سائنس

(Syed Yousuf Ali, Karachi)
کراچی کے شہری جانتے بوجھتے بھی زہر خورانی پر مجبور

کراچی کے شہریوں کوویسے تو درجنوں مسائل کا سامنا ہے یہی وجہ ہے کہ بہت سے من چلے عروس البلاد کو دل کے پھپولے پھوڑنے کے لئے مسائلستان بھی کہتے ہیں۔ اگر آپ 2کروڑآبادی والے اس شہر میں کسی کو یہ بتائیں کہ آپ کوبتائے بغیر خطرناک اور زہریلے عناصر سے آلودہ خوراک کھلائی جا رہی ہے تو ممکنہ طور پر آپ کے مخاطب کوآپ کی ذہنی صحت پر شک ہو گا۔ تاہم یہ حقیقت ہے کہ اس شہر کے باسی سبزیوں کے نام پر درجنوں اقسام کے زہریلے عناصر اور معدنیات اپنے معدہ میں اتار رہے ہیں۔سبزیوں کی کاشت میں استعمال ہونے والے پانی کے علاوہ گھروں میں فراہم کیا جانے والا بھی پانی بھی بڑی حد تک آلودہ ہے، اور یہ بھی کافی بیماریوں کا سبب بن رہا ہے۔ اس صورتحال نے بھی شہریوں کی زندگی کو دا ئوپر لگا دیا ہے۔ ملک کے سب سے بڑے شہرمیں یہ صورتحال تشویشناک حد تک بگڑ چکی ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں سے پانی کے نمونے حاصل کرکے جب ان کا تجزیہ کیا گیا تو ان میں کئی دھاتیں عالمی ادارہ صحت کے مقررہ کردہ معیار سے زائد پائی گئیں۔

تجزیاتی رپورٹ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ پانی میں زہریلے مواد کی مقدار 2007 میں تین اعشاریہ دو سات نو پارٹ فی ملین تھی جو 2008 میں بڑھ کر تین اعشاریہ آٹھ نو صفر اور 2009 میں پانچ اعشاریہ صفر نو صفر تک پہنچ گئی جب کہ تازہ ترین اعدادوشمار نہ ہونے کے باوجود ماہرین کو خدشہ ہے کہ یہ اعدادوشمار اس عرصہ میں دگنے ہو چکے ہیں۔ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر فوری طور پر اس صورتحال کا نوٹس نہیں لیا تو مستقبل قریب میں صورتحال تشویشناک رخ اختیار کرسکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چمڑے کے کارخانوں اور دوسرے صنعتی یونٹس سے بہہ کر سوریج لائنوں تک پہنچنے والے آلودہ پانی میں سیسہ ، آرسینک اور کیڈمیم کی مقدار خطرناک حد تک موجود ہے۔

ایک زمانہ تھا جب نہ صرف دیہی علاقوں بلکہ خود کراچی میں بھی خواتین معمول کے کھانے بناتے ہوئے ان کو ذائقہ دار بنانے کے لئے ان میں ہرے دھنیے، پودینے، اور میتھی کا استعمال کرتی تھیں ۔ صاحب خانہ کو دفتر سے تھکے ماندے گھر واپس آتے ہوئے گھر میں داخل ہوتے ہی پتہ چل جاتا تھا کہ آج گھر میں کون سی ڈش بنی ہے ، تاہم اب وہ دن گئے کیونکہ نہ صرف خاتون خانہ بلکہ گھر کے جملہ افراد بھی اس حقیقت کی تہہ کو پہنچ چکے ہیں کہ دھنئے، پودینے ، میتھی وغیرہ کی اصل خوشبو کہاں چلی گئی ہے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق مختلف علاقوں سے لوگوں نے اخبارات کے دفاتر پہنچ کر شکایت کی ہے کہ شہر میں فروخت ہونے والی سبزیوں میں ایک ناگوار بو محسوس ہوتی ہے جبکہ سبزیاں اپنا فطری ذائقہ کھو بیٹھی ہیں۔ لوکی، ترئی، گوبھی، پالک کی طرح ہرا دھنیا، سویا اور میتھی بھی گٹر کے گندے پانی سے کاشت کی جارہی ہیں۔دوسری جانب گٹر کے پانی کے ساتھ ساتھ کیڑے مار دوائوں کا اسپرے بھی بہت سی بیماریوں کا سبب بن رہا ہے۔ادرک کا وزن بڑھانے کے لئے اسے ایک خطرناک تیزاب میں ڈبویا جاتا ہے جو کہ انتہائی مہلک عوارض کا سبب بن رہا ہے۔

