اعتکاف کے فضائل ومسائل

(Tariq Noman, )
اعتکاف عربی زبان کا لفظ ہے، جس کے معنی ٹھہر جانے اور خود کو روک لینے کے ہیں۔ شریعت اسلامی کی اصطلاح میں اعتکاف رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں عبادت کی غرض سے مسجد میں ٹھہرے رہنے کو کہتے ہیں
اعتکاف کی فضیلت واہمیت
سرکارِ دوعالم ﷺنے اپنی حیات مبارکہ میں ہمیشہ اعتکاف کیاہے اوراس کی بہت زیادہ تاکیدفرمائی ہے۔چنانچہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہافرماتی ہیں کہ بے شک حضورنبی کریمﷺرمضان المبارک کے آخری عشرے میں اعتکاف کرتے تھے، یہاں تک کہ آپﷺخالق حقیقی سے جاملے۔پھرآپﷺکی ازواجِ مطہرات اعتکاف کیا کرتی تھیں۔
(صحیح بخاری،صحیح مسلم)
دوحج اور دوعمروں کا ثواب
حضرت امام حسین رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے ارشادفرمایاکہ:جس شخص نے رمضان المبارک میں آخری دس دنوں کا اعتکاف کیاتو گویاکہ اس نے دوحج اوردوعمرے ادا کئے ہوں۔(شعب الایمان)
حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہمابیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ ﷺ نے معتکف(اعتکاف کرنے والے)کے بارے میں فرمایاکہ:وہ گناہوں سے باز رہتا ہے اور نیکیاں اس کے واسطے جاری کردی جاتی ہیں، اس شخص کی طرح جویہ تمام نیکیاں کرتاہو۔(سنن ابن ماجہ،مشکو ۃ شریف)
معتکف یعنی اعتکاف کرنے والا، اعتکاف کی حالت میں بہت سی برائیوں اورگناہوں مثلاًغیبت، چغلی، بری بات کرنے،سننے اوردیکھنے سے خودبہ خود محفوظ ہوجاتاہے،ہاں البتہ اب وہ اعتکاف کی وجہ سے کچھ نیکیاں نہیں کرسکتامثلا ً نمازِجنازہ کی ادائیگی،بیمارکی عیادت ومزاج پرسی اورماں باپ واہل وعیال کی دیکھ بھال وغیرہ لیکن اگرچہ وہ ان نیکیوں کوانجام نہیں دے سکتا لیکن اﷲ تعالی اسے یہ نیکیاں کئے بغیرہی ان تمام کااجرو ثواب عطافرمائے گا،(سبحان اﷲ )
اعتکاف کی غرض وغایت
حضرت ابوسعیدخدری رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ حضورنبی اکرمﷺ نے رمضان کے پہلے عشرے میں اعتکاف فرمایا،پھردرمیانی عشرے میں بھی ترکی خیموں میں اعتکاف فرمایاپھرخیمہ سے سرمبارک نکال کرارشادفرمایاکہ: میں نے پہلے عشرے میں شب قدرکی تلاش میں اعتکاف کیاتھا پھر میں نے درمیانی عشرے میں اعتکاف کیاپھرمیرے پاس ایک فرشتہ آیااورمجھ سے کہاکہ شب قدرآخری عشرے میں ہے،پس جوشخص میرے ساتھ اعتکاف کرتاتھاتو اسے آخری عشرے میں ہی اعتکاف کرنا چاہئے ۔(صحیح بخاری،صحیح مسلم )
ایک دن کا اعتکاف
1۔رسول اﷲﷺ نے ایک دن کے اعتکاف کے بارے میں فرمایا کہ جو شخص اﷲ تعالی کی خوشنودی کے لئے ایک دن کا اعتکاف کرے گا، اﷲ تعالی اس کے اور جہنم کے درمیان تین خندقیں حائل کردے گا جن کی مسافت آسمان و زمین کے فاصلے سے بھی زیادہ ہوگی۔ (کنزالعمال)
2 رسول اﷲﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص خالص نیت سے بغیر ریا اور بلا خواہش شہرت ایک دن اعتکاف بجا لائے گا، اس کو ہزار راتوں کی شب بیداری کا ثواب ملے گا اور اس کے اور دوزخ کے درمیان فاصلہ پانچ سو برس کی راہ ہوگا ۔
3 رسول اﷲﷺ نے فرمایا جو شخص خالصۃًلوجہ اﷲ رمضان شریف میں ایک دن اور ایک رات اعتکاف کرے تو اس کو تین سو شہیدوں کا ثواب ملے گا (تذکرۃ الواعظین)
اعتکاف کی قسمیں
اعتکاف کی تین قسمیں ہیں۔
1۔ اعتکاف واجب، 2۔ اعتکاف سنت، 3۔ اعتکاف نفل یا مستحب
اعتکاف واجب
یہ نذر کا اعتکاف ہے، جیسے کسی نے اعتکاف کی نذر مانی تو اب نذر پوری ہونے پر جتنے دن کا کہا ہے، اتنے دن کا اعتکاف کرنا واجب ہوگیا۔ اعتکاف واجب کے لئے روزہ شرط ہے، بغیر روزہ کے صحیح نہیں ہوگا
اعتکاف سنت
