ہمارے معاشرہ کی چند برائیاں اور ان کی اصلاح کی کوشش

(Najeeb Qasmi, Riyadh)
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبّ الْعَالَمیْن، وَالصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِیمِ وَعَلٰی اٰلِہِ وَاَصحَابِہِ اَجْمَعِین۔

ہمارے معاشرہ کی مختلف برائیوں میں سے چند برائیاں کافی عام ہوگئی ہیں،ہمیں مشترکہ طور اُن کی اصلاح کی کوشش کرنی چاہئے:
بچوں کی دینی تعلیم وتربیت کا فقدان : قرآن وحدیث میں علم کی اہمیت پر بار بار تاکید فرمائی گئی ہے، حتی کہ پہلی وحی کا پہلا لفظ "اقرأ" بھی اسی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ مگر عصر حاضر میں ہم نے اِن تمام آیات قرآنیہ واحادیث نبویہ کا تعلق عملی طور پر دنیاوی تعلیم سے جوڑ دیا ہے حالانکہ قرآن وحدیث میں جہاں جہاں بھی علم کا ذکر آیا ہے، وہاں وضاحت موجود ہے کہ اُسی علم سے دونوں جہاں میں بلند واعلیٰ مقام ملے گا جس کے ذریعہ اﷲ کا خوف پیدا ہو، جو تقدیر پر ایمان کی تعلیم دیتا ہو اور جس کے ذریعہ انسان اپنے حقیقی خالق ومالک ورازق کو پہچانے ،اور ظاہر ہے کہ یہ کیفیت قرآن وحدیث اور اِن دونوں علوم سے ماخوذ علم سے ہی پیدا ہوتی ہے۔ اِن دنوں ہم عصری تعلیم کو اس قدر اہمیت دے رہے ہیں کہ بچوں اور بچیوں کو بالغ ہونے کے باوجود اس لئے نماز کی ادائیگی کا اہتمام نہیں کروایا جاتا، روزہ نہیں رکھوایا جاتا اور قرآن کریم کی تلاوت نہیں کرائی جاتی کیونکہ ان کو اسکول جانا ہے، ہوم ورک کرنا ہے، پروجیکٹ تیار کرنا ہے، امتحان کی تیاری کرنی ہے وغیرہ وغیرہ، یعنی دنیاوی تعلیم کے لئے ہر طرح کی جان ومال اوروقت کی قربانی دینا آسان ہے، لیکن اﷲ تعالیٰ کے حکم پر عمل کرنے میں دشواری محسوس ہوتی ہے۔ جس کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے کہ جو طلبہ عصری درس گاہوں سے پڑھ کر نکل رہے ہیں اُن میں سے ایک بڑی تعداد دین کے ضروری مسائل سے ناواقف ہوتی ہے۔ یقینا ہم اپنے بچوں کو ڈاکٹر، انجینئر اور پروفیسر بنائیں لیکن سب سے قبل ان کو مسلمان بنائیں۔ لہٰذا اسلام کے بنیادی ارکان کی ضروری معلومات کے ساتھ حضور اکرمﷺ کی سیرت اور اسلامی تاریخ سے ان کو ضرور بالضرور روشناس کرائیں۔ اگر ہمارا بچہ ڈاکٹر یا انجینئر یا لیکچرار بنا لیکن شریعت اسلامیہ کے بنیادی احکام سے ناواقف ہے تو کل قیامت کے دن اﷲ تعالیٰ کے سامنے ہمیں جواب دینا ہوگا۔

ٹی وی اور انٹرنیٹ کا غلط استعمال :معاشرہ کی بے شمار برائیاں ٹی وی اور انٹرنیٹ کے غلط استعمال سے پھیل رہی ہیں، لہذا فحش وعریانیت وبے حیائی کے پروگرام دیکھنے سے اپنے آپ کو بھی دور رکھیں، اور اپنی اولاد وگھر والوں کی خاص نگرانی رکھیں تاکہ یہ جدید وسائل ہمارے ماتحتوں کی آخرت میں ناکامی کا سبب نہ بنیں کیونکہ ہم سے ہمارے ماتحتوں کے متعلق بھی سوال کیا جائے گا۔ اﷲ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کواُس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے۔ (سورۃ التحریم ۶)

