خانہ جنگی اورتصادم کاخطرہ بڑھ گیاہے

(Sami Ullah Malik, )

بھارت کی طرف سے پاکستان کوعدم استحکام سے دوچارکرنے کیلئے ایک اورگریٹرپلان سازش کاانکشاف ہواہے۔انٹیلی جنس اطلاعات کے مطابق اس سازش کے تحت بھارت، افغانستان اور ایران مل کرایک بارپھرپاکستان کے خلاف محدودجنگ کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔اس سازش کے تحت بھارت،افغانستان اورایران پاکستان سے ملحقہ سرحدوں پرخلاف ورزیاں کرتے ہوئے پاکستانی فورسزاورشہریوں کونشانہ بنائیں گے جس کے نتیجے میں پاکستانی فوج، رینجرزاور سیکورٹی ادارے سرحدوں پرمصروف ہوں گے اورافواج پاکستان جوان دنوں ملکی سرحدوں کی حفاظت اور دفاع کے ساتھ ساتھ اندرونِ ملک ضربِ عضب اورردّ الفسادآپریشنز میں مصروف ہیں،پراضافی اورمؤثربوجھ اور دباؤبڑھے گا،جس کے بعدمرضی کے نتائج حاصل کرنے میں نہ صرف آسانی ہوگی بلکہ اس خطے میں آئندہ ہونے والی تبدیلیوں کارخ بدلنے میں بھی مددملے گی۔

ذرائع کے مطابق پاک فوج نے انٹیلی جنس کی اطلاعات پرہی ان ممالک کی ''محدودجنگ''کامنہ توڑجواب دینے کیلئے مؤثر حکمت عملی وضع کرلی ہے ۔ ذرائع کے مطابق بھارتی جاسوس اوردہشتگردکلبھوشن یادیونے گرفتارہونے کے بعددورانِ تفتیش انکشاف کیاتھا کہ بھارت پاکستان میں ''محدود جنگ''کی منصوبہ بندی کرچکاہے اوراس سازش میں امریکا اسرائیل ،بھارت،افغانستان اورایران کے علاوہ پاکستان کی بعض سیاسی شخصیات بھی شامل ہیں۔ذرائع کے مطابق بھارت نے اسی پلان پرعملدرآمدکرتے ہوئے ستمبر٢٠١٦ء سے سرحدی علاقوں پر مسلسل گولہ باری کاسلسلہ شروع کررکھاہے لیکن گریٹرپلان پرتاحال عملدرآمد میں وہ کامیاب نہیں ہوسکاہے۔بھارت نے ''را''کے ذریعے افغانستان سے متعدد حملے کرائے جس پرافغان فورسزنے چمن اورطورخم بارڈر اورسرحدی علاقوں کی خلاف ورزیاں کرتے ہوئے متعددشہریوں کوباقاعدہ نشانہ بناتے ہوئے شہید اور سیکورٹی فورسز اور شہریوں کوزخمی کیاہے۔پاکستان کی جوابی کاروائی سے افغان فورسز کوبھاری نقصان اٹھاناپڑالیکن پاکستان پرمحدودجنگ مسلط کرنے کے بیک وقت تینوں ممالک کی جانب سے ملحقہ پاکستانی سرحدوں پر چھیڑچھاڑرہنے کاقوی امکان بہرحال ابھی موجود ہے۔
ایرانی فوج کے سربراہ میجرجنرل باقری کی جانب سے پاکستان کودی جانے والی دہمکی کہ اگرپاکستان نے اپنی حدودمیں دہشتگردوں کے محفوظ ٹھکانے ختم نہیں کئے توایرانی فوج پاکستان پرحملہ کردے گی،اسی محدودجنگ پلان کاحصہ ہے۔ایرانی جنرل نے بھی ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پاکستان پر الزام عائدکیا کہ پاکستان سے تعلق رکھنے والی جیش العدل سرحد پارایرانی فوجیوں پرحملوں اوربڑے پیمانے پرہلاکتوں میں ملوث ہیں۔اس تنظیم کے ٹھکانے پاکستانی حدودمیں واقع ہیں جہاں سے یہ اپنی دورماربندوقوں کے ذریعے ایرانی فوجیوں کونشانہ بناتی ہے۔اپنی مذموم دہمکی پرعملدرآمدکرتے ہوئے ایران نے پاکستانی بلوچستان کی حدودمیں ڈرون طیارے کوبھی بھیجاجس کوہمارے تھنڈر طیارے نے بروقت فوری طورپرگراکرایرانی حکومت کو واضح پیغام دیکرمتنبہ بھی کردیااورآئندہ ایسی کسی ایسی حرکت پرسخت جوابی کاروائی کا عندیہ بھی دیا۔

