شب قدر--کس لیے؟

(Irfan raza misbahi, Malegaon Maharastara India)

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيرًا}[الأحزاب:21،
یقیناً تمہارے لئے رسول اللہ کی زندگی میں بہترین نمونہ عمل (موجود) ہے، ہر اس شخص کے لئے جو اللہ تعالیٰ کی اور قیامت کے دن کی توقع رکھتا ہے اور بکثرت اللہ تعالیٰ کی یاد کرتا ہے__
یہ بات روایتوں سے عیاں ہے کہ رسول کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم کا طرز عمل رمضان میں اور دنوں سے بالکل جدا رہتا تھا ،آپ طاعات وعبادات میں مستغرق رہتے کیونکہ جو اللہ رب العزت نے ان دنوں کو شرف ومنزلت عطا فرمایا اور جو خیر وبرکت اور ممیزات عطا فرمایا ہے وہ آپ بخوبی جانتے تھےارشاد فرمایا
( لو يعلم العباد ما في رمضان لتمنت أمتي أن يكون رمضان السنة كلها ) (أبو يعلى 9/180 وأخرجه ابن خزيمة 1886 والبيهقي في الشعب)
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر بندوں کو معلوم ہوجاتا کہ رمضان کیا چیز ہےتو میری امت تمنا کرتی کہ پورا سال رمضان ہی ہو،
اگرچہ رسول کریم بخشے بخشائے ہیں پھر بھی ان دنوں میں عبادتوں میں مشغولیت تعلیم امت اور تربیت انسانی اور شکر الہی کےلیے عبادتوں میں اضافہ ہوجاتا خاص طور پر عشرۂ اخیر میں،
عن عائشة -رضي الله عنها- أن النبي -صلى الله عليه وسلم- " كان يجتهد في العشر الأواخر ما لا يجتهد في غيرها( مسلم ،1175 ترمذی، احمد)
ام المؤمنین فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کی آخری دس راتوں میں عمل خیر میں اتنا اہتمام کر تے کہ. دوسرے دنوں میں اتنا نہ کرتے،
عن عائشة رضي الله عنها أن النبي صلى الله عليه وسلم: كان إذا دخل العشر الأواخر أحيا الليل وأيقظ أهله وشد المئزر .(بخاری،ح،2027) حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں :کہ جب آخری عشرہ آتا تو رسول کریم کمر بستہ ہوجاتے،راتیں عبادت میں جاگ کر گزارتے اور گھر والوں کو بھی جگاتے،
یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طريقہ يہ تھا کہ آپ پہلے کے بیس دنوں میں زیادہ سے زیادہ عبادات كرتے، خاص کر نماز، تلاوت قرآن اور خیرات وغیره ديگر کار خير، پہلے بیس دنوں میں رات میں کچھ سوتے بھی اور نماز بھی پڑھتے تھے پس جب آخری عشرہ داخل ہوتا تو آپ لیلۃ القدر کی تلاش کرتے ہوئے تیار و چست ہوجاتے اور عبادات کے لئے کمر کس ليتے تھے، اور شب بيداری کرتے اور اہل خانہ کو بھی بیدار کرتے تھے تاکہ وہ بھی ان راتوں کی نعمتوں میں سے حصّہ حاصل کرلیں جو دنیا وآخرت میں سرخروئی کا باعث ہیں فرماتے
ترغیب دلانے کا انداز دیکھیے،
روى الترمذي ومحمد بن نصر من حديث زينب بنت أم سلمة : لم يكن النبي - صلى الله عليه وسلم - إذا بقي من رمضان عشرة أيام يدع أحدا من أهله يطيق القيام إلا أقامه
ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں: جب رمضان کا آخری عشرہ باقی رہ جاتا تو حضور علیہ السلام اہل خانہ میں سے جسے بھی قیام الیل کی طاقت ہوتی اسے صلوۃ الیل میں مصروف کردیتے،
حتی کے گھر کے چھوٹے بچےبھی اس کی طاقت رکھتے تو اسے بھی بیدار کرتے
عن علي ان النبي صلي الله عليه وسلم كان يوقظ اهله في العشر الأواخر من رمضان وكل صغير وكبير يطيق الصلوة( الطبراني)
حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے میں ہر چھوٹے بڑے نماز کے لائق کو بیدار کیا کرتے تھے
کیونکہ ان راتوں میں جو ثواب کا حصول اور رب تعالی کی رحمتوں، بخششوں اور شب قدر کی نعمت موجود ہے حضور. علیہ السلام کی تمنا تھی کے امت کا ہر فرد اسے حاصل کرے کیونکہ اس ایک رات میں عبادت کرناہزار مہینوں کی عبادت سے زیادہ افضلیت رکھتا ہے
اسی افضلیت والی بابرکت رات کی تلاش میں حضور علیہ السلام نے اعتکاف بھی فرمایا
عن أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ قال، قَال النبی صلی اللہ علیہ وسلم َ : (إِني اعْتَكَفْتُ الْعَشْرَ الأُولَ أَلْتَمِسُ هَذِهِ الليْلَةَ، ثُم اعْتَكَفْتُ الْعَشْرَ الأَوْسَطَ، ثُم أُتِيتُ فَقِيلَ لِي: إِنهَا فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ، فَمَنْ أَحَب مِنْكُمْ أَنْ يَعْتَكِفَ فَلْيَعْتَكِفْ)(صحيح مسلم ،1167)
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:میں نے عشرۂ اول میں اس رات کی تلاش میں اعتکاف کیا، پھر درمیانی عشرۂ میں اعتکاف کیا، تو میرے پاس وحی آئی اور مجھے بتایا گیا کہ وہ آخری عشرہ میں ہے تو تم سے جو معتکف ہوناپسند کرتا ہے وہ اعتکاف کرے،
اور یہ اعتکاف آپ ہر سال کرتے تھے
عن عائشة -رضي الله عنها- أَنَّ النَّبِيَّ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- كَانَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ, ثُمَّ اعْتَكَفَ أَزْوَاجُهُ مِنْ بَعْدِهِ»(بخاری ومسلم)
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:لیلۃ القدر کو مابقی رمضان کی نویں ،ساتویں ،پانچویں میں تلاش کرو‫،
جب کہ ایک روایت میں وتر راتوں میں تلاش کرنے کا حکم دیا
أن النبي صلى الله عليه وسلم قال : ( التمسوها في العشر الأواخر ، في الوتر ) (بخاري،1912،مسلم ،1167)
لیلۃ القدر فقط آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کی خصوصیت ہے۔ امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
ان اﷲ وهب لامتی ليلة القدر لم يعطها من کان قبلهم(درمنثور، 6 :371)
’’یہ مقدس رات اللہ تعالیٰ نے فقط میری امت کو عطا فرمائی ہے سابقہ امتوں میں سے یہ شرف کسی کو بھی نہیں ملا۔‘‘
یہ رات اتنی مقدس ہیکہ اللہ تعالی نے اس رات کے تذکرے میں ایک مکمل مستقل سورہ نازل فرمائی جس میں لیلۃ القدر کے علاوہ کسی دوسری شئ کا ذکر نہیں کیا فرمایا
لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ
شب قدر ایک ہزار مہینوں سے بہتر ہے
۔ اس رات کو اللہ تعالیٰ نے ہزار مہینوں سے افضل قرار دیا ہے۔ ہزار مہینے کے تراسی برس چار ماہ بنتے ہیں۔ یعنی جس شخص کی یہ ایک رات عبادت میں گزری اس نے تراسی برس چار ماہ کا زمانہ عبادت میں گزار دیا اور تراسی برس کا زمانہ کم از کم ہے کیونکہ
خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ
کہہ کے اس امر کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے کہ اللہ کریم جتنا زائد اجر عطا فرمانا چاہے گا عطا فرما دے گا۔ اس اجر کا اندازہ انسان کے بس سے باہر ہے اس رات کو مبارک بھی کہا گیا ہے سورۂ دخان میں فرمایا
{إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُبَارَكَةٍ} [الدخان:3].