کرکٹ دیکھنے میں وقت ضائع کرنا: بعض حضرات کرکٹ میچ دیکھنے، اس سے متعلق دیگر معلومات حاصل کرنے اور آئندہ کے میچوں میں جیت ہار کے اندازے، نیز اس کے متعلق بحث ومباحثہ میں اپنی زندگی کا قیمتی وقت لگاتے ہیں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ یہ سارے امور حرام ہیں اور ہمیں اپنی پسند کی ٹیم کو داد وتحسین سے نوازنے کا حق نہیں ہے۔ لیکن ہمیں غور وفکر کرنا چاہئے کہ ان امور میں وقت صرف کرنا اب تک ہماری زندگی میں کتنا نفع بخش ثابت ہوا۔ لہٰذا عقلمندی اسی میں ہے کہ کرکٹ کھیلنے یا میچ دیکھنے میں ہماری مشغولیت اﷲ کے احکام مثلاً نماز کی ادائیگی سے مانع نہ بنے۔ قیامت کے دن کسی انسان کا قدم اﷲ تعالیٰ کے سامنے سے ہٹ نہیں سکتا یہاں تک کہ وہ پانچ سوالات کا جواب دیدے: زندگی کہاں گزاری؟ جوانی کہاں لگائی؟ مال کہاں سے کمایا؟ یعنی حصول مال کے اسباب حلال تھے یا حرام۔ مال کہاں خرچ کیا؟ یعنی مال سے متعلق اﷲ اور بندوں کے حقوق ادا کئے یا نہیں۔ علم پر کتنا عمل کیا؟ (ترمذی)

بندوں کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی:جن کبیرہ گناہوں کا تعلق حقوق اﷲ سے ہے، مثلاً نماز ، روزہ ، زکوٰۃ اور حج کی ادائیگی، ان میں کوتاہی کی صورت میں اﷲ تعالیٰ سے سچی توبہ کرنے پراﷲ تعالیٰ معاف فرمادے گا، ان شاء اﷲ۔ لیکن اگر گناہوں کا تعلق بندوں کے حقوق سے ہے مثلاً کسی شخص کا سامان چرایا یا کسی شخص کو تکلیف دی یا کسی کو گالی دی یا کسی شخص کا حق مارا تو قرآن وحدیث کی روشنی میں اس کی معافی کے لئے سب سے پہلے ضروری ہے کہ جس بندے کا حق ہے، اس کا حق ادا کیا جائے یا اس سے حق معاف کروایا جائے، پھر اﷲ تعالیٰ کی طرف توبہ واستغفار کے لئے رجوع کیا جائے۔ حضور اکرم ﷺنے ارشاد فرمایاہے : کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہے؟ صحابہ نے عرض کیا : ہمارے نزدیک مفلس وہ شخص ہے جس کے پاس کوئی پیسہ اور دنیا کا سامان نہ ہو۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا: میری امت کا مفلس وہ شخص ہے جو قیامت کے دن بہت سی نماز، روزہ، زکوٰۃ (اور دوسری مقبول عبادتیں) لے کر آئے گا مگر حال یہ ہوگا کہ اس نے کسی کو گالی دی ہوگی، کسی پر تہمت لگائی ہوگی، کسی کا مال کھایا ہوگا، کسی کا خون بہایا ہوگا یا کسی کو مارا پیٹا ہوگا تو اس کی نیکیوں میں سے ایک حق والے کو (اس کے حق کے بقدر) نیکیاں دی جائیں گی، ایسے ہی دوسرے حق والے کو اس کی نیکیوں میں سے (اس کے حق کے بقدر) نیکیاں دی جائیں گی۔ پھر اگر دوسروں کے حقوق چکائے جانے سے پہلے اس کی ساری نیکیاں ختم ہوجائیں گی تو (ان حقوق کے بقدر) حقداروں اور مظلوموں کے گناہ (جو انہوں نے دنیا میں کئے ہوں گے) ان سے لے کر اس شخص پر ڈال دئے جائیں گے اور پھر اس شخص کو دوزخ میں پھینک دیا جائے گا۔ (مسلم )

