بدنام ہوں گے تو کیا نام نہ ہو گا

(محمد اشکان بھتی, Lahore)
خادم الحرمین شریفین کے دعوے دار اس حد کو عبور کر چکے ہیں جہاں سے بدنامی کی حدیں شروع ہوتی ہیں قطر کے لوگ مسلمان ہیں حتی آل سعود کے ہم مسلک ہیں لیکن کچھ قطری جوان اہل اقتدار نے فلسطین کی آزادی کے لئے جنگ لڑنے والے حماس کے مجاہدین کی حمایت کی تو آل سعود تلوار سونت کر قطر کے سر آ کھڑے ہوئے اور قطر کا ناطقہ بند کر دیا آج قطر کے عوام جن مشکلات کا شکار ہیں اس کا اندازہ کرنا مشکل ہے اس لئے کہ ایک طرف قطر کو سعودی عرب اور دوسرے عرب ممالک کی طرف سے پابندیوں کا سامنا ہے تو دوسری طرف امریکہ بہادر بھی آل سعود کے ساتھ کھڑا نظر آ رہا ہے جس کے نتیجے میں قطر میں غذائی بحران شروع ہو گیا ہے۔

آل سعود امریکہ گٹھ جوڑ

ان دنوں سوشل میڈیا مجاہدین خادم الحرمین شریفین شاہ سلمان اور ان کے خاندان سے کافی نالاں ہیں اور شاہ سلمان سمیت آل سعود کو صلواتیں سنانے اور لکھنے میں مصروف ہیں جبکہ آل سعود کے تمام تر اسلام اور مسلمان مخالف اقدامات کے باوجود ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو اب تک نا صرف ال سعود کے غیر انسانی بلکہ شیطانی اقدامات کی حمایت کے لئے کوشاں ہے اور آل سعود کے اسلامی تہذیب کا سر عام مذاق اڑانے اور اسلام کو نقصان پہنچانے کے باوجود حق نمک ادا کرتے ہوئے مسلسل نا ال سعود کو اسلام اور مسلمانوں کا نمایندہ ثابت کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔

آل سعود بڑے دھڑلے سے ایک طرف ٹرمپ جیسے اسلام اور مسلمانوں کے بدترین دشمن کے لئے دولت کی تجوریاں کھول رہے ہیں تو دوسری طرف قطر اور ایران کے مسلمانوں کے لئے زمین تنگ کر نے کے در پے ہیں آل سعود کی تاریخ گواہ ہے کہ ان لوگوں نے اپنے اقتدار کو بچانے کے لئے ہر وہ کام کیا جو اسلام اور قرآن کے احکامات کے صریحا مخالف تھا کون نہیں جانتا کہ اس وقت تک دنیا میں جتنے بھی دہشت گرد پکڑے گئے ہیں ان کا تعلق کسی نہ کسی حوالے سے آل سعود سے ملتا ہے۔

لیکن اسلامی دنیا کی رہبری کے دعوے دار آل سعود مسلمانوں کو یہ بتانے کے لئے ہرگز تیار نہیں کہ حضور والا جو خطیر اور غیر معمولی رقم آپ اپنے دوست اور عزیر حضرت ٹرمپ کی جھولی میں ڈال رہے ہیں یہ پیسہ کس کا ہے؟

اگر یہ پیسہ آپ کا ہے تو یقینا آپ کو حق پہنچتا ہے کہ آپ جس کو مرضی چاہیں دیں لیکن اگر یہ پیسہ دو مقدس مقامات کے انتظامات کی مد میں اکھٹا کیا گیا ہے تو پھر مکہ اور مدینہ آپ کے باپ کی جاگیر نہیں بلکہ ان دونوں مقدس مقامات پر دنیا بھر کے مسلمانوں کا حق ہے۔

اس وقت آل سعود کی حالت اس طوائف جیسی ہو چکی ہے جس کو پیسے دے کر کوئی بھی اپنے ساتھ لے کر جا سکتا ہے امریکی میڈیا بھی غیر جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بار بار ٹرمپ جیسے بدترین اور فاسد شخص کے اقدامات کی کھلے عام مذمت اور مخالفت کر رہا ہے جبکہ آل سعود ایک طوائف کی مانند بانہیں کھول کر ٹرمپ کا استقبال کر رہے ہیں۔

اور اب خادم الحرمین شریفین کے دعوے دار اس حد کو عبور کر چکے ہیں جہاں سے بدنامی کی حدیں شروع ہوتی ہیں قطر کے لوگ مسلمان ہیں حتی آل سعود کے ہم مسلک ہیں لیکن کچھ قطری جوان اہل اقتدار نے فلسطین کی آزادی کے لئے جنگ لڑنے والے حماس کے مجاہدین کی حمایت کی تو آل سعود تلوار سونت کر قطر کے سر آ کھڑے ہوئے اور قطر کا ناطقہ بند کر دیا آج قطر کے عوام جن مشکلات کا شکار ہیں اس کا اندازہ کرنا مشکل ہے اس لئے کہ ایک طرف قطر کو سعودی عرب اور دوسرے عرب ممالک کی طرف سے پابندیوں کا سامنا ہے تو دوسری طرف امریکہ بہادر بھی آل سعود کے ساتھ کھڑا نظر آ رہا ہے جس کے نتیجے میں قطر میں غذائی بحران شروع ہو گیا ہے۔

کچھ اسلامی ممالک نے آل سعود سے سفارش کی کہ قطری مسلمان ہیں ان پر ہاتھ ہولا رکھیں تو جواب میں آل سعود کی طرف سے جو مطالبات سامنے آئے ان کو سامنے رکھتے ہوئے آل سعود کے بارے میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ"یہ مسلمان ہیں جن کو دیکھ کر شرمائیں یہود"مطالبہ کیا گیا کہ قطر حماس کے مجاہدین کی حمایت بند کرے اسی طرح آل سعود کے احکامات کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی خارجہ پالیسی مرتب کرنے اسی طرح الجزیرہ ٹی وی کو بند کیا جائے۔

ستم دیکھئے کہ ال سعود کے نمک پر پلنے والے پراکسی وار مجاہدین آل سعود کے ان مطالبات کی بھی حمایت کے لئے نت نئے دلائل لانے کے لئِے کوشاں ہیں لیکن کم از کم تمام مکاتب فکر کے لوگ اس بات سے تو واقف ہوں چکے ہیں کہ آل سعود کا اسلام اور مسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں ان لوگوں کو اگر کسی چیز سے سروکار ہے تو وہ ہے اقتدار اور اس کی حفاظت کے لئے وہ کچھ بھی کرنے کے لئے تیار ہیں ٹرمپ کے لئے دولت کی بارش اور قطر کا ناطقہ بند کرنا اس کی مثال ہے۔
شاعر نے شاید انہی لوگوں کے بارے میں ہی کہا تھا
ہم طالبِ شہرت ہیں، ہمیں ننگ سے کیا کام
بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہو گا
شہرت کی جگہ اقتدار پڑھا جائے تو یہ شعر آل سعود کے حسب حال ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: محمد اشکان بھتی

Read More Articles by محمد اشکان بھتی: 11 Articles with 6197 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
01 Jul, 2017 Views: 418

Comments

آپ کی رائے