اور سورۂ قدر میں ہے {إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ}
یعنی قران کو لیلۃ القدر میں اتارا گیا جو اس کی ایک فضیلت بھی ہے اسی کو "لیلۃ مبارکہ " سے بھی یاد کیا گیا جو اس اس بات کو عیاں کرتی کہ یہ رات برکت والی مبارک رات ہے اور قدر ومنزلت والی رات ہے اس کے لفظ "القدر" کی توجیہ کئی معنی میں کی گئی ہے
*امام زہری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ’’قدر‘‘ کے معنی مرتبہ کے ہیں چونکہ یہ رات باقی راتوں کے مقابلے میں شرف و مرتبہ کے لحاظ سے بلند ہے اس لئے اسے لیلۃ القدر کہا جاتا ہے۔
* حضرت عبداللہ بن عباس رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے کہ چونکہ اس رات میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک سال کی تقدیر و فیصلے کا قلمدان فرشتوں کو سونپا جاتا ہے یعنی اسے فرشتوں پر ظاہر کیا جاتا ورنہ تو رب تعالی نے سب کی تقدیر ازل میں لکھ دی ہے اس وجہ سے یہ لیلۃ القدر کہلاتی ہے۔
*اس رات کو قدر کے نام سے تعبیر کرنے کی وجہ یہ بھی بیان کی جاتی ہے :
نزل فيها کتاب ذو قدرٍ علی لسان ذي قدر علی امة لها قدر و لعل اﷲ تعالیٰ انما ذکر لفظه القدر فی هذه السورة ثلاث مرات لهذا السبب(تفسیر کبیر، 32 : 28)
’’اس رات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قابل قدر کتاب قابل قدر امت کے لئے صاحبِ قدر رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معرفت نازل فرمائی۔ یہی وجہ ہے کہ اس سورت میں لفظ قدر، تین دفعہ آیا ہے۔‘‘
* لفظ قدر تنگی کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ اس معنی کے لحاظ سے اسے قدر والی کہنے کی وجہ یہ ہے کہ اس رات آسمان سے فرش زمین پر اتنی کثرت کے ساتھ فرشتوں کا نزول ہوتا ہے کہ زمین تنگ ہوجاتی ہے۔
(تفسیر الخازن، 4 : 395)
عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال في ليلة القدر: «إن الملائكة تلك الليلة في الأرض أكثر من عدد الحصى»، (راوه الطيالسي وأحمد وصححه ابن خزيمة)
رسول کریم نے لیلۃ القدر کے تعلق سے فرمایا:اس رات فرشتے زمین پر ریت کی کنکریوں کی تعداد سے زیادہ ہوتے ہیں،
" أي يكثر تنزل الملائكة في هذه الليلة لكثرة بركتها ، والملائكة يتنزلون مع تنزل البركة والرحمة ، كما يتنزلون عند تلاوة القرآن ، ويحيطون بحِلَق الذِّكْر ، ويضعون أجنحتهم لطالب العلم بصدق تعظيماً له " (تفسير ابن كثير 4/531)
تفسیر ابن کثیر میں "تنزل الملائکۃ"کی تفسیر لکھا :اس رات کی برکت کے سبب نزول ملائکہ کثرت کے ساتھ ہوتا ہے، اور فرشتے برکت ورحمت ساتھ میں لے کر نازل ہوتے ہیں اور ذکر وعبادت کی جماعتوں کو اپنے نورانی حلقے میں احاطہ کرلیتے ہیں اور اس رات کی تعظیم کرنے والے طالب علموں کو اپنے پروں کے سائے میں لے لیتے ہیں
کس طرح ملاحظہ فرمائیں
عن أنس أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال :إذا كانت ليلة القدر نزل جبريل في كبكبة من الملائكة يصلون ويسلمون على كل عبد قائم أو قاعد يذكر الله عز وجل (بيهقي، مشكوة)
کہ جب لیلۃ القدر ہوتی ہے حضرت جبرئیل علیہ السلام فرشتوں کی جماعت لے کر اترتے ہیں اور ہر اس بندۂ مومن پر. سلام ورحمت بھیجتے ہیں جو کھڑے بیٹھے ذکر الٰہی میں لگا ہوتا ہے.