غیبت: سب سے پہلے ارشاد نبوی ﷺکی روشنی میں سمجھیں کہ غیبت کیا چیز ہے ؟ رسول اﷲ ﷺنے صحابۂ کرام سے فرمایا : کیا تمہیں معلوم ہے کہ غیبت کیا ہے؟ صحابۂ کرام نے جواب دیا: اﷲ اور اس کے رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اپنے بھائی کی اس چیز کا ذکر کرنا جسے وہ ناپسند کرتا ہو۔ کہا گیا اگر وہ چیزیں اس میں موجود ہوں تو؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر وہ چیز اس کے اندر ہو توتم نے غیبت کی اور اگر نہ ہو تو وہ بہتان ہوگا۔ (مسلم) حضور اکرمﷺ کے اس ارشاد سے معلوم ہوا کہ غیبت کا مطلب یہ ہے کہ دوسرے لوگوں کے سامنے کسی کی برائیوں اور کوتاہیوں کا ذکر کیا جائے جسے وہ برا سمجھے اور اگر اس کی طرف ایسی باتیں منسوب کی جائیں جو اس کے اندر موجود ہی نہیں ہیں تو وہ بہتان ہے لیکن بدقسمتی سے یہ دونوں ہی برائیاں عام ہیں، اﷲ ان دونوں برائیوں سے امت مسلمہ کو محفوظ فرمائے۔ آمین۔ کسی مسلمان بھائی کی کسی کے سامنے برائی بیان کرنا یعنی غیبت کرنا ایسا ہی ہے جیسے مردار بھائی کا گوشت کھانا۔ بھلا کون ایسا ہوگا جو اپنے مردار بھائی کا گوشت کھانا پسند کرے گا۔ اﷲ تعالیٰ نے غیبت سے بچنے کا حکم دیا ہے اور اس سے نفرت دلائی ہے، ارشاد باری ہے:تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے، کیا تم میں سے کوئی بھی اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانا پسند کرتا ہے؟ تم کو اس سے گھن آئے گی۔(سورۂ الحجرات۱۲)

جھوٹ: معاشرہ کی ایک مہلک بیماری جھوٹ بولنا ہے، جو بڑا گناہ ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے جھوٹوں پر لعنت فرمائی ہے، ان کے لئے جہنم تیار کی ہے جو بدترین ٹھکانا ہے۔ نیز اﷲ تعالیٰ نے سورۂ الاحزاب آیت ۷۰ ۔ ۷۱ میں ایمان والوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اﷲ تعالیٰ سے ڈرو اور سیدھی سچی بات کہا کرو۔ جھوٹ بولنے والوں کے متعلق آپ ﷺ کی سخت وعید ہیں، چنانچہ آپ ﷺ نے فرمایا: سچائی کو لازم پکڑو کیونکہ سچ نیکی کی راہ دکھاتا ہے اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے، اور آدمی یکساں طور پر سچ کہتا ہے اور سچائی کی کوشش میں رہتا ہے یہاں تک کہ اﷲ کی نظر میں اس کا نام سچوں میں لکھ دیا جاتا ہے اور جھوٹ سے بچے رہو اس لئے کہ جھوٹ گناہ اور فجور ہے اور فجور دوزخ کی راہ بتاتا ہے، اور آدمی مسلسل جھوٹ بولتا ہے اور اسی کی جستجو میں رہتا ہے یہاں تک کہ اﷲ کے نزدیک اس کا شمار جھوٹوں میں لکھ دیا جاتا ہے۔ (صحیح مسلم)

