مدارس اسلامیہ کا قیام اوراعلیٰ حضرت امام احمد رضا رحمۃاﷲ علیہ

(Ghulam Mustafa Rizvi, India)

(یوم ولادت پر خراج عقیدت)

انقلابی فکر و نظر کے اجرا میں مدارس کا کردار نمایاں رہا ہے۔ اس کی مثالیں کم نہیں۔ مسلمانوں کے علمی مراکز بغداد، کوفہ، بخارا، دمشق،طلیطلہ،سسلی اور اندلس کی تاریخ گواہ ہے کہ ان مقامات کی درس گاہوں میں زانوئے تلمیذ تہ کرنے والوں نے حدیث و تفسیر کے ساتھ ساتھ سائنس و فلسفہ، ہیئت و جغرافیا، معاشیات و سیاسیات اور دیگر فنون میں نئے آفاق تلاش کیے اورعلوم جدیدہ میں ایجادات و اختراعات کے ذریعے دنیا کو علم کا ایک نیا تصور دیا اور ذہن کی گرہوں کو کھول کر حق کی راہ کی سمت راہ نمائی کی۔ امام احمد رضا محدث بریلوی (م۱۹۲۱ء) جن کی دینی و علمی بصیرت اپنے زمانے سے آگے دیکھا کرتی تھی، مدارس کی اہمیت کے باب میں تحریر فرماتے ہیں: ’’عظیم الشان مدارس کھولے جائیں با قاعدہ تعلیمیں ہوں۔‘‘

صالح و علمی اور فکری انقلاب درس گاہوں سے رونما ہوا۔ مدارس اسلامیہ نے دین کے دعوتی، علمی، اخلاقی اور اعتقادی و معاشرتی پیغام کو عام کیا۔ العلماء ورثۃالانبیاء (علما انبیا کے وارث ہیں) کے مطابق انبیاے کرام کے مشن کو پہنچایا۔ آج دین کی جو بہاریں نظر آرہی ہیں وہ مدارس کی ہی دین ہے، جہاں سے ہر شعبہ ہاے حیات میں رہ نمائی و قیادت کرنے والے علما پیدا ہوئے۔ اشاعت علم دین اور فروغ حق کے لیے مدرسوں کا قیام ناگزیر ہے۔

امام احمد رضا نے خود بھی مدارس کے قیام پر توجہ دی اور اس وقت جب کہ دہلی میں مسلمانوں کی حکومت کا خاتمہ ہو چکاتھا اور انگریز نے اپنے قبضہ و تسلط کے بعد مدارس کو مفلوک الحال بنا ڈالا تھا نیز مدارس کے لیے مسلم سلاطین کی عطا کردہ جاے دادوں کو چھین لیا تھا آپ نے بریلی میں ۱۳۲۲ھ / ۱۹۰۴ء میں دارالعلوم منظر اسلام قائم کیا جسے برصغیر میں مسلمانوں کی دینی تعلیمی ترقی کے دوسرے دور کی بنیاد قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس درس گاہ نے باقاعدہ اسلامی علوم کے سلسلے کو آگے بڑھایا۔ اور ایسے نادر روزگار علما تیار ہوئے جن کی انقلابی خدمات کی دھمک اب بھی محسوس کی جا سکتی ہے۔