رمضان المبارک کے آخری عشرہ کا اعتکاف سنت موکدہ علی الکفایہ ہے۔ یعنی پورے شہر میں سے کسی ایک نے کرلیا تو سب کی طرف سے ادا ہوگا، اور اگر کسی ایک نے بھی نہ کیا تو سبھی مجرم ہوئے ۔
اس اعتکاف میں یہ ضروری ہے کہ رمضان المبارک کی بیسویں تاریخ کو غروب آفتاب سے پہلے پہلے مسجد کے اندر بہ نیت اعتکاف چلا جائے اور انتیس کے چاند کے بعد یا تیس کے غروب آفتاب کے بعد مسجد سے باہر نکلے۔ اگر غروب آفتاب کے بعد مسجد میں داخل ہوئے تو اعتکاف کی سنت موکدہ ادا نہ ہوئی بلکہ سورج ڈوبنے سے پہلے پہلے مسجد میں داخل ہونا ضروری ہے ۔
اعتکاف کی نیت
رمضان شریف کے اعتکاف کی نیت اس طرح کریں’’میں اﷲ تعالی کی رضا کے لئے رمضان المبارک کے آخری عشرہ کے سنت اعتکاف کی نیت کرتا/ کرتی ہوں
اعتکاف نفل
اس کے لئے نہ روزہ شرط ہے، نہ کوئی وقت کی قید ہے۔ جب بھی مسجد میں داخل ہوں، اعتکاف کی نیت کرلیں۔ جب تک مسجد میں رہیں گے، مفت بغیر محنت کے ثواب ملتا رہے گا۔ جب مسجد سے باہر نکلیں گے، اعتکاف ختم ہوجائے گا۔ اعتکاف کی نیت کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ نیت دل کے ارادے کو کہتے ہیں، اگر دل ہی میں آپ نے ارادہ کرلیا کہ میں سنت اعتکاف کی نیت کرتا ہوں تو یہی کافی ہے۔ زبان سے نیت کے الفاظ ادا کرنا بہتر ہے۔
اعتکاف کی نیت عربی میں یہ ہے۔
نویت سنت الاعتکاف ﷲ تعالی
ترجمہ: میں نے اﷲ تعالی کی رضا کے لئے سنت اعتکاف کی نیت کی۔
رمضان المبارک کے اعتکاف کے چند ضروری مسائل
رمضان کے سنت اعتکاف کا وقت بیسواں روزہ پورا ہونے کے دن غروبِ آفتاب سے شروع ہوتاہے اورعید کا چاندنظر آنے تک رہتا ہے۔ معتکف کو چاہیے کہ وہ بیسویں دن غروبِ آفتاب سے پہلے اعتکاف والی جگہ پہنچ جائے۔
جس محلے یا بستی میں اعتکاف کیا گیا ہے،اس محلے اور بستی والوں کی طرف سے سنت ادا ہو جائے گی اگرچہ اعتکاف کرنے والا دوسرے محلے کا ہو۔
آخری عشرے کے چند دن کا اعتکاف، اعتکافِ نفل ہے،سنت نہیں۔
عورتوں کو مسجد کے بجائے اپنے گھر میں اعتکاف کرنا چاہیے۔
سنت اعتکاف کی دل میں اتنی نیت کافی ہے کہ میں اﷲ تعالی کی رضا کیلیے رمضان کے آخری عشرے کا مسنون اعتکاف کرتا ہوں۔
کسی شخص کو اجرت دے کر اعتکاف بٹھانا جائز نہیں۔
مسجد میں ایک سے زائدلوگ اعتکاف کریں تو سب کو ثواب ملتا ہے۔
اعتکافِ مسنون کے صحیح ہونے کیلیے مندرجہ ذیل چیزیں ضروری ہیں
مسلمان ہونا،عاقل ہونا،اعتکاف کی نیت کرنا،مرد کا مسجد میں اعتکاف کرنا۔
مرد اور عورت کا جنابت یعنی غسل واجب ہونے والی حالت سے پاک ہونا (یہ شرط اعتکاف کے جائز ہونے کیلیے ہے لہذا اگر کوئی شخص حالت جنابت میں اعتکاف شروع کر دے تو اعتکاف تو صحیح ہو جائے گا لیکن یہ شخص گناہگار ہو گا)
عورت کا حیض ونفاس سے خالی ہونا،روزے سے ہونا (اگر اعتکاف کے دوران کوئی ایک روزہ نہ رکھ سکے یا کسی وجہ سے روزہ ٹوٹ جائے تو مسنون اعتکاف بھی ٹوٹ جائیگا۔
جس شخص کے بدن سے بدبو آتی ہو یا ایسا مرض ہو جس کی وجہ سے لوگ تنگ ہوتے ہوں تو ایسا شخص اعتکاف میں نہ بیٹھے البتہ اگر بدبو تھوڑی ہو جو خوشبو وغیرہ سے دور ہوجائے اور لوگوں کو تکلیف نہ ہو، تو جائز ہے۔
اعتکاف کے فضائل ومسائل قارئین کی خدمت میں رکھے اﷲ پاک معتکف حضرات کے اعتکاف کواپنے دربارِ عالیہ میں قبول فرمائے اور ہماری اس مبارک ماہ کی برکت سے نجات فرمائے (آمین یارب العالمین بحرمۃ سیدالانبیاء والمرسلین)
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tariq Noman

Read More Articles by Tariq Noman: 69 Articles with 46438 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
12 Jun, 2017 Views: 1206

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