قال الزمخشري:ما هي إلا سلام لكثرة ما يسلمون على المؤمنين قيل: لا يلقون مؤمنا ولا مؤمنة إلا سلموا عليه في تلك الليلة. (عمدة القاري، ص225 بحواله كشاف)
(سَلَامٌ هِيَ حَتَّىٰ مَطْلَعِ الْفَجْرِ،یہ رات سراسر سلامتی کی ہوتی ہے اور فجر کے طلوع ہونے تک (رہتی ہے)) کی تفسیر میں عمدۃ القاری میں تفسیر کشاف کے حوالہ سے لکھا :زمخشری نےلکھا:یہ رات سلامتی کی رہتی ہے اس بنا پر کہ فرشتے مسلمانوں پر کثرت سے سلامتی بھیجتے اور کہا گیا ہیکہ وہ کسی بھی مسلمان مردوعورت کے پاس ضرور سلامتی کی دعا کرتے ہیں (کشاف، 6،410)
اسی لیے علماء نے اس رات کی علامتوں کو بیان کیا تو اس میں ذکر کیا کہ اس رات کی صبح سور ج بغیر شعاعوں کے نکلتا ہے کیونکہ فرشتے کثرت کے ساتھ آسمان پر صعود کرتے ہیں تو ان کےپروں اور اجسام لطیفیہ کے سبب سورج کی کرنیں چھپ جاتی ہیں،
ابن خزيمة من حديث عن ابن عباس عن النبي صلى اله عليه وسلم : " ليلة القدر طلقة لا حارة ولا باردة ، تصبح الشمس يومها حمراء ضعيفة (مسند بظاہر ،٤٨٦/٦، ابن خزیمہ)
شب قدر آسان اور معتدل رات ہے جس میں نہ گرمی ہوتی ہے اور نہ سردی اس صبح کا سورج اس طرح طلوع ہوتا ہے کہ اس کی سرخی مدھم ہوتی ہے __
: " صبيحة ليلة القدر تطلع الشمس لا شعاع لها كانهاطست حتي ترتفع" مسند احمد،20691، ابو داؤد )
شب قدر کی صبح کو سورج کے بلند ہونے تک اس کی شعاع نہیں ہوتی وہ ایسے ہوتا ہے جیسے تھالی ،
روى البيهقي في " فضائل الأوقات " من طريق الأوزاعي عن عبدة بن أبي لبابة أنه سمعه يقول إن المياه المالحة تعذب تلك الليلة، وروى ابن عبد البر من طريق زهرة بن معبد
عمدة القاري میں امام بیھقی کی ایک روایت نقل ہے جو انھوں نے باب فضائل الاوقات میں ذکر کیا ہے کی اس رات میں کھارا پانی میٹھا ہوجاتا ہے
اس کی اور بھی علامتیں مذکور ہیں لیکن یہ کوئی ضروری نہیں کہ سب کو وہ علامتیں نظر آئیں کچھ نظر آسکتی ہیں کچھ نہیں اور عبادتوں میں مشغولیت بہتر ہے نہ کہ علامتوں کی تلاش میں لگے رہو اور وہ شب یونہی ضائع ہوجائے اس کی نشانی ایک طویل روایت میں اس طرح مذکور ہے،
عن أبي عبد السلام عن أبيه عن كعب أنه قال -------- فلا يزالون ليلتهم تلك يدعون للمؤمنين والمؤمنات وجبريل ولا يدع أحدا من المؤمنين والمؤمنات إلا صافحه
