پیارے نبی ﷺ کے پیارے معجزات

(Tariq Noman, )
معجزہ کا مطلب عاجز کر دینا، عقل کو حیران کر دینا، کسی کام کی کوئی سائنسی توجیہ سمجھ میں نہ آنا، اسباب کے بغیر کسی کام کا ہوجانا، وغیرہ معجزہ کہلاتے ہیں۔دوسرے لفظوں میں’’ خرق عادت ‘‘کام کو معجزہ کہتے ہیں۔بعض خلاف عادت باتیں اﷲ پاک اپنے رسولوں اور نبیوں کے ہاتھ سے ظاہر کرا دیتا ہے، جن کے کرنے سے دنیا کے لوگ عاجز ہوتے ہیں، تاکہ لوگ ان باتوں کو دیکھ کر اسی نبی کی نبوت کو سمجھ لیں، نبیوں اور رسولوں کی ایسی خلاف عادت باتوں کو ’’معجزہ ‘‘کہتے ہیں
نبوت کی دلیل
نبی کے دعوی نبوت میں سچے ہونے کی ایک دلیل یہ ہے کہ نبی اپنے صدق کا اعلانیہ دعوی فرماکر محالاتِ عادیہ کے ظاہر کرنے کا ذمہ لیتا اور منکروں کو اس کے مثل کی طرف بلاتا ہے، اﷲ عزوجل اس کے دعوی کے مطابق امرِ محالِ عادی ظاہر فرما دیتا ہے اور منکرین سب عاجز رہتے ہیں اسی کو معجزہ کہتے ہیں ، جیسے حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی، حضرت موسی علیہ السلام کے عصا کا سانپ ہو جانااور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مردوں کو جِلا دینا اور مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو اچھا کر دینا اور ہمارے حضور ﷺکے معجزے تو بہت ہیں۔
کفارِ قریش نے رسول ﷺسے معجزہ طلب کیااور کہنے لگے اگر تم سچے نبی ہوتو چاند کے دو ٹکڑے کردوحضورﷺنے چاند کی جانب اشارہ فرمایاوہ دو ٹکڑے ہوگیا۔
آج کل لوگ کچھ خارق العادہ چیزوں کو معجزہ سمجھ لیتے ہیں جبکہ وہ کرامت یا شعبدہ بازیاں ہوتی ہیں اہل اﷲ سے صادر ہونے والے تمام کام کرامت ہوتے ہیں معجزہ اور کرامت میں یہی فرق ہے کہ کرامت اولیا ء اﷲ سے صادر ہوتی ہے مگر اسکا مقصد حفظ دین یا ترویج دین ہوتا ہے اثبات نبوت نہیں۔
نبی پاک ﷺ کے تمام انبیاء علیہم السلام سے زیادہ معجزات ہیں جن میں سے چند درج ذیل ہیں
مقام حدیبیہ پر پانی میں برکت کا ظہور
حضرت جابر رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ حدیبیہ کے روز لوگوں کو سخت پیاس لگی۔ نبی اکرم ﷺ کے سامنے چمڑے کے برتن میں پانی تھا۔ آپ ﷺ نے اس سے پانی لے کر وضو کیا تو لوگ آپ ﷺ کی طرف تیزی سے لپکے۔ آپ ﷺ نے یہ منظر دیکھ کر فرمایا: تمہیں کیا ہوگیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا، ہمارے پاس نہ وضو کے لیے پانی ہے نہ پینے کے لیے بس یہی ہے جو اس برتن میں ہے۔ آپ ﷺ نے اس برتن میں اپنا دست مبارک ڈالا، پھر کیا تھا کہ ٓاپ ﷺ کی انگلیوں سے پانی چشمے کی طرح ابلنے لگا۔
جسے ہم نے جی بھر کر پیا اور اس سے وضو بھی کیا۔ حضرت جابر رضی اﷲ عنہ سے کسی نے پوچھا: کہ آپ اس وقت کتنے تھے؟ حضرت جابر رضی اﷲ عنہ نے جواب دیا اس روز ہم پندرہ سو آدمی تھے لیکن اگر ہم اس روز ایک لاکھ بھی ہوتے تو یہ پانی سب کے لیے کافی ہوتا۔( بخاری شریف )
انگشتان رسول ﷺ سے پانی کا جاری ہونا
