رحمت الہیٰ کے حقدار بنو!

(Abdul Bari Shafique Salafi, Mumbai)

اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم صفت رحیم ہےجو مومن و کافر دونوں کو وسیع ہے ، اس کے تعلق سے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا :﴿وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ﴾(اعراف :۱۵۶) کہ میری رحمت ہر چیز کو وسیع ہے ۔ بلکہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ :’’سَبَقَتْ رَحْمَتِي غَضَبِي‘‘(بخاری:۷۵۵۳، ۶۹۸۶)میری رحمت میرے غضب پر سابق ہے ، کشادگیٔ رحمت کی بہترین مثال یہی ہے کہ مومن و کافر دونوں کوبہم روزی مل رہی ہے ایسا نہیں ہے کہ مومن کے یہاں روزی کی ریل پیل ہو اور کافر دانا دانا کو ترس رہا ہو ایسا اسلئےکیونکہ اللہ مومن و کافر دونوں کا خالق و رازق ہے اور خالق ہونے کی بنیاد پر اس نے اپنے تمام بندوں کی روزی کا ذمہ لے رکھا ہے یہی وجہ ہے کہ دنیا کا کوئی بھی انسان کبھی بھی اللہ کے خالق و رازق ہونے کا انکاری نہیں رہا ہے ، اسی کو اللہ تعالی نے قرآن مجید میں فرمایا ہے :﴿قُلْ مَنْ يَرْزُقُكُمْ مِنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ۔۔۔ فَسَيَقُولُونَ اللہ ﴾(یونس : ۳۱)کہ اگر تم لوگوں سے پوچھو کہ آسمان و زمین سے روزی تمہیں کون دے رہا ہے۔۔۔ تو سب کا برجستہ جواب یہی ہوگا کہ ’’اللہ‘‘ !۔

یہ الگ بات ہے کہ اس کے حاصل کرنے کے طریقے میں لوگ شرک کرتے ہیں البتہ اللہ کی خصوصی رحمت وہ اللہ کے خاص بندوں کو حاصل ہوتی ہے اور قرآن مجید میں اللہ کی جس صفت کا کثرت سے ذکر آیا ہے وہ غفور الرحیم ہے اور تقریبا دونوں صفتیں ایک ساتھ استعمال ہوئی ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نےفرمایا :﴿وَكَانَ بِالْمُؤْمِنِينَ رَحِيمًا ﴾(الاحزاب :۴۳) اللہ مومنوں کے ساتھ بڑا مہربان ہے ۔اور﴿إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ﴾(یوسف: ۹۸)بیشک وہ بڑا بخشنے اوررحم کرنے والا ہے۔

