بیگم امام الدین سے مشعال یٰسین کی رضیہ سلطانہ تک عنایات

(Muhammad Asif Inayat, )

 ورلڈکالمسٹ کلب کے زیراہتام 8جولائی کشمیر کے جواں سالاورنڈر برہان وانی کے پہلے یوم شہادت پر شہید کی جدوجہد اور قربانی کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے نظریہ پاکستان ٹرسٹ میں ایک پرعزم و پر ملال تقریب منعقد ہوئی جس میں ورلڈکالمسٹ کلب کے مرکزی چیئرمین اورچیف نیوزایڈیٹر محمددلاورچودھری ،خاتون حریت محترمہ مشعال حسین ملک ، جماعت اسلامی کے مرکزی امیر وسینیٹر سراج الحق ، چیف جسٹس(ر)میاں محبوب احمد، پاکستان عوامی تحریک کے مرکزی سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈا پور،پاکستان عوامی تحریک کے ممتازرہنما تنویراحمدخان ، ورلڈکالمسٹ کلب کے مرکزی سیکرٹری جنرل محمد ناصر اقبال خان، پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما اورپنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈرمیاں محمود الرشید،پیپلزپارٹی کی رہنما جہاں آر او ٹو ،دانشور اورسینئر کالم نگارقیوم نظامی،ورلڈکالمسٹ کلب کے مرکزی سینئر وائس چیئرمین اورروزنامہ الشرق کے چیف ایڈیٹرمیاں محمدسعید کھوکھر،پروفیسر نعیم مسعود ، پی ٹی آئی (نظریاتی) کے سربراہ اختر ڈار، منفردلہجے کی شاعرہ اورمعروف کالم نگاررقیہ غزل، پی ٹی آئی کی رہنماؤں سرفرازخان نیازی، شہزادی اورنگ زیب،مووآن پاکستان کی رہنما روحی کھوکھر ایڈووکیٹ نے خطاب کیا۔ تقریب میں سینکڑوں شرکاء موجود تھے۔ محترمہ مشعال حسین ملک کی تقریر نے دلوں کو ایسا اشک بار کیا کہ آنکھیں بھی نم ہو گئیں اس دوران مشعال حسین ملک کی معصوم مگرپرعزم بیٹی رضیہ سلطانہ بھی سٹیج پر چلتی پھرتی اور کھیلتی کودتی جدوجہد آزادی کشمیر کی نئی تاریخ رقم کیے دے رہی تھیں۔ گورنمنٹ کالج گوجرانوالہ کے پروفیسر خواجہ ندیم ریاض سیٹھی نے بی بی مشعال حسین ملک کو جدوجہد آزادی کی علامت قرار دیا اور اپنے کالج میں بھی برہان وانی شہید کے ساتھ ساتھ د وسرے شہداء جدوجہد کے بلندی درجات اور کشمیر کی آزادی کے لیے دعا کرائی۔مختلف مقررین کشمیر کمیٹی کے چیئرمین مولانا فضل الرحمن کی ناقص کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے مطالبہ کر رہے تھے کہ کشمیر کازکواجاگر کرنے کیلئے کشمیر کمیٹی کی قیادت کسی متحرک اور مؤثر شخص کے سپردکی جائے۔ مگر میرے خیال میں فضل الرحمن کشمیر کمیٹی کو شاید بولی والی کمیٹی سمجھتے ہیں۔ یہ کشمیریوں کی جدوجہد ہی کہ جو سیاسی مذہبی جماعتیں جو پاکستان بننے کی مخالف تھیں آج کشمیر کی آزادی کے لیے فکر مند اور متحرک ہیں۔

