بلوچستان سی پیک اور دہشت گردی!

(Inayat Kabalgraami, )

 پچھلے کئی دنوں سے رقبے کے لحاض سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے بلوچستان کے سیکورٹی ادارے اور عام شہری دہشت گردوں اور انتہاپسندوں کے نشانے پر ہے، ان دہشتگردوں نے پورے صوبے میں لوگوں کا چین و سکون خراب کر رکھا ہے۔ حال میں ہی یعنی جمعرات کو علی الصبح ایس پی قائد آباد ڈویژن جناب مبارک شاہ کو اپنے دفتر جاتے ہوئے تین محافظوں سمیت گھر سے کچھ ہی فاصلے پر نقاب پوش موٹر سائیکل سواردہشت گردوں نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر کے شہید کر دیا۔ اس سے کچھ دن قبل یعنی دس جولائی کو چمن میں ڈی پی او قلعہ عبداﷲ ساجد مہمند کو بھی دہشت گردوں نے خود کش حملے میں اس وقت شہید کردیا تھا جب وہ معمول کے گشت پر تھے۔

اس سے قبل گیارہ مئی کو بلوچستان کے علاقے مستونگ میں سڑک کنارے بم دھماکے میں25 افرادشہید جبکہ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ اور جے یو آئی کے رہنما مولانا عبدالغفور حیدری سمیت متعدد افراد زخمی ہوگئے۔شہید ہونے والوں میں مولانا عبدالغفور حیدر ی کا ڈرائیور بھی شامل تھا۔ مولانا عبدالغفور حیدری صاحب ایک مدرسے کے پروگرام ختم بخاری میں شرکت کرنے گئے تھے۔اس علاوہ اور بھی دہشتگردی کے واقعات ہوئے ہیں بلوچستان میں جس میں سینکڑوں بے گناہ انسان جاں بحق ہوئے ہے بشمول سیکورٹی اہلکاروں کے ۔

پاکستان کے دل بلوچستان میں دہشت گردی کی اس نئے لہر میں تیزی انتہائی افسوسناک بات ہے ۔ دہشت گردوں کے یہ حملے بلوچستان میں پولیس سمیت قانون نافذ کرنے والے دیگر ادروں کو ہراساں کرنے کے لیے کئے جا رہے ہیں ۔یہ وہ بچے کھچے بزدل دہشت گرد ہیں ،جو کہ یا تو ملک کے دوسرے علاقوں سے آپریشن ضرب عضب اور ردالفساد کے نتیجے میں بھاگ کر یہاں آئے ہوئے ہونگے؟ یاپر مقامی ؟مگر جو بھی ہیں ان کو دشمن ممالک کی مدد حاصل ہے ، مزید برآں برادر اسلامی ملک افغانستان سے بھی بلوچستان میں دہشت گرد داخل کیے جا رہے ہیں جوکہ انتہائیتجربہ کار اور تربیت یافتہ ہیں اور یہ سب برادر اسلامی ملک افغانستان اور بھارت مل کر کر رہے ہیں جس میں ہندوستان کی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ پیش پیش ہے۔

پاکستان اور چین کے درمیان بننے والے کوریڈور کانام ہے سی پیک ایک بہت بڑا منصوبہ ہے جس کے لیئے چین نے پچاس ارب ڈالر پاکستان کو دئے ہے ، سی پیک بلوچستان کے ساحلی علاقے گوادر سے شروع ہوتا ہے اور سندھ ، پنجاب، خیبر پختون خواء اور گلگت بلتستان سے ہوتے ہوئے چین کے شہر کاسینگ یانگ میں داخل ہوگا ، سی پیک سے پورا پاکستان استفادہ حاصل کرئے گا ، سی پیک کی اہمیت کوپوری دنیا نے تسلیم کیا ہے ،افغانستان سمیت کئی ممالک نے اس منصوبے میں شمولیت کی خواہش کی ہے ، روس نے تو باقاعدہ طور پر اس منصوبے میں شمولیت کی درخواست کر رکھی ہے ۔ یہی وہ کامیابی ہے جو پاکستان کے دشمن برداشت نہیں کرسکتے ، اس لئے وہ ان منصوبوں کو ناکام بنانے کے لئے دہشت گری پر اُتر آئے ہیں ،بلوچستان میں حالیاں دہشت گردی کے واقعات سی پیک منصوبے کو روکنے کی ناکام کوششیں ہیں ، پاکستان کے دشمنوں کو سی پیک کی اہمیت کا اندازہ ہے ، ان کو اندازہ ہے کہ اس کامیاب منصوبے سے پاکستان اور پاکستان کی عوام کو ترقی اور خوشحالی نصیب ہوگی ، جو کسی حال میں بھی پاکستان کے دشمن برداشت نہیں کر سکتے۔

پاکستان میں ہروہ منصوبہ جو پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے باعث بنتا ہے وہ منصوبہ ہندوستان اور اس کے حوارین کو برداشت نہیں ہوتا ، جیسے کہ پاک چین اقتصادی رہداری کا یہ منصوبہ جوکہ پاکستان اور چین کے رشتوں کو مزید مستحکم بنانے کا ذریعہ ہے اور جنوبی ایشیا میں گیم چینجرکی مانند ہے یہی وہ وجہ ہے کہ اس عظیم منصوبے نے دنیا کے کئے ممالک بالخصوص ہندوستان اور امریکا کی نیندیں حرام کی ہوئی ہیں۔

