پا ک چین دوستی اور بھا رت کی تنگ نظری

(Sajid Hussain Shah, Riyadh)

اپنے گھر کو روشن کرنے کی کوشش اور پڑوسیوں کے گھر کوتا ریکی میں ڈوبونا ہمیں تو شوبہ نہیں دیتا،چینی صدر کی پا کستان آمد پر جہاں پورے پا کستان میں جشن بہاراں تھی وہاں ہما را پڑوسی ملک بھارت شدید غم وغصہ اور حسد کا شکار تھا۔قبل اسکے بھا رت میں کئی ملکوں کے رہنما آ ئے گئے با لخصوص با راک اوبا مہ کا دورہ بھارت اور جو ہری معاہدوں پر تو پا کستان نے کچھ خاص رد عمل ظا ہر نہیں کیا تھا بلکہ بحیثیت سلجھی اور تعلیم یا فتہ قوم ان تمام خطرناک اقدامات کو بھی خطے میں امن قا ئم کرنے کی خا طر ہم نے چپ سا دھ لی ۔اب ذرا جمہوریت کی سب سے بڑی دعویدار قوم کا حال بھی ملا حظہ ہو،پا ک چین کے ما بین طے پا ئے جانے والے تمام معا ہدے جنو بی ایشا میں تر قی کی بنیاد ہیں کیو نکہ بہت سے ما ہرین اس بات کا انکشاف بہت پہلے کر چکے تھے کہ حا لیہ صدی ایشا کی صدی ہے ان معا ہدوں سے صرف پا کستان ہی نہیں پورا ایشا مستفید ہو گا اور یہ خطہ جو پچھلے کئی ادوار سے بد حا لی کا شکا ر تھا اب خو ش حا لی کی طرف پیش قدمی کرے گا ،ان سب کے با وجود بھی بھا رتی میڈیا اور نفرت سے سر شار بھا رتی تجزیہ نگاروں نے پا ک چین دوستی کو جن الفا ظ سے بیان کیا ہے وہ نہ صرف قا بل مذمت ہے بلکے ان کی تنگ زہنی اور ادنیٰ قد کی عکا سی کرتا ہے ایسے ایسے شرمناک الفاظ استعمال کیے گئے جن کا ذکر کرنا بھی ہم بھی گوراہ نہیں کرتے وجہ صرف اتنی ہے کہ بھارت اس خطے میں اپنی اجارہ داری چا ہتا ہے اور جس دادا گیری کے خواب وہ سجا ئے ہو ئے تھے آ ج انھیں چکنا چور ہوتے ہو ئے نہ دیکھ سکا اور پھٹ پڑالیکن اب بھا رت کے پا س سوائے اس کے کو ئی چا رہ نہیں کہ وہ سر خم تسلیم کر لے اور اپنی آنکھیں کھولے کہ پا کستان امن کی دہلیز میں رہتے ہو ئے انشا اﷲ ایشن ٹا ئیگر بننے جا رہا ہے اپنے ملک میں تر قیا تی منصو بوں پر کام کرنا اور تجا رت کو فروغ دینا ہر ملک کا ذاتی عمل اور حق ہے اور پا کستان کبھی بھی اپنا یہ حق بھارت کی حسد کی آ گ کا شکار نہیں ہونے دے گا۔آ ج کا سارا دن بھا رتی میڈیا ایسا ہی زہر اگلتا رہا اور حکو مت سے مطا لبہ کر تا رہا کہ پا کستان اور چین کی ان چا لا کیوں کا جواب دیں ان تنگ نظر ،مکاروں اور حا سدوں سے کو ئی پو چھے تو سہی کہ دو درینہ دوست ایک دوسرے کے کام آ ئیں، تعاون بڑھا ئیں تو کیا چا لا کی ہو تی ہے؟یا چالا کی اس منا فقانہ رویے کو کہتے ہیں کہ دنیا کے سا منے تو معا ہدوں پر دستخط کر یں اور پیٹھ پیچھے ان پر کو ئی عمل نہ ہو ۔اے مخلوق خدا جب تم نے سا ری دنیا کے سا منے اپنی جھو ٹی اور کھو کلی اقتصا دی طا قت منوانے کی تگ و دو کر رہے تھے تب بھی پا کستانی قوم تمھا رے لیے نیک خوا ہشات رکھتی تھی اور خو شی کا اظہار کر رہی تھی کیو نکہ ہم پا کستانیوں کو خود پر اعتما د ہے تو پھر آ ج ہماری خو شی پر اتنی نفرت کا برملا اظہار کیوں؟