تاریخ گواہ ہے کہ دنیا میں جس قوم نے بھی آزادی مانگی اور جدوجہد کی ، آزادی اس کا مقدر ٹھہری ہے۔ جدوجہد دراصل کشمیریوں کے لیے نئی بات نہیں بلکہ ان کی سرشت میں شامل ہے۔ کشمیر 1586ء سے اکبر بادشاہ کے خلاف یقوب شاہ کی صورت میں آزادی کا طبل بجا چکا تھا مغل، سکھ اور پھر ڈوگرا نے غلامی کو تسلسل دیا مگر بیگم آف شیخ امام الدین ایڈوائزر نے ہنری لارنس کو 11 اکتوبر 1846ء کو خط لکھ کر بتا دیا تھا کہ ہم موجود ہیں اور آزادی چاہتے ہیں۔ اس نقیب جمہوریت خاتون کی تعریف علامہ محمد اقبالؒ نے بھی کی۔ تحریک آزادی کشمیر میں 70 سالوں سے مسلسل مبتلا کشمیری جدوجہد کا ماضی رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان کے دس لاکھ فوج کی وردی میں ملبوس بھیڑیوں کے سامنے نبرد آزما کشمیری موت کا منہ چڑاتے ہوئے راہ جنت کے مسافر ہوئے دے رہے ہیں۔ اس تحریک میں خواندہ و ناخواندہ ، بوڑھا و جوان ، بچہ ، خواتین، بیمار و توانا ، زخمی و جری سب شامل ہیں۔ یہ تحریک ایک فطرت، جبلت، کلچر اور طرز معاشرت میں بدل چکی ہے۔ وانی شہید کی برسی پر مقبوضہ کشمیر میں کرفیو لگایا گیا اور مزید قیمتی جانوں کو بربریت کا نشانہ بناتے ہوئے کشمیریوں کو شہید اور زخمی کیا گیا۔ یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔
جتنا بڑا انفراسٹرکچر ہوتا ہے جدال و قتال اور آفات میں اتنی ہی بڑی تباہی ہوا کرتی ہے۔ ہندوستان کو بڑا ناز ہے اپنے بڑے اور پھیلے ہوئے انفراسٹرکچر کا وہ وقت دور نہیں جب ہندوستان ایک مکروہ، غلیظ اور ناپسندیدہ ریاست کی بجائے درجنوں اچھی آزاد ریاستوں میں بٹ جائے گا۔ محترمہ مشعال حسین ملک کی تقریر نے جہاں تقریب کو تعزیتی محفل میں بدل دیا وہاں سامعین کی کیفیت ایسی ہو گئی کہ ہر ایک سینے میں یٰسین ملک اور برہان وانی کا دل دھڑکنے لگا کیفیتوں کی اس تبدیلی کے اظہار میں مقررین نے ذاتی اور مجموعی شرمندگی اور ندامت کے احساس کا بھی زکر کیا کہ قوم کی یہ بیٹی کیوں آئی ہے۔ اس کی آہ و بکا اس کی للکار ، پکار ، جدوجہد، اس کا عزم اپنے میکے اور اپنی قوم کے زعما سے کیا مانگتا ہے۔ بلاشبہ ہم شرمندہ ہیں ہم آزادیٔ جدوجہد کے شہداء ، شرکاء اور ننھی راہنما رضیہ سلطانہ کے بھی مقروض ہیں مگر یہ قرض ضرور اترے گا۔