وعلامة ذلك من اقشعر جلده ينوي قلبه ودمعت عيناه فإن ذلك من مصافحة جبريل(مقدمۂ تفسیر ابن کثیر - رواه الإمام أبو محمد بن أبي حاتم عند تفسير هذه السورة الكريمة)
اس رات فرشتے اورحضرت جبرئیل علیھم السلام برابر مؤمنین ومؤمنات کےلیے دعا کرتے رہتے ہیں اور ہر مؤمن ومؤمنہ سے مصافحہ کرتے ہیں اس(مصافحہ کرنے ) کی علامت یہ ہوتی ہے کے اس کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں قلب رقیق اور آنکھیں اشک آلود ہوجاتی ہیں تو یہ حضرت جبرئیل علیہ السلام کے مصافحہ کرنے کی پہچان ہے،،،،
حدثنا سفيان سمعت عبدة وعاصما عن زر سألت أبي بن كعب قلت أبا المنذر إن أخاك ابن مسعود يقول من يقم الحول يصب ليلة القدر قال يرحمه الله لقد علم أنها في شهر رمضان وأنها ليلة سبع وعشرين ثم حلف قلت كيف تعلمون قال بالعلامة أو بالآية التي أخبرنا بها تطلع ذلك اليوم لا شعاع لها في الشمس( أحمد « 5/130 ،)
ابوزر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سےیہ کہتے ہوئے پوچھا آپ کے بھائی ابن مسعود کہتے ہیں کہ جو پورا سال قیام کرے گا تووہ شب قدر کو پا لے گا، ابی بن کعب نےفرمایا: اللہ ان پر رحم فرمائے یہ بتا دیا گیا ہیکہ وہ رمضان میں ہے اور وہ ستائیسویں شب ہے پھر قسم کھائی، میں نے پوچھا آپ نے اسے کیسے جانا؟ فرمایا:ان علامتوں یا نشانیوں کے ذریعے جن کی ہمیں خبر دی گئی ہے کہ سورج اس دن بغیر شعاعوں کے نکلے گا،
امام مسلم نے ان الفاظ میں اسے روایت کیا ہے،
رواه عن أبي بن كعب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنها ليلة سبع وعشرين (مسلم في صحيحه ، 762 )
امام ابوبکر الوراق ’’قدر‘‘ کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ رات عبادت کرنے والے کو صاحب قدر بنا دیتی ہے اگرچہ وہ پہلے اس لائق نہ تھا۔(القرطبی، 20 : 131)
اس رات کی عظمت کو یہی کافی ہیکہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تلاش بڑے اہتمام سے اعتکاف کی صورت میں فرمائی اور امت کو اس کا پیغام بھی دیا
ابن عباس رضي الله عنهما أن النبي صلى الله عليه وسلم قال : ( التمسوها في العشر الأواخر من رمضان في تاسعة تبقى ، في سابعة تبقى ، في خامسة تبقى ) رواه البخاري 4/260) .
