شنگھائی تعاون تنظیم کا قیام اور اغراض و مقاصد

(Shoukat Ullah, Banu)

شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او)ایک یوریشیائی سیاسی ، اقتصادی اور عسکری تنظیم ہے جو یورپ اور ایشیائی ممالک کے لئے ایک اہم پلیٹ فارم کا کردار ادا کرتی ہے۔ اس تنظیم کی داغ بیل 1996 ء میں چین کے شہر شنگھائی میں ڈالی گئی۔ اس کے بانی ارکان میں چین ، روس ، قازقستان ، کرغیزستان اور تاجکستان شامل تھے۔ لہٰذا اس وقت اسے شنگھائی فائیو کا نام دیا گیا۔اس تنظیم کا چارٹر اکیسویں صدی کی ابتداء پر ہی وضع کیا گیا اور اس موقع پر ازبکستان نے بھی اس میں شمولیت اختیار کی۔ جون 2002 ء میں تنظیم کے رکن ممالک نے چارٹر پر باقاعدہ دستخط کیے اوریوں ستمبر 2003 ء میں عمل درآمد شروع ہوگیا۔ یاد رہے کہ پاکستان 2005 ء سے شنگھائی تعاون تنظیم کا مبصر ملک تھا جو تنظیم کے اجلاسوں میں باقاعدگی سے شریک ہوتا رہا اور 2010 ء میں باقاعدہ رکن بننے کے لئے درخواست دی۔گزشتہ ماہ قازقستان کے دارالحکومت آستانہ میں تنظیم کا 17 واں سربراہی جلاس منعقد ہوا، جس میں پاکستان کی جغرافیائی اور سیاسی اہمیت کے پیش ِ نظر سات سال بعد باضابطہ مکمل رکن بن گیا۔ قازقستان کے صدر نورسلطان نذر بایوف نے کانفرنس کے اختتام پر بانی ارکان کی طرف سے دستاویز پر دستخط کے بعد اس ضمن میں باقاعدہ اعلان کیا۔قازقستان ، کرغیزستان ، روس ، تاجکستان ، ازبکستان ، افغانستان ، بیلاروس اور منگولیا کے صدور نے اپنی تقاریر میں وزیراعظم محمد نواز شریف کو مبارک باد دی۔ اجلاس میں بھارت کو بھی باقاعدہ رکنیت دی گئی۔ اس طرح اَب شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کی تعداد آٹھ ہوگئی ہے۔ جب کہ افغانستان ، ایران ، بیلاروس اور منگولیا مبصر ممالک ، آذربائیجان ، سری لنکا اور ترکی سمیت چھ ممالک اس تنظیم کے ڈائیلاگ پارٹنر ہیں۔ اس کے علاوہ آسیان ممالک کی نمائندگی ایک وفد کرتا ہے اور ترکمانستان بھی بطور مہمان ملک اس کے اجلاسوں میں باقاعدہ شریک ہوتا رہتا ہے۔ 17 ویں سربراہی اجلاس میں دونوں ہمسائیہ ممالک کو رکنیت ملنا ایک خوش آئند امر ہے جس سے خطے میں پائی جانے والی کشیدگی کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔ اس کے علاوہ پاک روس تعلقات میں جو پیش رفت ہورہی ہے ، اس حوالے سے ایس سی او کا رکن بننے کے بعد دونوں ممالک کے مابین تعلقات میں وسعت اور استحکام پیدا ہوگا ۔اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ قدرتی اور انسانی وسائل سے مالامال ان ملکوں کی مشترکہ کاوشیں یقینا دنیا میں بڑی مثبت اور خوش گوار تبدیلیوں کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتیں ہیں۔شنگھائی تعاون تنظیم کے بنیادی اغراض و مقاصد میں رکن ممالک کی سکیورٹی کا تحفظ ، دہشت گردی اور انتہا پسندی کا خاتمہ اور اقتصادی و معاشی تعاون کا فروغ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ رکن ممالک کے درمیان باہمی اعتماد اور اچھی ہمسائیگی کا فروغ ، تحقیق ، ٹیکنالوجی ، تعلیم ، توانائی ، ٹرانسپورٹ ، سیاحت ، ماحول کے تحفظ ، خطے میں امن و سلامتی اور استحکام کو برقرار اور یقینی بنانے کے لئے مشترکہ کاوشیں اور ایک نئے جمہوری ، منصفانہ ، سیاسی اعتماد کافروغ اور اقتصادی بین الاقوامی نظام کے قیام کی جانب پیش قدمی شامل ہیں۔ چین اور روس کی قیادت اور اَب پاکستان اور بھارت کی شمولیت سے اس تنظیم کا دائرہ کار نہ صرف وسیع ہوگا بلکہ اس کے عظیم الشان مقاصد کے حصول کو مزید تقویت ملے گی۔ مزید برآں رکن ممالک بین الاقوامی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن سٹیٹ کا کردار ادا کرنے والے پاکستان کے وسیع اور مؤثر تجربات سے فائدہ اٹھا کر خطے سے اس ناسو ر کو پاک کرنے میں کامیاب ہوسکیں گے۔وزیراعظم پاکستان محمد نواز شریف نے ایس سی او کے بانی اراکین کا شکریہ ادا کیا اور سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ۔ ’’ پاکستان پُرامن ہمسائیگی کی پالیسی پر کاربند ہے اور اچھی ہمسائیگی کے طویل المدتی معاہدہ کی ضرورت کے بارے میں چین کے صدر شی جن پنگ کی تجویز کا خیر مقدم کیا‘‘۔ وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا کہ ایس سی او حقیقی طور پر بین البراعظمی تنظیم بن چکی ہے اور پاکستان اس کے چارٹر اور شنگھائی سپرٹ پر مکمل عمل درآمد کے لئے پُر عزم ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان رکن ملک کی حیثیت سے علاقائی امن ، رابطوں اور اقتصادی خوش حالی کے لئے تنظیم کے اجتماعی مقاصد کے حصول کے لئے ہر ممکن کوشش کرے گا‘‘۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shoukat Ullah

Read More Articles by Shoukat Ullah: 202 Articles with 124924 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
04 Jul, 2017 Views: 584

Comments

آپ کی رائے