دور حاضر میں صحافت کے ڈھنگ۔۔۔

(جاوید صدیقی, کراچی)

ایک دور تھا جب صحافت کی اعلیٰ ترین منصب کو ادا کرنے کیلئے یونیورسٹیز میں ابلاغ عامہ کی ڈگری دی جاتی تھی ، خاص کر پرنٹ میڈیا کے طریقہ کار کو واضع طور پر ٹیکنیکی اور تعلیمی سطح پر ہر زاویئے سے روشناس کرایا جاتا تھا ،وقت کے ساتھ ساتھ دنیا میں جہاں ترقی کے نئے سفر کا آغاز ہوا وہیں الیکٹڑونکس نے ابلاغ عامہ کو الیکٹرونک میڈیا میں تبدیل کردیا ،پرنٹ میڈیا ہو یا الیکٹرونک میڈیا تمام سطح پر جدت نے قبضہ کرلیا، کمپیوٹر اور جدید آلات کے آنے سے میڈیا انڈسٹریز کا سلسلہ شروع ہوگیا، موجودہ دور میں سرکاری و نجی تعلیم گاہوں میں اب ماس کمیونیکیشن کے عنوان سے مضمون پڑھایا جاتا ہے ، ان مضامین مین اور کئی مضامین شامل کیئے گئے ہیں جو نہ صرف پرنٹ میڈیا بلکہ الیکٹرنک میڈیا کے ساتھ ساتھ تحقیقی اور مشاہدی مضامین بھی شامل ہیں ، آج کاطالبعلم ماس کمیونیکیشن کی ڈگری جب حاصل کرتا ہے تو اسے دور حاضر کے میڈیا کا شعور بیدار ہوجاتا ہے لیکن دیکھا گیا ہے کہ جب وہ کسی بھی اخبار کو جوائن کرتے ہیں تو ان سے کاپی ایڈیٹنگ یا خبر کی طلب کے متعلق کوئی دلچسپی کا اظہار چیف ایڈیٹر نہیں کرتا بلکہ وہ نئے طالبعلموں سے اشتہارات کے حصول کیلئے اپنی شرائط لاگو کرتا ہے اسی لیئے ہمارے پیارے دوست الیاس انجم جو کہ سانگھڑ پریس کلب کے صدر نے مجھے یہ تحریر لکھ کر بھیجی۔۔۔۔۔۔۔!!مالی طور پر مستحکم پڑھے لکھے آوارہ لڑکے اخبار جوائن کریں لوگوں کو بلیک میل کریں آمدنی کا معقول حصہ چیف ایڈیٹر کو پہنچائیں جو ویسے نہ دے اس سے اشتہار کے نام سے مانگیں اس طرح آپ بہت جلد نامور صحافی بن جائیں گے ۔۔۔ مزید وہ لکھتے ہیں کہ ۔۔۔ خدارا اب بھی وقت ہے ابھی پرانی نسل کے صحافی موجود ہیں وہ اصلاح کا بیڑہ اٹھائیں اور صحافت کا بیڑہ غرق ہونے سے بچائیں یہ اہم ذمہ داری نبھائیں ورنہ یہ تمام برائیاں آنے والے وقت میں رائج ہو جائیں گی۔ان تحریر بھیجنے کے بعد الیاس انجم نے کہا کہ آپ کیا کہتے ہیں ،ان کے اظہار پر میں نے کہا کہ اس بارے میں جلد لکھوں گا گویا یہ کالم ان کی خواہش کے مطابق لکھ رہا ہے۔۔۔۔۔!!معزز قائرین! یوں تو میں نے اس کالم سے قبل بھی کئی کالم میڈیا کے متعلق لکھے ہیں لیکن الیاس انجم کی بات حالیہ دور کی عکاسی کرتی ہے، درحقیقت الیکٹرونک میڈیا کے آنے سے جہاں کئی فوائد حاصل ہوئے وہیں چند خاص خامیوں کا اضافہ بھی ہوگیا ہے، ان میں سب سے بڑی خامی یہ دیکھنے میں آئی ہے کہ نیوز کے شعبے میں ایسے لوگ گھس بیٹھے ہیں جن کا دور تک صحافت سے کوئی تعلق نہیں ، نہ کبھی صحافت کی اور نہ صحافت کے متعلق کچھ جانتے ہیں مگر مالکان کے خاص ہونے کے ناطے تمام تر اختیارات کے حامل ہوتے ہیں جس سے نیوز کا شعبہ اپنی اساس کھو بیٹھا ہے ، مالکان اپنے مفادات کو سب سے زیادہ عزیز رکھنے کی وجہ سے غیر صحافی اشخاص کو صحافیوں پر حاکم بناکر رکھ دیتے ہیں تاکہ صحافی اصول و ضوابط کی بندش میں ان کے ادارے کو قید نہ کرسکے، مالکان کا میڈیا سے تعلق صرف حصول دولت تک محدود ہے ان کے نزدیک وہی سب سے زیادہ معتبر ہے جو ان کے ادارے کیلئے بہتر انداز میں اشتہارات اور ذاتی مفادات کے حصول کیلئے کارفرما ہو،میڈیا مالکان کو نہ صحافت سے کوئی دلچسپی ہوتی ہے اور نہ ہی صحافی تنظیموں کے مطالبات سے لیکن اس کے باوجود صحافی اپنی بقا کیلئے مسلسل کوشاں رہتے ہیں اور وہ میڈیا کے سرپرست اور کنٹرول