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:لیلۃ القدر کو مابقی رمضان کی نویں ،ساتویں ،پانچویں میں تلاش کرو‫،
جب کہ ایک روایت میں وتر راتوں میں تلاش کرنے کا حکم دیا
أن النبي صلى الله عليه وسلم قال : ( التمسوها في العشر الأواخر ، في الوتر ) (بخاري،1912،مسلم ،1167)
لیلۃ القدر فقط آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کی خصوصیت ہے۔ امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
ان اﷲ وهب لامتی ليلة القدر لم يعطها من کان قبلهم(درمنثور، 6 :371)
’’یہ مقدس رات اللہ تعالیٰ نے فقط میری امت کو عطا فرمایا ہےسابقہ امتوں میں سے یہ شرف کسی کو بھی نہیں ملا۔‘‘
جبکہ اس کے خیر سے محروم لوگ ہی حقیقی محروم کہلانے کہ لائق ہیں -حضرت سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رمضان المبارک کی آمد پر ایک مرتبہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
ان هذا الشهر قد حضرکم وفيه ليلة خير من الف شهر من حرمها فقد حرم الخير کله ولا يحرم خيرها الا حرم الخير
(ابن ماجہ : 20)
’’یہ جو ماہ تم پر آیا ہے اس میں ایک ایسی رات ہے جو ہزار ماہ سے افضل ہے جو شخص اس رات سے محروم رہ گیا گویا وہ سارے خیر سے محروم رہا اور اس رات کی بھلائی سے وہی شخص محروم رہ سکتا ہے جو واقعتًا محروم ہو۔‘‘
ایسے شخص کی محرومی میں واقعتًا کیا شک ہو سکتا ہے جو اتنی بڑی نعمت کو غفلت کی وجہ سے گنوا دے۔ جب انسان معمولی معمولی باتوں کے لئے کتنی راتیں جاگ کر گزار لیتا ہے تو اسی سال کی عبادت سے افضل عبادت کے لئے چند راتیں کیوں نہ جاگےجبکہ اگر کوئی شخص شب قدر میں اجر و ثواب کی امید سے عبادت کی اس کے سابقہ گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں۔
عن أبي هريرة -رضي الله عنه- أن النَّبِيَّ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- قَالَ: (مَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ( بخاری ومسلم)
جو لیلۃ القدر میں ایمان و احتساب کے ساتھ رات کو قیام کرے گا اس کے ماقبل کے گناہ معاف ہو جائیں گے
لیکن یہ بڑی محرومی کی بات اور عظیم خسارہ ہیکہ ہم دیکھتے ہیں اتنے فضل وکمال والی رات جس کی عبادت خود حضور علیہ السلام نے فرمائی لوگوں ترغیب دلائی باوجود اس کے مسلمانوں کی بڑی تعداد اس سے بے رغبتی میں مبتلاء ہے وہ رات تو قیام کےنام پر جاگتے ہیں لیکن کھیل کود ،لھوولعب اور ہوٹل بازی میں زیادہ تر وقت ضائع کر دیتے ہیں اور جب رب کی عطاؤں سے فیضیاب ہونے کا وقت آتا ہے تو جاکر سو جاتے ہیں ،اوراپنی دنیا و آخرت سدھارنے کے لمحات کو فوت کردیتے ہیں جبکہ کوئی بھروسہ نہیں سال آئندہ یہ مغفرت کی رات زندگی میں میسر ہو یہ شیطان کے مکر وفریب اور راہ حق و نجات سے بھٹکا دینے کی اس چال کانتیجہ ہےاللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: {إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ إِلاَّ مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغَاوِينَ} (42) سورة الحجر.
میرے بندوں پر تجھے کوئی غلبہ نہیں، لیکن ہاں جو گمراه لوگ تیری پیروی کریں
کوئی بھی صاحب عقل یہ جاننے کے بعد کہ شیطان اس کا دشمن ہے اس کی پیروی نہیں کرنا چاہے گا کیونکہ یہ ایمان وعقل کےبالکل منافی ہےالله تعالى فرماتا ہے: {أَفَتَتَّخِذُونَهُ وَذُرِّيَّتَهُ أَوْلِيَاء مِن دُونِي وَهُمْ لَكُمْ عَدُوٌّ بِئْسَ لِلظَّالِمِينَ بَدَلًا} (50) سورة الكهف.
