دعا، آنسوؤں میں کھلا پھول ہے

(Maryam Arif, Karachi)
تحریر: دیا خان بلوچ، لاہور
آج کل سننے میں آرہا ہے کہ جی ،دعا کیوں کریں۔ملنا تو وہی ہے جو نصیب میں پہلے سے لکھا ہے۔جب کہ دعا تو ہمارے لئے نجات کا ذریعہ ہے۔دعا ہی وہ عمل ہے جو ٹوٹے ہوے دلوں کو جوڑتا ہے۔آنسوؤں کو ہنسی میں بدلتا ہے۔دلوں کا سکون کس چیز سے حاصل ہوتا ہے؟اس کا جواب صرف ایک ہے ’’دعا ‘‘۔

زندگی ہر روز نیا امتحان لیتی ہے۔جب ہم الجھن کاشکار ہوتے ہیں اور ایک اضطرابی کیفیت سے دوچار ہوتے ہیں،تو دعا ہی وہ واحد ذریعہ بنتی ہے جوالجھنوں کے حل اور دل کو بے چینی کے چنگل سے آزاد کرواتی ہے۔ دعا آنسوؤں میں کھلا پھول ہے کہ اس کے کھلنے سے چاروں طرف بہار آجاتی ہے۔ جب غموں کی برسات ہوتی ہے تو، دعا کی بدولت خوشیاں گھر کی چوکھٹ پہ آبیٹھیں ،تو ہر سو خوشیوں کے پھول کھلے ہوتے ہیں۔ناامیدی،اداسی، لمحوں میں دور چلی جاتی ہے۔بس ایک شرط ہے کہ دعا مانگو تو کامل یقین کے ساتھ۔اور پھر اﷲ تعالی کی رحمتوں کا نزول دیکھو۔

دعا مقدر کا لکھا بدل دینے کی قدرت رکھتی ہے۔کبھی کبھی ہماری دعائیں قبول نہیں ہوتیں ۔اس کی وجہ یہ ہوتی ہے ان کے قبول ہونے کا وقت وہ نہیں ہوتا،جس وقت پہ ہم مانگ رہے ہوتے ہیں۔اﷲ تو ہمارے بہتر ہی کرتے ہیں ،ہمیں صرف سمجھنے کی دیر ہے۔دعا ایک امید ہے ،اندھیرے میں روشنی کی کرن ہے۔دکھوں اور تکلیفوں سے نجات پانے کا واحد ذریعہ دعا ہے۔اﷲ تعالی فرماتے ہیں کہ’’تم ہم سے دعا مانگتے رہو، ہم تمہاری دعاؤں کو قبول کریں گے‘‘۔ نبی مکرم صلی اﷲ علیہ وسلم کا ارشاد ہے ’’ دعا مانگناعبادت کا سر اورمغز ہے اور مسلمانوں کا ہتھیار اور دین کا ستون ہے اورآسمان و زمین کا نور ہے‘‘۔ اور فرمایا ’’تم لوگ دعا مانگنے میں کمی نہ کیا کرو کیونکہ دعا مانگتے ہوئے کوئی برباد نہیں ہوتا اور دعا مانگنے والے کو تین چیزوں میں سے ایک چیز ضرور مل جاتی ہے۔ ایک یہ کہ اس کے انسان کی مصیبتوں کو ٹالنے کے کام آجاتی ہے، دوسرے جو چیز مانگی ہے وہ اس وقت مل جائے۔ تیسرے قیامت کے روز اس کا بدلہ ملے گا‘‘۔
’’قیامت کے روز اﷲ تعالی بعض بندوں کو بے حد نعمتیں عطا فرمائے گاوہ بندے کہیں گے۔ اے پروردگا ر ! یہ بے شمار نعمتیں ہم کو کس عمل کے بدلے میں دی ہیں۔ ارشاد ہوگا کہ یہ نعمتیں تمہاری ان دعاؤں کا بدلہ ہے کہ جن کو ہم نے تمہارے ہی فائدے کے لئے دنیا میں قبول نہیں کیا تھا‘‘۔ دنیا اور آخرت میں بھی فائدہ صرف دعا مانگنے کی بناء پر۔