عام طور پرتازہ سبزیوں کو اچھی اور مستحکم صحت کا ضامن سمجھا جاتا ہے لیکن ملیر اور اس کے گرد ونواح میں صنعتی یونٹس سے نکلنے والے زہریلے مواد کو براہ راست سیوریج لائن میں چھوڑے جانے سے اس پانی سے کاشت کی جانے والی سبزیوں نے شہریوں کی زندگی کو دائو پر لگا دیا ہے ۔ طبی ماہرین اپنی رپورٹس میں کئی برسوں سے یہ انتباہ کر رہے ہیں کہ خطرناک کیمیکل سے آلودہ پانی کو سبزیوں کی کاشت کے لئے استعمال کرنے سے کینسر جیسا موذی مرض تیزی سے پھیل رہا ہے۔ کئی برسوں قبل سٹی گورنمنٹ اور صوبائی حکومت کے اقتدار کے ایوانوں میں بھی اس چیلنج کی بازگشت سنائی دی تھی۔ بعد ازاں صوبائی اسمبلی میں ایک مسودہ قانون کے ذریعے گندے پانی سے سبزیوں کی کاشت پر پابندی عائدکی گئی مگر اس پر ابھی تک عملدرآمد نہیں ہو سکا ، باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض با اثر سیاسی شخصیات اس پابندی کے آڑے آگئی ہیں۔

آلودہ اور زہریلے پانی سے سبزیوں کی کاشت کے خلاف آپریشن بھی شروع کیا گیا تھا۔ سٹی گورنمنٹ نے مضر صحت سبزیوں کے کاشتکاروں کو مخصوص مدت تک مہلت بھی دی اور ان سے کہا گیا تھا کہ وہ ازخود مضر صحت سبزیوں کو تلف کرکے ان کی کاشت روک دیں لیکن عملی طورپر کوئی کاروائی دیکھنے میں نہیں آئی۔ حکام یہ تو تسلیم کرتے ہیں کہ انسانی جانوں کو خطرات سے دوچار کرنے والی ان سبزیوں کی تین سو ایکڑ رقبے پر کاشت کو روکنا نہایت ضروری ہے تاہم تمام تر دعوئوں کے باوجود آلودہ اور زہریلے پانی سے کاشت ہونے والی سبزیوں کی مقامی مارکیٹوں میں فروخت جاری ہے۔یہ امر پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ آلودہ اور خطرناک کیمیکلز کی آمیزش والے پانی سے سبزیوں کی کاشت اب صرف ملیر تک محدود نہیں رہی ہے۔لیاری ندی کے دونوں اطراف ، نیو کراچی ، سرجانی اور بلدیہ سمیت ایسے تمام علاقوں تک وسیع ہو گئی ہے جہاں بھی گندے پانی کی نکاسی کیلئے کچی سیوریج لائنیں یا فیکٹریوں سے نکلنے والے آلودہ پانی کو ٹھکانے لگانے کے لئے عارضی یا مستقل نالیاں بنائی گئی ہیں۔