بے پردگی: پاکیزہ معاشرہ اور صاف ستھری سوسائٹی کے لئے عورتوں کو گھروں میں رکھ کر گھریلو ذمہ داریاں ان کو دی گئیں اور مردوں کو باہر کی ذمہ داریوں کا پابند کرکے مردوں اور عورتوں کے باہمی اختلاط سے حتی الامکان روکا گیا تاکہ ایک صاف ستھرا اور پاکیزہ معاشرہ وجود میں آسکے اور مسلم معاشرے کی یہ خصوصیت اب تک باقی تھی اور تقریباً پچیس سال سے مغربی تہذیب سے ہمارا معاشرہ بری طرح متاثر ہوا ہے اور افسوس وفکر کی بات ہے کہ اس کا مقابلہ کرنے کے بجائے بعض مسلم دانشور اس کوشش میں ہیں کہ بے پردگی کو جواز کا درجہ دیدیا جائے۔ اسی پس منظر میں قرآن وحدیث کی روشنی میں چند باتیں پیش خدمت ہیں: ۱) اﷲ تعالیٰ نے قرآن کریم میں مردوں اور عورتوں کو مشترکہ حکم : ےَحْفَظُوا فُرُوْجَھُمْ اور ےَحْفَظْنَ فُرُوْجَھُن (سورۂ النور ۳۰۔۳۱) کے الفاظ میں دیا ہے، قرآن کریم میں بہت سے مقامات اور احادیث میں بکثرت یہ حکم وارد ہوا ہے، یہ سب کو معلوم ہے کہ شرمگاہ کی حفاظت پردہ سے ہی ہوتی ہے۔ اور عصمت دری کی ابتداء بے پردگی سے ہوکر زنا کی حد تک جا پہنچتی ہے۔ چنانچہ مشہور حدیث میں اس کی طرف اشارہ ہے:رسول اﷲﷺ کا ارشاد ہے آنکھ بھی زنا کرتی ہے اور آنکھ کا زنا بد نگاہی ہے اور شرمگاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کردیتی ہے۔ (صحیح بخاری) ۲) اسی طرح فرمان الٰہی ہے: وَلَا ےَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِہِنَّ لِےَعْلَمَ مَا ےُخْفِےْنَ مِنْ زِےْنِتِہِنَّ (سورۂ النور ۳۱) عورتوں کو زمین پر پیر پٹخ کر چلنے کی ممانعت اس لئے ہے کہ کہیں پازیب کی جھنکارو زینت سے کوئی گرویدہ نہ ہوجائے۔ اگر پازیب کی آواز کو پردہ میں رکھا گیا ہے تو کیا یہ ممکن ہے کہ ایک عورت کو زیب وزینت کے ساتھ بے پردہ گھومنے کی اجازت دی جائے۔ نہیں، ہرگز نہیں۔حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کسی عورت کو پیغام نکاح دینے کا ارادہ ہوتو اس کو دیکھ لینے میں کوئی گناہ نہیں ہے۔ (مسند احمد) اس حدیث میں صرف پیغام نکاح دینے والے کو غیر محرم عورت کو دیکھنے میں گناہ سے مستثنی کرنے کا مطلب واضح ہے کہ غیروں کو دیکھنے اور دکھانے میں گناہ ہوگا۔ نیز حالت احرام میں حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا والی حدیث کہ جب مردوں کا گزر ہوتا تھا تو ہم عورتیں اپنے چہروں کو ڈھانک لیتی تھیں۔ حالانکہ حالت احرام میں چہرہ کا کھولنا واجب ہے۔ لیکن ایک عمومی واجب پر عمل کرنے کے لئے تھوڑی دیر کے لئے ہی سہی احرام کے واجب کو ترک کردیتی تھیں، ورنہ اگر چہرہ کا پردہ عام حالت میں صرف مستحب ہوتا تو استحباب کے لئے صحابیات اور خاص طور سے حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا ترک واجب نہ کرتیں۔ (ابوداود)

مہرکی ادائیگی نہ کرنا:مہر عورت کا حق ہے، اس کو نکاح کے وقت متعین اور صحبت سے قبل ادا کرنا چاہئے۔ مہر میں حسب استطاعت درمیانہ روی اختیار کرنی چاہئے نہ بہت کم اور نہ بہت زیادہ۔ اﷲ تعالیٰ نے اس موضوع کی اہمیت کے پیش نظر قرآن کریم میں تقریباً ۷ جگہوں پر مہر کا ذکر فرمایا ہے، لہذا ہمیں مہر ضرور ادا کرنا چاہئے۔ اگر ہم بڑی رقم مہر میں ادا نہیں کرسکتے اور لڑکی کے گھر والے مہر میں بڑی رقم متعین کرنے پر بضد ہیں جیساکہ ہمارے ملکوں میں عموماً ہوتا ہے،تو ہمیں حسب استطاعت کچھ نہ کچھ مہر ضرور نقد ادا کرنی چاہئے( اورباقی مؤجل طے کرلیں) جیساکہ نبی اکرم ﷺنے حضرت علیؓ کی زرہ فروخت کراکے مہر کی ادائیگی کرائی۔ آج ہم جہیز اور شادی کے اخراجات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں لیکن مہر کی ادائیگی جو اﷲ تعالیٰ کا حکم ہے اس سے کتراتے ہیں۔مقدار مہر کی تعیین میں بے اعتدالی نہ برتی جائے اس کی مقدار اتنی ہوکہ مرد بآسانی اداکردے۔ فرمان رسول ﷺہے: عورتوں کے مہر کے معاملے میں غلو نہ کرو کہ عداوت کاسبب بن جائے۔ (مسند احمد)