امام قرطبی رحمۃاﷲ تعالی علیہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ کی انگشتان مبارک سے پانی کے پھوٹ پڑنے کا معجزہ متعدد مقامات پر بڑے بڑے عظیم اجتماعات کے سامنے کئی بار رونما ہوا اور متعدد طریق سے منقول ہوا، یہ تمام روایات مل کر علم قطعی کا فائدہ دیتے ہیں جس طرح کہ متواترِ معنوی سے یقینی علم حاصل ہوتا ہے۔ علما کرام فرماتے ہیں کہ اس قسم کا معجزہ نبی اکرمﷺ کے علاوہ کسی اور پیغمبر سے مسموع (ثابت )نہیں کیونکہ یہ پانی آپﷺ کی ہڈیوں، پٹھوں، گوشت اور خون کے درمیان سے جاری ہوا۔
امام ابن عبدالبر رحمۃاﷲ تعالی علیہ امام مزنی سے نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ کی مبارک انگلیوں سے پانی کا جاری ہونا پتھر سے پانی پھوٹ پڑنے سے عجیب تر اور بڑا ہے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے عصائے مبارک کی ضرب سے جاری ہوا تھا کیونکہ چٹان سے پانی رواں ہونا امر عادی ہے،جبکہ گوشت اور خون کے درمیان سے پانی نکلنا خلاف عادت اور معجزانہ فعل ہے۔
نبی اکرم ﷺ کی انگشت ہائے مبارکہ سے کثیر مقامات پر پانی جاری ہونے کے معجزہ کو صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کی ایک جماعت نے روایت کیا ہے جن میں حضرت انس رضی اﷲ عنہ حضرت جابر رضی اﷲ عنہ، حضرت ابن مسعود رضی اﷲ عنہ، حضرت ابن عباس رضی اﷲ عنہ، ابو یعلی رضی اﷲ عنہ، ابورافع رضی اﷲ عنہ اور زیاد بن حارث رضی اﷲ تعالی عنہ شامل ہیں۔
امام قسطلانی فرماتے ہیں: ظاہر یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ کی مبارک انگلیوں سے پانی کا بہنا،دیکھنے والے کی نسبت سے تھا حالانکہ حقیقت میں یہ اس برکت کا مظہر تھا جو نبی اکرم ﷺ کے برتن میں دست مبارک ڈالنے سے ظاہر ہوئی تھی اور پانی میں اضافہ ہوگیا تھا اور دیکھنے والے نے یہ سمجھا کہ یہ پانی نبی اکرمﷺ کی انگشتان مبارک سے نکل رہا ہے۔ امام نووی نے شرح مسلم میں جس نکت نگاہ کی تصریح کی ہے، اس کی تائید حضرت جابر رضی اﷲ تعالی عنہ کے ارشاد سے ہوتی ہے، وہ فرماتے ہیں۔ میں نے نبی اکرم ﷺ کی انگشتان مبارک سے پانی پھوٹتے ہوئے دیکھا۔ حضرت معاذ بن جبل سے روایت ہے کہ صحابہ کرام نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ غزوہ تبوک کے لیے نکلے آپ نے پیشن گوئی فرمائی، ان شا ء اﷲ تم لوگ کل صبح تبوک کے چشمے پر پہنچ جا ؤگے۔
اس وقت سورج نکل آیا ہوگا۔ پس جو آدمی وہاں پہلے پہنچے تو وہ پانی میں ہاتھ نہ ڈالے۔ آپ جب تشریف لائے تو وہ چشمہ جوتے کے تسمے کی مانند تھوڑا تھوڑارس رہا تھا آپ ﷺ نے تھوڑا تھوڑا کرکے پانی اکٹھا کیا پھر اس سے منہ ہاتھ دھوکر اسے دوبارہ چشمے میں ڈال دیا جس کی وجہ سے چشمے کا پانی زور سے بہنے لگا اور صحابہ کرام نے جی بھر کر پیا، اس کے بعد حضور ﷺ نے فرمایا: اے معاذ!اگر تم نے عمر دراز پائی تو دیکھوگے کہ یہ علاقہ باغات سے بھر پور ہوگا۔
مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ ہم جب تبوک کے چشمے پر پہنچے تو ہم سے پہلے دو آدمی چشمے پر پہنچ چکے تھے۔ نبی اکرمﷺ نے ان سے دریافت فرمایا کیا تم نے پانی کو مس کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیاہاں تو آپ ﷺ نے ان کو سخت سست کہا، بعد ازاں صحابہ کرام نے چشمے سے تھوڑا تھوڑا پانی جمع کیا اور ایک مشکیزے میں ڈال کر حضور ﷺ کی خدمت میں پیش کیا۔ آپ ﷺ نے اس سے منہ ہاتھ دھویا اور اس پانی کو دوبارہ چشمے میں ڈال دیا جس کی وجہ سے چشمہ موجزن ہو گیا۔ ابن عبدالبراند لسی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ بعض محدثین کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ ہم نے اس مقام کا مشاہدہ کیا ہے اور اس چشمے کے آس پاس سر سبزو شاداب باغات دیکھے ہیں۔قاضی عیاض مالکی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ ابن اسحاق سے نقل کرتے ہیں کہ چشمے کا پانی پھوٹنے سے اس طرح شور ہوا جیسے بجلیاں کڑکتی ہیں۔ واقدی اور ابو نعیم حضرت قتادہ رضی اﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ہم لوگ تبوک کی فوجی مہم میں حضور ﷺ کے ہمراہ جارہے تھے کہ پیاس کا غلبہ ہوا قریب تھا کہ لوگ، گھوڑے اور اونٹ شدت پیاس سے دم توڑ دیتے۔
حضورﷺ نے ایک مشکیزہ جس میں کچھ پانی تھا طلب فرمایا، آپ نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھا تو آپ کی انگشتان مبارک سے پانی کا فوارہ پھوٹ پڑا تو لوگوں نے اسے جی بھر کر پیا، یہاں تک کہ ان کے گھوڑے اور اونٹ بھی سیراب ہوگئے۔ اس وقت صحابہ کرام کی اس فوج کے پاس بارہ ہزار اونٹ بارہ ہزار گھوڑے اور تیس ہزار مجاہد تھے۔( مسلم شریف )
سات کھجوروں میں برکت
حضرت عرباض بن ساریہ رضی اﷲ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ تبوک میں تھا۔ ایک رات نبی اکرم ﷺ نے حضرت بلال ؓ سے دریافت فرمایا: کچھ کھانے کے لیے ہے؟ حضرت بلالؓ نے عرض کیا، قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے ہم تو اپنے توشہ دان جھاڑ چکے ہیں، فرمایا: دیکھ لو، شاید کچھ مل جائے۔پس انہوں نے توشہ دان لے کر ایک ایک توشہ دان جھاڑنا شروع کیا جن سے ایک ایک دو دو کھجوریں نیچے گریں، یہاں تک کہ میں نے ان کے ہاتھ میں سات کھجوریں دیکھیں، پھر آپ ﷺنے ایک طباق منگوا کر یہ کھجوریں اس پر ڈال دیں اور اپنا دست اقدس ان کجھوروں کے اوپر رکھ دیا، فرمایا: اﷲ کا نام لے کر کھا پس ہم تینوں نے کھجوریں کھائیں، میں نے گنیں تو چون کھجوریں میرے حصے میں آئیں جن کی گٹھلیاں میرے ہاتھ میں تھیں، میرے دونوں ساتھی بھی یہی کچھ کر رہے تھے یہاں تک کہ ہم ان سے سیر ہوگئے اور اپنے ہاتھ اٹھا لیے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ ساتوں کھجوریں ویسے ہی پڑی تھیں ان میں کمی نہ آئی حضور ﷺ نے فرمایا: اے بلال!ان کھجوروں کو اٹھالو ان میں سے جو کوئی کھائے گا وہ سیر ہوجائے گا۔ جب دوسرا دن آیا۔ نبی اکرمﷺنے حضرت بلال ؓکو حکم دیا کہ کھجوریں لے آئیں۔ آپ نے اپنا دست مبارک ان پر رکھا پھر فرمایا: اﷲ کا نام لے کر کھا چنانچہ ہم دس آدمیوں نے انہیں جی بھر کر کھایا پھر ہم دستکش ہوگئے مگر ان کھجوروں میں کوئی کمی نہ ہوئی۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اگر مجھے اپنے پر وردگار سے حیا نہ آتی تو ہم ان کھجوروں کو کھاتے رہتے تا آنکہ ہمارا آخری آدمی بھی لوٹ کر مدینہ شریف آجاتا، بعد ازاں آپ نے وہ کھجوریں ایک بچے کو عطا فرمادیں جو انہیں چباتا ہوا چلاگیا۔( واقدی، ابو نعیم، ابن عساکر )
