مسلمانوں میں تخلیقی صلاحیتوں کا فقدان کیوں؟

(Afzaal Ahmed, Jhelum)

جہان تازہ کی افکار تازہ سے ہے نمود ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کہ سنگ و خشت سے ہوتے نہیں جہاں پیدا
گذشتہ کئی صدیوں سےمسلمان علمی انحطاط کا شکار ہیں ہر نئی ایجاد و دریافت کا سہرا غیر مسلم دنیا سے کے سر ہے سوال یہ ہے کہ کیا تخلیقی صلاحیتوں کا فقدان بھی ہماری علمی، سیاسی اور معاشی انحطاط کا نتیجہ ہے یا ہمارے دماغ ہی اتنے بنجر ہو گئے ہیں کہ ان میں کوئی تخلیقی آئیڈیا آتا ہی نہیں ؟ یا پھر آئیڈیاز تو آتے ہیں لیکن مناسب ماحول اور وسائل نہ ہونے کی وجہ سے ہم ان کو عملی شکل نہیں دے سکتے ۔ حقیقت یہ ہے کہ تخلیقی صلاحیتیں بہت حد تک قدرتی ہوتی ہیں اور یہ تخلیقی آئیڈیاز بلا تفریق ہر قسم کے لوگوں کے ذہنوں میں قدرت کی طرف سے آتے رہتے ہیں لیکن اس سلسلے میں کچھ لوگ منفرد ہوتے ہیں یعنی ان کو قدرت کی طرف سے خصوصی عطا ہوتی ہے ان کے ذہنوں میں قدرت کی طرف سے یہ القا زیادہ ہوتا ہے لیکن جس طرح انسان کی دیگر کئی قدرتی صلاحیتوں کو تعلیم اور مناسب ماحول سے بہتر بنایا جا سکتا ہے اسی طرح تخلیقی صلاحیتوں کی نشوو نما بھی ممکن ہے۔ اس سلسلے میں تعلیم کا کردار یہ ہوتا ہے کہ نہ صرف وہ تخلیقی صلاحیتوں کو اُبھارتی Inspire ہے بلکہ تخلیقی آئیڈیاز کو زبان بھی دیتی ہے جس کی وجہ سے آئیڈیاز دیگر لوگوں کے ساتھ شئیر ہو تے اور ڈسکس ہوتے ہیں اورڈیولپ Develop ہو کر پختہ شکل اختیار کرتے ہیں اور پھران آئیڈیاز کو عملی شکل دینے کی تحریک ملتی ہے ۔مسلمانوں میں تخلیقی صلاحیتوں کی فقدان کی مندرجہ ذیل وجوہات ہو سکتی ہیں :
1. کسی بھی معاشرے میں اچھے اور ذہین دماغ بھی ہوتے ہیں اور کند ذہن اور غبی لوگ بھی ہوتے ہیں، ہاں یہ ضرور ہے کہ مختلف معاشروں میں طبعی حالات کی وجہ سے ذہین اور غبی لوگوں کا تناسب مختلف ہو سکتا ہے۔یہی حال مسلم معاشروں کا بھی ہے اس میں بھی ذہین اور تخلیقی صلاحیتوں کے لوگ بھی ہیں اور غبی اور کندذہن بھی اس بحث سے نچلے درجے کے لوگوں کو پہلے نکال دیتے ہیں کیونکہ وہ کچھ بھی کرنے کا قابل نہیں ہوتے لیکن سوال یہ ہے کہ ذہین اور تیقی صلاحیتوں کے افراد بھی گذشتہ کئی صدیوں سے کوئی قابل ذکر ایجاد یا دریافت کرنے میں بھی کیوں ناکام رہے ہیں ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو کیوں زنگ لگ گیا ہے۔مسئلہ یہ ہے کہ مسلمانوں میں جو اچھے اور قابل دماغ ہوتے ہیں وہ دنیاسے منہ پھیر کر عبادات اور ورد وظیفے میں لگ جاتے ہیں اس طرح وہ عملی طور پر ایجاد و دریافت سے منقطع ہو کر ایک لحاظ سے وہ گوشہ نشین ہوجاتے ہیں۔ جس کی طرف اقبال اشارہ کرتے ہیں ؎
ہر نفس ڈرتا ہوں اس امت کی بیداری سے میں
ہے حقیقت جس کے دیں کی احتساب کائنات
مست رکھو ذکر و فکر صبحگاہی میں اسے
پختہ تر کر دو مزاج ِ خانقاہی میں اسے