تین سال قبل وفاقی اردو یونیورسٹی کے شعبہ کیمیا کی جانب سے ہونے والی ایک تحقیق میں انکشاف کیا گیا تھا کہ کاشت کاری کے لئے استعمال ہونے والے پانی میں زہریلے اثرات سے شہریوں کی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ سبزیوں کی کاشت میں استعمال ہونیوالے پانی کے نمونوں کی تجزیاتی رپورٹ کے مطابق آلودہ پانی سے کاشت ہونے والی سبزیوں میں کیڈمیئم، آئرن،، کاپر، کرومیئم، زنک، لیڈ اور میگانیز سمیت متعدد زہریلی دھاتیں بڑی مقدار میں موجود ہیں۔ان دھاتوں سے سرطان،ہائی بلڈ پریشر، گردوں کے امراض، ہڈیوں کی کمزوری، ہیضہ، اسہال، پیٹ کے امراض، وزن کی کمی جیسے امراض میں تیزی سے اضافہ ا ہو رہا ہے، جبکہ زنک اور لیڈ کی زائد مقدار نے دماغی امراض پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔

تحقیقی ماہرین نے اعداد وشمار کا حوالہ دیتے ہوئے متنبہ کیاکہ آلودہ غذا، تمباکو نوشی کے بعد سرطان کراچی میں اموات کی دوسری بڑی وجہ بن رہی ہے۔ اور اگر صاف ستھری سبزیوں کا استعمال کیا جائے تو سرطان کے واقعات ایک تہائی کم ہوسکتے ہیں۔تحقیقی ماہرین کا کہنا ہے کہ شہر کی ضرورت کا 20 سے 30 فیصد حصہ اسی زہریلی سبزیوں سے پورا کیا جارہا ہے جس کے نتیجے میں مذکورہ سبزیاں استعمال کرنیوالے پیٹ کے کیڑوں، ہیضے، ملیریا، پیٹ اور جگر کے مختلف امراض میں مبتلا ہورہے ہیں۔ دیگر سبزیوں کے مقابلے میں گندے اور زہریلے پانی سے کاشت کی جانے والی سبزیاں زیادہ ہری بھری اور چمکیلی نظر آتی ہیں جس کی وجہ صنعتی فضلے میں موجودہ الکلیز، ڈائیز اور کاپر کے کمپائونڈ ز کی موجودگی ہے۔ اس پانی سے کاشت کی جانے والی سبزیوں کے استعمال سے انسان اعصابی اور دیگر مہلک بیماریوں میں مبتلا ہوجاتا ہے، مسلسل استعمال سے جگر کی بیماریوں کے ساتھ کینسر لاحق ہونے کا خطرہ بھی ہوتا ہے۔

یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ سب سے بڑے شہر میں جہاں شرح خواندگی پورے ملک کے اوسط سے بہت زیادہ یعنی تقریباً98فیصد ہے تاہم مگر اسی شہر کی آبادی جانتے بوجھتے ہوئے بھی زہر خوارانی کر رہی ہے۔ فرانس کے عظیم جرنیل نپولین بونا پارٹ نے عالم گیرجنگ کے چیلنج سے نمٹنے کیلئے منعقدہ امراء کے دربار میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ آم مجھے صحتمند نوجوان دین میں آپ کا ایک ترقی یافتہ ملک دوں گا۔ ماضی کا معروف جرنیل دراصل اچھی صحت کی اہمیت سے آگاہ تھا۔امریکہ میں بھی طبی ماہرین ، محکمہ صحت کے عہدیدار ، سرکاری راہنما خاتون اول مشیل اوباما کی زیر قیادت صحت مند غذا کے استعمال کی مہم چلا رہے ہیں ۔اس کے تحت ا سکول کے بچوں پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ ورزش کریں اور پھل اور سبزیاں کھائیں۔ صحت مند خوراک اور ورزش خون میں کولسٹرول کو مناسب سطح پر قائم رکھنے میں مدد دیتے ہیں ۔ دوسری جانب ہمارے سیاستدانوں، اعلیٰ سرکاری حکام اورایوان اقتدار کے ذمہ داران کا کردار ہمارے سامنے ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ لوگوں کوزبردستی زہر خورانی پر مجبور کرنے کی بجائے ایک صحت مند قوم کے تصور کو پیش نظر رکھا جائے ۔ #

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: syed yousuf ali

Read More Articles by syed yousuf ali: 94 Articles with 49094 views »
I am a journalist having over three decades experience in the field.have been translated and written over 3000 articles, also translated more then 300.. View More
05 Jul, 2017 Views: 551

Comments

آپ کی رائے