جہیز کی لعنت: امت کے تمام علما ء اس بات پر متفق ہیں کہ رسول اﷲ ﷺ نے اپنی لاڈلی صاحبزادی حضرت فاطمہ ؓ کو چند چیزیں عنایت فرمائی تھیں جیساکہ صحیح احادیث میں ہے رسول اﷲ ﷺ نے جب فاطمہ ؓ کانکاح کیا تو ان کے ساتھ ایک چادر ، چمڑے کا تکیہ جس کے اندر کھجور کے ریشے بھرے ہوئے تھے، دو چکیاں، ایک مشکیزہ اور دو چھوٹے گھڑے۔ (مسند احمد ونسائی) لیکن اسے سنت کہنا درست نہیں ہے کیونکہ رسول اﷲﷺ نے اپنی دو بیٹیوں حضرت رقیہ اور ام کلثوم ؓ کو حضرت عثمان ؓ کے نکاح میں دیاتھا اور ان دونوں کو کوئی چیز دینااحادیث میں وارد نہیں ہے۔ اگر جہیز دینا سنت ہوتا توآپ ﷺ اپنی تمام بیٹیوں کوبلاتفریق جہیز سے نوازتے۔ حضرت علی ؓ کے نکاح کے وقت نہ حضرت علیؓ کا اپنا کوئی ذاتی گھر تھا اور نہ ہی کوئی سازو سامان ۔جب آپ ؓ کے نکاح کی خبر حضرت حارث بن نعمان ؓ نے سنی تو بخوشی اپنی سعادت سمجھتے ہوئے اپنا ایک گھر حضرت علی ؓ کو رہنے کے لئے پیش کردیا۔ حضرت علی ؓ نے اپنی زرہ حضرت عثمانؓ کو ۴۸۰ درہم میں فروخت کردی اور جاتے وقت حضرت عثمان ؓ نے وہ زرہ حضرت علی ؓ کو تحفہ میں دے دی۔ اسی زرہ کے پیسے سے حضرت فاطمہ ؓ کے گھر کا سامان خریدا اور حضرت عائشہ اور ام سلمہ ؓ کو حکم دیاکہ حضرت علی اور فاطمہ ؓ کے ساتھ ان کے گھر تک جاؤ۔اس حدیث سے یہ ثابت ہوتاہے کہ یہ سارا سامان حضرت علیؓ کے پیسے سے خریدا گیا تھا نہ کہ آپ ﷺ نے حضرت فاطمہ کو جہیز میں دیا تھا۔ اس واقعہ کو جہیزلینے اور دینے کے لئے کسی طرح حجت نہیں بنایا جاسکتاہے۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ مہر کے علاوہ فریقین میں سے کسی طرف سے کوئی مال یا جائداد مطالبہ کرکے لینا جائز نہیں ہے۔ مگر لوگ اپنی بیٹی یا داماد اور اس کے گھر والوں کو بغیر کسی مطالبہ کے اپنی استطاعت کے مطابق جو سامان دیں تو اس کی گنجائش ضرور ہے لیکن اس میں بھی حتی الامکان کمی کرنی چاہئے تاکہ غریبوں کی بچیوں کی شادی آسان ہوسکے اور جہیز کی کثرت کی وجہ سے جو نقصانات سامنے آرہے ہیں ان پر کسی حد تک کنٹرول کیا جاسکے ۔