حالانکہ قرون اولیٰ میں تقریباً ایک ہزار سال تک مسلمان سائنس کی دنیا پر چھائے رہے ہیں جبکہ عبادات میں بھی ان کا مقام موجود ہ زمانے کے لوگوں سے کہیں بہتر تھامزید برآں عبادت اور ورد وظائف کا مطلب ہر گز نہیں ہوتا کہ انسان دنیاوی لحاظ سے بے عملی کا شکار ہو جائے ۔ پنجابی میں کہتے ہیں " ہتھ کار (کام) وَل اور دل یار وَل " ۔ اسی دنیا کو آخرت کی کھیتی قرار دیا گیا ہے لیکن ہم لوگ اس کھیتی سے منہ موڑ لیتے ہیں یا پھر محض زبان ہی سے کاشت کرنا چاہتے ہیں ۔

2. ہمارے ہاں ایک خیال یہ بھی پایا جاتا ہے کہ گورنمنٹ تخلیقی صلاحیتوں کی حوصلہ افزائی کی بجائے حوصلہ شکنی کرتی ہے جو لوگ کچھ ایجاد یا دریافت کرتے ہیں ان کو اٹھا لیا جاتا ہے اور پھر ان کا کہیں سراغ نہیں ملتا۔ خیال کیا جاتا ہے چونکہ کمرشل دنیا پر یورپ کا قبضہ ہے اور ان مافیاز نے ایسا جال پھیلا رکھا ہے جو تخلیقی صلاحیتوں کے حامل افراد کو ہمارے معاشرے میں زندہ نہیں رہنے دیتے تاکہ اسلامی معاشرے ان کے دست نگر رہیں اور یورپ کے مقابلے میں سائنسی مرعوبیت کا شکار رہیں، شاید اس بات میں کوئی صداقت بھی ہو لیکن حقیقت یہ ہے تخلیقی آئیڈیا بجلی کی کوند کی مانند ہوتا ہے جو اکثر و بیشتر اچانک آتا ہے اور اس میں وہ قوت ہوتی ہے جو انسان کو چین نہیں لینے دیتی انسان کو کھانا پینا تک بھول جاتا ہے اور جب تک ان کو عملی شکل نہ دے لی جائے انسان کو قرار نہیں آتا چاہے اس کی کچھ بھی قیمت ادا کرنی پڑے ۔

3. بعض لوگ وسائل کی کمی کا رونا روتے ہیں کہ مسلمان ممالک میں غربت زیادہ ہے انہیں فکرِ معاش سے ہی فرصت نہیں چہ جائیکہ وہ تخلیقی نوعیت کی سرگرمیوں میں دلچسپی لیں جبکہ تخلیقی سرگرمیوں میں فکر معاش سے آزادی اور ذہنی آسودگی درکار ہے ۔ مزید یہ کہ مسلم معاشروں میں وسائل کی کمی کی وجہ سے تخلیقی صلاحیتں دب جاتی ہے اور ان کو اظہار کا موقع نہیں مل پاتا لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ بھی ایک عذر باطل ہے کیونکہ وسائل ہمیشہ کم یاب ہوتے ہیں لیکن جن لوگوں کو کچھ کرنا ہوتا ہے وہ وسائل پیدا کر لیتے ہیں ان کے لیے وسائل کی کمی ان کی صلاحیتوں کے اظہار میں روکاٹ نہیں بنتی ۔ وسائل کی کمی کارونا وہ لوگ روتے ہیں جو عملی طور پر کچھ کرنا ہی نہیں چاہتےاور محض باتوں ہی سے اپنی ستائش کروانا چاہتے ہیں ۔

