فریضہ حج اور ہماری ذمہ داریاں

(Tanveer Awan, Islamabad)

بسم اللہ الرحمن الرحیم

ارکان اسلام میں سے پانچواں رکن حج قولی، بدنی، قلبی، مالی عبادات کا ایسا مجموعہ ہےجو اللہ تعالیٰ اطاعت و بندگی اور وحدت امت کا عظیم مظہر ہے ،جس میں ہر عازم حج جذبہ عشق و محبت سے مغلوب نظر آتے ہوئے ہر رکن حج کو دیوانگی اور وارفتگی سے ادا کررہا ہوتا ہے ،یہ رکن اسلام مالی، بدنی اور روحانی ہر تین پہلوؤں کومشتمل ہے ۔ جب کہ بیت اللہ شریف کا مخصوص ایام میں مخصوص اعمال کے ساتھ ارادۃ سفر کرنا حج کہلاتا ہے ، اور اللہ کریم نے تمام مسلمانوں کے دلوں میں بیت اللہ اور حرمین شریفین کی محبت کو اس انداز سے ڈال دی ہے کہ جو حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کر چکے ہیں اور جو ارادہ رکھتے ہیں،ان میں سے ہر دوسرا شرف باریابی کے لیے مضطرب اور بے چین ہی رہتا ہے کیونکہ حضرت سیدنا ابراھیم علیہ السلام کی تعمیر کعبہ کےبعد مانگی ہوئی دعا کا اثر ہے ،اے ہمارے رب! ہمیں اپنا فرمانبردار بنا اور ہماری اولاد میں بھی فرمانبردار امت پیدا فرما اور ہمیں ہماری عبادت (مناسکِ حج ) کے طریقے سکھلا اور ہماری توبہ قبول فرما، یقینا تو بہت زیادہ توبہ قبول کرنے والا، نہایت مہربان ہے۔(البقرۃ )اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو یہ حکم دیا"اور لوگوں مین حج کی منادی کر دے، وہ تیرے پاس آئیں گے، پیدل اور دُبلےدُبلے اونٹوں پر، جو دور دراز کے راستوں سے چلے آئیں گے" ۔(سورۃ الحج ۔21)جب کہ رسول اللہ ﷺ کی بعثت کے بعد سن 9 ہجری میں حج کو اسلام کا پانچواں رکن قرار دے کر ہر ذی استطاعت عاقل ،بالغ ،مسلمان مرد اور عورت پر زندگی میں صرف ایک دفعہ فرض کردیا گیا ،اللہ کریم کا ارشاد مبارک ہے "اور لوگوں پر اللہ تعالیٰ کا یہ حق ہے کہ جو اس (کعبہ) تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو وہ اس کا حج کرے۔" (سورہ اٰل عمران 97)نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ "استطاعت سے مراد راستے کا انتظام اور سواری کا انتظام ہے۔(المستدرک للحاکم:442/1)اہتمام حج کے بارے میں ارشاد باری تعالیٰ ہے"اور لوگوں پر اللہ کا حق (یعنی فرض) ہے کہ جو اس گھر تک جانے کا مقدور رکھے وہ اس کا حج کرے اور جو اس حکم کی تعمیل نہ کرے گا تو خدا بھی اہلِ عالم سے بے نیاز ہے ۔" (سورہؑ اٰل عمران: 97) جب کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے روایت ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کہ جس شخص کو خرچ اخراجات سواری وغیرہ سفربیت اللہ کے لیے روپیہ میسر ہو ( اور وہ تندرست بھی ہو ) پھر اس نے حج نہ کیا تو اس کو اختیار ہے یہودی ہوکر مرے یا نصرانی ہوکر۔( ترمذی۔ باب ماجاءمن التعلیظ فی ترک الحج)

رکن اسلام حج بیت اللہ پر قرون میں اہتمام کے حوالے سے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے عہد خلافت میں مندرجہ ذیل پیغام شائع کرایا تھاکہ میری ولی خواہش ہے کہ میں کچھ آدمیوں کو شہروں اور دیہاتوں میں تفتیش کے لیے روانہ کروں جو ان لوگوں کی فہرست تیار کریں جو استطاعت کے باوجود اجتماع حج میں شرکت نہیں کرتے، ان پر کفار کی طرح جزیہ مقرر کردیں۔ کیونکہ ان کا دعویٰ اسلام فضول وبیکار ہے وہ مسلمان نہیں ہیں۔ (نیل الاوطار ج 4 ص 165 )