دعا مانگنے کے آداب
حلال مال سے کھانا پینا اور پہننا۔ دل لگا کر اور اﷲ تعالیٰ سے مکمل یقین اور یکسوئی سے مانگنا۔ پاک صاف ہو کر مانگنا۔ کعبہ شریف کی طرف منہ کر کے مانگنا۔نماز کی طرح بیٹھ کر ،دعا سے پہلے اوربعد اﷲ تعالی کی حمد و ثنا کرنا اور درود شریف پڑھنا۔ دونوں ہاتھوں کو کندھوں تک اٹھا نا۔ دعا مانگتے ہوئے آسمان کی طرف نہ دیکھنا۔ آہستہ آواز سے مانگنا۔ دوسروں کو نہ سنانا۔

دعا قبول ہونے کے اوقات
اﷲ تعالی نے ہم عاجز بندوں پر بڑی مہربانی فرمائی ہے ۔ہر وقت اور ہر حالت میں اور ہر جگہ ہم کو دعا مانگنے کی اور بار گاہ عالیہ میں درخواست پیش کرنے کی اجازت دی ہے۔ لیکن ان وقتوں میں خاص درجے کی برکت اور قبولیت زیادہ ہے۔
٭اذان اور نماز کی جماعت ہونے کے درمیانی وقفے میں دعا مانگنا
٭بارش کے وقت
٭فرض نماز کے بعد
٭تلاوت قرآن کے بعد
٭جمعہ کے دن کی ایک خاص گھڑی
٭ہررات کی ایک مخصوص ساعت
٭آب زمزم پیتے ہوئے
٭ سفر کی حالت میں
٭ بیماری کی حالت میں
٭ زوال کے وقت
٭مصیبت اور پریشانی کے وقت
٭سجدے میں دعا مانگنا
٭عرفات کے میدان میں
٭کعبہ شریف کی زیارت کے وقت
٭طواف کرنے کے وقت
٭حجر اسود کی زیارت کے وقت
دعا مانگ کر مایوس یا ناامید نہیں ہونا چاہیے

حضرت ابو ہریر ہ رضی اﷲ عنہ نبی صلی اﷲ علیہ وسلم سے رویت کرتے ہیں آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ بندے کی دعا ہمیشہ قبول ہوتی ہے بشرط یہ کہ کسی گناہ یا قطع تعلق کی دعا نہ کرے اور جلد بازی سے کام نہ لے‘‘۔

لوگوں نے پوچھا ’’ اے اﷲ کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم جلد بازی کا کیا مطلب ہے؟‘‘آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا۔’’ دعا کرنے والا یوں سوچنے لگتا ہے کہ میں نے بہت دعا کی لیکن قبول نہیں ہوئی۔پس وہ تھک جاتا ہے اور دعا کرنی چھوڑ دیتا ہے‘‘۔

حضرت سلمان فارسی رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’اﷲ تعالی حیادار اور سخی ہے جب کوئی بندہ اپنے دونوں ہاتھ اس کے سامنے پھیلاتا ہے تو ناکام اور خالی ہاتھ لوٹانے سے اسے شرم آتی ہے‘‘۔

یعنی اﷲ تعالی ہماری دعا کسی نہ کسی شکل میں قبول کر لیتے ہیں۔ دعا مانگنا فرض ہے اور جب بھی دعا مانگیں تو اس یقین کے ساتھ مانگیں کہ اﷲ تعالی کبھی بھی ہماری دعا رد نہیں کریں گے۔ اس بابرکت ذات پہ پختہ یقین اور بھروسہ ہی ہماری ترقی و کامیابی کا راز ہے اور اس کا بہترین ذریعہ دعا ہے۔ دعا کو اپنی زندگی کا اہم جز بنا لیجئے ، ان شاء اﷲ زندگی ایک پھول کی مانند مہکنے لگے گی۔
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1242 Articles with 521167 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
12 Jun, 2017 Views: 664

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