رزق میں برکت کے اسباب و ذرائع

(Waseem Ahmad Razvi, India)

از افادات: حضرت مولانا پیر محمد رضا ثاقب مصطفائی نقشبندی(بانی ادارۃ المصطفیٰ انٹرنیشنل)

رزق میں برکت کا ایک بہت بڑا ذریعہ شکر ہے؛ ارشاد فرمایا: لَئِن شَکَرْتُمْ لَاَزِیدَنَّکُمْ (سورۃ ابراہیم، آیت ۷) اگر تم شکر کرو گے وہ تمہیں اور زیادہ عطا کرے گا۔ اور اگر تم شکر نہیں کرو گے لَئِن کَفَرْتُمْ کفرانِ نعمت کرو گے اِنَّ عَذَابِی لَشَدِیدٌ تو پھر میرا عذاب بڑا سخت ہے۔

رزق میں اضافے کا ایک اور بہت بڑا سبب انفاق فی سبیل اللّٰہ ہے۔ اﷲ فرماتا ہے : جو تم خرچ کرتے ہو، جو چیز تم نے نکال دی اس کی جگہ تمہیں اﷲ اور عطا کردے گا۔ بعض اوقات ہمارے یہاں یہ ہوتا ہے کہ کوئی آدمی مالی بحران میں آگیا تو وہ کرتا کیا ہے کہ جو راہ خدا میں دینے کا کھاتہ تھا پہلے اسے closeکرتا ہے۔ یہ فلاں مدرسے کو دیتے ہو یہ بھی بند کردو، یہ فلاں مسجد کو دیتے ہو یہ بھی بند کردو، یہ فلاں غریب کو دیتے ہو یہ بھی بند کردو؛ حالات Tight ہو گئے ہیں…… لیکن پانچ گاڑیاں ہیں ؛ دو گاڑیوں پر گزارا کر لیا جائے کہ پٹرول بچے ؛ یہ نہیں ہو سکتا۔ گھر کے لچھن وہی ہیں۔ لیکن بند کہاں سے کیا؛ جہاں سے رزق آنا تھا۔ ہمیں تو یہ حکم دیا ہے کہ جب رزق تنگ ہونے لگے تو صدقہ دے کے رب سے کاروبار کر لو۔ صدقے سے تمہارے رزق میں اضافہ ہوگا۔ یہ رب کا وعدہ ہے اور اﷲ کے وعدے جھوٹے نہیں ہوسکتے۔

رزق کی برکت کا ایک اور بہت بڑا ذریعہ النکاح ہے۔ فرمایا اگر تم نکاح کرو گے ؛ فقیر ہو وہ تمہیں غنی کردے گا۔ لوگ کہتے ہیں بچہ پَیروں پہ کھڑا ہولے تو پھر نکاح کریں گے۔ اﷲ کہتا ہے تم نکاح کرو ہم پیروں پہ کھڑا کر دیں گے۔ ہمارا فلسفہ اپنا ہے اُس کا حکم اپنا ہے۔ وہ کہتے ہیں ابھی تو یہ اپنے لیے نہیں کماتا تو جو آئے گی اس کو کہاں سے کھلائے گا۔ میاں! جس نے آنا ہے اس نے اپنا رزق لے کے آنا ہے۔ تو بچوں کی شادیاں کرو اگر وہ جوان ہوگئے ہیں؛ رزق نصیب ہوگا ۔

اپنے اہلِ خانہ کو نماز کا حکم دینے سے رزق بڑھتا ہے۔ کیوں کہ جو صبح کا وقت ہوتا ہے یہ رزق کے بٹنے کا وقت ہوتا ہے۔ اور جس گھر میں صبح کے وقت لوگ سوئے ہوئے ہوتے ہیں وہاں بے برکتیاں ہوتی ہیں۔ تو طلوعِ فجر سے لے کر کے طلوعِ آفتاب تک اپنی اولاد کو، بیوی کو، بچوں کو نہ سونے دیں۔اس وقت رزق بٹنے کے لمحے ہوتے ہیں۔ کثیر دعائیں مانگیں، تلاوتِ کلامِ مجید کریں اور نمازِ فجر مرد حضرات مسجدوں میں جاکے باجماعت ادا کریں اور گھروں میں بیٹیاں بہنیں مصلّے بچھالیں۔ تو اﷲ کی رحمتوں کا نزول ہوگا۔