آپ کے تلامذہ و خلفا نے مدارس اسلامیہ کا جال بچھا دیا۔ جن کی تصنیفی، تفسیری، فقہی، سیاسی، تعلیمی اور محدثانہ خدمات سے تاریخ ہند کے صفحات جگ مگا رہے ہیں۔ ہند کی فضا میں تعلیمی سطح پر کئی تحریکیں ابھریں لیکن یہ بھی ضابطے کی بات ہے کہ جب بنیاد ہی کم زور ہو تو عمارت بھی ناقص و کم زور ہو گی۔یوں ہی ببول سے گلاب کا حصول محال ہے۔ جو تحریکات نمودار ہوئیں ان کے عقائد و مقاصد درست نہیں تھے۔ مثلاً تحریک سر سید کو ہی دیکھتے ہیں، موصوف نے معاصر علوم کی درس گاہ قائم کی جہاں سے دانش ور تو ضرور نکلے لیکن وہ دینی قیادت کے اہل افراد قوم کو نہ دے سکے،اور ایسے فارغین انگریزی تمدن و تہذیب کے حملوں سے قوم کو کیسے بچا پاتے جب کہ وہ خود کچھ اسی طرح کے ماحول کے پروردہ تھے۔ایسی تحریکیں بھی وجود میں آئیں جوبہ ظاہر اسلام کے فروغ کے لیے تھیں لیکن در پردہ ایسی جماعت کی تیاری کا فسانہ سامنے آیا جس کا مقصد حق و باطل کے فرق کو اٹھا دینا تھا، جن لوگوں نے اہانت رسالت مآب صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کاارتکاب کیا تھا اور وہ تائب بھی نہیں ہوئے تھے ان سے مل کر اس تحریک کو آگے بڑھایا گیا۔ ان کے زیر اثر ملت کے لیے قابل اور عشق رسول کے جوہر سے مالا مال افرادتیار نہ ہو سکے۔ اس طرح کی تحریکات کی امام احمد رضا نے سختی سے تردید فرمائی اور عقیدہ و ایمان کی سلامتی کو فائق رکھا۔ اسی طرح دہریت و نیچریت کی تحریک کا آغازو ارتقا بھی ہو چکا تھا اس کے ابطال و تردید میں آپ کی خدمات بے مثل ہیں، ایک مقام پر دہریت و نیچریت کے سدباب میں علم دین کی اشاعت کے رخ پر روشنی ڈالتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں: ’’جب تک یہ (بے سود و تضییع اوقات تعلیمیں) نہ چھوڑی جائیں اور تعلیم و تکمیل عقائد حقہ و علوم صادقہ کی طرف باگیں نہ موڑی جائیں دہریت و نیچریت کی بیخ کنی نا ممکن ہے۔‘‘

آپ اس فکر افزا نکتے میں باطل تحریکات کے سد باب کے لیے علم دین کی اہمیت واضح کر رہے ہیں۔ امام احمد رضا کے نزدیک اشاعت علم دین اہم تھی جیسا کہ آپ نے تحریر فرمایا ہے: ’’دین متین علم دین کے دامن سے وابستہ ہے۔‘‘ اور اس علم کی اشاعت کے لیے تعمیری فکر کے حامل مدارس کا قیام ضروری ہے۔

نظام تعلیم میں نصاب کا کردار کلیدی ہوتا ہے نیز نصاب کی تدریس بھی اہمیت رکھتی ہے۔ امام احمد رضا ایک ماہر تعلیم تھے۔ آپ نے جہاں مدارس کے قیام کی ضرورت کو اجاگر کیا وہیں باقاعدہ تعلیمی نظام پر بھی زور دیا تا کہ جو ٹیم تیار ہو کر نکلے وہ اپنے علم اور فن کے اعتبار سے پختہ ہو ساتھ ہی تعمیری مزاج کی حامل بھی، اور اس کا اندازا بھی خوب ہو تا ہے کہ امام احمد رضاکے تلامذہ میں ہر ایک کسی نہ کسی شعبے کا ماہر اور یگانہ تھا ؂
کوئی صدرالافاضل ہے کوئی صدرالشریعہ ہے
یہ سارا فیض ہے کس کا امام احمد رضا خاں کا

آپ ایک ماہر تعلیم بھی تھے۔ آپ کے صالح تعلیمی افکار میں عشق نبوی کی خوش بو رچی بسی دکھائی دیتی ہے جس کی عہد رواں میں زیادہ ضرورت ہے۔ اور اس سے دہر میں اجالا بھی ہو گا۔آپ کے معاصر اقبالؔ نے ایک صدی ہوئی سچ ہی کہا تھا ؂
قوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دے
دہر میں اسم محمد ﷺ سے اجالا کر دے
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulam Mustafa Rizvi

Read More Articles by Ghulam Mustafa Rizvi: 262 Articles with 146470 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
09 Jul, 2017 Views: 452

Comments

آپ کی رائے