، کیا پھر بھی تم اسے اور اس کی اوﻻد کو مجھے چھوڑ کر اپنا دوست بنا رہے ہو؟ حاﻻنکہ وه تم سب کا دشمن ہے۔ ایسے ظالموں کا کیا ہی برا بدل ہے
اور فرماتا ہے: {إِنَّ الشَّيْطَانَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوهُ عَدُوًّا إِنَّمَا يَدْعُو حِزْبَهُ لِيَكُونُوا مِنْ أَصْحَابِ السَّعِيرِ} (6) سورة فاطر
یاد رکھو! شیطان تمہارا دشمن ہے، تم اسے دشمن جانو وه تو اپنے گروه کو صرف اس لئے ہی بلاتا ہے کہ وه سب جہنم واصل ہو جائیں
ان آیتوں پر غور کریں تو سمجھ میں آجائے گا کہ شیطان کی یہ چال ہیکہ انسانوں کو نیکی کی راہ سے روک کر اپنا ہمنشین بنالے تاکہ وہ اس کے ساتھ جھنم کا ایندھن بن جائیں اورہم دیکھتے ہیں کہ لوگ ذریت شیاطین کی آوازوں پر لبیک کہتے ہوئے اللہ تعالی کی محبوب چیزوں کو چھوڑ کر مبغوض اشیاءکوبرغبت اختیارکررہیں ہیں
عَنْ اَبِیْ ھُرَيْرَۃَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اَحَبُّ الْبِلَادِ اِلَی اللّٰہِ مَسَاجِدُھَا وَاَبْغَضُ الْبِلَادِ اِلَی اللّٰہِ اَسْوَاقُھَا۔ (صحیح مسلم) حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے نزدیک تمام جگہوں میں محبوب و پسندیدہ مقامات مساجد ہیں اور بدترین و ناپسندیدہ مقامات بازار ہیں۔" (صحیح مسلم)
کیونکہ مساجد اللہ کی عبادت کرنے کی جگہ ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ کے نزدیک مساجد محبوب و پسندیدہ مقامات ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ جو آدمی مسجد میں ہوتا ہے رب قدوس اس پر اپنی رحمت کا سایہ کرتا ہے اور اسے خیر و بھلائی کی سعادت سے نوازتا ہے اس کے مقابلے میں بازار وہ جگہ ہے جہاں شیطان کا سب سے زیادہ تسلط رہتا ہے۔ حرص و طمع، خیانت و بددیانتی، جھوٹ اور اللہ کی یاد سے غفلت وہ چیزیں ہیں جو بازار کا جزو لاینفک اور شیطان کی خوشی کا ذریعہ ہیں۔ چنانچہ اللہ کے نزدیک بازار بد ترین و ناپسندیدہ مقامات ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ جو آدمی اپنی ناگزیر ضروریات کی تکمیل کے علاوہ محض سیر و تفریح کی غرض سے بازاروں میں رہتا ہے اس پر محرومی و برائی کا سایہ رہتا ہے اور وہ اللہ کی رحمت سے دور ہوتا ہے۔ اور ان مقدس راتوں میں لوگ اپنے اوقات انہیں جگہوں پر ہوٹلوں کھانے پینے کی دکانوں پر ضائع کرتے نظر آتے ہیں اللہ تعالی سب کے مقدر میں شب قدر کی مقبول ساعتیں اور ان ساعتوں میں عبادت کی نعمتیں عطا فرمائے
* اس رات کی کچھ عبادتیں اور اذکار جومنقول ہیں* نزھۃ المجالس میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہیکہ جو کوئی شب قدر میں "سورۃالقدر"سات مرتبہ پڑھتا ہے اللہ تبارک وتعالی اسے ہر بلا سے محفوظ فرمادیتا ہے اور ستر ہزار فرشتے اس کے لیے جنت کی دعا کرتے ہیں(نزھۃ المجالس،ج1،ص،223)
عن عائشة رضي الله تعالى عنها قالت: قلت: يا رسول الله، أرأيت إن علمت أي ليلةٍ ليلةُ القدر ما أقول فيها؟ قال: «قولي: اللهم إنك عفو كريم تحب العفو فاعف عني»؛ رواه الترمذي وقال: هذا حديث حسن صحيح
وفي لفظٍ لابن ماجه: عن عائشة رضي الله عنها أنها قالت: يا رسول الله، أرأيتَ إن وافقت ليلة القدر ما أدعو؟ قال: «تقولين: اللهم إنك عفو كريم تحب العفو فاعف عني».