اب ایک حدیث میں رزق کے اضافے کا ایک اور نسخہ ارشاد کیا گیا ۔ میرے حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کے رزق میں برکتیں ہوں اور اس کی عمر میں اضافہ ہو تو وہ اپنے رشتہ داروں کے ساتھ سلوک اچھا کرے۔ رشتے داروں کے ساتھ اگر اچھا سلوک کرو گے تو پھر تمہارے رزق میں برکت ہوگی۔ وہ اگر غریب ہیں تو ان کی مدد کرو، ان کی بیٹیوں کی شادیاں اپنے ذمے لے لواگر اﷲ نے آپ کو وسعت دی ہے، ان کی پریشانیاں بانٹ لو، ان کا قرضہ ہے تو اتارنے کی کوشش کرو، ان کو مشکلات سے نکالنے کی کوشش کروپ؛ تم اُن کو مشکلات سے نکالو گے اﷲ تمہیں مشکلوں سے نکالے گا۔ تمہارے رزق میں بھی برکتیں ہوں گی اور تمہارے مال میں بھی برکتیں ہوں گی۔

فرمایا بہتر صدقہ وہ ہے جو ناراض غریب رشتہ دار کو دیا جائے۔ اگر وہ پھنس گیا ہے، مجبور ہے، ناراض ہے تو اس کو اگر دیں گے تو تمہارا نفس اس میں شامل نہیں ہوگا؛ تو یہ افضل صدقہ ہے جو ہر صورت میں قبول ہی قبول ہے۔

٭رزق کے اضافے کا ایک اور سبب الاحسان الی الضعفاء ؛ جو کمزور لوگ ہیں ان کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا۔ ٭الانفاق علیٰ طلبۃ العلم؛ طالب علموں پہ خرچ کرنا یہ بھی رزق میں اضافے کا سبب اور ذریعہ ہے۔ وہ حضرت بابا فرید نے کہا نا! چھٹا رکن دین کا ’روٹی‘ ہے ۔ گھر میں کچھ نہ ہو تو پھر نہ نماز ہو اور نہ ہی دیگر امور کی لذت آتی ہے۔ تو اﷲ یہ رز قِ فراواں، وسیع اور مبارک نصیب کردے ؛ اس کے لیے ایک اور وظیفہ مَیں دیتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ مغرب کے بعد اکیس مرتبہ سورۃ الکوثر پڑھ لیں کثرت ہوجائے گی ان شاء اﷲ!اول آخر درود شریف پڑھ لیں پانچ سات منٹ لگتے ہوں گے ؛ تو سورۃ الکوثر اکیس مرتبہ روزانہ مغرب کی نماز کے بعد پڑھیں۔ اور اگر بہت زیادہ مسائل ہیں تو ہر نماز کے بعد پڑھ لیں تو ان شاء اﷲ آپ دیکھیں گے کہ گھر میں برکتیں اترتی محسوس ہوں گی، انوار کا نزول ہوتے محسوس کریں گے۔

یہ وہ رزق کے اسباب ہیں اگر ہم اختیار کرلیں تو ہم اﷲ کی خاص رحمتوں کے حق دار ہوں گے۔ اﷲ ہم سب کو رزقِ حلال، رزقِ وسیع، رزقِ سہل، رزقِ مبارک، رزقِ فراواں نصیب فرمائے۔ آمین! بجاہٖ طٰہٰ و یٰسٓ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم!
٭٭٭
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Waseem Ahmad Razvi

Read More Articles by Waseem Ahmad Razvi: 82 Articles with 66270 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
21 Jul, 2017 Views: 2206

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