اللہ کامخصوص فضل وکرم جو مومن بندوں کو حاصل ہوتا ہے وہ عام نہیں ہے اور نہ ہی بلا سبب ہے بلکہ وہ خاص ہے اور شرط کے ساتھ مربوط ہے اور جب وہ شرط پوری ہوگی جس کے ساتھ رحمت مشروط ہے تبھی خصوصی فضل وکرم کا نزول ہوگا جس کا تذکرہ قرآن کریم میںمختلف احوال وظروف میں آیا ہے ، جیساکہ دین کی مدد کے حوالے سے فرمایا :﴿إِن تَنصُرُوااللہ یَنصُرْکُمْ وَیُثَبِّتْ أَقْدَامَکُمْ﴾(محمد : ۷) اگر تم اللہ کی مدد کروگے تو اللہ تعالی تمہاری مدد فرمائے گا اور تمہارے قدموں کو روئے زمین پر جمادے گا ۔ حافظ صلاح الدین یوسف نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ ’’اللہ کی مدد کرنے سے مطلب ،اللہ کے دین کی مدد ہے کیونکہ وہ اسباب کے مطابق اپنے دین کی مدد اپنے مومن بندوں کے ذریعہ سے ہی کرتا ہے ،یہ مومن بندے اللہ کے دین کی حفاظت اور اسکی دعوت وتبلیغ کرتے ہیں تو اللہ ان کی مدد فرماتا ہے ،یعنی انہیں کافروں پر فتح وغلبہ عطا کرتا ہے جیسے صحابۂ کرام ؇اور قرون اولی کے مسلمانوں کی روشن تاریخ ہے وہ دین کے ہوگئے تو اللہ بھی ان کا ہوگیا تھا ،انہوں نے دین کو غالب کیا تو اللہ نے انہیں بھی دنیا پر غالب فرمایا جیسے دوسرے مقام پر فرمایا:﴿وَلَیَنصُرَنَّ اللہ مَن یَنصُرُہُ﴾(الحج:۴۰) اللہ اسکی ضرور مددفرماتا ہے جو اسکی مدد کرتا ہے ‘‘(تفسیر احسن البیان :سورہ محمد: آیت نمبر ۷ حاشیہ نمبر۷) اور سورہ نور میں تمکنت فی الارض کو عبادت کے ساتھ رحم وکرم کو نماز وزکاۃ کے قیام کے ساتھ مشروط کرتے ہوئے فرمایا :﴿وَعَدَ اللہُ الَّذِیْنَ آمَنُوا مِنکُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّہُم فِیْ الْأَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِن قَبْلِہِمْ وَلَیُمَکِّنَنَّ لَہُمْ دِیْنَہُمُ الَّذِیْ ارْتَضَی لَہُمْ وَلَیُبَدِّلَنَّہُم مِّن بَعْدِ خَوْفِہِمْ أَمْناً یَعْبُدُونَنِیْ لَا یُشْرِکُونَ بِیْ شَیْئاً وَمَن کَفَرَ بَعْدَ ذَلِکَ فَأُوْلَئِکَ ہُمُ الْفَاسِقُونَ، وَأَقِیْمُوا الصَّلَاۃَ وَآتُوا الزَّکَاۃَ وَأَطِیْعُوا الرَّسُولَ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُونَ﴾(النور: ۵۵،۵۶) تم میں سے ان لوگو ں سے جو ایمان لائے ہیں اور نیک اعمال کئے ہیں اللہ وعدہ فرماچکا ہے کہ انہیں ضرور ملک کا خلیفہ بنائے گا جیسے کہ ان لوگوں کو خلیفہ بنایا تھا جو ان سے پہلے تھے اور یقیناً ان کے لیے ان کے دین کو مضبوطی کے ساتھ محکم کرکے جما دےگا جسے ان کےلیے وہ پسند فرماچکا ہے اور ان کے خوف وخطر کو وہ امن و امان سے بدل دے گا ، وہ میری عبادت کریں گے میرے ساتھ کسی کو بھی شریک نہ ٹھہرائیں گے، اس کے بعد بھی جو لوگ ناشکری اور کفر کریں وہ یقیناً فاسق ہیں ، نماز کی پابندی کرو زکاۃ ادا کرو اور اللہ کے رسول کی فرمانبرداری میں لگے رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے ۔مولانا ابو الکلام آزاد نے اس آیت کریمہ کی تفسیر میں فرمایا کہ آیت: ۵۵ میں جن اہل ایمان سے خلافت کا وعدہ ہے ، اس کے مخاطب وہ مسلمان ہیں جو شرک سے پاک ہوکر خالص اللہ کی بندگی کرنے والے ہوں ، پسندیدہ دین کے متبع ہوں اور اخلاق و اعمال کے اعتبار سے صالح ہوں نہ کہ منافق اور فسق وفجور کے مرتکب، جو مذکورہ بالا صفات سے عاری اور محض زبان سے ایمان کا دعوی کرنے والے ہیں، اس کے مخاطب صحابہ کرام ہیں اور بلا شبہ یہ وعدہ خلفا ئے اربعہ کے دور میں پورا ہوا اوردنیا نے اس عظیم الشان پیشین گوئی کو حرف بحرف پورا ہوتے ہوئے دیکھا ۔ (تفسیر ترجمان القرآن:۳؍ ۱۰۳،۱۰۴) اسی طرح سورہ آل عمران میںعلو اور سربلندی کو مومن ہونے کی شرط کے ساتھ مربوط کرتے ہوئے فرمایا :﴿وَلاَ تَہِنُوا وَلاَ تَحْزَنُوا وَأَنتُمُ الأَعْلَوْنَ إِن کُنتُم مُّؤْمِنِیْنَ﴾(آل عمران: ۱۳۹) اور دیکھو نہ تو ہمت ہارو نہ غمگین ہو، تم ہی سب سے سربلند ہو بشرطیکہ تم سچے مومن ہو۔ اوراللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا کہ جب تک لوگ افطار میں جلدی کریں گے اور سحری میں تاخیر کریں گے کامیاب رہیں گے ۔اور رب کی ربوبیت کے اقرار کے ضمن میں فرمایا:﴿وَلَيَنْصُرَنَّ اللہ مَنْ يَنْصُرُهُ﴾(حج:۴۰) اور البتہ اللہ ضرور اس کی مدد کرے گا جو رب کی مدد کرے گا۔اوراللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا کہ ’’ جب تک لوگ افطار میں جلدی کریں گے اور سحری میں تاخیر کریں گے لوگ کامیاب رہیں گے اور یہ بھی فرمایاکہ ’’ میری امت کا ایک گروہ حق پر ہمیشہ قائم رہے گا لوگوں کی مخالفت انہیں کچھ بھی نقصان نہیں پہنچائے گی یہاں تک کی قیامت قائم ہوجائے‘‘۔