امام احمد نے اپنی مسند میں عائشہ رضي الله عنها سےروايت كیا ہے، فرماتی ہيں: اے نبی اللہ؛ اگر میں نے لیلۃ القدر (شب قدر) پالوں تو میں اس میں کیا کہوں؟ آپ نے فرمایا: تو کہنا: اے اللہ بے شک تو معاف فرمانے والا ہے تو عفو پسند فرماتا ہے پس تو مجھے معاف فرما دے۔ اس کی تخریج ، ابن ماجہ اور ترمذی نے کی ہے، اور ترمذی نےتخریج کے بعد کہا: يہ حديث حسن صحيح ہے
دعاء ليلة القدر کی فضیلت یہ ہیکہ یہ قبولیت کے بہت قریب ہے، جوامع الكلم دعاوں کے ذریعہ دعا کرنا مستحب ہے اور یہ دعاء جس کی نبي کریم صلى الله عليه وسلم نے تعلیم فرمائی جامع اور نفع بخش دعاء ہےکیونکہ یہ دنياوآخرت دونوں کی بھلائی پر مشتمل ہے اس طور پر کے جب الله تعالى دنيا میں اپنے بندوں کو معاف فرمائے گا تو ان سے عقوبات و سزاوں کو اٹھا لے گا اور نعمتوں سے انھیں نوازے گااور جب آخرت میں معافی عطا فرمائے گا تو جھنم سے انھیں محفوظ فرما کرجنت میں داخل فرمائے گا،
اور یہ شب قبولیت دعا کی شب ہے کیونکہ فرشتے بھی ہماری دعاؤں پر آمین کہتے ہیں بلکہ بعض بزرگ ان راتوں میں کچھ نفلی نمازوں کو ترک کر کے دعاؤں کا خوب اہتمام کرتے
وقال سفيان الثوري الدعا في تلك اليلةاحب من الصلوة ----ذكر ابن رجب الاكمل الجمع بين الصلوة والقراة والدعاء والتفكر(تفسير روح المعاني، 198)
حضرت سفیان ثوری کے نزدیک اس رات میں. دعا میں مشغول ہونا بہتر ہے جبکہ علامی ابن رجب حنبلی فرماتے ہیں کہ زیادہ کامل نماز ،تلاوت قران، دعاء اور ذکر الہی کو یکے بعد دیگرے جمع کرنا ہے
یعنی مختلف عبادتوں کا مجموعہ جو اللہ ورسول کو زیادہ پسند ہے اس ارشاد میں جہاں لیلۃ القدر کی ساعتوں میں ذکر و فکر، عبادت و طاعت کی تلقین کی گئی ہے وہاں اس بات کی طرف بھی متوجہ کیا گیا ہے کہ عبادت سے محض اللہ تعالیٰ کی خوشنودی مقصود ہو، ریاکاری اور بدنیتی نہ ہو پھر یہ کہ آئندہ عہد کرے کہ برائی کا ارتکاب نہیں کروں گا۔ چنانچہ اس شان کے ساتھ عبادت کرنے والے بندے کے لئے یہ رات مژدہ مغفرت بن کر آتی ہے اللہ کریم اپنے حبیب کے صدقے امت مرحومہ کو یہ مقدس رات عطا فرمائے اور اس میں کی جانے والی عبادتوں کو قبول فرمائے آمین

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Irfan raza misbahi

Read More Articles by Irfan raza misbahi: 15 Articles with 15153 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
21 Jun, 2017 Views: 499

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