آٹھ روز تک بارش ہوتی رہی
حضرت سیدنا انس بن مالک رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن (جمعہ کے دن)رسول اﷲ ﷺ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا اور بارگاہِ رسالتﷺ میں عرض گزار ہوا: یا رسول اﷲﷺ !قحط سالی کی وجہ سے جانور ہلاک ہو گئے اور راستے منقطع ہو گئے۔ اﷲ عزوجل سے ہمارے لیے بارش کی دعا کیجئے۔ رسول اﷲﷺ نے اپنے ہاتھ اٹھائے اور دعا کی: اے اﷲ!ہم پر بارش نازل فرما، اے اﷲ!ہم پر بارش نازل فرما۔ حضرت سیدنا انس ؓ فرماتے ہیں کہ اﷲ عزوجل کی قسم!ہم آسمان میں کوئی بادل نہیں دیکھتے تھے اور نہ ہی اس کا کوئی ٹکڑا دیکھتے تھے جب کہ ہمارے احد پہاڑ کے درمیان کوئی مٹی کا گھر اور نہ ہی کوئی خیمہ تھا۔ ڈھال جتنا ایک بادل نمودار ہوا، جب آسمان کے درمیان پہنچا تو پھیل گیا اور بارش ہونے لگی۔
حضرت سیدنا انس ؓ فرماتے ہیں کہ اﷲ عزوجل کی قسم!ہم نے ایک ہفتہ تک سورج نہ دیکھا۔ پھر اگلے جمعہ اس دروازہ سے آدمی داخل ہوا جب کہ رسول اﷲﷺ خطبہ ارشاد فرمارہے تھے، وہ آپ کے سامنے کھڑا ہو گیا اور عرض کی، یا رسول اﷲﷺ!(بارش کی کثرت کی وجہ سے )جانور ہلاک ہو گئے اور راستے منقطع ہو گئے، اﷲ عزوجل سے دعا کیجئے کہ وہ بارش کو ہم سے روک لے، رسول اﷲ ﷺ نے اپنے ہاتھ بلند فرمائے اور دعا کی: اے اﷲ!ہمارے ارد گرد نازل فرما ہم پر نہیں، اے اﷲ!چھوٹے بڑے پہاڑوں پر، وادیوں میں جنگلوں میں بارش فرما، حضرت سیدنا انس ؓنے فرمایا: بادل چھٹ گئے، ہم دھوپ میں مسجد سے باہر نکلے۔(سنن نسائی)
تھوڑا سا کھانا اور پانی 1400صحابہ کرام کو کافی
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ ہم نبی اکرم ﷺ کے ہم رکاب ایک غزوہ کے لیے روانہ ہوئے۔ دوران سفر خوراک کی قلت سے دوچار ہوئے جس کی وجہ سے ہم نے سواری کا اونٹ ذبح کرنے کا ارادہ کیا۔ نبی اکرمﷺ نے حکم دیا کہ ہم اپنا زادہ راہ اکٹھا کرکے دستر خوان بچھادیں۔ پس سارا زادِ راہ دستر خوان پر جمع ہوگیا تو میں نے اندازہ کرنے کے لیے گردن دراز کی پس وہ توشہ اتنا تھا جتنا بھیڑ کا بچہ جگہ گھیرتا ہے۔ ہماری تعداد چودہ سو تھی پس ہم نے سیر ہوکر کھایا پھر بقیہ کھانے سے ہم نے اپنے توشہ دان بھرلیے۔ بعد ازاں رسول اﷲﷺ نے فرمایا: کیا وضو کا پانی ہے؟ تو ایک شخص اپنی چھاگل لے آیا، اس میں تھوڑا پانی تھا۔ جسے آپ ﷺ نے ایک بڑے برتن میں ڈالا اور ہم سب نے اس سے وضو کیا اور پانی کا آزادانہ استعمال کیا (یعنی وہ تھوڑا سا پانی چودہ سو افراد کو کافی ہو گیا)
سبحان اﷲ !کیاشان ہے ہمارے پیارے آقاﷺ کی ۔اﷲ پاک نبی پاک ﷺ کے سچا عشق ہمیں نصیب فرمائے اور آپ کی شفاعت قیامت کے دن ہمیں نصیب فرمائے (آمین یارب العالمین بحرمۃ سیدالانبیاء والمرسلین)
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tariq Noman

Read More Articles by Tariq Noman: 69 Articles with 46381 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
12 Jun, 2017 Views: 807

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