4. کسی کام کو شروع کرنابہت دشوار ہوتا ہے اگر پہلا قدم اٹھا لیا جائے تو پھرقدم آگے بڑھنے لگتے ہیں لیکن بے عملی اور کاہلی کے نشہے سے ہمارے اذہاں بنجر اور عمل کے بازو شل ہو گئے ہیں کہ ہمارے لوگوں میں initiative لینے کی جرأت باقی نہیں رہی ۔ وہ کامیابی کی خوشی تو چاہتے ہیں لیکن ناکامی اور وسائل کے ضیاؑ کا خوف ان پر مسلط ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے وہ شروعات initiative نہیں کر پاتے ممکنہ ناکامی کاامکان ان کے راستے کی رکاوٹ بن جاتا ہے یا پھروہ کامیابی سے پہلے کسی نقصان کے خطرات کو مول نہیں لینا چاہتے جس کا نتیجہ ہے کہ کچھ کرنے کی تمنا دل ہی میں دفن ہو جاتی ہے۔

5. کہتے ہیں زبان کسی قوم کی ترقی کا پیمانہ ہوتی ہے جتنی زبان ترقی یافتہ ہوتی ہے اتنی قوم بھی ترقی یافتہ ہوتی ہے ۔ پنجابی ، اردو یا دیگر مسلمان معاشروں کی زبانیں سائنس کی زبانیں نہیں ہیں سائنسی اصلاحات اور سائنسی آئیڈیاز کو بیان کرنے کے لیے ان زبانوں میں مناسب الفاظ کی کمی ہے۔ انسانی ذہن میں تخلیقی آئیڈیاز اس کی مادری زبان میں آتے ہیں۔ اس مرحلے میں زبان کی کمزوری بہت بڑی رکاوٹ ہےجس کی وجہ سے آئیڈیاز کو مناسب الفاظ میں ڈھالا جا سکتا ہے اور نہ ان قیمتی خیالات کا ابلاغ ہی ہو پاتا ہے چونکہ ہم نے مادری زبان کو ذریعہ تعلیم نہیں بنایا یا پھر قومی زبان کوبھی وہ اہمیت نہیں دی جس کی وجہ سے ہماری زبان ان خیالات کے اظہار کے قابل ہو سکتی۔ ان کو نہ تو الفاظ کا جامہ نصیب ہو پاتا ہے اور نہ ہی ان کاابلاغ ہوپاتا ہے۔ جس کی وجہ وہ قیمتی آئیڈیاز ذہن کے گمنام گوشوں ہی میں پیدا ہوتے ہیں اور وہیں اپنی موت مر کر دفن بھی ہو جاتے ہیں ؎
آرزو اول تو پیدا ہو نہیں سکتی کہیں
ہو کہیں پیدا تو مر جاتی ہے یا رہتی ہے خام

۔ اس کے علاوہ ہمارا تعلیمی نصاب ہی اس قابل نہیں جو فرد میں موجود تخلیق جوہر کو نکھارے ، جستجو اور تجسس کر ابھارے اور نئی راہوں کا کھوج لگانے کا شوق پیدا کرے۔ ہمارا نصاب تعلیم نوجوانوں یں موجود کچھ کر گزرنے کے شوق کو ایڈ ریس ہی نہیں کرتا۔ تعلیمی اداروں میں موجود تجربہ گاہیں ویران پڑی رہتی ہیں ، ان میں یا تو مناسب اوزار اور سامان نہیں ہوتا یا پھر کوئی ماہر استاد ہی نہیں ہوتا جو طلبہ کی تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرے اور ان میں موجود جستجو کی تسکین کا سامان کرے۔