دریں اثناء گزشتہ ماہ بھارتی وزارتِ دفاع اورخفیہ ایجنسی''را''کا١٠٨رکنی وفد چمن بارڈرپرمشترکہ فورسزکے حملے کے بعدکابل پہنچاہے، اتنے بڑے پیمانے پربھارتی اہلکاروں کایہ دورہ ایک ہفتے کابتایاگیاہے۔بھارتی ہائی کمیشن کابل چمن کے حوالے سے مکمل مانیٹرنگ کرتارہا۔بھارتی انٹیلی جنس اداروں کی بھرپور کوشش ہے کہ پاکستان اورافغانستان کے درمیان راہداری مکمل طورپرکھل جائے تاکہ ان کے عزائم پورے ہوسکیں۔ نیٹواور امریکی حکام بھی چمن کے حوالے سے حالات کاجائزہ لے رہے ہیں اوراس حوالے سے افغانستان اورپاکستان کے درمیان مذاکرات کوروکنے کی بھرپور کوشش ہورہی ہے لیکن پڑوسی ہونے کے ناطے روس اورچین کی اس خطے کے امن وامان پرگہری نظرہے اورپاکستان کے ساتھ مل کر مشترکہ طورپراپنی ذمہ داریاں نبھانے کیلئے عملی طورپر سرگرم ہوگئے ہیں۔

ادھرپاناماسکینڈل کی تحقیقاتی ٹیم نے دس ضخیم جلدوںپرمبنی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرواد ی ہے جس پرسپریم کورٹ کافیصلہ آنے سے قبل ہی پاکستانی چینل اورمیڈیا دن رات اس کاپوسٹ مارٹم کرنے میں مصروف ہیں ۔اس رپورٹ میں وزیراعظم اوران کے دونوں بیٹوں حسین نواز،حسن نوازکے کے خلاف نیب میں سیکشن ٩کے تحت ریفرنس بھیجنے کی سفارش کرتے ہوئے لکھاہے کہ ان کی آمدن اورطرززندگی میں مطابقت نہیں جبکہ دوسری جانب حکمران جماعت کے تین سنیئروزراء نے اس کوجے آئی ٹی کی بجائے پی ٹی آئی کی رپورٹ قراردیتے ہوئے مکمل طورپرمسترد کرتے ہوئے کہاکہ اس میں کوئی مستندمواداوردلیل شامل نہیںاور سپریم کورٹ میں قانونی جنگ لڑنے کا عندیہ دیتے ہوئے اب ہرمحاذپراس کامقابلہ کرنے کااعلان کیاہے جبکہ عمران خان اوران کے ساتھی ایک کورس کی شکل میں نواز شریف کانہ صرف استعفیٰ بلکہ ان کے سارے خاندان کے افراد کانام ای سی ایل میں ڈالنے کامطالبہ کررہے ہیں۔