مذکورہ تمام آیات و احادیث میں یہی بات بیان کی گئی ہے کہ جب تک انسان شرط کے مطابق زندگی گزارتا ہے مشروط چیز اسے حاصل ہوجاتی ہے اور وعدہ پورا ہوجاتا ہے اور رحمت الہی سایہ فگن ہوجاتی ہے کیونکہ اللہ تعالی نے اپنی ذات پر رحمت کرنا واجب قرار دے لیا ہے جیسا کہ اس کا فرمان ہے:﴿كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلَى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ﴾(انعام :۵۴)کہ تمہارےرب نے اپنے اوپر رحمت کو واجب قرار دے لیا ہے اور اپنے گنہگار بندوں کو ناامیدی کے بھنور سے نکلنے کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا کہ ’’میرے وہ بندو! جنہوں نے اپنے نفسوںپر ظلم کرلیا ہے نا امید مت ہو کیونکہ اللہ تعالی تمام گناہوں کو معاف فرماتا ہے اور وہ بخشنے والا اوررحم کرنے والا ہے ‘‘بلکہ سورہ کہف میں فرمایا:﴿وَرَبک الْغَفُورُ ذُو الرَّحْمَة﴾اورتمہارارب جو غفور ہے اور وہ رحمت والاہے، اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ’’لا یأئیس المومن من روح اللہ‘‘ کہ مومن اللہ کی رحمت سے نا امید نہیں ہوتا ہے ۔یہی بات حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایاتھا کہ ﴿يَا بَنِيَّ اذْهَبُوا فَتَحَسَّسُوا مِنْ يُوسُفَ وَأَخِيهِ وَلَا تَائیسُوا مِنْ رَوْحِ اللہ إِنَّهُ لَا يَائیسُ مِنْ رَوْحِ اللہ إِلَّا الْقَوْمُ الْكَافِرُونَ﴾(یوسف: ۸۷)اے میرے پیارے بچو ،تم جائو اور یوسف کی اور اس کے بھائی کی پوری طرح تلاشی کرو اور اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو ،یقینا رب کی رحمت سے ناامید وہی ہوتے ہیں جو کافر ہوتے ہیں ۔اور سورہ حجر میں فرمایا: ﴿وَمَنْ يَقْنَطُ مِنْ رَحْمَةِ رَبِّهِ إِلَّا الضَّالُّونَ﴾(حجر:۵۶)’’گمراہ لوگ ہی اللہ کی رحمت سے ناامید ہوتے ہیں ،اس کا مطلب صاف واضح ہے کہ مومنوں کو سخت سے سخت حالا ت میں صبر ورضا کا مظاہرہ کرنا چا ہئے اور کسی بھی حال میں اللہ کی رحمت وا سعہ کی امید کا دامن نہیں چھوڑنا چاہئے۔