بحر حال حا سدوں سے اﷲ کی پناہ !کسی کی نفرت پاک چین دوستی کو ختم نہیں کر سکتی یہ تو وہ لا زوال دوستی ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ مزید پا ئیدار اور مضبوط ہو تی گئی ہے جسکا منہ بو لتا ثبوت ہمارا دفا عی معا ہدہ جو چین کے ساتھ نہ ہو نے کے با جود بھی جب بھی ہمیں دفا عی خطرہ لا حق ہوا تو ہما ری حفا ظت اور ساتھ دینے چین صف اول میں ہمیشہ دکھا ئی دیا ہمیں یہ حو صلہ،طاقت،ہمت اور سہارا صرف پاک چین دوستی سے ملتا ہے جو ہما رے لیے ہر قسم کے حالات میں دنیا کے آ گے سیسہ پلا ئی دیوار کی طر ح کھڑا ہو جا تا ہے پا ک چین دوستی ہما رے لیے ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہے ،دونوں مما لک نے کسی بھی حا لات میں تنہا نہیں رہنے دیا جسکا اظہار آ ج ہما رے معزز مہمان نے اپنی تقریر میں کیا انھوں نے شا عر مشرق کے وہ الفا ظ بھی دہرائے کہ چین دنیا کے نقشے پر ایک بڑی طا قت بن کر ابھرے گااور آ ج علا مہ اقبال کے کہے وہ الفاظ لفظ بہ لفظ حقیقت کا روپ دھا رے ہو ئے ہیں ہما ری یہ دوستی تو تب سے ہے جب چین اپنی تا ریخ کے تلخ تر ین دور سے گزر رہا تھا اس وقت کی تمام طا قتیں چین کے خلاف متحد تھیں اقوام متحدہ میں بھی اسے مستقل رکنیت سے محروم رکھا گیااور سیا سی طور پر چین کو بے یارو مددگار چھو ڑا گیاتب پا کستان وہ واحد مملکت تھی جس نے چین کے ساتھ اپنے تعلقات بر قرار رکھے اور شا ید یہ بات قا رئین کے لیے دلچسپی کا با عث ہو کہ بیرونی دنیا سے چین کا رابطہ بذریعہ پا کستان ہوا جب پی آ ئی اے نے چین کے لیے اپنی پروازیں شروع کی تو پا کستان چین کے لیے بیرونی دنیا سے رابطے کا واحد ذریعہ بن گیا،چپن سے ہماری دوستی کا اندارہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ہمیں ایسے امریکن نواز حکمران بھی ملے جنہوں نے امریکہ کی خا طر چین کو نظر انداز کیا مگر ہمارے اس مخلص دوست نے پھر بھی کوئی گلہ شکوہ نہیں کیا بلکہ ہمارے لیے ہمیشہ مثبت رویہ اپنا یا جو انکی ہم سے محبت اور اپنا ئیت کا کھلا ثبوت ہے ،پا کستان اور چین کے ما بین ہونے والے معا ہدوں پر تو اگلے کالم میں انشا ﷲ تفصیلاً تحریر لکھنے کی کوشش کروں گا مگر آج جس بات نے دل کو باغ باغ کیا وہ تھی پاکستانی تمام قیا دت چا ہے وہ عسکری ہو یا سیا سی سب کی یکجہتی قا بل رشک تھی تما م سیاست دانوں نے اپنے تمام سیا سی اختلاف کو پس پشت ڈال کر نہ صرف قابل احترام مہمان کو عزت بخشی بلکہ تر قی کی طرف گامزن اس اقدام کی بھر پور حما یت بھی کیاالبتہ ایک بات کا گلہ خان صا حب سے ضرور ہے کہ انکی بے جا ضد نے ہمیں تر قی کی جا نب گامزن ہو نے میں نہ صرف آ ٹھ ماہ تا خیر کا شکار کیا بلکہ ہمیں ان خوش نما لمحات سے محروم بھی رکھا،خیر دیر آید درست آید ،بلا آ خر حکومت پا کستان کی کا وشیں ر نگ لے آئیں اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم ان معا ہدوں سے ملک کو ترقی کی جانب گا مزن کرتے ہیں یا انھیں تعصب کی بھینٹ چڑھاتے ہیں یہ معا ہدے نہ حکومت کے لیے ہیں اور نہ کسی فرد واحد کے لیے بلکہ یہ روشن پا کستان کے لیے ہمارے مستقبل کے معماروں کے لیے ہیں لمحہ فکریہ یہ ہے کہ کچھ دن پہلے چند اشخا ص اپنی رائے کا اظہار کر تے ہو ئے جو باتیں کر رہے تھے وہی باتیں بھا رتی میڈیا بھی کر رہا ہے بھا رت کے ساتھ ساتھ کئی دیگر ممالک جو پا کستان کو تر قی کی اس دوڑ سے دور رکھنا چا ہتے ہیں کبھی نہیں چا ہیں گے کہ یہ معا ہدے انجام خیر کو پہنچیں وہ اپنی تمام صلا حیتیں بروئے کار لا ئیں گے اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم ان کے نا پا ک ارادوں کو کا میاب کرتے ہیں یا رد ۔کئی سیا سی شخصیات تو تعصب کی آ ڑ میں عوام کی ہمدردیاں بٹو لنے کی کوشش کر رہے ہیں مگر خدا را اب ہمیں واحد و یکجان قوم بن کر دیکھانا ہے ہم نے انفرادی تر قی کے بجا ئے اجتما عی تر قی دیکھنی ہے تر قیا تی چا ہے پا کستان کے کسی گو شے میں ہی کیوں نہ ہورہا ہواس سے فا ئدہ تو پا کستان کو ہی ہوتا ہے اﷲ سے دعا گو ہوں کہ پا ک چین دوستی یوں ہی پھلے پھولے اور جو معا ہدے ہمارے ما بین طے پا ئے ہیں وہ پا کستان کی تر قی کے لیے پیش خیمہ ثا بت ہوں۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sajid Hussain Shah

Read More Articles by Sajid Hussain Shah: 60 Articles with 31936 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
04 Jul, 2017 Views: 688

Comments

آپ کی رائے