تحریک لبیک پاکستان کی منظوری پر مبارک باد اور دعوت فکر

(Allah Bakhash Fareedi, faisalabad)

گرامی قدر محترم علامہ خادم حسین رضوی صاحب نے تحریک لبیک پاکستان منظور کروا لی انہیں صد ہا مبارک باد پیش کرتا ہوں مگر افسوس اس بات کا ہے کہ انہوں نے منتخب نام سے ’’یارسول اللہ ﷺ ‘‘ کا نعرہ کیوں ہذف ہونے دیا جو کہ اصل مشن تھا۔اس نعرہ کے ہٹائے جانے سے اس کی انفرادیت ختم ہو کر رہ گئی ہے۔ ایک اور افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ یہ جانے کے باوجود کہ جمہوریت انتہائی گھٹیا، فرسودہ اور مبنی بر کفر نظام ہے اور اہل مغرب کی نواشات میں سے ہے جس کی حقیقی اسلامی فلاحی نظام سے کوئی موافقت و مطابقت، کوئی ربط ، کوئی تعلق جوڑتا نظر نہیں آتا ہے ۔ کیا اسلام نے ہمیں کوئی نظام نہیں دیا؟ کیا اسلام نے حکومت چلانے کا کوئی طریقہ واضح نہیں کیا؟ اگر اسلام نے واضح طریق دیا ہے تو پھر ہم کیوں غیروں کے مرتب کردہ نظام کو لے کر چل رہے ہیں؟ یہ ایک بہت بڑا صدمہ اور لمحہ فکریہ ہم سب مسلمانوں کیلئے کہ ہم جس نظام حیات پر یقین رکھتے ہیں وہ دنیا میں کہیں بھی عملی طور پر نظر نہیں آتا ہے۔

سب علماء کرام اس سے بخوبی آگاہی بھی رکھتے ہیں کہ جمہوریت انتہائی فرسودہ، مبنی بر کفر، باطل شیطانی نظام ہے جہاں اسلام اور اسلامی اصول و عقائد کا کوئی عمل دخل نہیں۔ خاص تر جو جمہوریت ہمارے ملک میں ہے وہ جبر، منافقت و خود غرضی کا دوسرا نام ہے۔ کیا کبھی کسی نے یہ دیکھا کہ ہمارے ارکان اسمبلی نے قانون بناتے ہوئے قرآن و حدیث کی کتابیں اپنے سامنے رکھی ہوں؟ یا قرآن و حدیث کا کوئی حکم ، شریعت و فقہ کے کوئی مسائل ہماری اسمبلیوں میں زیر بحث آئے ہوں؟ یا کوئی قانون تجویز کرتے ہوئے قرآن و حدیث سے کوئی راہنمائی لی گئی ہو؟ سب جاننے کے باوجودپھر عملی طور پر اس باطل نظام کا حصہ بننا اس کی حمایت اور اس کو سپورٹ کرنے والی بات ہے۔ اگر ہمارے علماء ہی باطل نظام اور کفر جمہوریت کی حمایت اور اس کو سپورٹ کرنے لگ جائیں گے تو پھر انقلاب کس نے لانا ہے؟ رسول اللہ ﷺ کے دین کا علم کس نے بلند کرنا ہے؟ کس سے انقلاب کی توقع رکھی جائے؟

علمائے کرام یہ بات یاد رکھیں کہ اس فرسودہ باطل شیطانی نظام کا حصہ بن کر ہم کوئی تبدلی نہیں لا سکتے ، کوئی انقلاب برپا نہیں کر سکتے اور نہ ہی اس کفریہ نظام سے اس کی کوئی توقع کی جا سکتی ہے کہ یہ اسلام کو آنے کا آسان راستہ فراہم کرے گا۔محترم علامہ طاہر القادری صاحب بھی مصطفوی انقلاب کا نعرہ اور مسمم عزم لے کے اٹھے تھے مگرجب وہ اس باطل نظام کا حصہ بنے ، کفر جمہوریت کو سپورٹ کیا تو نہ وہ نعرہ رہا، نہ وہ عزم رہا، نہ وہ عزت رہی، نہ وہ وقار رہا۔ آج وہ صاحب وہ نعرہ ہی بھول گئے ہیں، اگر ہے تو اس میں وہ زور و شور نہیں جو شروع میں تھا۔