یہی سبب ہے کہ قرآن کریم میں غفور اور رحیم ان دونوں صفتوں کا تذکرہ کثرت سے ہوا ہے اور انسان جب تک رحمت کی حصولیابی کی کوشش میں لگا رہتا ہے اسکو رحمت الہی بھی تلاش کرتی رہتی ہے اور وہ کامرانیوں سے ہمکنار ہوتا ہے دینی اور دنیاوی دونوں اعتبار سے ترقی حاصل کرتا رہتا ہے اور اللہ کی مدد ونصرت ہمیشہ شامل حال رہتی ہے ۔اللہ کی رحمت کا حصول اللہ اور اسکے رسول کی اطاعت ہی کے ذریعہ حاصل کی جاسکتی ہے اسی وجہ سے اللہ تعالی نے فرمایا :کہ اللہ اور اسکے رسول کی پکار پر لبیک کہو گے تو فلاحیاب ہوجائوگے ،اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کروگے ،خوف الٰہی اور اس کے عذابوں سے ڈروگے ،کامیاب ہوجائوگے۔(النور:۵۱،۵۲)نماز قائم کروگے، زکاۃ دوگے اور اللہ کے رسول کی اطاعت کروگے تو رحمت الہی کا نزول ہوگا ۔(النور:۵۶)اگر اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو گے ہدایت یاب ہوجائیں گے ۔(النور:۵۴)اگر انسان اللہ اور اسکے رسول کی نافرمانی کرےگا ہدایت الہی کو فراموش کردے گا ،احکام ربانی کو ٹھکرادے گا ، قرآن وسنت کی پیروی سے روگردانی کرے گا تو وہ رحمت الہی سے محروم ہوجائے گا، عذاب الہی کا حقدار بن جائے گا ، رحمت و برکت کے دروازے بند ہوجائیں گے ، آسمان سے بلائیں اتریں گی ، زمین فتنہ کی آماجگاہ بن جائے گی ، مسرت و شادمانی کی زندگی بےچینی سے تبدیل ہوجائے گی ، ایسی صورت میں انسان ہر اعتبارسے زوال و انحطاط کا شکار ہوجائے گا ، بزدلی اور بد بختی اس کا تعاقب کرے گی، ذلت و رسوائی اور ادبار نکبت اس کا مقدر بن جائے گا، جیساکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ وَالْمَسْكَنَةُ وَبَاءُوا بِغَضَبٍ مِنَ اللہ﴾(بقرہ :۶۱) ان پر ذلت اور مسکینی ڈال دی گئی اور اللہ کا غضب لے کر وہ لوٹے۔ جب تک اپنی اصلیت کی طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے﴿وضاقت علیھم الارض بما رحبت﴾کےگرداب میں پھنسیں گے،باطل اقوام لقمۂ سہل سمجھ کر ہضم کرنے کی کوشش کرتے رہیں گے ،پشیمانی قدم قدم چلتی رہے گی ، دیکھئے صحابۂ کرام نے غزوہ احد کے موقع پر اللہ کےرسول ﷺکے حکم کی معمولی خلاف ورزی کی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جیتی ہوئی جنگ ہار گئے اورزبردست جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔اسی وجہ سے اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایاتھاکہ ’’میری روزی میرے نیزوں کے سائے میں رکھ دی گئی ہے اور ذلت ورسوائی میرے مخالفین کےلئے مقد رکردی گئی ہے ‘‘۔(مسند احمدبتحقیق احمد شاکر ۷/۱۲۱)

بلکہ اللہ تعالیٰ ایسا نہیں ہے کہ بلا سبب کسی کو مصیبت میں مبتلا کرے اور ذلت ورسوائی کے عمیق غار میں ڈھکیل دے جب تک کوئی قوم کفران نعمت نہ کرے، ان حالات سے دوچار نہیں ہوئی جیسا کہ اللہ نے فرمایا : ﴿ذَلِكَ بِأَنَّ اللہ لَمْ يَكُ مُغَيِّرًا نِعْمَةً أَنْعَمَهَا عَلَى قَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ وَأَنَّ اللہ سَمِيعٌ عَلِيمٌ﴾(انفال :۵۳) اور یہ بات اس لئے ہوئی کہ اللہ کا مقررہ قانون ہے کہ جو نعمت وہ کسی گروہ کو عطافرماتاہے اسے پھر کبھی نہیں بدلتا جب تک کہ خود اس گروہ کے افراد ہی اپنی حالت نہ بدل لیں اور اس لئے کہ اللہ (سب کی ) سنتاہے اور (سب کچھ )جانتاہے ۔مولانا ابوالکلام آزاد نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ آیت نمبر ۵۳اور اس کی ہم معنی آیات نے قطعی لفظوں میں واضح کردیاکہ قرآن کے نزدیک اقوام وجماعات کے عروج وزوال اور موت وحیات کا قانون کیا ہے ۔ فرمایا یہ خدائی مقررہ سنت ہے کہ جب وہ کسی گروہ کو اپنی نعمتوں سے سرفراز کرتاہے تو اس میں کبھی تغیر نہیں کرتا جب تک کہ خود اس گروہ کے افراد خود اپنی حالت متغیر نہیں کرلیتے ،چنانچہ دنیا کی پوری تاریخ ہمیں اس بارے میں جو کچھ بتلا رہی ہے اس کی حقیقت بھی اس سے زیادہ کچھ نہیں ہے ،ہر قوم خود ہی اپنی زندگی کا گہوارہ بناتی ہے اور پھر خودہی اپنے ہاتھوں سے اپنی قبر یں کھودتی ہے ،قوم موسیٰ اور قوم سبا اس کی واضح مثال ہیں‘‘۔