ادارے پیمرا کے ذریعے مالکان کو اس بابت پابند رکھتے ہیں کہ وہ صحافیوں کے حقوق کو نظر انداز نہ کریں۔۔۔!! معزز قائرین ! آج سے تقریباً ستائیس سال قبل میرے دوست معین الدین کمالی کو کہ آج روزنامہ امت کے ایڈیٹرولیل انچارج ہیں ان کی وساطت سے معروف ماہر صحافی صلاح الدین شہید سے ملاقات کا بار بار شرف حاصل رہا اور ان سے بہت کچھ صحافت کے اصول اور طریقے سیکھنے کو ملے یہی نہیں بلکہ کراچی تا پشاور تک کئی سینئر صحافی دوست ہیں جن سے گاہے بگاہے سیکھنے کو موقع ملتا رہتا ہے ،کالم میں اگر نام تحریر کروں تو بہت بڑی فہرست لکھنی پڑے گی ۔۔۔۔۔۔!! معزز قائرین! صحافی تنظیم کا رکن ہونے کے ناطے سینئرز صحافیوں سے سیکھتا رہتا ہوں، میں ان خوش نصیب صحافیوں میں سے ایک ہوں جن کی صحبت اور دائرکار معروف صحافیوں کے درمیان ہے ، یہی وجہ ہے کہ اپنے کالم میں بے باقی کیساتھ زمینی حقائق کو پیش کرنے میں زرا بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتا تمام افسران ہوں یا مالکان کا ادب و احترام ضرور رکھتا ہوں لیکن سچ کہنے میں کسی سے بھی نہ خوف رکھتا ہوں اور نہ ہی ڈر محسوس کرتا ہوں اس کی ایک وجہ اپنے اللہ کی ذات پر بھرپور یقین اور اعتماد بھی ہے وہی رازق ہے اور وہی عزت کا مالک بھی۔۔!! میں نے میڈیا کے اٹھارہ سالوں میں مشاہدہ کیا ہے کہ پروفیشنلز افسران کا اپنے ماتحتوں سے ہمیشہ نرم و حلیم رویہ رہتا ہے، پروفیشنلز افسران اپنے ماتحتوں کے جائز امور کو کبھی بھی نہیں روکتے اور ان کی جانب سے بڑے ظرف کا مظاہرہ ہی دیکھا ہے لیکن ہمارے میڈیا کے وہ افسران جو اس عہدے کے ہی اہل نہیں ان کے رویہ سخت ہوتے ہیں وہ انتہائی سنگدل اور اکڑالو بھی ہوتے ہیں ان کی جانب سے بلا وجہ نوکریوں سے برخاست کا عندیہ ملتا ہے ایسے لوگ مالکان کی نظر میں بھی کوئی خاص مقام نہیں رکھتے ، ان کی نا اہلی کی وجہ سے ایسے افسران کبھی بھی پروفیشنلز افسران کو برداشت نہیں کرتے اگر کوئی پروفیشنل افسران تعنیات کردیا جائے تو یہ ان کے خلاف مسلسل سازشیں اور رکاوٹیں کھڑی کرنے میں زرا بھی دیر نہیں کرتے ایسے غیر پروفیشنلز افسران کی وجہ سے میڈیا انڈسٹری پاکستان میں ترقی نہیں کرپارہی ہے ، دور حاضر میں ایسے افسران کا صحافی برادری مکمل بائیکاٹ کرے اور مالکان کو آگاہ کرے کہ ایسے ان پروفیشنلز لوگوں کی وجہ سے نہ صرف میڈیا انڈسٹریز تباہ ہورہی ہے بلکہ ایسے افسران کی وجہ سے خود ان کے ادارے بھی پستی کا شکار ہورہے ہیں، بات کی جائے سی این این، بی بی سی، سی این بی سی ،الجزیرہ وغیرہ تو یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ ان اداروں میں مکمل پروفیشنلزم موجود ہے کیا پاکستان کی میڈیا انڈسٹریز اپنے ڈھنگ کو پروفیشنلزم کے نظام میں ضم نہیں کرسکتی اگر سکت ہے تو ضروری ہے کہ پیمرا اس سلسلے میں اپنا کردار ضرور ادا کرے بصورت ہم دنیا کی میڈیا سے کوسوں دور ہوجائیں گے،اللہ پاکستان کا حامی و نظر رہے اور میڈیا انڈسٹری کو واقعی حقیقی معنوں میں ایک منظم پروفیشنلزم ادارہ بنے آمین ثما آمین ،پاکستان میں میڈیا انڈسٹریز سے تعلق رکھنے والوں کی تعداد کئی ہزار تک پہنچ چکی ہے۔۔۔۔۔!!

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: جاوید صدیقی

Read More Articles by جاوید صدیقی: 308 Articles with 160515 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
20 Jul, 2017 Views: 585

Comments

آپ کی رائے