کشمیری ہر روز موت کی وادی میں اترتے ہیں۔ موت ان سے شرماتی ہے مگر دنیا کے فرعونوں ، نمرودوں، یزیدوں کو نظر نہیں آتا کیونکہ اکابرین امہ کی ترجیحات مختلف ہیں ان کے ممالک میں فتنہ پیدا کر کے ان کو ان کے اقتدار کی حفاظت میں لگا دیا جاتا ہے اور ستم یہ ہے کہ ان حکمرانوں کی حزب مخالف بھی کشمیر، اسرائیل، شام و دیگر سفاکیت زدہ ممالک کے عوام کے لیے کوئی بات اور اقدام نہیں کرتی بس آئندہ اقتدار کے وعدے پر بیٹھے ہیں افسوس کہ ہمارے اقتدار اعلیٰ بھی آزاد نہ رہے۔ جس کا سبب صرف ہوس اقتدار ہے۔ جدوجہد آزادی کے رہنماؤں میں چیئرمین جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ جناب یٰسین ملک مجھے نمایاں طو رپر پسند رہے ہیں ان کی بے مثال قربانیاں، جدوجہد ان کی باڈی لینگوئج ان کے الفاظ کا چناؤ ان کی آنکھوں سے ٹپکنے والا عزم ہندوستان کے لیے غصہ میرے لیے ہمیشہ ہی قابل دیدنی رہا ہے۔ آج وہ بھیڑیوں کی قید میں ہیں
کیا جرم کیا ہے اندھیروں میں پڑا ہے
سنا ہے کوئی دیپ ہواؤں سے لڑا ہے
والی بات ہے مگر یہ دیپ اب عقاب بن چکے ہیں اور عقاب سنگینوں کے سائے میں زیادہ دیر نہیں رہا کرتے۔ ابھی کل کی بات ہے کہ حریت رہنما یٰسین ملک کی شادی چکوال اور اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے معزز خاندان کی بیٹی مشعال حسین ملک سے انجام پائی جو انگلینڈ سمیت دنیا کی اعلیٰ یونیورسٹیوں کی تعلیم یافتہ ہیں وہ دلہن کیا بنی اور بیاہی کیا گئیں کہ ایک جہد مسلسل میں پورے عزم کے ساتھ جت گئیں۔ محمد یٰسین ملک جو حریت کے مسافر ہیں اتنی آزادی نہیں دیکھی جتنی قید کاٹ چکے ہیں۔ فوجیوں کے تشدد سے پسلیاں ٹوٹ گئیں ، گردے اور دیگر اعضا بیماریوں میں مبتلا ہو گئے، یہ سب جانتے ہوئے کہ ان کی منزل جدوجہد ہے مشعال بی بی نے جیون ساتھی کا انتخاب کیا دراصل یہ ایک فکری انتخاب ہے۔ یہ جدوجہد کا انتخاب ہے اور زندگی میں اپنی قوم کے لیے قربانی کے راستے کا انتخاب ہے۔ کہتے ہیں ایمان سلامت ہر کوئی کہے پر قول سلامت کوئی وطن عزیز کی اس باوفااورباصفا بیٹی مشعال نے یٰسین ملک کے ساتھ تو ایسی نبھائی کہ مثال بن گئی، قوم کی اس بیٹی نے جدوجہد آزادی، اپنے اسلاف، قومیت اور اپنے لوگوں سے ایسی مودت رکھی کہ قرون اولیٰ کی مومنات کی یاد تازہ ہو گئی۔ مقررین محفل نے بھی اظہار خیال کیا مگر محترمہ مشعال بی بی کا خطاب تو گویا نعرۂ تکبیر تھا دراصل جب کردار بول رہا ہو تو گفتار تمہید بن کر رہ جایا کرتی بقول ڈاکٹر علی شریعتی دین میں دو ہی راستے ہیں ایک جہاد دوسرا واعظ کا۔ جہادحضرت امام حسین علیہ السلام کا راستہ ہے جو قربانی مانگتا ہے اور واعظ حضرت زینب سلام اﷲ علیہا کا راستہ ہے جو قربانی کے ساتھ اور قربانی کے بعد اختیار ہوتا ہے آج بی بی مشعال حسین ملک دونوں راستوں پر گامزن ہیں۔ میں سوچ رہا تھا ایک اے ایس آئی دستک دے تو پھنے خانوں کو سارے واسطے یاد آجاتے ہیں کہ مصیبت کیسے ٹلے گی،پاکستان کے سرمایہ داراورطاقتورحکمران خاندان سے ایک JIT برداشت نہیں ہو پاتی مگر جہاں دس لاکھ مسلح بھیڑیے جن کی پشت پر دنیا کی خونخوار طاقتیں ہوں جان کے دشمن بنے ہوں وہاں کیا حالت ہو گی۔ قوم کی بیٹی مشعال حسین ملک جس نے چند سال پہلے ہاتھوں کو مہندی لگائی اور صدیوں میں ٹوٹنے والے دکھوں میں مبتلا ہو گئی مگرپھرپرامید،پرجوش اور پرعزم ہے، درد کی یاد نہیں ہوتی مگر یاد کا در بہت ہوا کرتا ہے اس پر ملال تقریب میں وطن عزیز میں ہونے والے مظالم کی یاد بھی تازہ ہو گئی اور مشعال بی بی کی پکار اور برہان وانی شہید کی یاد نے درد کے احساس کو بڑھاوا دیا۔ کبھی میں سوچتا ہوں کہ 14 اور 15اگست 1947ء برصغیر کی آزادی کا دن تھا یا کشمیر کی غلامی کا گورے کی غلامی سے ہندوبنیا اور بھیڑیا،اس کی غلامی کے دور کا آغاز ہوا جو اب انشاء اﷲ آخری سانسیں لے رہا ہے۔ کشمیر کی آزادی ہندوستان کی د وسری ا قوام کی آزادی منتج تو ہو گی مگر ہمیں بھی حکومتی ، عوامی، معاشرتی، سماجی، سیاسی حتیٰ کہ عسکری و بین الاقوامی سطح پر حق حمیت ادا کرنا ہو گا ۔ تحریک آزادی کشمیر کے سرخیل اورضمیر کے قیدی یٰسین ملک کی اہلیہ مشعال حسین ملک نے اپنے شوہر کے اوپر ہونے والے تشدد، ہندوؤں کی جیل میں اپنی قید اور اپنے یہاں کی قید اور قربانی کا ذکر بھی نہ کیا یہ بذات خود ایک زبردست قربانی ہے مگر تاریخ اور دنیا بیگم شیخ امام الدین سے مشعال یٰسین ملک کی رضیہ سلطانہ تک کی جدوجہدکوہمیشہ یاد رکھے گی۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Asif Inayat

Read More Articles by Muhammad Asif Inayat: 5 Articles with 1648 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
20 Jul, 2017 Views: 335

Comments

آپ کی رائے