میڈیا اور اخباری رپورٹ کے مطابق حال میں ہی ہندوستان نے اپنی ملٹری ڈائریرکریٹ میں ایک خصوصی ڈیسک تشکیل دیا ہے ، جس کا مقصد اقتصادی رہداری (سی پیک) کو ناکام بنا نا ہے اور ساتھ ہی ساتھ اس میں بھارتی میڈیا کو بھی شامل کیا ہے کہ وہ اس منصوبے کے خلاف منفی خبریں پلائیں،اس ڈیسک کے سربرا کیطور پرجنرل انیل چوہان کو نامزد کیا گیا ہے ، حال میں ہی اس ڈیسک کا ایک اہم اجلاس منعقد کیا گیا تھا جس میں خصوصی طور پر سی پیک کوفوکس کیا گیا کہ کس طرح اس منصوبے کو ناکام بنایا جائے، اس ڈیسک کے سربرہ کے طور پر جنرل چوہان کانام اس لئے دیا گیا ہے کہ جنرل چوہان پاکستان کے سخت مخالف اور کشمیروں کے ازلی دشمن ہے ، ہندوستانی حکومت اور اس کی فوج کی جانب سے خصوصی طور پر پاکستان کے پڑوسی ممالک ،ایران اور افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرتے ہوئے سی پیک کے خلاف نت نئے منصوبے بنا رہے ہیں۔

کل بھوشن یادو اور اس کا نیٹ ورک ایک کھلی حقیقت ہے سی پیک کے خلاف بھارتی سازیشوں کا ، سی پیک کے خلاف خالی ہندوستان نہیں امریکا اور دیگر ممالک بھی سازیشوں میں مصروف ہے ، کیوں کہ سی پیک منصوبہ جہاں چین کو عالمی منڈی تک رسائی دے رہاہے جس سے چائنااپنی سستی مصنوعات کے ذریعہ امریکا کے لئے درد سر بنا جائیگا،وہی وہ دنیا پر اپنی اجر داری قائم کرنے میں کامیاب ہوجائیگا ، جو کسی بھی صورت میں امریکا کے لئے قابل قبول نہیں ہے ، اس لئے وہ کھل کر تو نہیں لیکن انڈر گراونڈہندوستان کاساتھ دے رہا ہے سی پیک کو ناکام بنانے کے لئے ۔ بھارت جہاں پاکستان کو کامیاب دیکھنا نہیں چاہتا وہی امریکا چین کو مستحکم نہیں دیکھ سکتا ہے ، اسی وجہ سے امریکا اور بھارت قربتیں بڑھتی جارہی ہے ،امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ کی حالیاں پاکستان کے لئے خصوصی پالسیوں اور ہندوستان کی جانب جکا ؤ نے اس عزائم کو بے نقاب کیا۔

پاکستان کا بچہ بچہ جانتا ہے اوراس بات سے بخوبی واقف بھی ہے کہ امریکا،ہندوستان ،ایران اور نام نہاد کابل کی حکومت پاکستان اور بالخصوص سی پیک کے خلاف سازیشوں میں مصروف ہے اور جنوبی ایشیا میں بدامنی کے لئے وہ پاکستان میں مسلسل دہشت گردی کروا رہاہے ، کبھی فرقے کے نام پر تو کبھی لسانیت اور صوبائیت کے نام پر، ہندوستان ہر صورت میں پاکستان کو غیر مستحکم کرنا چاہتا ہے ہندوستان اور ملک دشمنوں کی یہ کوشش ہے کہ چین مجبور ہوجائے اور سی پیک سے ہاتھ ہٹالے اور کسی اور ملک سے معاہدہ کریں ، لیکن چین کی حکومت اور اس کے عوام ان تمام سازیشوں سے بخوبی واقف ہے چین کو اس بات کی مکمل معلومات ہے کہ ہندوستان اور امریکا کس طرح اس منصوبے کے خلاف اپنی طاقت کو استعمال کر رہا ہیں۔ کس طرح بے گناہ پاکستانیوں کو شہید کر رہا ہیں۔ میں پاکستانی عوام سے یہ التماس کرونگا کہ اپنی بہتر مستقبل کے لئے عالمی سازیشوں کو سمجھے ، لسانیت ، قومیت، صوبائیت اور فرقہ واریت کی دلدل سے باہر نکلے اور ایک مسلمان ایک پاکستانی بن کر اس ملک کی ترقی اور خوشحالی میں پاک فوج اور دیگراداروں کے ساتھدیں کیوں کہ پُر امن پاکستان وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اﷲ ہمارے ملک پاکستان کو ا من کا گہوارہ بنا ئیں ( آ مین )

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Inayat Kabalgraami

Read More Articles by Inayat Kabalgraami: 94 Articles with 53294 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
18 Jul, 2017 Views: 533

Comments

آپ کی رائے