انقلاب ایسے نہیں آیا کرتے ، انقلاب لانے کیلئے اس متعلقہ فرسودہ و باطل نظام کے مد مقابل ڈٹ کر کھڑا ہونا پڑتا ہے، بڑی ہمت ، جوانمردی اور ثابت قدمی درکار ہوتی ہے ، تب کہیں جا کر انقلاب کی راہیں ہموار ہوتی ہیں۔ اس کے آگے ڈھیر ہو جانے سے کوئی مقصد حاصل نہیں ہوتا۔ ہم خلافت راشدہ کے عظیم دور سے دوبارہ اسی صورت اپنا ناطہ جوڑ سکتے ہیں جب ہم سب مل کر ملک میں ایک حقیقی عالمی اسلامی فلاحی انقلاب برپا کرنے کیلئے متحدہ اور مسمم جدو جہد کریں اور اس فرسودہ شیطانی نظام کی جگہ ہر قسم کے مصائب و آلائم کی پروہ کیے بغیر حقیقی عالمی اسلامی فلاحی نظام حیات کو نافذ کرنے کیلئے کمربستہ ہو جائیں ۔ یہ اسی صورت ممکن ہے جب ہم اس موجودہ فاسد نظام کا حصہ نہ بنیں بلکہ اس سے تصادم مول لیں اور اس کے مقابل ڈٹ کر کھڑے ہو جائیں، تدہی انقلاب کی راہیں ہموار ہو سکتی ہیں ۔ اس نظام باطل کا حصہ بن کر ہم کوئی تبدیلی نہیں لا سکتے۔ انقلاب لانے کیلئے ہمیں ایک مرکز پر اکٹھے ہونا اور ڈٹ جانا ہو گا۔

ہم تمام مکاتب فکر( سنی، شیعہ، وہابی ، دیوبندی وغیرہ)سب مل کر آپس میں معاہدہ کر لیں، میثاق امن ، میثاق وحدت ، میثاق دفاع عامہ کر لیں۔ ہم سب ایک مرکز پر اکٹھے ہو کر دین و ملت کے عظیم تر وسیع مفاد کیلئے کام کریں۔ ہم ملک و ملت کے تحفظ و دفاع، قیام امن اور دین کی سربلندی و فروغ کیلئے اور دہشت گردی و انتہا پسندی کے خاتمہ کیلئے ایک وحدت، ایک پلیٹ فارم ، ایک مرکز پر یکجا ہو جائیں۔ آپ جانتے ہیں کہ منتشر اینٹیں کوئی حیثیت نہیں رکھتیں‘ اگر انہیں یکجا کر دیا جائے تو عمارت بنتی ہے‘ بکھرے ہوئے موتی اکٹھے ہو جائیں تو گلے کا ہار بن جاتا ہے۔ امت کے تمام طبقات اس پر متوجہ ہوں پھر یہ خواب شرمندہ تعبیر ہوگا۔ ہم مشابہات و مشترکات پر زیادہ توجہ دیں کیونکہ ہمارے مشترکات کی تعداد اختلافی امور سے کافی زیادہ ہے۔ہم سب مل کر ملک و قوم، دین و ملت کے وسیع اور عظیم تر مفاد کیلئے کام کریں گے ، ہم سب آپس میں اشتراق عمل کا معاہدہ کرلیں اور سب سے یہ حلف لے لیں کہ ہم میں سے کوئی ایک دوسرے کے مسلک کو نہیں چھیڑے گا، کوئی ایک دوسرے کے عقیدہ پر کوئی بات نہیں کرے گا۔

اگر ہمارے آقا و مولاﷺ مدینہ کے مختلف یہودی قبائل کے ساتھ اشتراق عمل کا دنیا کا پہلا تحریری امن معائدہ کر سکتے ہیں جن میں سوائے مدینہ اور اہل مدینہ کے تحفظ و دفاع کے علاوہ اور کوئی چیز مشترکہ نہیں تھی ، وہ دونوں فریق دین میں باہم ایک دوسرے کے متضاد تھے۔ہمارا تو سب کچھ ایک اور مشترکہ ہے۔سب دنیا والے ہمیں مسلمان کہتے ہیں خواہ ہم میں کوئی شیعہ یا سنی، وہابی ہے یا دیوی بندی، وہ سب کو مسلمان کہہ کرہی مارتے ہیں وہابی، شیعہ اور سنی سمجھ کے چھوڑ نہیں دیتے۔ ہمیں ان کے مقابلہ کیلئے ایک مک، ایک قوت بننا ہو گا۔ ہمارے ہاں اگر کوئی اختلافات ہیں تو وہ پانچ دس فیصد سے بھی کم ہیں تو ہم کیوں نہیں ان کو بھول کر باقی نوے پچانوے فیصد مشابہات و مشترکات پہ توجہ دے کر اشتراک عمل کا معاہدہ کرلیتے ؟ اگر ہم ایسا نہیں کرتے تو اس سے واضح مطلب نکلتا ہے کہ ہم نہ دنیا میں دین و ملت کی فلاح چاہتے ہیں اور نہ آخرت میں۔دنیا وآخرت میں صرف وہی قوم عزت پاتی اور دوام و سرخروئی حاصل کرتی ہے جو جسد واحد کی طرح متحد ہو اور آپس کے باہمی خلفشار اور تفرقہ و انتشار کا شکار نہ ہو۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Allah Bakhash Fareedi

Read More Articles by Allah Bakhash Fareedi: 76 Articles with 46158 views »
For more articles & info about Writer, Please visit his own website: www.baidari.com
[email protected]
اللہ بخش فریدی بانی و مدیر بیداری ڈاٹ کام ۔ ہ
.. View More
12 Jun, 2017 Views: 717

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