اس سلسلے میں پارلیمنٹ میں سب سے بڑی اپوزیشن جماعت پیپلزپارٹی اور دیگر جماعتوں سے متفقہ تحریک چلانے کی تیاریاں بھی دم توڑتی ہوئی نظر آ رہی ہیں اورب تک کسی ایک پلیٹ فارم پراتفاق نہیں ہوسکا جبکہ اس سے پہلے کل تک انہی جماعتوں کے درمیان جوتوں میں دال بٹتی تھی۔ پیپلزپارٹی نواز شریف کا صرف استعفیٰ مگردورِ اقتدارکی ٹرم مکمل کرنے کیلئے کسی دوسرے وزیراعظم کی تقرری جبکہ پی ٹی آئی نئے انتخابات کامطالبہ کر رہی ہے جوپیپلزپارٹی کے علاوہ دیگر جماعتوں نے یکسر انکارکردیاہے کہ اس طرح نوازشریف کوسیاسی شہیدکارتبہ ملنے کاامکان ہے جس سے آئندہ انتخابات میں عوام میں ہمدردی کا کثیرووٹ بینک ان کی دوبارہ فتح کاموجب بن سکتاہے اس لئے قیادت کے بحران کو حکومتی بحران میں تبدیل کرنے سے گریزکرنا چاہئے جس پر پی ٹی آئی نے ''سولوپرواز''کا تہیہ کرلیاہے
 
باوثوق ذرائع سے یہ بھی پتہ چلاہے کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ میں وزیراعظم کوفوری طورپرنااہل قرارنہ دینے اورصرف نیب میں ریفرنس دائرکرنے کی سفارش پرپی ٹی آئی کے ارمانوں پراوس پڑگئی ہے۔بظاہرعمران خان اوردیگر پارٹی رہنمارپورٹ پرخوشی کااظہارکررہے ہیں تاہم باہمی نجی گفتگومیں اس رپورٹ پرسخت مایوسی کااظہارکررہے ہیں۔انٹیلی جنس رپورٹ کے مطابق اب وہ پورے پاکستان بالخصوص پنجاب میں بڑے پیمانے پرتحریک چلانے کی تیاریوں میں شب و روز مصروف ہے جس کیلئے وہ ابتدائی ہوم ورک کی تیاریوں کے سلسلے کل کی سخت حریف اپوزیشن جماعتوں،وکلاء اور بار کونسلز سے رابطے کررہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ انٹیلی جنس اداروں نے اس سیاسی انتشارکی بناء پراگست کے مہینے کوبڑا خطرناک قراردیاہے جبکہ حکومت کی جانب سے اس سال اگست کے مہینے کوپاکستان کی ۷۰ویں سالگرہ کویادگاربنانے کا اعلان بھی کیاتھاجس کیلئے کئی حکومتی پروگراموں کو حتمی شکل بھی دی جاچکی ہے۔

ادھرپی ٹی آئی نوازشریف کے استعفے کامطالبہ لیکرپنجاب میں ۲۰۱۴ء کے دھرنے سے بھی شدیداحتجاج کیلئے اگست کے دوسرے ہفتے کے شروع میں احتجاج شروع کرکے اٹھارہ اگست تک اسے عروج تک پہنچانے کاپلان تیارکر چکی ہے۔اس کے نتیجے میں ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں افراتفری اورامن وامان کامسئلہ پیدا ہوسکتاہے ،کیونکہ حکمران پارٹی نے بھی اسی شدت سے جواب دینے کی تیاری کررکھی ہے اوراب تک پی ٹی آئی کے جارحانہ اندازکے جواب میں دفاعی لائحہ عمل اختیارکرنے کی بجائے پوری قوت سے جارحانہ موڈمیں جواب دینے کامصمم ارادہ کرچکی ہے جس سے ملک میں خانہ جنگی اورتصادم کاخطرہ بڑھ گیاہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sami Ullah Malik

Read More Articles by Sami Ullah Malik: 531 Articles with 231801 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
20 Jul, 2017 Views: 761

Comments

آپ کی رائے