6. ہمارے لوگوں میں جو تخلیقی صلاحیتوں کافقدان نظر آتا ہے اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے ہاںسرکاری سطح پر اچھے اور با صلاحیت لوگوں کی قدر نہیں ہے ، ان کو روز گار کےمناسب مواقع نہیں ملتے، انہیں اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے مناسب ماحول اور وسائل میسر نہیں آتے جس کے نتیجے میں وہ دیگر ممالک میں نقل مکانی کر جاتے ہیں یاپھر بیرونی دنیا ہمارے تخلیقی دماغوں کو روزگار کے بہتر مواقع پیش کر کے اُچک لیتی ہے جس کو انگریزی میں Brain Drain کہتے ہیں ۔یہ حقیقت میں ہمارا بہت بڑا نقصان ہے ایک فرد یہاں سے تعلیم حاصل کرتا ہے، مہارت حاصل کرتا ہےاور پروان چڑھتا ہے لیکن جب معاشرے کو کچھ لوٹانے کا موقع آتا ہے تو پھر وہ دوسرے ممالک میں چلا جاتا ہے یہ ایسے ہی ہے جیسے درخت تو ہم لگاتے ہیں اور جب وہ پھل دینے پر آتا ہے تو اس سرزمین سے نکال کر کسی اور زمین میں لگا دیا جاتا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ تخلیقی صلاحیت ایک خدائی عطیہ ہے جو قوم اس عطیہ کی قدر نہیں کرتی تو خدا اس کو وہاں بھیج دیتا ہے جہاں اس کی قدر و منزلت ہو ۔ ؎
وائے ناکامی متاعِ کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا

7. ساری دنیا میں اعلیٰ تعلیم Higher Education کو بہت زیادہ اہمیت دی جاتی ہے، رسرچ ورک پر پیپر لکھے جاتے ہیں ، نظریات پیش کیے جاتے ہیں۔ تجربہ گاہیں بنائی جاتی ہیں ۔ تحقیقی ادارے اور تھنک ٹینکس بنائے جاتے ہیں جن سے ایجاد و دریافت کے نئے دروازے کھلتے ہیں اور نئے نئے آئیڈیاز کو قابل عمل بنانے کے لیے کام کیا جاتا ہے ۔ ہمارے ہاں سرکاری سطح پر ان امور کی طرف توجہ نہیں دی جاتی بلکہ اعلیٰ تعلیم کو غیر پیداواری اور فوری سیاسی فائدہ نہ دے سکنے والا شعبہ سمجھ کر نظر انداز کردیا جاتا ہے۔ تخلیقی امور میں ہمارا انحصار صرف لوگوں کی قدرتی صلاحیتوں پر ہے جس کا اظہار وقتاً فوقتا ہوتا رہتا ہے لیکن موجودہ ترقی کی رفتار میں یہ نہ ہونے کے قابل ہے۔ہمارے پالیسی ساز کو لوگوں کے تخلیقی جوہر کا احساس تک نہیں اور نہ ہی ترجیحات میں کہیں یہ چیز نظر آتی ہے ۔ بجٹ میں اس مد میں کوئی پیسہ نہیں رکھا جاتا ۔

8. اسلامی معاشروں میں تخلیقی صلاحیتوں کے فقدان کی ایک وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ تقریباً تمام اسلامی ریاستیں سامراج کی غلامی کا شکار رہی ہیں جس کی وجہ سے غلامانہ اور پست ذہنیت پروان چڑھی ہے ،لوگ فکری افلاس کا شکار ہوئے ہیں ،تخلیقی کی بجائے تقلید ی رحجان میں اضافہ ہوا ہے اور تخلیقی صلاحیتیں دم توڑ گئیں ہیں،ذہنی غلامی ، احساس کمتری اور مرعوبیت نے ان سے کچھ کر گزرنے کا حوصلہ چھین لیا ہے جس کی طرف اقبال نے جا بجا اشارے کیےہیں ؎
دل توڑ گئی ان کا دو صدیوں کی غلامی ۔ ۔ ۔ دارُو کوئی سوچ ان کی پریشاں نظری کا
بھروسہ کر نہیں سکتے غلاموں کی بصیرت پر ۔ ۔ ۔ کہ دنیا میں فقط مردانِ حُر کی آنکھ ہے بینا

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Afzaal Ahmed

Read More Articles by Afzaal Ahmed: 4 Articles with 3638 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
19 Jun, 2017 Views: 892

Comments

آپ کی رائے