صوفہ کہانی ایک سبق

(Maryam Arif, Karachi)

تحریر: میرب خان ،ہری پور
میں ایک یک نشستی صوفہ ہوں۔ مجھے برآمدے کے ایک کونے میں سجایا گیا تھا۔ مگر رفتہ رفتہ مجھے محسوس ہوا کہ گھر کا کوئی بھی فرد مجھ پہ براجمان نہیں ہوتا۔ حتی کہ مجھ پہ بیٹھ کر کبھی کوئی ایک کپ چائے پینا بھی گوار نہیں کرتا تھا۔ اپنی بے وقعتی کا یہ احساس مجھے پہروں رلاتا اور یہ سوچنے پر مجبور کرتا تھا کہ کیوں؟ آخر کیوں میں کسی کی بھی توجہ کامرکز نہیں۔ سوچتا کہ شاید میری بناوٹ میں کوئی کمی رہ گئی۔مگر جب اپنی ظاہری تراش خراش پہ نظر ڈالتا تو۔ بنانے والے کی تخلیقی مہارت سے دل کو ہلکی سی تسلی ہوتی۔ عمدہ جدید ڈیزائن۔ بہترین رنگ و روغن اور مجھے بنایا بھی اعلیٰ قسم کی لکڑی سے گیا تھا۔ جب اپنے ظاہری وجود میں کوئی بھی عیب یا نقص نظر نہ آتا تو سوالیہ نشان اور بھی بڑا ہو جاتا تھاکہ آخر کیوں میں اس قدر بے وقعت ہوں اور کیوں سب مجھے برتنے سے اعتراض کرتے ہیں۔ ان رویوں نے مرے اندر احساس تنہائی پیدا کر دیا اور میں دن رات حسرت و یاس کی تصویر بنا گھر کے ایک کونے میں پڑا رہتا تھا۔ مگر پھر ایک دن یوں ہوا کہ مری کایا پلٹ گئی۔ جب گھر کی مالکن نے مجھے اس کونے سے اٹھوا کر ڈرائینگ روم کے مرکز میں رکھوا دیا۔ تو قارئین! اب مجھ پہ ہر کوئی بیٹھتا ہے اور بیٹھنا چاہتا ہے۔ آپ جانتے ہیں کیوں۔کیونکہ اب مری ’’ پوزیشن‘‘ بدل گئی ہے۔ بالکل اسی طرح اگر کسی فرد کی تمام تر خوبیوں کے باوجود اسے وہ مقام نہیں مل رہا جو اس کا ہونا چاہیے تھا تو اسے اپنے اندر احساس محرومی پیدا کرنے کے بجائے بس کچھ پل کے لیے سوچنا ہے اور اپنی پوزیشن بدلنی ہے۔وہ پوزیشن اخلاق کی بھی ہوسکتی اور اپنے انداز کی۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1241 Articles with 520493 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
18 Jul, 2017 Views: 423

Comments

آپ کی رائے