حضرت علی المرتضیٰ ،شیرخدا رضی اللہ عنہ کا مقام و مرتبہ حصہ اول

(Tanveer Awan, Islamabad)

بسم اللہ الرحمن الرحیم

نجیب الطرفین قریشی ،رسول اللہ ﷺ کے چچازاد بھائی ،بچوں میں سب سے پہلے ایمان لانے والے،شجاعت و دلیری کا استعارہ ،علم و تفقہ کا شناور ،تقویٰ و احسان کا سراپا ،داماد پیغمبر ،حسنین کریمین کے والد خلیفہ راشد ابو التراب علی المرتضی کی ولادت ،نبی کریم ﷺ کی بعثت سے دس سال قبل ابوطالب عبدمناف بن عبدالمطلب کے گھر میں ہوئی جب کہ آپ کی والدہ کا نام حضرت فاطمہ بنت اسد تھا ،نومولود بچے کا نام والدہ نے اسد اور والد نے علی رکھاتھا ، حضرت ابو طالب کثیر العیال تھے اس وجہ سے رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی کو اپنی پرورش میں لےلیا ،یہی وجہ ہے کہ امانت و دیانت ،تقویٰ و پرہیز گاری ،ایفائے عہد اور شجاعت و دلیری جیسی صفات سے متصف ہوئے ،تیرہ سالہ مکی زندگی میں آپ کو ہرآ ن و ہر گھڑی نبی کریم ﷺکی معیت نصیب رہی ، جب کہ ہجرت مدینہ کی رات جس وقت آپ کی عمرتقریبا 23 برس تھی پیغمبر اسلام ﷺ نے آپ کو اپنے بستر پر سلا کر لوگوں کی امانتیں سپرد کیں ،جس کے بعد حضرت علی المرتضی ٰ رضی اللہ عنہ نے تین دن تک مکہ میں رہ کر وہ تمام امور سرانجام دیئے جن کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے ان کو ارشاد فرمایا تھا ،پھر مدینہ کی طرف ہجرت فرما ئی اور مواخات مدینہ میں حضرت کلثوم بن ہدی کے ساتھ آپ کا بھائی چارہ قائم ہوا۔(ابن سعد تذکرہ علی )اذن جہاد کے بعد غزوہ بدرسمیت باقی تمام غزوات میں آپ نے دلیری و شجاعت کی عظیم تاریخ مرتب فرمائی ،جب کہ اسی سال رسول اللہ ﷺ نے آپ کا نکاح اپنی لخت جگر سیدۃ النساء حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھا سے کروا یاجس کے گیارہ ماہ بعد رخصتی ہوئی ، دعوت ولیمہ میں کھجور ، جو کی روٹی ،پنیر اور ایک خاص قسم کے شوربا کے ساتھ پر تکلف ضیافت کی گئی ۔

غزوہ خیبر کے موقع پر جب یہود کے مضبوط قلعے فتح نہیں ہو رہے تھے ،پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ نے ارشاد فرمایا کل ایسے بہادر کو علم دوں گاجو خدا اور رسول کا محبوب ہے ،اور خیبر کی فتح اس کے ہاتھ سے مقدور ہے،صبح ہر شخص متمنی تھا کہ کاش اس فخر و شرف کا تاج اس کے سر ہو،دفعتا ً آپ ﷺ نےعلی رضی اللہ عنہ کا نام لیا ،یہ آواز غیر متوقع تھی کیونکہ آپ آشوب چشم میں مبتلا تھے،رسول اللہ ﷺ نے اپنالعاب دہن آپ کی آنکھوں پر لگایا جس سے تکلیف جاتی رہی ،مقابلہ مرحب پہلوان سے ہوا جسے ایک وار میں ڈھیر کرنے کے بعد خیبر کے قلعہ پر اسلام کے پرچم کو لہرا دیا۔(صحیح بخاری،2/103)فتح مکہ کے دن پرچم اسلام کو اٹھانے کی ذمہ داری بھی آپ کے سپرد کی گئی تھی ،جب کہ رسول اللہ ﷺ نے بیت اللہ کو بتوں سے پاک کرنے کا حکم دیا تو تمام بت توڑ دیئے گئے ایک تانبے کا بنا ہو ا بڑا بت جسے نبی کریم ﷺ نے خود توڑنا چاہالیکن ممکن نہ ہو سکا، آپ ﷺ نے حضرت علی المرتضی ٰ رضی اللہ عنہ کو اپنے کندھوں پر سوار فرما کر اس کو گرانے کا حکم دیا ،آپ نے حسب ارشاد اسے سلاخ سے اکھاڑ کر پاش پاش کردیا ۔(مستدرک حاکم )غزوہ تبوک کے موقع پر رسول اللہ ﷺ نے آپ کو اہل بیت کی حفاظت کی غرض سے مدینہ میں رہنے کا حکم دیتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا تھا "علی! کیا تم اسے پسند کرو گے ،کہ میرے نزدیک تمھارا وہ رتبہ ہو جو ہارون کا موسیٰ علیہ السلام کے نزدیک تھا۔(بخاری ،کتاب المناقب)حضرت علی رضی اللہ عنہ کو قاصد رسول اللہ ﷺ ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے ،9 ھجری نبی کریمﷺ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو امیر حج بنا کر مکہ روانہ فرمایا،ان کی روانگی کے بعد سورہ برات نازل ہوئی ،آپ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ مکہ جا کر سورہ کوسنائیں ،اور عام اعلان کریں کہ کوئی کافر جنت میں داخل نہیں ہوگا،اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہ کرے،اور نہ کوئی شخص برہنہ کعبہ کا طواف کرے،اور جس کا رسول اللہ ﷺسے عہد ہے وہ مدت معینہ تک باقی رہے گا۔(سیرہ ابن ہشام)جب کہ آپ کو 10 ھجری میں نبی کریم ﷺ نے بحیثیت مبلغ اس دعا کے ساتھ "اے اللہ!اس زبان کو راست گو بنا اور اس کے دل کو ہدایت کے نور سے منور فرما"یمن کی طرف روانہ کیا ،اور آپ کی کوششوں سے قبیلہ ہمدان مسلمان ہوگیا(فتح الباری۔8/152)

حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو یہ سعادت بھی حاصل ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے مرض وصال میں مستقل تیماردار اور خدمت گزار رہے ،جب نبی کریم ﷺ وصال حق فرما چکے تو غسل ،تجہیز وتکفین کے تمام امور آپ کے ہاتھ سے سرانجام پائے ،(مستدرک حاکم)این سعادت بزور بازو نیست۔بلاشبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اہل بیت رسول اللہ ﷺ کا اہم فرد ہونے کے علاوہ ہر عام و خاص موقع پر پیغمبر اسلام ﷺ کی معیت حاصل رہی ،آپ کے علم و فضل سے امت کا بڑا طبقہ استفادہ کرتا رہا جس کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اسوہ حیدر کرار کو اپناتے ہوئے اتباع رسول اللہ ﷺ کو اپنا نصب العین بنائیں اور اشاعت اسلام میں اپنا مؤثر کردار ادا کریں۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Molana Tanveer Ahmad Awan

Read More Articles by Molana Tanveer Ahmad Awan: 207 Articles with 141443 views »
writter in national news pepers ,teacher,wellfare and social worker... View More
21 Jun, 2017 Views: 591

Comments

آپ کی رائے