آج امت مسلمہ کے دینی وملی تشخصات وامتیازات دائو پر لگے ہوئے ہیں اور وہ اپنی بقاءکی لڑائی لڑنے پر مجبور ہے جس کے سب ہر طرح کی مزاحمت بھی جاری ہے مگر کامیابی کی کوئی کرن کہیں سے پھوٹتی دیکھائی نہیں دے رہی ہے بلکہ روزافزوں ذلت وپستی میں اضافہ ہی ہوتاجارہاہے اور قتل وخونریزی روزآنہ کا معمولی بنتانظرآرہاہے اس لئے اگر امت مسلمہ رحمت الہی کا حقدار بننا چاہتی ہے اور اپنی زندگی کو خوشحال بنانا چاہتی ہے، انحطاط کے دورسے نکلنا چاہتی ہے تو پہلےاسے نماز و روزہ کی پابندی کرنی ہوگی اللہ اور اسکے رسول کی اطاعت کو بجا لانا ہوگا، قرآنی تعلیمات کے مطابق زندگی گذارنی ہوگی ، مغربی تہذیب و تمدن کی ظاہری چمک دمک سے کنارہ کشی اختیار کرنی ہو گی ، دنیاوی عیش و عشرت کو چھوڑکر زندگی کے تمام معاملات میں اللہ اور اسکے رسول کے فرامین کو داخل کرنا ہوگا اور کتاب اللہ وسنت رسول اللہ ﷺ کی عملی تعبیر پیش کرنی ہوگی تب جاکر اللہ کے فضل و کرم کے مستحق بن سکیں گے ، پھر اسی طرح باد بہار چلے گی جس طرح قرون اولی میں چل رہی تھی اور اسی طرح نکبت و ادبار کے بادل چھٹیں گے ، برے وقت دور ہوجائیں گے اور اچھے ایام لوٹ آئیں گے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ﴿فَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَهُمْ مَغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ﴾ (الحج: ۵۰) پس جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کئے ہیں ،ان ہی کے لئے بخشش ہے اور عزت والی روزی اور ﴿ وَاللہ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ﴾(المنافقون :۸) سنو عزت تو صرف اللہ کے لئے اور اس کے رسولوں کے لیے اور ایمان داروں کے لئے ہے ۔اور ایک دوسری جگہ فرمایا :﴿ وَأُخْرَى تُحِبُّونَهَا نَصْرٌ مِنَ اللہ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ﴾(الصف: ۱۳) اور تمہیں ایک دوسری (نعمت ) بھی دے گا جسے تم چاہتے ہووہ اللہ کی مدد اور جلد فتح یابی ہے ،ایمانداروں کو خوشخبری سنا دو ۔ اس لئے ہم رب العالمین سے دعاکریں :﴿ رَبَّنَا آمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا وَأَنْتَ خَيْرُ الرَّاحِمِينَ﴾(المومنون :۱۰۹)اے ہمارے پرودگار ہم ایمان لاچکے ہیں تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما تو سب مہربانوں سے زیادہ مہربان ہے ،یہی حصول رحمت کا سب سے اعلیٰ طریقہ ہے ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Abdul Bari Shafique Salafi

Read More Articles by Abdul Bari Shafique Salafi: 114 Articles with 68661 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
18 Jun, 2017 Views: 1364

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