائیں گی اور ممکن ہے میاں نواز شریف آئندہ دنوں میں استعفیٰ دے دیں، کیونکہ اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: عابد محمود عزام

Read More Articles by عابد محمود عزام: 869 Articles with 425938 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
11 Jun, 2017 Views: 360

Comments

آپ کی رائے