شوال وذی قعدہ اورذی الحجہ کے دس دنوں کو حج کے مہینے کہا جاتا ہے جب کہ ارکان حج کی ادائیگی آٹھ ذی الحجہ سے تیرہ ذی الحجہ تک کی جاتی ہے ،حج کے چار ارکان ہیں پہلا رکن صرف حج یا حج و عمرہ کی نیت سے احرام باندھنا ،دوسرا رکن میدان عرفات میں وقوف،تیسرا رکن طواف زیارت اور چوتھا رکن صفا ومروہ کے درمیان سعی کرنا ہے جب کہ سات واجبات ہیں اول میقات سے احرام باندھنا،دوم وقوف عرفہ کے دن غروب آفتاب تک میدان عرفہ میں ٹھہرنا ،

سوم مزدلفہ میں فجر تک رات گزارنا‘یہاں تک کہ خوب روشنی ہو جائے۔سوائے عورتوں اور کمزور لوگوں کے ‘انہیں آدھی رات کے بعد جانے کی اجازت ہے،
چہارم جمرہ عقبہ کی رمی کے بعد حلق یاقصر کروانا،
پنجم ایّام تشریق میں منیٰ میں رات گزارنا،
ششم ایّام تشریق میں رمی کرنا،

ہفتم طواف وداع کرنا۔ اور ان دونوں کے علاوہ تمام افعال طواف قدوم، آٹھ اور نو ذو الحجہ کی درمیانی رات منی میں گزارنا، اضطباع کرنا، رمل کرنا، حجر اسود کو بوسہ دینا، صفا اور مروہ پہاڑی پر چڑھنا مسنون ہے۔
حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کرنے والے کے تمام گناہ معاف کردئیے جاتے ہیں، اگر تمام ارکان حج کو مسنون طریقے اور شرعی تقاضوں کے عین مطابق اور لغویات و بیہودہ باتوں ، گالی گلوچ اور لڑائی جھگڑا سے اجتناب کرتے ہوئے ادا کرے تو اس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد مبارک ہے "جس شخص نے الله کے لیے حج کیا، (اس دوران میں) کوئی فحش گوئی کی نہ کوئی برا کام تو وہ گناہوں سے اس طرح پاک صاف واپس لوٹے گا جس طرح اس کی ماں نے اسے جنم دیا تھا"۔(صحیح البخاری، الحج، حدیث: 1521)

حج بیت اللہ کا ہر ہر رکن اور پوری دنیا سے آئے ہوئے مسلمان سفید چاروں میں ملبوس ،لبوں پر لبیک اللھم لبیک کا ترانہ ایک واضح پیغام دے رہا ہے کہ مسلمان ہر حال میں حکم رب العالمین کا پابند ہے ،ایک حج مکمل طور پر سپردگی،دیوانگی ،محبت اور جذبہ اطاعت سے سرشار ہو نے کا نام ہے ،سعی صفاو مروہ ہو یا وقوف عرفہ ،مزدلفہ میں کھلے آسمان تلے رات گزارنا ہویا منیٰ میں قیام ،شیطانوں کو کنکریاں مارنا ہو یا طواف بیت اللہ کرنا ،ہر ایک رکن سے اطاعت ،یکسانیت اور اسلام کی آفاقیت کا عظیم مظہر ہے ،ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم پیغام حج کواپنی معاشرتی ،سماجی اور انفرادی زندگی میں عملاً لانے کی کوشش کریں تاکہ اتفاق و اتحاد ،امن و سلامتی اور اطاعت و فرمانبرداری کی فضا ء قائم ہوسکے ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Molana Tanveer Ahmad Awan

Read More Articles by Molana Tanveer Ahmad Awan: 207 Articles with 137104 views »
writter in national news pepers ,teacher,wellfare and social worker... View More
14 Jul, 2017 Views: 620

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