رشوت: رشوت اپنے جائز یا ناجائز مقاصدکوحاصل کرنے کے لئے اہل منصب کو روپئے یا کوئی دوسری چیز پیش کرنا۔موجودہ دور میں اس لین دین کو ہدیہ یانذرانہ کاخوبصورت نام دیاجاتاہے لیکن درحقیقت یہ رشوت ہے۔ رشوت کی مذمت اوراس کے لینے اوردینے والوں پراﷲ کے رسولﷺ نے بڑی سخت وعیدیں کی ہیں، چنانچہ فرمان رسول ہے:رشوت لینے اوردینے والے پراﷲ کی لعنت برستی ہے۔ (ابن ماجہ) ایک دوسری حدیث میں ہے کہ رسول اﷲﷺنے فرمایا: رشوت لینے اوردینے والا دونوں ہی دوزخ میں جائیں گے۔ (طبرانی) اسلام کی نظرمیں جس طرح رشوت لینے اوردینے والاملعون اوردوزخی ہے اسی طرح اس معاملہ کی دلالی کرنے والابھی حدیث رسول کی روشنی میں ملعون ہے۔صحابی رسول حضرت ثوبان رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺنے رشوت لینے اوردینے والے اوررشوت کی دلالی کرنے والے سب پرلعنت فرمائی ہے۔ (مسند احمدوطبرانی) حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ تویہاں تک فرماتے ہیں کہ قاضی کاکسی سے رشوت لے کراس کے حق میں فیصلہ کرناکفرکے برابرہے، اورعام لوگوں کاایک دوسرے سے رشوت لینا ’’سُحت‘‘ یعنی حرام ناپاک کمائی ہے۔ (طبرانی)

رشوت دینے کی گنجائش کب ہوسکتی ہے؟ ایک شخص کاحق ہے کہ جواسے ملناچاہیے،رشوت دیے بغیرنہیں ملے گا،یااتنی دیرسے ملے گاجس میں اسے غیرمعمولی مشقت برداشت کرنی پڑے گی۔اسی طرح اس کے اوپرکسی فردکی طرف سے ظالمانہ مطالبات عائدہوگئے ہیں اوررشوت دیے بغیران سے خلاصی مشکل ہے توامیدہے کہ رشوت دینے والاشخص گناہ گارنہ ہوگا،البتہ دیانت شرط ہے جس کی ذمہ داری خوداس پرہوگی۔

سود یعنی انسانوں کو ہلاک کرنے والا گناہ: سب سے پہلے سمجھیں کہ سود کیا ہے؟وزن کی جانے والی یا کسی پیمانے سے ناپے جانے والی ایک جنس کی چیزیں اور روپئے وغیرہ میں دو آدمیوں کا اس طرح معاملہ کرنا کہ ایک کو عوض کچھ زائد دینا پڑتا ہو "ربا" اور "سود"کہلاتا ہے۔جس وقت قرآن کریم نے سود کو حرام قرار دیا اس وقت عربوں میں سودکا لین دین متعارف اور مشہور تھا، اور اُس وقت سود اُسے کہا جاتا تھا کہ کسی شخص کو زیادہ رقم کے مطالبہ کے ساتھ قرض دیا جائے خواہ لینے والا اپنے ذاتی اخراجات کے لئے قرض لے رہا ہو یا پھر تجارت کی غرض سے، نیز وہ صرف ایک مرتبہ کا سود ہو یا سود پر سود۔ مثلاً زید نے بکر کو ایک ماہ کے لئے ۱۰۰ روپئے بطور قرض اس شرط پر دئے کہ وہ ۱۱۰ روپئے واپس کرے، تو یہ سودہے۔بینک میں جمع شدہ رقم پر پہلے سے متعین شرح پر بینک جو اضافی رقم دیتا ہے وہ بھی سود ہے۔سود کی حرمت قرآن وحدیث سے واضح طور پر ثابت ہے، جس کے حرام ہونے پر پوری امت مسلمہ متفق ہے۔

اﷲ تعالیٰ ہمیں ان تمام مذکورہ برائیوں سے محفوظ رہ رکر دنیاوی فانی زندگی گزارنے والا بنائے، آمین۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Najeeb Qasmi

Read More Articles by Najeeb Qasmi: 133 Articles with 102279 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
29 Jun, 2017 Views: 526

Comments

آپ کی رائے